گناہ گار کرسمس کی مبارک دیتے ہیں


\"\" ہر وہ معاملہ جو ہمارے دماغ میں بٹھائی گئی تعریفوں پر پورا نہ اترے، وہ گناہ قرار پاتا ہے۔ یہ دنیا میں کسی ایک ملک یا شہر کی روایت نہیں، ہر جگہ ایسا ہی ہے۔ ہمارے یہاں جو گناہ عام طور پر موجود ہیں ان کا ذکر کیا جائے تو گانے گانا، گانا سننا، ہر دو عمل گناہ۔ تصویر بنانا، تصویر لگانا، ہر دو فعل گناہ۔ رقص کرنا، رقص دیکھنا، ہر دو کام گناہ۔ اداکاری کرنا، فلم دیکھنا، دونوں چیزیں گناہ۔ تھیٹر گناہ، سنیما گناہ، ٹی وی گناہ۔ بچپن میں جو بچے ناول پڑھتے تھے، وہ بھی گناہ تھا۔ ایک زمانے میں لڑکیوں کا سوائے ایک دو کتابوں کے کچھ بھی اور پڑھنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ ہر وہ چیز جس سے ذرہ برابر بھی لطف اور تفریح کشید ہو سکے، وہ بہرحال گناہ ہے!

گناہ بہت سارے ہیں، زندگی کو ہم گناہوں کے بوجھ تلے دفن کر دیتے ہیں۔ کوئی بھی ایسا کام جو دماغ کو ذرا موج مستی کی طرف لے کر جائے وہی کام رات سوتے وقت گناہ بن کر سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ ایسا شاید اس لیے ہے کہ دنیا بھر کے ماں باپ زندگی کا پورا پیکج سزا اور جزا کے تھیلے میں رکھ کر بچے کو پکڑا دیتے ہیں۔ آپ کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اب تھیلا آپ کے ہاتھ میں ہے، سینڈوچ نکال کر کھائیں گے تو اچھے بچے ہوں گے، اچھا انجام ہو گا، اسی تھیلے میں سے سردیوں میں آئس کریم نکال لی تو نزلہ زکام کھانسی آپ کا مقدر ہے، کیا پتہ نمونیے سے مر جائیں۔ اس تھیلے میں پیار کا نام و نشان نہیں ہوتا، انسانیت اس تھیلے میں نہیں ملتی، رواداری تھیلا الٹنے پر بھی باہر نہیں آتی، ہاں اگر درست نام دیں تو یہ تھیلا پارسائی کا تھیلا ہوتا ہے۔ زندگی کا بہترین وقت اس تھیلے کو گلے میں لٹکائے گزار دیا جاتا ہے۔ دوسروں میں خرابیاں تلاش کرنا، دوسروں کے گناہ ڈھونڈنا، کوئی اس تھیلے میں سے اپنی مرضی کی چیزیں نکال لے تو اسے باغی سمجھنا، یہ سب معاملات تب شروع ہو جاتے ہیں جب اس تھیلے کو ہمیشہ کے لیے جسم کا حصہ بنا لیا جاتا ہے۔

اگر اچھے سمجھے جانے والے کام ایک انسان کو غرور میں مبتلا کر دیں، ان سب سے بہتر ہونے کے غرور میں کہ جو یہ کام نہیں کرتے تو ان کاموں سے فائدہ کیا ہوا؟ جیسے فرض کیجیے آپ نے کسی غریب انسان کی مدد کی، یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن جب وہ آدمی آپ کے پاس سے ہو کر آگے گیا اور آپ اسے دیکھتے رہے کہ دوسرا کون کون اس کی مدد کرتا ہے، تو یہ بات گڑبڑ ہے۔ آپ نے ایک کام اچھا کر دیا، اب کہیں اور توجہ دیجیے، دوسرے جب اس غریب کو اگنور کریں گے اور آپ اپنے دیالو ہونے کا فخر محسوس کریں گے تو یہ دراصل پارسائی کا نشہ ہو گا۔ اسی طرح زندگی کے ہر معاملے میں ہے۔ سگریٹ نہ پینے والا بچہ ان سب دوستوں کو برا سمجھے گا جو سگریٹ پیتے ہیں۔ گانے نہ سننے والا نوجوان نہ صرف حس لطیف سے محروم ہو گا بلکہ وہ دوسروں کو گناہ گار بھی سمجھے گا۔ وہ بزرگ جو تمام عمر زندگی کے میلے لوٹتے رہے آخری عمر میں دنیا کو ایک کڑا امتحان قرار دیں گے اور جوانوں کی زندگی عذاب کر دیں گے۔ وہ بچی جو خود سمٹی سمٹائی رہتی ہو گی اس کے نزدیک جینز پہنی کلاس فیلوز بے شرم ہوں گی۔ وہ عورت جو دنیا کو اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ہو کر دیکھنے پر مجبور ہو گی اسے یہ دونوں بچیاں گلی سے گذرتی بری لگیں گی چاہے انہوں نے کچھ بھی پہن رکھا ہو۔ یہ تمام نام نہاد عظمتیں انسان اپنے آپ سے اس وقت منسوب کرتا ہے جب وہ ایسا کچھ بھی نہ کر پائے جو اس کا دل چاہتا ہو۔ ایک مرتبہ مجبور ہو کر، یا سزا کے ڈر سے انسان پارسائی کے مینار کی سیڑھیاں چڑھنا شروع ہو جائے تو ہر سیڑھی پر زمین والے حقیر سے حقیر تر نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

پارسائی اپنے آپ میں ایک عظیم تر نشہ ہے۔ یار دوست تاش کھیل رہے ہیں، شرطیں لگی ہوئی ہیں، ایک جوان کھیلتے کھیلتے اٹھا اور اپنی تعلیمات کے مطابق وہیں کونے میں عبادت شروع کر دی۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، یا تو وہ دوستوں کی اصلاح چاہتا ہے، یا پھر وہ جزا و سزا کے تھیلے میں سے سینڈوچ اور آئس کریم نکال کر ایک ساتھ کھانا چاہتا ہے۔ اس نوجوان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بیٹا دوست یا تو ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے۔ اگر ہیں تو اچھائی برائی سمیت قبول کرو ورنہ راستے بدل لو، کیوں اپنا اور دوسروں کا کھیل خراب کرتے ہو۔

اب اسی چیز کو ذرا پھیلا کر دیکھیں تو بسنت منانا، ویلنٹائن ڈے منانا، نیو ائیر منانا، کرسمس منانا، ہولی دیوالی کی مبارک باد دینا، دوستوں کی عبادتوں میں شریک ہونا، یہ سب ہمارے یہاں قابل سزا سمجھے جاتے ہیں۔ ہر خوشی کے موقعے پر جوانوں کا ایک ٹولہ نکلے گا اور اپنے نعرے مار کر پوری دنیا کو عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ بھئی آپ نیک ہیں، پارسا ہیں، زاہد ہیں، عابد ہیں، فبھا! سب کو خوشی ہے کہ معاشرے میں ایسے اچھے لوگ موجود ہیں۔ لیکن یار، اے اچھے لوگو، جو برے ہیں ان کا کیا قصور ہے اگر وہ تھوڑا ہنس کھیل لیتے ہیں۔ کسی اور موقعے پر سمجھا لیجیے، پھر کبھی یہ لعنت ملامت کر لیجیے، جو پارسا نہیں ہیں ان کو ڈنڈے کے زور پر کیسے نیک بنایا جا سکتا ہے؟ سکول کا زمانہ یاد کیجیے، جس بچے کو ایک بار مار پڑ گئی، اس کا خوف پھر اتر جاتا تھا۔ اب وہ اپنی مرضی سے ہوم ورک کرے تو کرے، پھینٹی اور بے عزتی اس کے لیے ایک معمول کی بات ہوتی تھی۔ ہاں جو بچے روز ہوم ورک کر کے آتے تھے وہ پٹنے والوں کو دیکھ کر ایک سستی سی خوشی محسوس کرتے تھے، وہی خوشی پارسائی ہے!

عین اسی طرح کرسمس کی مبارک باد دینے والوں کو بھی سزا سنائیں گے تو آپ بنیادی طور پر فاصلے بڑھا رہے ہوں گے۔ اس دنیا میں جہاں سکائپ، واٹس ایپ، فیس بک اور دوسری چیزیں فاصلے کم کر رہی ہیں وہاں ہمارے دوست ایسی باتوں کو لے کر فاصلے بڑھا رہے ہیں۔ یہ فیس بک جس پر ہم اپنے تمام میسیحی بھائیوں کو مبارک باد دیتے ہیں، یا وہ فون جو اس برے کام کے لیے استعمال ہوتا ہے، وہ انہیں سب نے بنایا ہے جن کا یہ تیوہار ہے۔ کچھ اسی چیز پر غور کر لیجیے۔ لیکن یہ بات کافی پرانی ہو گئی، یہ تو ہر دوسری جگہ لکھا ہوتا ہے، اسے جانے دیجیے۔ یہ سوچیے کہ جب عید پر آپ سعودی عرب، دبئی، ایران، امریکہ، لندن یا کسی بھی اور ملک میں بیٹھ کر اپنی ماں سے بات کرتے ہیں، اپنے باپ کا چہرہ دیکھتا ہیں یا اپنے بچوں کو سکرین پر ہی سے چوم لیتے ہیں، کیا کبھی آنسو پیتے ہوئے یہ خیال آتا ہے کہ ایسی کوئی ٹیکنالوجی بنے جو لمس بھی محسوس کروا سکے؟ آپ انہیں چھو سکیں؟ اگر کبھی بنی تو وہ بھی یہی لوگ بنائیں گے جو میری کرسمس والی پارٹی ہے!

کرسمس کی مبارک باد!

استاد شفیق وجاہت مسعود کی یہ نظم جو علی افتخار جعفری کی یاد میں تھی، ہمیشہ حسب حال رہے گی؛

اے بے گنہی گواہ رہنا

علی افتخار پانیوں کا شناور ہے

دو اور کبھی دو سے زیادہ کشتیوں میں پاؤں جمائے

کھلنڈرے لڑکوں کی طرح شرارت سے ہنستا

روداں کے مجسمے کی طرح سیدھا کھڑا

اپنے ترشے ہوئے رگ پٹھوں کو سورج کے مقابل کیے

غدار پانیوں پہ سہولت سے پھسلتا چلا جاتا ہے

تمباکو سے سیاہ ہوتے اس کے لبوں کا کوئی گوشہ نہیں پھڑکتا

ساحل پر کھڑے ہونے والے دیکھ سکتے ہیں

دو کشتیوں کے سوار کے سرین معلق ہوتے ہیں

اس کے رازوں سے کھیلنے والی ہوا دست صبا جیسی مہرباں نہیں

مگر وہ ڈیک پر پھسلتے پستول کو

بے نیازی سے ایک طرف ہٹاتے ہوئے

ایس ایم ایس لکھتا ہے

زندگی مختصر ہے

اصول اور ضابطے شکستہ کواڑ ہیں

معاف کرنا سیکھ لو

محبت تہہ دار ہے

تتلی کے رقصاں پر منزلوں کا نشاں ہیں

ایسے ہنسو جیسے کنواری کے پیٹ سے قلقلِ مے سنائی دیتی ہے

ایسے گاؤ جیسے قیدی چھوڑے ہوئے گلی کوچوں کو یاد کرتے ہیں ش

اپالو کا ہمزاد نہیں جانتا

پارسائی کا بدصورت چوپایہ

دانت نکوسے

لمبی خوں آشام زبان نکالے

میرے تعاقب میں ہے

اس نے مری بُو پا لی ہے

میں پارسائی کو کتا نہیں سمجھتا

سب کتے پاگل نہیں ہوتے

پارسائی ایک نجس مخلوق ہے

یہ دلوں کی کیاریاں روند دیتی ہے

خواب کے ہرے قطعات کھوند ڈالتی ہے

کنواریوں کی کوکھ میں کیکٹس اگتے ہیں

بوڑھی آنکھوں میں تلخی کی تللی بندھ جاتی ہے

محبت کے مسافر راستہ بھول جاتے ہیں

سبزہ خط ببول کی شاخ بن جاتا ہے

پریم نگر کی کھڑکیاں شہر پناہ

اور کتابیں آتش زدنی قرار پاتی ہیں

پارسائی ایک تعفن چھوڑتی گھونس تھی

جو کونوں کھدروں میں چھپ کر رہتی تھی

شہر نے یہ آفت کب سوچی تھی

صور اسرافیل کسی نے نہیں سنا

مگر پارسائی کا عجیب الخلقت جانور

ہر جبہ بے شکن اور منافق لبادے سے یوں برآمد ہوا

ہر بلند آہنگ حلقوم سے یوں اچھل کر نکلا

کہ شہر کے کوچے بوش کا جہنم بن گئے

اپنی جلاوطنی بے لباس ہو گئی

میرے پاس بندوق نہیں ہے

آگ اگلنا میں نے کبھی سیکھا نہیں

ایک کشتی کبھی میری ملک نہیں تھی

گری پڑی ٹہنیوں اور سوکھے پتوں سے

میں نے یہ ڈونگھی بنائی ہے

جو ہر لہر کے ساتھ بری طرح ڈولتی ہے

گدلا پانی رس رس کر اندر آرہا ہے

پارسائی کا گرسنہ چوپایہ

ساحل پہ بے چینی سے

میرے استخواں کا منتظر ہے

اپالو کے ہمزاد !

دو کشتیوں کے سوار !

مجھے پانیوں کی آغوش ہی میں ڈوبنے دینا

اور میرے ریاکار دوستوں کوبتا دینا

میری رندی اور شہوت کے قصے غلط یا صحیح !

میں پارسائی کی پچھل پیری سے بغل گیر نہیں ہوا

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain