بنست اے بسنت! تجھے ہم یاد ہی کر سکتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے کچھ برسوں میں ترجیحات اس طرح سے تبدیل ہوئی ہیں کہ ہم ”نائنٹیز“ میں پیدا ہونے والے جو ابھی تک اپنے نام کے ساتھ ”نوجوان“ لگاتے ہیں اگر اپنے بھتیجوں یا بھانجوں کو کچھ سال پہلے تک رائج ”hobbies“ کا بتائیں تو لگتا ہے کوئی صدیوں پرانی بات ہو رہی ہو۔ گلی میں ہونے والی کرکٹ ہو، کرکٹ کے ہر مہینے ہونے والے ٹورنامنٹس ہوں، زمین پر لکیریں بنا کر کھیلا جانے والا ”وانجو“ ہو، کنچے ہوں یا اس طرح کے اور بھی بہت سے کھیل جو آج کل کے ”ایڈوانس“ لوگوں کو کیسے بھی لگتے ہوں پر ان میں بچوں کے لیے ایک چیز ضرور ہوتی تھی جسے ”بچپن“ کہتے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے میں سو کالڈ ایڈوانس پنے کے نام پر ہم نے اپنے بچوں کے بچپن کے ساتھ جو ظلم کیا ہے وہ ناقابل بیان ہے اور اگر تازہ ریٹائرڈ یا اچانک نو دولتیے بننے والوں نے  چند موجود گراؤنڈز میں چار ”پھول بوٹے“ لگا کر انہیں پارک بنانے کے چکر میں جو ظلم ڈھایا ہے اس کے اثرات کا ہی ذکر کیا جائے تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

ان سب کے درمیان جو ایک پسندیدہ تہوار ہماری ”شدت پسندی“ اور ”عقلمندی“ کی بھینٹ چڑھا وہ جشن بہاراں ہے جسے عرف عام میں ”بسنت“ کہتے ہیں۔ بہار کے رنگوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے منایا جانے والا یہ تہوار تصور میں صرف پتنگ بازی کا تہوار لگتا ہے لیکن اس میں اور بہت کچھ تھا جو اس کو باقی سب سے ممتاز بناتا تھا۔ یہ کھابوں کا تہوار تھا، چھتوں منڈیروں کا تہوار، بنگڑے کا تہوار، لیٹ نائٹ پارٹیوں کا تہوار، رنگوں کا تہوار، خوشیوں کا تہوار۔

آج بھی یاد ہے کہ دسمبر آتے ہی دو مہینے بعد ہونے والے اس تہوار کی تیاری شروع ہو جاتی تھی۔ پتنگیں بنوائی جاتیں، ڈور آرڈر کی جاتی، دوستوں یاروں کے ساتھ پارٹی ”plan“ کی جاتی اور اس دن ہر طرف رنگ نظر آتے تھے، انرجی نظر آتی تھی، لوگ ”عید“ کے جیسے تیار ہو کر دعوتیں اڑانے جاتے تھے۔ مختلف شہروں میں مختلف دنوں میں ہونے کی وجہ سے لوگ دوسرے شہروں میں رہائش پذیر رشتہ داروں اور دوستوں کے پاس خاص اس تہوار کو منانے جاتے تھے۔ کیا وقت تھا ، لکھتے ہوئے بھی اس کا احساس تازہ ہو رہا ہے۔

لوگ دو دو مہینے لگا کر ”پتنگوں“ پر ڈیزائننگ کے لیے کچھ نیا سوچتے تھے۔ بسنت کی رات سے ہر گھر کے ”بنیرے“ پر مختلف رنگوں کے پتنگ لٹکا دیے جاتے جن پر محنت کر کے کچھ ڈیزائن کیا جاتا تھا۔ یہ پتنگیں اکثر اڑائی نہیں جاتی تھیں بس ”شو پیس“ کے لیے سجائی جاتی تھیں۔ ہر طرف سے ”بو کاٹا“ کا شور سننے کو ملتا تھا۔ چھت پر ڈور اور پتنگوں کا ڈھیر ہونے کے باوجود کٹی پتنگ لوٹنے کا اپنا مزہ ہوتا تھا۔ غرض زندگی ان چوبیس گھنٹوں میں چھت پر کھڑے ہو کر آسمان دیکھنے کا نام ہوتا تھا، بس۔

اس کھیل پر پابندی لگانے سے بس ایک چوبیس گھنٹے کا تہوار ختم نہیں ہوا بلکہ ایک انڈسٹری ختم ہوئی۔ پاکستان میں لاکھوں لوگ جن کا ”جدی پشتی“ کاروبار پتنگ سازی تھا ایک دم سے بیروزگار ہو گئے۔ لاکھوں لوگوں کا کاروبار ایک فیصلے کی بھینٹ چڑھ گیا لیکن کسی کو کبھی اس بات کا احساس تک نہیں ہوا۔ نہ عدالتوں میں جانے والوں نے، نہ فیصلہ دینے والوں نے اور نہ اس فیصلے پر عمل کروانے والوں نے، کسی ایک نے بھی ان لاکھوں افراد کے لیے کوئی بھی ”بیک اپ پلین“ نہیں سوچا اور نہ ہی بعد میں کوئی اقدام اٹھایا گیا۔ سینکڑوں سال سے ہماری تہذیب سے جڑا ایک تہوار قصۂ پارینہ بن گیا۔

اس کی مخالفت میں ہزار دلیلیں دی جاتی ہیں لیکن ان ہزار دلیلوں میں ہر دلیل سے جڑی ایک ہزار اور بھی ”ایکٹیویٹیز“ ہیں جو آج تک چل رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ پیسے کا ضیاع ہے تو جو لوگ یہ کہتے ہیں وہ ہر مہینے اس سے کہیں زیادہ پیسے اپنے ”دینی اور سماجی“ فنکشنز پر لگا دیتے ہیں۔ اس میں رات کو ”ڈسٹرب“ کیا جاتا ہے تو کیا ہم مہندیوں، محفلوں، تقریبات، پارٹیوں میں آج بھی رات رات تک میوزک نہیں چلاتے۔ لوگ جان سے جاتے ہیں تو کیا حادثات میں اور لاپروائی سے ہر روز اتنے لوگ جان سے نہیں جاتے جتنے شاید پچھلے دس سال میں بھی اس تہوار کی وجہ سے نہ گئے ہوں۔

اور پھر جب کچھ نہیں بچتا تو اس علاقائی تہوار کو ”ہندوؤں“ کا تہوار کہہ کر کالر اکڑا لی جاتی ہے۔ یہ سب سے آسان طریقہ ہے، کسی بھی بات کو اسلام سے ہٹ کر کسی مذہب سے جوڑ دیا جائے یہ بات بھولتے ہوئے کہ پاکستان میں بھی بہت سے غیر مسلم آباد ہیں ۔ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ بھی اس کو علاقائی ہی بتائیں گے ، ان کے مذہب میں کوئی چیز موجود نہیں ایسی۔ سالگرہ کو کہاں کہاں جوڑا جاتا رہا اور اب حالات یہ ہیں کہ اپنے اپنے ”مذہبی“ رہنما، ان کے بچوں کی سالگرہ پورے پاکستان میں تقریبات کر کے منائی جاتی ہیں۔ مذہبی رہنما سے مطلب مذہبی رہنما ہی ہے، اسلامی شخصیات نہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہے لیکن ”احتیاطی تدابیر“ بھی کسی چیز کا نام ہے۔ حکومت کچھ ایس او پیز بنا سکتی ہے جس سے لوگوں کی جان بھی بچائی جا سکے گی اور اس ثقافتی و کاروباری تہوار کو بھی پہلے کی طرح منایا جا سکے گا۔ اس کے لیے ہر ”حکومت“ کو درپیش خطرات سے آگے کا سوچنا پڑے گا لیکن اس کے لیے کسی کے پاس فالتو ٹائم نہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک آپ بس پتنگ اڑتی دیکھیں، اڑانے کے شوق میں آپ کے گھر ”ڈالہ“ آ سکتا ہے جو ایسے یلغار کرے گا کہ جیسے آپ کے گھر میں کوئی بم بارود ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply