بنست اے بسنت! تجھے ہم یاد ہی کر سکتے ہیں
پچھلے کچھ برسوں میں ترجیحات اس طرح سے تبدیل ہوئی ہیں کہ ہم ”نائنٹیز“ میں پیدا ہونے والے جو ابھی تک اپنے نام کے ساتھ ”نوجوان“ لگاتے ہیں اگر اپنے بھتیجوں یا بھانجوں کو کچھ سال پہلے تک رائج ”hobbies“ کا بتائیں تو لگتا ہے کوئی صدیوں پرانی بات ہو رہی ہو۔ گلی میں ہونے والی کرکٹ ہو، کرکٹ کے ہر مہینے ہونے والے ٹورنامنٹس ہوں، زمین پر لکیریں بنا کر کھیلا جانے والا ”وانجو“ ہو، کنچے ہوں یا اس طرح کے اور بھی بہت سے کھیل جو آج کل کے ”ایڈوانس“ لوگوں کو کیسے بھی لگتے ہوں پر ان میں بچوں کے لیے ایک چیز ضرور ہوتی تھی جسے ”بچپن“ کہتے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے میں سو کالڈ ایڈوانس پنے کے نام پر ہم نے اپنے بچوں کے بچپن کے ساتھ جو ظلم کیا ہے وہ ناقابل بیان ہے اور اگر تازہ ریٹائرڈ یا اچانک نو دولتیے بننے والوں نے چند موجود گراؤنڈز میں چار ”پھول بوٹے“ لگا کر انہیں پارک بنانے کے چکر میں جو ظلم ڈھایا ہے اس کے اثرات کا ہی ذکر کیا جائے تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔
Read more
