بنست اے بسنت! تجھے ہم یاد ہی کر سکتے ہیں

پچھلے کچھ برسوں میں ترجیحات اس طرح سے تبدیل ہوئی ہیں کہ ہم ”نائنٹیز“ میں پیدا ہونے والے جو ابھی تک اپنے نام کے ساتھ ”نوجوان“ لگاتے ہیں اگر اپنے بھتیجوں یا بھانجوں کو کچھ سال پہلے تک رائج ”hobbies“ کا بتائیں تو لگتا ہے کوئی صدیوں پرانی بات ہو رہی ہو۔ گلی میں ہونے والی کرکٹ ہو، کرکٹ کے ہر مہینے ہونے والے ٹورنامنٹس ہوں، زمین پر لکیریں بنا کر کھیلا جانے والا ”وانجو“ ہو، کنچے ہوں یا اس طرح کے اور بھی بہت سے کھیل جو آج کل کے ”ایڈوانس“ لوگوں کو کیسے بھی لگتے ہوں پر ان میں بچوں کے لیے ایک چیز ضرور ہوتی تھی جسے ”بچپن“ کہتے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے میں سو کالڈ ایڈوانس پنے کے نام پر ہم نے اپنے بچوں کے بچپن کے ساتھ جو ظلم کیا ہے وہ ناقابل بیان ہے اور اگر تازہ ریٹائرڈ یا اچانک نو دولتیے بننے والوں نے  چند موجود گراؤنڈز میں چار ”پھول بوٹے“ لگا کر انہیں پارک بنانے کے چکر میں جو ظلم ڈھایا ہے اس کے اثرات کا ہی ذکر کیا جائے تو پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

Read more

سپیڈ بریکرز سے ہماری مثالی محبت

پرانے وقتوں میں جب سواری جانوروں پر ہوتی تھی تو اس مناسبت سے ”روڑے اٹکا“ کر سفر کو روکا جاتا تھا۔ آج کے دور میں روڑے اٹکانا بظاہر تو ایک محاورہ ہی رہ گیا ہے پر ”روڑے اٹکانے“ والوں کی نسل ابھی بھی پائی جاتی ہے۔ آج کل کے روڑے کو ”سپیڈ بریکر“ کہا جاتا ہے۔ یہ انقلابی ایجاد کب ہوئی، کون اس کا موجد ہے ، اس بارے میں کوئی سند تو میسر نہیں آئی فی الحال ، ہاں

Read more

عوام جاہل یا حکمران عقل کل

اس وقت پوری انسانیت ایک وبا کی لپیٹ میں ہے اور ہر ملک کی پہلی ترجیح یہی ہے کہ کس طرح اس بھنور میں سے اپنی قوم کو نکالا جائے اور نقصان بھی کم سے کم ہو۔ ارض پاک پر بھی اس وقت اس موذی وبا کے سائے چھائے ہوئے ہیں جو ہر گزرتے دن گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اپنی کم علمی اور کم عقلی کی وجہ سے میں گراف کی بڑھتی گھٹتی لائنوں پر تبصرہ کرنے سے قاصر ہوں۔ بہرحال کوشش کروں گا کہ ایک سطحی سوچ کا فرد ہونے کے ناتے میں اپنے ہم خیال لوگوں کی نمائندگی کر سکوں۔

لکھنے بیٹھا ہوں تو سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں سے شروع کروں؟ کس نقطے کو پہلے ڈسکس کروں اور کس کو بعد میں۔ ابھی پرسوں کی ہی بات ہے کہ صوبائی وزیر صحت نے عوام کو جاہل کا لقب عطا فرمایا جس کہ بعد ہر جگہ اسی پر بحث ہونے لگ گئی۔ جیسا کہ مرشد نصرت جاوید فرماتے ہوتے ہیں کہ یہ قوم اندھی عقیدت اور نفرت کے درمیان رہتی ہے تو اس بات کو لے کر بھی عقیدت مندوں نے پورا زور لگانا شروع کر دیا کہ ہاں بھائی ہم ہیں ہی جاہل۔ میں اس وبا کہ ملک میں تشریف لانے سے لے کر اب تک اپنی عقل کل حکومت کے کچھ سنہرے اقدامات کا ذکر کروں گا اور پھر فیصلہ قارئین پر چھوڑ دوں گا۔

Read more