درد آشنا

"امی میں اتنی جلدی کیسے ایڈوانس تنخواہ مانگ سکتی ہوں۔ باس بھی کیا سوچیں گے کہ تین ماہ ٹھیک سے مکمل ہوئے نہیں اور محترمہ ہر ماہ کی یکم سے قبل ہی تنخواہ کا راگ الاپنے کو تیار بیٹھی ہوتی ہیں۔ پھر یہ بھی تو سوچیں کہ میں کون سا کوئی افسر لگ گئی ہوں، ایک معمولی سی بس ہوسٹس ہی تو ہوں” لہجہ میں عجیب سی جھنجھلاہٹ تھی۔ ایک وقفے سے موبائل کال کی دوسری جانب ہونے والی گفتگو

Read more

پکی قبر

بابا کرم دین پر اپنے نام کی مثل خداوند تعالیٰ کا خصوصی کرم تھا۔ علاقہ کے چند بڑے زمینداروں میں بابا کرم دین کا طوطی بولتا تھا۔ جس دور میں گاؤں دیہات کے لوگوں کے پاس رہائش کے لیے پکے مکان میسر ہونا مشکل تھا اس دور میں بھی بابا کرم دین کے جانوروں کا باڑہ پکی اینٹوں سے پلستر شدہ تھا، جس میں قیمتی نسل کی گائیں، بھینسیں، بیل اور دیگر پالتو جانوروں کی خاص نگہداشت کی جاتی تھی۔

Read more

میں بڑا آدمی کیسے بنوں؟

ہر ماں کی طرح میری والدہ مجھے بچپن میں اپنی میٹھی لوریوں کے ساتھ یہ عندیہ بھی دیتی تھیں کہ میرا جگر کا ٹکڑا مستقبل میں بہت بڑا آدمی بنے گا۔ گویا آغوش مادر میں ہی لاشعوری طور پر دماغ کے کونے میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ مجھے بہت بڑا آدمی بننا ہے۔ بچپن کے چند دھندلکے نقوش کو جب یادداشت کے دریچے سے جھانکتے دیکھتا ہوں تو یاد پڑتا ہے کہ یہ وہ دور تھا جب ہمارے

Read more

جمہوریت ٹریول سروس

معزز خواتین و حضرات، ہم تبدیلی کی جمہوریت ٹریول سروس کی طرف سے نئے آنے والے مسافروں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارا یہ سفر آج 18 اگست 2018ء کو شروع ہو رہا ہے جو ان شاء اللہ ایک مثالی ریاست مدینہ کے قیام پر اختتام پذیر ہو گا۔ ہمارے اس سفر کا دورانیہ پانچ سال ہے۔ دوران سفر جمہوریت ڈی ریل ہو جانے کی صورت میں کمپنی ذمہ دار نہ ہو گی۔ آپ سے التماس ہے کہ کرپشن سے

Read more

میری پسندیدہ کتاب

ویسے تو اہل معرفت کے ہاں ہم اہل زباں واقع ہوئے ہیں۔ ساتھ ساتھ اردو مطالعہ کے حددرجہ شوقین اور اردو زبان پر مضبوط گرفت ہونے کے دعویدار بھی ہیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ بنیادی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک اردو مضمون کو بہت ہی ہلکا لیا ہے، اور اس پر طرۂ امتیاز یہ کہ ہر دفعہ اس مضمون میں معیاری نمبروں سے پاس بھی ہوتے آئے ہیں۔ ایسا ہی کچھ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات کے دوران ہوا۔

Read more

اسکاؤٹنگ: سنو یہ فرض تمہارا بھی ہے ہمارا بھی

گزشتہ دو تین دہائیوں میں پاکستانی معاشرے میں خطرناک حد تک بہت ہی پیچیدہ اور نت نئی معاشرتی خرابیوں نے سر اٹھایا ہے۔ وہ سرزمین کہ جہاں رواداری، قوت برداشت، صلہ رحمی اور بالخصوص احساس جیسی صفات رائج تھیں، آج وہاں شدت پسندی، انتہا پسندی، بے حسی، عدم برداشت اور قطع رحمی عام ہے۔ ہر صاحب بصیرت شخص کی نظر میں ان مسائل کی وجوہات مختلف ہوں گی۔ لیکن میرے نزدیک بنیادی وجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا نہایت

Read more

آؤ کافر کافر، گستاخ گستاخ کھیلیں

گزشتہ چند برسوں سے شہر کا موسم اور آب و ہوا نہایت تیزی سے بدل رہے تھے۔ لیکن شاید شہر کی فضا سے زیادہ یہاں کے مکین نئے رجحانات کو تیزی سے قبول کر رہے تھے۔ اب یہ بھی پتا نہیں کہ یہ قبولیت جبری تھی یا فطری۔ اس شہر خموشاں کے بیچوں و بیچ کا ایک چوراہا سورج ڈھلتے ہی آباد ہو جاتا۔ ہر کسی نے اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق کوئی نہ کوئی مصروفیت ڈھونڈ رکھی تھی۔

Read more

جنگل واسی بی بلی کی بلونگڑے کو تاریخی نصیحت

اگلے روز بلونگڑے نے بی بلی کی واپسی پر فخریہ انداز میں اپنی کارروائی کا تذکرہ کیا تو بی بلی سر پکڑ کر بیٹھ گئیں اور بلونگڑے کو پاس بٹھا کر سمجھایا۔ ’’دیکھ منے! یہ تو نے کیا غضب ڈھایا ہے۔ لیکن آئندہ کے لیے میری کان کھول کر نصحیت سن۔ جب تک یہ چوہے شیر میاں کو تنگ کر رہے ہیں، ہماری روزی روٹی شاہی کچھار سے چلتی رہے گی۔ اور اگر تیری اس طرح کی بے وقوفیوں سے چوہے خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے شیر میاں کو تنگ کرنا چھوڑ دیا تو سمجھو اپنی روزی روٹی بھی جاتی رہی۔ پس تو اتنا سمجھ لے کہ ہم نے شیر میاں کے مسائل کا عارضی حل ڈھونڈنا ہے نہ کہ مستقل حل۔ جب تک شیر میاں کے مسائل ہیں، ہمیں روزی روٹی کی کاہے کو فکر؟‘‘

Read more

غیرت آباد کا موضع عزت پورہ

شاید چاندکی ابتدائی تاریخیں چل رہی تھیں۔ ہلکی ہلکی چاند کی روشنی میں بھی ملک مصور اشفاق المعروف ملک ساجی کا وجیہہ چہرہ واضح نظر آ رہا تھا۔ کیکر، شیشم، پوپلر اور نیم کے درختوں کے جھنڈ میں اپنے ڈیرے پہ چارپائی پر لیٹے اور حقے کے کش لیتے ہوئے بھی اس کی نگاہ گاؤں سے آنے والی پگڈنڈی پر ہی مرکوز تھی۔ پشت کی جانب سے نذیرا ماچھی ننگے پاؤں کسی اٹھائے ڈیرہ پہ پہنچا تو ساجی نے پلٹ

Read more

پنجابی تہذیب کا ایک روایتی مقامی سفر

پان، تھوک اور گٹکے کے رنگین ملاپ سے تشکیل پائے ہوئے آمیزے نے لاری اڈے پر مختلف الانواع رنگ بکھیرنے کے ساتھ ساتھ دماغ کی دبی رگوں کو ہلا کر رکھ دینے والی ایک مہک سے فضا کو معطر کر رکھا تھا۔ وہ تو شکر خدا کہ کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے نامساعد حالات کی بناء پر جیب میں ایک عدد ماسک میسر تھا کہ جس کو ناک اور منہ پر ایک خاص زاویہ سے چڑھاتے ہوئے ناک میں زبردستی گھسنے والی ہواؤں کی راہ میں رکاوٹ حائل کر دی۔

تھوڑا سا آگے بڑھے اور چنیوٹ اڈے میں کھڑی گاڑیوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی ہی تھی کہ چند احباب نے ہاتھوں ہاتھ میرا اس طرح سے فقیدالمثال استقبال کیا کہ مجھے اپنے اوپر کسی معزز شہری کا شبہ ہونے لگا۔ لیکن اس استقبال میں جھنگ، فیصل آباد، سرگودھا، نلکا اڈہ، رجوعہ موڑ، پنڈی بھٹیاں اور چناب نگر کے نعروں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ خیر ایک زورآور صاحب نے اپنے زور بازو کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایک ہائی روف گاڑی کی درجہ اول کی نشست پر بٹھاتے ہوئے فی الفور ایک بیش قیمت ٹکٹ آنجناب کے ہاتھوں میں تھما دی۔ ٹکٹ کے اوپر درج رقم دیکھ کر تو میرے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے کیونکہ مطلوبہ رقم کے برابر پیسے تو شاید میری جیب بشمول بینک اکاؤنٹ میں بھی میسر نہ ہوتے۔ رحم طلب نگاہوں سے ٹکٹ والے شخص کو دیکھتے ہوئے فوراً سوال داغ ڈالا۔

Read more

صاحب! ذرا بات سنیے

صاحب! میرے وجود کے نیگورنو کاراباخ میں اپنی یادوں کی جھڑپیں چھیڑ کر خود منظر سے ہی غائب ہو گئے ہو۔ صاحب یہ اچھی بات نہیں۔ کم از کم تماش بینوں میں بیٹھ کر میرا تماشا ہی دیکھتے تاکہ مجھے تسلی رہتی کہ تم میرے آس پاس ہی کہیں ہو۔ آزربائیجان اور آرمینیا کی طرح میرے دل و دماغ بھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ رہے۔ دونوں اپنی اپنی ضد پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور اس پورے منظرنامے میں اگر کوئی پس رہا ہے تو وہ میری ذات ہے۔

اب اگر تم چاہو تو ترکی کی طرح دل و دماغ میں سے ایک فریق کا ساتھ دے کر دوسرے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر مصلحت سمجھو تو روس کی طرح دونوں کے مابین کوئی ثالثی ہی کرا دو۔

Read more