اسکاؤٹنگ: سنو یہ فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دو تین دہائیوں میں پاکستانی معاشرے میں خطرناک حد تک بہت ہی پیچیدہ اور نت نئی معاشرتی خرابیوں نے سر اٹھایا ہے۔ وہ سرزمین کہ جہاں رواداری، قوت برداشت، صلہ رحمی اور بالخصوص احساس جیسی صفات رائج تھیں، آج وہاں شدت پسندی، انتہا پسندی، بے حسی، عدم برداشت اور قطع رحمی عام ہے۔ ہر صاحب بصیرت شخص کی نظر میں ان مسائل کی وجوہات مختلف ہوں گی۔ لیکن میرے نزدیک بنیادی وجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا نہایت فقدان ہے۔

جو رسمی نظام تعلیم ہمارے ہاں رائج ہے وہ سند یافتہ نوجوان تو معاشرے کو فراہم کر رہا ہے مگر تربیت و شعور سے عاری نوجوان۔ نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے۔ اب یہاں اس سے بھی گمبھیر صورتحال یہ ہے کہ والدین کی ایک اکثریت نے بھی اپنی اولاد کو زیادہ سے زیادہ نمبروں کی دوڑ کے پیچھے لگا دیا ہے جس کی وجہ سے حقیقی تعلیم و تربیت کا فریضہ مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔

ممکن ہے اس مرحلہ پر آ کر بہت سے قارئین سوال کریں کہ آخر کوئی ایسا منظم انتظام ہے کہ جہاں عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے ہم آنے والی نسل کو بہترین تربیت کی فراہمی بھی ممکن بنا سکیں؟ جی بالکل! آپ اگر ذرا قدم بڑھائیں اور تھوڑی سی جستجو کریں تو ہمارے اس معاشرے میں ابھی بھی بہت سے ایسے ادارے، تنظیمیں اور تحریکیں ہیں جو اس خلاء کو پر کرنے کے لیے اپنی کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ انہی تحریکوں میں سے نوجوانوں کی ایک بین الاقوامی منظم تحریک کا نام ہے ’اسکاؤٹنگ‘۔

اب یہاں بھی ممکن ہے کہ بہت سے قارئین اسکاؤٹنگ نامی تحریک سے عدم واقفیت رکھتے ہوں، تو ان کے لیے ایک اجمالی سا تعارف پیش خدمت ہے۔

اسکاؤٹنگ (Science of outing : Scouting) یعنی بیرونی کھیل۔ اس عالمی تحریک کا مقصد نوجوانوں کی دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بیرونی سرگرمیوں کے ذریعے ان کی روحانی، ذہنی، جسمانی، سماجی اور جذباتی نشوونما کرنا ہے تاکہ وہ ملک و قوم کے لیے ایک مفید شہری ثابت ہو سکیں۔ اس تحریک کے بانی سر لارڈ بیڈن پاول نے ایک صدی قبل اس تحریک کے حوالے سے جو بنیادی اصول (حقوق خدا، حقوق العباد اور حقوق الذات) متعین کیے تھے، آج دنیا کے تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد ممالک کے لگ بھگ 5 کروڑ نوجوان انہی اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس تحریک سے وابستہ ہیں۔

سر لارڈ بیڈن پاول

پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی یہاں بھی وہ احباب جو متحدہ ہندوستان میں اس تحریک سے وابستہ تھے، انہوں نے اس تحریک کو منظم طریقے سے چلانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ 14 اگست 1947ء کے روز متحدہ ہندوستان کے چند اسکاؤٹس فرانس میں اسکاؤٹنگ کی چھٹی عالمی جمبوری میں شریک تھے۔ آزادی کا اعلان ہوتے ہی ان شرکاء میں سے جو نئے ملک پاکستان کے شہری تھے، انہوں نے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کا قومی پرچم تیار کر کے اسکاؤٹ اسمبلی میں لہرایا۔

یوں دیار غیر میں پہلی دفعہ پاکستانی پرچم لہرانے کی بناء پر اسکاؤٹس کو پاکستان کا پہلا سفیر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ انہی مخلص احباب کی کاوشوں سے پاکستان میں بھی ’پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن‘ کا قیام عمل میں لایا گیا کہ جس کا مشن نوجوانوں کو اپنی اقدار اور اسکاؤٹ وعدہ و قانون کے مطابق ایسی تعلیم و تربیت مہیا کرنا تھا جس سے ان کی کردار سازی ہو سکے اور وہ معاشرے کے ذمہ دار فرد بن سکیں۔ آگے چل کر 22 دسمبر 1947ء کو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بطور سربراہ مملکت پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے پہلے چیف اسکاؤٹ کا حلف اٹھایا۔ حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوئی جہاں اپنے خطاب میں انہوں نے اس تحریک کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

’ہمارے نوجوانوں کا اعلیٰ کردار بنانے میں اسکاؤٹنگ ایک اہم اور نمایاں خدمت سرانجام دے سکتی ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی، دماغی اور روحانی تربیت کے لیے ممد و معاون ہے بلکہ اس سے منظم، مفید اور قابل فخر شہری بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہم حقیقی دنیا سے بہت دور ایسے معاشرے اور ماحول سے وابستہ ہیں جہاں تہذیب و تمدن کی ترقی کے باوجود ابھی جنگل کا قانون جاری ہے۔ طاقت ور کا راج ہے اور وہ کسی حالت میں بھی کمزور کو زندہ رہنے کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ ذاتی مفاد، لالچ اور ہوس اقتدار نہ صرف افراد کا خاصہ ہے بلکہ اقوام کے کردار میں بھی یہ جذبات کارفرما ہیں۔

اگر واقعی ہم دنیا میں بے خطر، پاکیزہ اور پرسکون ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آئیے ہم انسانی فلاح و بہبود کے اس مقدس فریضے کی ابتداء افراد سے کریں۔ بچپن سے ہی ان کے دلوں میں اسکاؤٹنگ کے نصب العین یعنی بے لوث خدمت کے جذبے کو استوار کریں تاکہ ان کے خیالات، گفتار اور کردار میں پاکیزگی ہو جائے۔ اگر ہمارے نوجوان ہر ایک کو دوست رکھنے، ہر ایک کی ہمہ وقت مدد کرنے، ذاتی مفاد کو دوسروں کی بھلائی پر قربان کرنے، قول و فعل میں تضاد سے بچنے کا سبق سیکھ لیں تو مجھے قوی امید ہے کہ عالم گیر اخوت ہمارے امکان اور دسترس میں ہو گی۔’

اسکاؤٹنگ چونکہ ایک غیر رسمی تعلیم و تربیت کا ذریعہ ہے، لہٰذا پاکستان میں اسکاؤٹ تحریک کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مختلف طریقہ کار استعمال کیے جاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو اسکاؤٹ وعدہ و قانون ہے کہ جس میں ایک اسکاؤٹ رضاکارانہ طور اپنی ذمہ داری کی آدائیگی کے لیے یوں وعدہ کرتا ہے:

”میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور پاکستان کے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی، دوسروں کی مدد اور اسکاؤٹ قانون کی پابندی میں اپنی پوری کوشش کروں گا۔“

اس کے ساتھ ساتھ وہ خلوص نیت سے اسکاؤٹنگ کے قوانین (قابل اعتماد، وفادار، فرمانبردار، خوش اخلاق، مددگار، انسان دوست، مہربان، بہادر، کفایت شعار، پاکیزہ اور ہنس مکھ ہونا) پر قائم رہنے کا عزم بھی کرتا ہے۔ دوسرے تربیتی مرحلہ یعنی پٹرول سسٹم (چھوٹے گروپس میں تقسیم) کے تحت اسکاؤٹس کو مختلف عملی سرگرمیوں اور تجربات سے گزارا جاتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف ان کے علم، کردار، مہارتوں اور رویوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے بلکہ ان میں قابلیت، خوداعتمادی، لیڈرشپ اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی صلاحیتیں جنم لیتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پروگرام سسٹم کے تحت نوجوانوں کی دلچسپی پر مبنی مختلف کھیل اور قدرے مشکل سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جس سے اسکاؤٹس کے اندر ممکنہ مشکلات اور چیلنجز پر قابو پانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ ان سرگرمیوں میں کیمپ کرافٹ (کیمپنگ/ پائینرنگ) ، نقشہ بینی، بغیر برتنوں کے کھانا پکانا، اندازہ لگانا، کیمپ فائر، ہائیکنگ، مطالعہ قدرت، ابتدائی طبی امداد، آگ پر قابو پانا، تحفظ ماحولیات وغیرہ شامل ہیں۔

مختلف قومی اور بین الاقوامی اسکاؤٹ کیمپس، کانفرنسز، سیمینار، جمبوریز، موٹس، ہائیکس اور دیگر اجتماعات میں اسکاؤٹس ایک دوسرے سے ملتے اور متعارف ہوتے ہیں۔ اس ملاقات کی وجہ سے وہ دوسرے شہر، دوسرے صوبے حتیٰ دوسرے ممالک سے آئے اسکاؤٹس کے رسم و رواج، ثقافت، زبان، مذہب و معاشرت اور اس علاقے کی صورتحال سے آگاہ ہوتے ہیں۔ معلومات کے باہمی تبادلے کی وجہ سے جہاں اسکاؤٹس کے علم میں اضافہ ہوتا ہے وہیں بہت سی افواہوں، شدت پسندی، فرقہ واریت اور دیگر منفی رجحانات کی بیخ کنی بھی ہوتی ہے۔

مزید یہ کہ اختلاف رائے کے معاملے میں پرامن اور تعمیری گفتگو کے ذریعے ایک دوسرے کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے، جس سے قوت برداشت، وسعت نظری اور وسعت قلبی جیسے جذبات فروغ پاتے ہیں۔ جب اس طرح کا ماحول ملکی سطح پر پرورش پاتا ہے تو خوف و دہشت کی جگہ امن و آشتی اور قومی یکجہتی جیسے اہداف باآسانی حاصل کرنے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔

اسکاؤٹ تحریک سے وابستہ نوجوانوں کی ایک اور خاص خوبی رضاکارانہ خدمت ہے یعنی بے لوث ہو کر معاشرے کی ترقی میں اپنے حصے کی شمع جلانا۔ شجرکاری مہم ہو یا ابتدائی طبی امداد کے عارضی مراکز، سیلاب زدگان کی مدد ہو یا دیگر قدرتی آفات میں خصوصی خدمات، کوئی آگاہی مہم ہو یا حجاج کرام کے لیے قائم حاجی کیمپس، غرض کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے جتنے بھی منصوبے ہیں، اپنے مخصوص اسکارف میں ملبوس اسکاؤٹس آپ کو ہمیشہ صف اول میں مصروف عمل نظر آئیں گے۔ اسکاؤٹنگ کے اسی تربیتی طریقۂ کار کی بناء پر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ اس تحریک کی تمام تر سرگرمیاں اور تعلیمات دین مبین اسلام کی تعلیمات سے نہایت مطابقت رکھتی ہیں۔

چونکہ عالمی سطح پر 22 فروری اسکاؤٹ تحریک کے بانی ’سر لارڈ بیڈن پاول‘ کی سالگرہ کا دن ’فاؤنڈرز ڈے‘ (Founder ’s Day) کے عنوان سے منایا جاتا ہے، لہٰذا میرے خیال میں انہیں خراج تحسین پیش کرنے کا اس سے بہتر انداز نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے محبوب قائد محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اس عالمی تحریک کا حصہ بن کر اپنے حصے کی شمع روشن کریں۔ اور نفسا نفسی کی اس گھٹن زدہ فضا کو انسانیت کی حقیقت سے منور کر دیں۔ بقول نصرت مہدی صاحبہ:

فضاء یہ امن و اماں کی سدا رکھیں قائم
سنو یہ فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply