اج کی پکائیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نبیل گریڈ اٹھارہ کا ایک سرکاری ملازم ہے جو سی ایس ایس کر کے مرکزی حکومت میں تعینات ہے۔ صاعقہ اس کی بیوی ہے۔ دونوں میاں بیوی اسلام آباد میں ایک مکان کے بالائی پورشن  میں کرائے پر رہائش پذیر ہیں۔ مہینے کی 21 تاریخ ہے۔ نبیل دفتر جانے کے لئے تیار ہو رہا ہے۔

نبیل (دفتر کے لیے تیار ہوتے ہوئے اپنی بیوی سے ): آج مجھے دفتر سے دیر ہو جائے گی، گاڑی تھوڑا مسئلہ کر رہی ہے ، واپسی پر ورکشاپ جانا ہے۔
صاعقہ: کئی بار کہا ہے گاڑی تبدیل کر لیں۔ کئی بار راستے میں خراب ہو چکی ہے۔ اب تو اس میں بیٹھنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔

نبیل: کار لون (car loan) کے لیے درخواست دی ہے۔ باری آنے پر منظور ہو گا۔ پیسے آ جائیں تو پھر کچھ کرتے ہیں۔
صاعقہ: اچھا یہ تو بتاتے جائیں آج کیا پکانا ہے؟ میرا تو مٹن (mutton ) کھانے کو دل کر رہا ہے۔

نبیل: بیگم کچھ پتہ ہے تمہیں سرخ گوشت صحت کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے۔ سرخ گوشت سے کولیسٹرول میں اضافہ ہوتا ہے جو شریانوں میں تنگی کا باعث بنتا ہے۔

صاعقہ: تو فش بنا لیتے ہیں؟
نبیل: اب تازہ دریائی مچھلی کہاں ملتی ہے،  فارمی ملے گی اور پھر مچھلی کی باس بھی مجھے اتنی پسند نہیں۔

صاعقہ (منہ بناتے ہوئے): اچھا چکن کے بارے میں کیا خیال ہے؟

نبیل : برائلر چکن کو پتہ نہیں پولٹری فارم میں کیا کیا کھلایا جاتا ہے، اینٹی بائیوٹکس تک تو لگائی جاتی ہیں۔ پھر یہ اینٹی بائیوٹکس غذائی زنجیر ( Food Chain) میں شامل ہو کر انسان کے جسم میں آ جاتی ہیں۔

صاعقہ (حیرانی سے): پھر تو صرف سبزی ہی رہ جاتی ہے، مکس سبزی بتا لیتے ہیں یا پھر کریلے آئے ہوئے ہیں بازار میں، موسمی سبزی ہے، کھانے کا مزہ آئے گا۔

نبیل : نہیں! آج کل سبزیاں سیوریج کے گندے پانی سے اگائی جاتی ہیں۔ ایسی جراثیم آلود سبزیاں کھانے سے بہتر ہے بندہ نہ کھائے۔

صاعقہ (غصے سے): تو پھر آج بھوکے رہیں؟
نبیل: بیگم کیوں نہ آج دال پکا لیں مونگ کی؟

صاعقہ (مایوسی سے) : اچھا! آخر کچھ تو پکانا ہے۔
نبیل: اور ہاں دال کو تھوڑا پتلا رکھنا۔ گاڑھی دال تھوڑا ہاضمے کا مسئلہ کرتی ہے۔
صاعقہ: اور بھی کچھ بنانا ہے ساتھ؟

نبیل: ویسے ضرورت تو نہیں ہے۔ چلو مولی اور پیاز کا سلاد بنا لینا۔
صاعقہ(حیرانی سے): سلاد! اور وہ بھی صرف مولی اور پیاز کا۔ اور ابھی تو آپ نے کہا ہے کہ سبزیاں غیر صحت بخش ہیں۔

نبیل : ہاں لیکن عمر بھر کے لیے اب ان سے منہ تو نہیں موڑا جا سکتا۔
صاعقہ: اور میٹھے میں کیا کھانا ہے؟

نبیل: بیگم! میٹھا زہر ہے زہر۔ اب ماہرین صحت کہتے ہیں کہ شکر خوری تمباکو نوشی سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔ میٹھا تو رہنے ہی دو۔
صاعقہ( ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ): اور ہاں کل کا بھی بتا دیں کہ کیا پکانا ہے؟

نبیل: کل تمہاری امی کے گھر چلے جائیں گے اور کھانا وہیں کھا لیں گے۔
صاعقہ استعجاب سے نبیل کو تکتی ہے۔ نبیل اس سے نظریں ملائے بغیر بیرونی دروازے کی طرف جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply