علی سدپارہ اور ساتھیوں کی تلاش: پاکستان کی کوہ پیمائی تاریخ کا طویل ترین ریسکیو آپریشن کہاں تک پہنچا؟

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانچ فروری کو سردیوں میں مہم جوئی کے دوران کے ٹو پر لاپتہ ہونے والے کوہ پیما محمد علی سدپارہ، جان سنوری اور جان پائیلو کے ریسیکو آپریشن میں عملاً 15 فروری سے کوئی بھی سرگرمی نہیں ہوئی ہے۔ تاہم ڈپٹی کمشنر شگر اعظم خان کے مطابق بیس کیمپ پر اس وقت 'ہائی ایلٹیٹوڈ پورٹر‘ موجود ہیں، جو موسم سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں اور اس کے بعد وہ اوپر جا سکیں گے۔

الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اس وقت جان سنوری اور جان پائیلو کے خاندان والے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ ان کے ساتھ حکومتی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی سفیر برائے خیرسگالی اور ممتاز کوہ پیما ونیسا اے برائن نے اس سے قبل اپنی پریس ریلیز میں بتایا تھا کہ 15 فروری کو ریسیکو آپریشن سے متعلق پریس کانفرنس میں معلومات فراہم کی جائیں گی، پھر کہا گیا کہ یہ پریس کانفرنس 17 فروری کو منعقد کی جائے گی۔

تاہم 17 فروری کو بھی شام تک پریس کانفرنس نہیں ہوئی تھی۔

رابطہ قائم کرنے پر گلگت بلتستان حکومت کے حکام کا کہنا تھا کہ وہ کوئی معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کے ٹو کا ’ڈیتھ زون‘ کیا ہے اور کوہ پیما وہاں کتنے گھنٹے زندہ رہ سکتے ہیں؟

’خوش قسمتی ہے کہ K2 نے ہمیں خود کو سر کرنے کی مہلت دی، یہ بڑی بات ہے‘

علی سدپارہ اور دیگر کوہ پیماؤں کی تلاش کا آپریشن خراب موسم کی وجہ سے روک دیا گیا

کیا یہ کوہ پیماؤں کے ریسکیو کا طویل ترین امدادی آپریشن ہے؟

پاکستان سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما نذیر صابر کے مطابق کے ٹو پر ہونے والے آپریشن کے علاوہ اب تک ’میری یاد میں اتنے طویل عرصے تک کے لیے کسی کی تلاش کے لیے آپریشن جاری نہیں رکھا گیا‘۔

نذیر صابر کے مطابق ’میرے تجربے کے مطابق صرف ایسے ہی ریسکیو آپریشن کامیاب ہوتے ہیں، جن میں بروقت آپریشن شروع کیا جاسکے، کوہ پیماؤں سے رابطہ نہ ٹوٹے او جس مقام پر وہ مشکلات کا شکار ہیں اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ درست معلومات دستیاب ہوں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کے ٹو پر ہونے والے آپریشن میں قیمتی وقت آغاز ہی میں اس وقت ضائع ہوا ’جب غلط اطلاعات کی بنیاد پر ہم لوگ کے ٹو کو سردیوں میں سر کرنے کا جشن منا رہے تھے‘۔

ان کے مطابق ’اس وقت اگر حالات کا درست اندازہ کیا جاتا تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے‘۔

ان کے مطابق کے ٹو کو تین مرتبہ سر کرنے والے پاکستانی کوہ پیما فضل اس وقت کیمپ ٹو پر موجود تھے۔ ’اگر پتا چل جاتا تو وہ بیس کیمپ آنے کے بجائے اپنے ساتھیوں کے ساتھ اوپر جاسکتے تھے، جس سے کوئی بہتر نتائج کی امید کی جاسکتی تھی۔‘

ماضی میں کیے گئے ریسکیو آپریشنز

ایک اور پاکستانی کوہ پیما اور متعدد ریسکیو آپریشنز میں کوآرڈینیشن کے فرائض انجام دینے والے کریم شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کے ٹو کے حالیہ طویل ریسکیو آپریشن کے علاوہ سنہ 2018 میں بھی ایک چھ روزہ طویل مگر کامیاب ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق وہ ریسکیو آپریشن بھی اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ مشکلات کا شکار کوہ پیما کے بارے میں درست اطلاعات دستیاب تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح سال 2019 میں نانگا پربت پر لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کے لیے بھی چھ روز تک آپریشن کیا گیا تھا۔ مگر وہ کامیاب نہیں ہوا کیونکہ ان سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ میری یاد میں آج تک ایسا کوئی ریسکیو آپریشن کامیاب نہیں ہوا ہے، جس میں کوہ پیماؤں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میری رائے میں سردیوں میں کے ٹو پر جب وہاں پر درجہ حرارت منفی پچاس اور ساٹھ کے قریب ہوتا ہے اور تیز ہوائیں بھی چل رہی ہوتی ہیں، تو وہاں پر انتہائی مضبوط کوہ پیما بھی 20 گھنٹے تک ہی حالات کا مقابلہ کرسکتا ہے۔‘

تاہم ان کے مطابق گرمیوں میں وہاں پر درجہ حرارت منفی پانچ سے دس ہوتا ہے اس میں زیادہ وقت تک مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے تجربے میں ہے کہ کے ٹو پر مشکلات کا شکار ہونے والے کوہ پیما اگر کسی گلیشیئر کے تودے کی زد میں آ جائیں تو پھر ان کی لاش تک بھی نہیں ملتی ہے۔ وہ کے ٹو ہی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اسی طرح تیز ہوائیں بھی تلاش میں مدد گار ثابت نہیں ہوتی ہیں۔‘

ان کے مطابق بہت کم واقعات میں لاش بھی مل جاتی ہے، جو عموماً دوسرے کوہ پیماؤں کو ملتی ہے۔

کامیاب ہونے والے ریسکیو آپریشنز: ’صرف حوصلہ ہی تمہاری زندگی بچا سکتا ہے

نذیر صابر نے بی بی سی کو بتایا کہ سال 2005 میں ’ایک انتہائی اور مشکل آپریشن کامیاب ہوا تھا۔ دنیا کا مایہ ناز کوہ پیما ٹوماز ہمار میری وساطت سے نانگا پربت کو سر کرنے آیا تھا۔ اس دوران وہ چھ ہزار تین سو میڑ کی بلندی پر مسائل کا شکار ہو گیا تھا۔‘

ان کے مطابق اس موقع پر ’اس نے عقلمندی یہ کی کہ اس نے اپنے بچاؤ کے لیے برف کی غار بنا لی تھی۔ وہاں سے اس نے بیس کیمپ میں رابطہ قائم کیا۔ اس کی میرے ساتھ بات ہوئی تو سب سے پہلے میں نے اس کا حوصلہ بلند کیا۔

’اس کو بتایا کہ تم قاتل پہاڑ کو اپنی زندگی داؤ پر لگا کر سر کرنے آئے ہو اور اس موقع پر صرف حوصلہ ہی تمہاری زندگی بچا سکتا ہے۔‘

نذیر صابر کا کہنا تھا کہ ٹوماز کو ریسکیو کرنے کے لیے جلد ریسکیو آپریشن شروع نہیں کیا جا سکا تھا۔

ایورسٹ

Getty Images

نذیر صابر کے مطابق اس کی مدد کے لیے روس سے آنے والا ایک جدید طیارہ سوئٹزرلینڈ سے مختلف مسائل کی وجہ سے واپس چلا گیا تھا۔

ان کے مطابق ’سلووینیا کے صدر نے اس وقت کے پاکستان کے فوجی صدر جنرل مشرف سے بات کی تھی۔ جس کے بعد انتہائی خطرناک فضائی آپریشن ہوا تھا۔ ان کے مطابق اس آپریشن کی ویڈیو اب بھی موجود ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ کتنا مشکل آپریشن تھا۔ اس آپریشن کے زریعے سے بالآخر اس کوہ پیما کو بیس کیمپ لایا گیا تھا۔‘

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ’میری یاد میں تین چار ریسکیو آپریشن کامیاب ہوئے ہیں، جن میں سال 2019 میں روس کے کوہ پیما الیگزینڈر گوکوف کو ریسکیو کرنے کا چھ روزہ امدادی آپریشن تھا۔ یہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک پہاڑی لاٹو 1‘ سر کرتے ہوئے مشکلات میں گھر گئے تھے‘۔

ان کے مطابق ان کا ’ایک ساتھی ہلاک بھی ہو گیا اور وہ ایک ایسے مقام پر پھنس گئے تھے، جہاں امدادی آپریشن بہت مشکل تھا۔ الیگزینڈر گوکوف کو بھی انتہائی مشکل فضائی آپریشن کے دوران بچا لیا گیا تھا۔ یہ بھی تب ممکن ہوا کہ ان کے مقام کا علم تھا اور وہ رابطے میں تھے۔‘

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ ایک اور کامیاب آپریشن ٹوماز میکیوکز کا تھا۔

’وہ اپنی ساتھی الزبیتھ ریویو کے ہمراہ نانگا پربت سر کر کے واپس آرہے تھے۔ واپسی کے سفر میں ان کی طبعیت خراب ہو گئی تھی۔ جس پر ان کی ساتھی نے عقل مندی کرتے ہوئے ان کو محفوظ مقام پر چھوڑا اور خود نیچے آ کر پہلے کیمپ تھری میں اس واقعے کی اطلاع دی اور اس کے بعد وہ بیس کیمپ چلی گئیں۔‘

کریم شاہ کا کہنا تھا کہ اس موقع پر کے ٹو پر موجود کوہ پیماؤں کی ٹیم نے ان کی امداد کا آپریشن کیا تھا اور ان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا۔ ’یہ آپریشن بھی اس وجہ سے کامیاب ہوا کہ ان کی مشکلات کا مقام ہمارے علم میں تھا جبکہ وہ رابطے میں بھی تھے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17729 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp