دل صد پارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مشہور پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ کی کے ٹو پہاڑ سر کرتے ہوئے جان کی بازی ہار جانے کی خبر نے دل صد پارہ کر دیا۔ سدپارہ کی ہمت، عزم اور لگن کو دیکھتے ہوئے دل کا صدپارہ ہونا بنتا تھا۔ وہ ایک ایسے پاکستانی تھے جنہوں نے ایک سال میں دنیا کی چودہ آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کو سر کر رکھا ہے۔ ان میں ایسا ریکارڈ بھی ہے کہ جو انہوں نے آکسیجن کے بغیر سر کیا ہے۔ سدپارہ موت کی وادی سے لوٹ نہ پایا، تو اس کی اس مہم جوئی میں جان ہارنے کے متعلق دو طرح کے نظریات کے متحمل میدان بحث میں اتر چکے ہیں۔

یعنی کیا اسے ہیرو کہا جائے یا پھر خودکشی سمجھا جائے۔ وہ اس لیے کہ سد پارہ جانتا تھا کہ آکسیجن کے بغیر جا رہا ہے، طوفانی برفباری اور طوفان کا موسم ہے تو پھر انہوں نے کیوں کے ٹو پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں جان گنوائی۔ دوسرا مکتب فکر یہ کہتا ہے کہ انہوں نے ملک پاکستان کا نام روشن کرنے کے لئے سب کیا کیونکہ کوہ پیمائی کو بھی اب بطور مہماتی کھیل ہی لیا جا رہا ہے۔ خیر اس پر بحث کی جا سکتی ہے لیکن اس سے قبل میں با ذوق لوگوں کی نذر یہ بات کرنا چاہتا ہوں کہ یقین جانیے جن لوگوں کو پہاڑوں سے عشق ہو جاتا ہے پھر وہ جان کی پروا کیے بنا ہی اس عشق کی تکمیل کے لئے جب جب پہاڑ ان کو بلاتے ہیں ، وہ ان پہاڑوں کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔

میرا اپنا تجربہ ہے کہ میں جب 1990 میں مری میں فارسٹری کی تعلیم کے حصول کے لئے ہوسٹل میں رہتا تھا تو زندگی کی پہلی برف باری کو دیکھنے کے لئے کوئی ایک گھنٹہ ہاسٹل کاریڈور میں انتہائی سردی میں کھڑے ہو کر برف کو گرتے ہوئے دیکھتا رہا۔ مجھے یاد ہے پہلی برفباری کے سمے شام کا وقت ہو گا۔ رات کو سو گئے، اگلی صبح جب آنکھ کھلی تو باہر دھوپ چمک رہی تھی لیکن اس دن دھوپ میں حدت نہیں بلکہ چمک اتنی تھی کہ آنکھیں کھلنا مشکل ہو رہا تھا۔

الہیٰ کیا ماجرا ہے اتنی سردی ہے، دھوپ میں تمازت بھی نہیں ہے پھر بھی آنکھیں کیوں چندیا رہی ہیں۔ کچھ وقت بعد جب مکمل آنکھیں کھلیں تو احساس ہوا کہ برف پوش پہاڑوں سے جو شعاعیں ٹکرا کر آنکھوں میں پڑ رہی ہیں ، یہ سب ان کی چمک ہے۔ پہلی بار برف پوش پہاڑوں کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اللہ پہاڑ بھی اس قدر پرکشش ہوتے ہیں۔ پہاڑی دو شیزائیں ایسے تھوڑی خوبصورت ہوتی ہیں۔ یقیناً ان کی گل اندامی میں انہیں برف پوش چوٹیوں کا حسن سمو جاتا ہو گا۔

یقین جانیے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے پرکشش برف پوش چوٹیاں اپنے سحر میں گرفتار کیے مجھے اپنی طرف بلانے کا اشارہ کر رہی ہوں۔ یہ میں اپنی کیفیات بیان کر رہا ہوں، اب ذرا سوچیے جو شخص انہیں برفیلے پہاڑوں کا باسی ہو۔ جس نے آنکھ کھلنے سے لے کر جوان ہونے اور اپنی آخری مہم تک اپنے ہر سو صرف چاندی کے پہاڑ ہی دیکھے ہوں ، وہ کیسے ان چاندی کے پہاڑوں کے جادو سے بچ سکتا تھا۔ سد پارہ بھی انہیں پہاڑوں کے سحر میں مبتلا تھا، اسی لئے وہ اپنے انٹرویوز میں کہا کرتا تھا کہ اگر میں ان پہاڑوں میں کہیں گم ہو جاؤں تو گھبرانا نہیں میں برف میں غار بنا کر رہ لوں گا اور ایک دن واپس آ جاؤں گا۔

اس نے یہ سب کر کے دکھا دیا لیکن ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق اس کا کوئی سراغ نہیں ملا کہ کیا وہ برف کی غار میں محفوظ ہے یا خالق حقیقی سے جا ملا ہے۔ اگر معجزاتی طور پر وہ زندہ بچ جاتا ہے تو واقعی اللہ کا اس پہ کرم خاص ہو گا۔

اب آتے ہیں ان لوگوں کے خیالات کی طرف جن کا کہنا ہے کہ جب اس بندے کو پتہ تھا کہ کے ٹو پر آکسیجن کی کمی ہوتی ہے۔ برفانی موسم ہے، موسم کا کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا، برفانی تودے اور طوفان کبھی بھی انہیں اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس طرح ان کی زندگی کو خطرہ سو فیصد بڑھ جائے گا تو پھر اس نے اپنی موت کو خود سے آواز کیوں دی؟ اس نے خود سے موت کی وادی میں کیوں دھکیلا؟ لہذا ایسے موسم میں کے ٹو کو سر کرنا اپنی موت کو خود آواز دینا اور خود کشی کے مترادف ہے۔

اور تو اور ایسے فلاسفرز نے تو قرآن پاک کی آیات کا بھی حوالہ دینا شروع کیا ہوا ہے۔ او بھائی! خدا کے لئے ہر بات میں اسلام کو نہ لے آیا کریں۔ قرآن پاک کی 6666 آیات میں سے آپ خود کتنی آیات پر عمل کرتے ہیں۔ قرآن کہیں بھی شوق کی تکمیل کی ممانعت نہیں کرتا۔ قرآن تو صحت مندانہ سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور پھر اسلامی تاریخ کا اگر مطالعہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ﷺ خود اصحاب کی کشتی، شمشیر زنی وغیرہ کروایا کرتے تھے۔ اس لئے ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ اس نے خود کشی کی ہے۔

اگر یہی کام کوئی انگریز کرتا ہے تو ہم انہیں ہیرو قرار دیتے ہوئے ان کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، جیسے کہ اگر کسی کو کرکٹ کھیلتے ہوئے سر پر گیند لگ جائے اور وہ جاں بحق ہو جائے تو ہم انہیں ہیرو قرار دیتے ہیں۔ فٹ بال کھیلتے ہوئے سانس اکھڑ جائے یا پھر ہارٹ اٹیک ہو جائے تو وہ بھی ہیرو بن جاتا ہے۔ باکسنگ جیسے کھیل کو ہم بڑے شوق سے دیکھتے ہیں، کار ریس اور اسی طرح بہت سے ایسے کھیل ہیں جن میں جان جانے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں یہ ہم ہی ہوتے ہیں جو ایسے کھلاڑیوں کو ہیرو بنا دیتے ہیں کیونکہ وہ انگریز ہوتے ہیں۔

علی سد پارہ چونکہ ہمارا اپنا تھا اس لئے ہم انہیں ہیرو قرار دینے کی بجائے صبح و شام تنقید میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم اپنے اس ہیرو کے لئے دعائے مغفرت فرمائیں اور ان کے کارناموں کو تحسینی کلمات میں یاد کریں اور ایک قوم ہونے کا ثبوت دیں۔

اس سے پہلے کہ کسی رسم پہ وارے جائیں
چل کسی شوق کی تکمیل میں مارے جائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *