پچیس دسمبر اور دو باتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

حضرت یسوع مسیح نے اپنے ہونہار شاگرد پطرس سے کہا تھا

”بلکہ وہ وقت آتاہے کہ جو کوئی تمہیں قتل کرے گا، وہ گمان کرے گا کہ میں خدا کی خدمت کررہا ہوں۔ خدا کی خدمت تو یہ ہے کہ تم انسان کی خدمت کرو۔ اور جوکوئی تمہارے ایک گال پہ تھپڑ رسید کرے، تم دوسرا گال پیش کردو۔ جو کوئی تم سے قطع تعلق کرے، تم اس سے تعلق کو نبھاؤ۔ نیک بننا کوئی بات نہیں، بات تو یہ ہے کہ تم انسانوں کے ساتھ کوئی نیکی بھی کرو“۔

تمام مسیحی شہریوں کو حضرت یسوع مسیح کی ولادت باسعادت مبارک ہو۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو مجلس دستور ساز سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا

”اب آپ اس مملکت میں آزاد ہیں۔ اپنے مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبار مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔

جیساکہ آپ کو تاریخ کے حوالے سے یہ علم ہوگا کہ انگلستان میں کچھ عرصہ قبل حالات اس سے بھی بدترتھے جیسا کہ آج ہندوستان میں پائے جاتے ہیں۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ نے ایک دوسرے پر بہت ظلم ڈھائے۔ آج بھی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں ایک مخصوص فرقے سے امتیاز برتا جاتاہے اور ان پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ ہم نے ایسے حالات میں سفر کا آغاز نہیں کیا۔

ہم اس بنیادی اصول کے ساتھ ابتدا کررہے ہیں کہ ہم سب شہری ہیں۔ انگلستان کے باشندوں کو وقت کے ساتھ ساتھ آنے والے حقائق کا احساس کرنا پڑا اور اس بار گراں سے انہیں سبکدوش ہونا پڑا جو ان کی حکومت نے ان پر ڈال دیا تھا۔ وہ بتدریج آگ کے اس مرحلے سے گزر گئے۔

آپ بجا طورپر کہہ سکتے ہیں کہ اب وہاں رومن کیتھولک ہیں نہ پروٹسٹنٹ۔ اب جو چیز موجود ہے وہ یہ ہے کہ ہر فرد برطانیہ عظمی کا برابر کا شہری ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں اسی بات کو نصب العین کے طور پہ پیش نظر رکھنا چاہیے۔ آپ دیکھیں گے ایک وقت آئے گا کہ یہاں نہ ہندو ہندو رہے گا نہ مسلمان مسلمان رہے گا۔ یہ مذہبی اعتبار سے نہیں کہہ رہا، کیونکہ یہ تو ذاتی عقائد کا معاملہ ہے۔ یہ بات سیاسی اعتبار سے اور مملکت کے شہری کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں“۔

تمام پاکستانیوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی ولادت با سعادت مبارک ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply