سینیٹ انتخابات اور بلوچستان کا ستارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ کے انتخابی معرکے کی شروعات کاغذات نامزدگی جمع کرائے جانے سے ہو چکی ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچاس کی دہائی میں کراچی لسبیلہ کے ایک حلقے سے قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب ہوا تھا، جس میں بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو نے حصہ لیا تھا۔ اس انتخاب کے شیڈول میں ایک معمولی رد و بدل کیا گیا تھا جسے حزب اختلاف نے سندھ کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ مقدے کی پیروی جناب سہروردی نے کی تھی۔ ان کے استدلال پر عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد اس میں کسی قسم کے رد و بدل سے جاری شدہ شیڈول غیر مؤثر ہو جاتا ہے اور تبدیلی کے لئے از سر نو پورے شیڈول کا اعلان ناگزیر ہے۔

قانون دان طبقہ اس حوالے سے زیادہ مستند روشنی ڈال سکتا ہے اور اگر میرا حافظہ غلط نہیں تو یہ سوال اٹھ سکتا ہے کہ متذکرہ صدر عدالتی فیصلہ بطور قانونی نظیر اب بھی قابل توجہ ہے یا نہیں؟

کاغذات نامزدگی جمع کرانے اور پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران چند اہم اپ سیٹ سامنے آئے ہیں جبکہ تاحال کسی کو علم نہیں کہ آنے والے انتخابات میں رائے دہی کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ معزز عدالت عظمیٰ نے حکومت کے پیش کردہ صدارتی ریفرنس پر تاحال حتمی رائے ظاہر نہیں کی۔ آئین کے آرٹیکل 226 اور عدالت میں پیش کیے گئے صدارتی ریفرنس کو ملحوظ رکھا جائے تو یہ قیاس آرائی غالباً درست ہو گی کہ آئین کی واضح شق کی موجودگی میں عدلیہ اس کے منافی حکم صادر نہیں کر سکتی جبکہ ریفرنس میں حکومت نے عدالت سے مشورہ طلب کیا ہے، ہدایت نہیں۔

مشورے اور عدالتی حکم میں بہت فرق ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اگر عدالت کا مشورہ شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخاب کرانے کے حق میں آیا تو کیا الیکشن کمیشن واحد قابل تغیر متناسب نمائندگی کے حامل خفیہ رائے دہی رائج طریقہ کار کے مقابل فوری طور پر نیا انتخابی قانون یا ضوابط مرتب کر سکے گا؟ دریں حالات مجوزہ انتخابات میں التوا کا خدشہ پیدا نہیں ہو جائے گا؟ اور عجلت میں بنائے گئے انتخابی ضابطے میں کوتاہی رہ جانے کے احتمال سے سارے انتخابی عمل اور اس کے نتائج پر سوالات نہیں اٹھ جائیں گے؟

سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم میں پی ٹی آئی کو بلوچستان سمیت کے پی اور سندھ میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے، پارٹی چیئرمین کی فیصلہ سازی کی صلاحیت و استعداد ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔ حالیہ فیصلوں کو اگر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن میں ہونے والی نا اہلی، سینیٹ انتخابات کے متعلق صدارتی ریفرنس دائر کیے جانے کے بعد آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کے ساتھ ہی صدارتی آرڈیننس کے اجرا اور اس نوعیت کے دیگر معاملات کے تناظر میں پرکھا جائے تو یہ نتیجہ بہ آسانی اخذ ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت میں بروقت اور درست فیصلہ سازی کی استعداد کا شدید فقدان ہے۔

جناب عبدالقادر کو ٹکٹ جاری کرنے کے بعد بلوچستان پارٹی کی جانب سے شدید تحفظات سے ثابت ہوتا ہے کہ فیصلے میں بلوچستان کی پارٹی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ رائے عامہ کے ابلاغی ذرائع پر تنقید اور پارٹی اختلاف رائے پر ٹکٹ واپس لینے کا اقدام انتہائی عاجلانہ تھا جس کی تشہیر کا انداز بھی قطعی نامناسب تھا۔

جناب عبدالقادر بلاشبہ بالائی سطح سے وارد ہوئے تھے لیکن جب وہ ذرائع ابلاغ پر پارٹی ٹکٹ ملنے کا دفاع کر رہے تھے تو اسی دوران بریکنگ نیوز آ گئی کہ انہیں دیا گیا ٹکٹ منسوخ کر دیا گیا تھا۔ فیصلہ بلدلنے کا بہتر طریقہ یہ ہوتا کہ پی ٹی آئی قیادت جناب قادر سے کہتی کہ وہ بلوچستان پارٹی کے اختلافی رویے کے بعد خود سینیٹ کی ٹکٹ شکریہ کے ساتھ واپس کرنے کا اعلان کر دیں۔ یوں جناب قادر اور پی ٹی آئی قیادت کی اخلاقی و سیاسی ساکھ مجروح نہ ہوتی لیکن اب جو ہونا تھا ہو چکا۔

جناب عبدالقادر کو دی گئی پارٹی ٹکٹ جناب ظہور آغا کو ملی لیکن یہ بھی عجلت کا فیصلہ تھا۔ پتہ چلا کہ جناب ظہور آغا کی پارٹی رکنیت دھرنے کے دوران معطل کی جا چکی ہے۔ یہ بات بھی گردش میں ہے کہ پارٹی کے صوبائی پارلیمانی لیڈر جناب سردار یار محمد رند اپنے ایک فرزند کو سینیٹر بنانا چاہتے ہیں۔ شاید جناب ظہور آغا سے ہوتا ہوا پارٹی ٹکٹ ان کی منشا کے مطابق منزل مقصود پر پہنچ جائے۔

سندھ اور کے پی کے میں بھی واضح اختلاف رائے سامنے آ چکا ہے۔ پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے پی ٹی آئی کا اندرونی سیاسی و تنظیمی خلا نمایاں ہوا ہے۔ مصنوعی طور پر یکجا کیے گئے افراد اور ان کے مفادات کا تضاد ایسے ہی اثرات مرتب کرتا ہے۔

حکمران بلوچستان عوامی پارٹی المعروف ’باپ‘ نے صوابی (کے پی کے) سے تعلق رکھنے والی سابق سوشل ویلفیئر منسٹر محترمہ ستارہ ایاز کو بلوچستان سے سینیٹ کا ٹکٹ جاری کیا ہے۔ ماضی میں دیگر جماعتیں اپنے ارکان کو آبائی صوبے کی بجائے دوسرے صوبے سے سینیٹر بناتی رہی ہیں۔ یہ روایت وفاقی اکائیوں کی پارلیمان میں نمائندگی کے اصول و ایوان بالا میں مساوی نمائندگی کے قاعدے کے سراسر منافی ہے۔

محترمہ ستارہ ایاز 2013ء میں کے پی میں وزیر رہ چکی ہیں۔ ان پر نیب کے مقدمات بنے تھے۔ اے این پی نے انہیں سینیٹر بھی بنوایا تھا۔ بعد ازاں پارٹی سے نکالا گیا۔ اب وہ باپ کی رکن ہیں۔ شمولیت کب ہوئی، معلوم نہیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد کے پی کے میں آزاد منتخب ہونے والے چار ارکان نے باپ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ ممکن ہے انہی چار ارکان کی خواہش پر محترمہ ستارہ کو بلوچستان سے سینیٹر نامزد کیا گیا ہو جس کے بدلے میں کے پی میں باپ کے چار ارکان باپ کی مرکزی قیادت یا پھر پس پردہ فیصلہ سازوں کے ایما پر اپنے صوبے میں اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔

باخبر ذرائع اس فیصلے پر باپ بلوچستان میں متحرک خواتین میں تشویش و اختلاف کی نشاندہی کر رہے ہیں جو قابل فہم بات ہے۔ جس کے اثرات بہر طور سامنے آئیں گے۔

پی ڈی ایم نے سابق وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد کی مخصوص نشست سے مشترکہ امیدوار بنایا ہے۔ اسلام آباد سے سینیٹ کے انتخاب کا حلقہ نیابت قومی اسمبلی ہے جہاں سردست پی ٹی آئی کو محدود سہی لیکن عددی برتری حاصل ہے۔ کیا جناب گیلانی کو بارہویں کھلاڑی کی حیثیت میں انتخابی معرکے میں اتارا گیا ہے؟ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے لیکن بنظر عمیق جائزہ لیں تو یہ فیصلہ سیاسی بساط پر اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو شہ مات دینے کے مترادف نظر آئے گا۔

پی ٹی آئی کی صفوں میں ابھرتے داخلی اختلافات اور حکومتی پالیسیوں سے مایوسی اب ڈھکی چھپی بات نہیں۔ جناب آصف زرداری نے حساب کتاب کیے بغیر عدم اعتماد کی تحریک لانے کی تجویز پیش نہیں کی ہو گی۔ ایسا ہوتا تو پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں اسے حتمی طور پر مسترد کر دیا جاتا۔

اجلاس میں یقیناً ایسے اعداد و شمار یا شواہد سامنے لائے گئے ہوں گے۔ جن پر پی ڈی ایم نے اس تجویز کو مزید پرکھنے کے بعد حتمی فیصلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہو گا۔ اعداد و شمار اور پس پردہ ملنے والی سیاسی حمایت کو جانچنے کا طریقہ سینیٹ کے انتخابی معرکے میں اسلام آباد کی مختص دو نشستیں تھیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر دستیاب اعداد و شمار کمزور یا ناقابل بھروسا ہوتے تو جناب گیلانی کی جگہ کسی دوسرے رہنما کو میدان میں اتارا جاتا۔ سابق وزیراعظم کو آزمائشی مقابلے میں اتارنا بذات خود بتا رہا ہے کہ معاملہ سادہ نہیں اور اس نشست پر کانٹے دار مقابلہ ہو گا جس کا نتیجہ مستقبل قریب کی سیاسی بساط پر فیصلہ کن اثرات مرتب کرے گا۔

جناب یوسف رضا گیلانی سرائیکی وسیب کی بہت با اثر روحانی و سیاسی شخصیت ہیں۔ وسیب سے اپنے لئے مخالف کیمپ سے مطلوبہ چند ووٹ حاصل کرنا ان کے لئے ناممکن نہیں۔ پھر سندھ کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے گرینڈ الائنس سے بھی ان کو مدد ملنے کا امکان ہے۔ جی ڈی اے کے سربراہ جناب پیر پگارا اور گیلانی خاندان کی رشتہ داری اور روحانی تعلق جناب گیلانی کی کامیابی میں معاون ہو سکتے ہیں۔ بعید نہیں کہ پی پی کے علاوہ شہری حلقوں سے منتخب ارکان کے لیے بھی سلسلہ مریدی سے وابستگی کی بنیاد پر گیلانی صاحب کی جانب سے ووٹ کی خواہش پر انکار ممکن نہ ہو کہ معاملہ دنیاوی فائدے کے ساتھ بطور عقیدہ آخرت میں اجر سے بھی وابستہ ہے۔

اگر جناب گیلانی فتح یاب ہوئے تو نتیجہ حکومت کی قومی اسمبلی میں شکست پر منتج ہو گا۔ پھر واقعات کا نیا سلسلہ اپریل میں پی ڈی ایم کے لئے مفید المعنی ہو جائے گا۔ جناب گیلانی کے کاغذات نامزدگی پر مسلم لیگ کی جانب سے تجویز و تائید پی ڈی ایم اتحاد میں استحکام کا گہرا علامتی اظہار ہے۔ یہ یکجہتی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

بی این پی اختر مینگل نے سینیٹ کے لیے جن احباب کو ٹکٹ جاری کیے ہیں سبھی اس کے مستحق ہیں البتہ جن کو ٹکٹ نہیں ملے ان میں جناب ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی اور پارٹی کے سینئر رہنما قبائلی قد و قامت اور سیاسی فعالیت کے حامل محترم نوابزادہ میر حاجی لشکری رئیسانی بہت اہم ہیں۔

ڈاکٹر صاحب چونکہ ایک ٹرم بطور سینیٹر گزار چکے ہیں۔ سو ان کو ٹکٹ نہ ملنا قابل فہم ہے جبکہ نوابزادہ میر حاجی لشکری رئیسانی کو نظر انداز کیا جانا بہت معنی خیز ہے۔ نوابزادہ میر حاجی لشکری رئیسانی نے 2018 میں پارٹی ٹکٹ پر کوئٹہ سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔ جناب قاسم سوری کے ذریعے جو زیادہ معروف و مؤثر شخصیت نہیں۔ میر حاجی لشکری رئیسانی کو ہرایا گیا تھا۔ ان کی انتخابی عذر داری پر الیکشن ٹریبونل نے جناب قاسم سوری کی کامیابی منسوخ کر دی تھی لیکن انہوں نے اعلیٰ عدلیہ میں اس فیصلہ پر حکم امتناعی حاصل کیا اور اسی حکم کے ذریعے اب تک قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر متمکن ہیں۔ نہ جانے عدالت کب حتمی فیصلہ کرے لیکن اس پس منظر میں سیاسی حلقوں میں یقین کیا جا رہا تھا کہ جناب حاجی میر لشکری رئیسانی کو بی این پی سینیٹ میں لے آئے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply