پان، تھوک اور گٹکے کے رنگین ملاپ سے تشکیل پائے ہوئے آمیزے نے لاری اڈے پر مختلف الانواع رنگ بکھیرنے کے ساتھ ساتھ دماغ کی دبی رگوں کو ہلا کر رکھ دینے والی ایک مہک سے فضا کو معطر کر رکھا تھا۔ وہ تو شکر خدا کہ کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے نامساعد حالات کی بناء پر جیب میں ایک عدد ماسک میسر تھا کہ جس کو ناک اور منہ پر ایک خاص زاویہ سے چڑھاتے ہوئے ناک میں زبردستی گھسنے والی ہواؤں کی راہ میں رکاوٹ حائل کر دی۔
تھوڑا سا آگے بڑھے اور چنیوٹ اڈے میں کھڑی گاڑیوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی ہی تھی کہ چند احباب نے ہاتھوں ہاتھ میرا اس طرح سے فقیدالمثال استقبال کیا کہ مجھے اپنے اوپر کسی معزز شہری کا شبہ ہونے لگا۔ لیکن اس استقبال میں جھنگ، فیصل آباد، سرگودھا، نلکا اڈہ، رجوعہ موڑ، پنڈی بھٹیاں اور چناب نگر کے نعروں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ خیر ایک زورآور صاحب نے اپنے زور بازو کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایک ہائی روف گاڑی کی درجہ اول کی نشست پر بٹھاتے ہوئے فی الفور ایک بیش قیمت ٹکٹ آنجناب کے ہاتھوں میں تھما دی۔ ٹکٹ کے اوپر درج رقم دیکھ کر تو میرے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے کیونکہ مطلوبہ رقم کے برابر پیسے تو شاید میری جیب بشمول بینک اکاؤنٹ میں بھی میسر نہ ہوتے۔ رحم طلب نگاہوں سے ٹکٹ والے شخص کو دیکھتے ہوئے فوراً سوال داغ ڈالا۔
Read more