سکون کیلئے باطن کا سفر ضروری ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنی فنی زندگی کے آغاز ہی میں ایسے ایسے ’نابغہ روزگار‘ لوگ دیکھے کہ مجھے سمجھ نہ آئی کہ ان کی مہارت کا دم بھرنا ہے یا ان کی چالاکی سے بچنا ہے۔ بہرحال دونوں صورتوں میں ہی ان سے احتراز واجب تھا۔ کیونکہ ایک تو وہ براہ راست ہم پہ مسلط نہیں تھے اور دوسرے یہ کہ ان کے شعبہ جات مختلف تھے۔ ایک صاحب ہفتے کے روز اپنے ماتحت عملے کو بتا کر جاتے تھے کہ کل یعنی اتوار کے روز اس اس وقت انہیں فون کر کے یہ یہ سوال پوچھے جائیں۔

یہ بات سن کر دل میں گرہ سی بندھ گئی ، اب انتظار تھا کہ کسی طور یہ عقدہ کھلے۔ سچے دل کی باتیں رب بھی جلدی سن لیتا ہے تو اس کے جواب کا زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ایک دن موصوف نے پوٹلی کھول ہی دی کہ ایسا کرنے سے وہ اپنے گھر والوں کو بتا سکتے ہیں کہ میرے بغیر پلانٹ کا کام نہیں چلتا اور کس قدر اہمیت کی حامل شخصیت آپ کے گھر رہتی ہے۔ اسی دن یقین آ گیا کہ ان صاحب کا بھی گھر کی مرغی دال برابر والا معاملہ ہی ہے۔ لیکن اس میں نکتہ ’خوشی‘ کا ہے کہ اگر اسی میں اور ایسے ہی ان کی خوشی ہے تو خوش ہونے میں کیا برا ہے۔

ایسے ہی ایک صاحب بیوروکریسی میں اچھے عہدوں پہ متمکن رہے۔ بہت بار ترقی کے مواقع ملے کہ اپنے شعبے کے سربراہ بن جائیں لیکن ان کی ’خوشی‘ نے گوارا نہیں کیا۔ ہمیشہ ہی انہوں نے دوسرے نمبر پہ رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے بقول دونوں صورتوں میں کام ایک جیسا ہے ، فرق اتنا ہے کہ پہلے نمبر پہ آ کے ذمہ داری بہت بڑھ جاتی ہے اور ہر جگہ جواب دہی کے لئے پیش ہونا پڑتا ہے۔  ان کی خوشی اسی میں تھی کہ کام سارا کرتے رہیں لیکن جوابدہی کے لئے ادھر سے ادھر اور یہاں سے وہاں نہ گھسنا پڑے۔ اور بلاوجہ کی زحمت اور ذہنی تناؤ سے بھی محفوظ رہیں۔ ان کے اپنے طور پر یہ کلیہ بالکل درست ہے۔

یہ دونوں باتیں ایسے ذہن میں آئیں کہ ہر کوئی آگے بڑھنے ، کامیاب ہونے، مالدار ہونے ، بڑا عہدہ رکھنے اور زیادہ اثر و رسوخ والا بننے کی تگ و دو میں ہے اور ایسی کھوج میں بھی ہے کہ کوئی ایسا مل جائے جو اس راہ پہ اسے ڈال دے۔ ایک لمحے کو مان لیں کہ یہ سب چیزیں حاصل ہو بھی جائیں تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم خوش ہو گئے ہیں؟ کیا ہم یہ مان لیں کہ خوشی کا تعلق انہی چیزوں سے ہے؟ تو کیا جو ہم آئے روز خبروں میں سنتے ہیں وہ سب جھوٹ ہے کہ بندہ چھ سو ملین ڈالر ہونے کے باوجود بھی پریشان ہے۔ بلینیئر ہونے کے باوجود بھی کسی اور طرح کی تلاش میں سرگرداں ہے۔

خوشی کا تعلق ظاہر سے جبکہ سکون کا تعلق باطن سے ہے۔ باقی سب آسائشیں ہیں جن کے بغیر جیا بھی جا سکتا ہے اور خوشی و سکون میں بھی رہ سکتے ہیں۔ جس دن قناعت کسی مجبوری اور ندامت کے بغیر آپ نے اختیار کر لی اسی دن خوشی ، سکون اور راحت کی منزل کی طرف بڑھنا شروع کر دیں گے۔ اور جس دن راضی بہ رضا رہنا سیکھ گئے اس دن پہلا اور اہم سنگ میل عبور ہو جائے گا۔

بتانے والے بتاتے ہیں کہ خود کی نفی اور خواہش کا ترک کرنا ہی خوشی و سکون کی کنجی ہے۔ کہنے اور لکھنے کو یہ جتنا آسان ہے عملاً یہ اتنا ہی مشکل اور پیچیدہ امر ہے۔ لیکن اگر منزل کو پانے کا ارادہ ہے تو اس کی طرف سفر کرنا ہی ہو گا اور اپنے تئیں اس راستے کی طرف چلنے کی سعی کرنی ہو گی اور کوئی ایسا کامل ڈھونڈھنا ہو گا جو نہ صرف اس راہ پہ ڈال دے بلکہ اس پہ چلنا ہمارے لئے آسان بھی بنا دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply