مہنگائی چھونے لگی آسمان


مہنگائی ختم کرنے کی حکومتی کوششوں کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کے ہوش ربا اضافے سے عوام کی کمر مزید ٹوٹ چکی، مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں تواتر سے ملتی رہتی ہیں، کچھ ہفتے قبل وزیراعظم نے چینی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے اپنی معاشی ٹیم کی تعریف کی تھی تاہم ابھی ستائش، داد و تحسین سمیٹ بھی نہیں پائے تھے کہ چینی، آٹے، گھی سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو دوبارہ پر لگ گئے، وفاق و صوبہ سندھ نے ایک دوسرے پر شدید نوعیت کے الزامات عاید کیے ، لیکن عوام کو ان الزامات، بیانات اور پریس کانفرنسوں سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ روز افزوں مہنگائی کے مسئلے کا باقاعدہ حل چاہتے ہیں۔

مہنگائی صرف اسلام آباد یا کسی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے ملک میں عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بھی با آسانی میسر نہیں، مہنگائی پر قابو پانے کے لئے ڈیزل، پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کیے جانا ضروری تصور کیا جاتا ہے، لیکن ہر ماہ، دو بار پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی روش سے مہنگائی کا جن، بوتل میں بند ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ عوام کا سمجھنا سو فیصد درست ہے کہ مہنگائی یا کوئی اور مسئلہ حکومت کے لئے حل کرنا مشکل نہیں ہوتا، اس سلسلے میں صرف خلوص نیت کے ساتھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، لیکن جس تیزی سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اس سے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکومتی ترجیحات میں، مہنگائی سمیت عوام کے مسائل کا حل شامل نہ ہو۔

اڑھائی برس میں 20 ارب ڈالر قرض اتارنے کی بات تو کی جاتی ہے، لیکن اس وقت اربوں ڈالر کا قرض کا بوجھ عوام کی گردن پر موجود ہے۔ حکومت اپنے تمام تر دعوؤں میں مہنگائی و عوامی مسائل کا ذمہ دار حزب اختلاف کو قرار دیتی آ رہی ہے، لیکن یہ بھی عوام بخوبی جانتے ہیں کہ ماضی کے مقابلے میں موجودہ حکومت نے قرض لینے کے بھی تمام ریکارڈز توڑ ڈالے ہیں۔ پاکستان کے ذمے واجب الاداء مجموعی رقم اس وقت 115 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2020 تک ملک کا مجموعی قرض 115.756 ارب ڈالر تھا۔ ایک سال پہلے یعنی 31 دسمبر 2019 کو 110.719 ارب ڈالر تھا، یعنی پاکستان کے ذمے مجموعی طور پر واجب الاداء قرض میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اشیائے ضروریہ کی تمام بنیادی ضروریات پر وہ اپنے ذمے ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں، حکومتی دعوؤں کے مطابق ٹیکس اہداف بھی حاصل ہو رہے ہیں، وزرا روزانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معیشت درست سمت جا رہی ہے، قرض بھی لئے جا رہے ہیں، ملکی و بیرونی قرض بھی اتارے جا رہے ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں کم قیمتوں کے باوجود ٹیکسوں میں اضافہ معمول بن گیا ہے، عوام کو بہلا دیا جاتا ہے کہ پندرہ روپے قیمت بڑھانی تھی لیکن مفاد عامہ کے خاطر صرف پانچ روپے بڑھائے گئے، پہلے تو پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ مہینے میں ایک بار ہوا کرتا تھا، اب مہینے میں دو بار ہونے سے، قیمتوں میں اضافہ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے، حکومت نے ابھی تک کوئی میگا پراجیکٹ بھی شروع نہیں کیا کہ کہا جا سکے کہ مفاد عامہ کے لئے بڑے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اقدامات کہاں کیے جا رہے ہیں، اس سے عام آدمی کو فائدہ کیوں نہیں پہنچ رہا، حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

چھ سے آٹھ افراد پر مشتمل ایک متوسط گھرانے کے کھانے پینے کے اخراجات میں اضافہ کنبے کے لئے بھاری بوجھ بنتا جا رہا ہے، کیا اقتدار میں بیٹھے صاحب اختیار اندازہ کر سکتے ہیں کہ حکومت کے ناکافی اقدامات سے گھرانے کو برائے نام ریلیف بھی نہیں مل رہا، حکومت کی جانب سے مہنگائی کم کرنے کا کوئی قابل عمل حل ابھی تک سامنے نہیں آ سکا، عوامی مسائل سے غفلت برتنے والے عناصر کے خلاف اگر مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو عوام ایسے نمائندوں کو مسترد کرنے کی خواہش بھی کرنے لگے ہیں کہ انہیں سبز باغ دکھا کر دھوکا دیا جاتا ہے۔

حکومت اگر واقعی مہنگائی کو کم کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہیے کارروائیاں رسمی کرنے کے بجائے ان عوامل کو دور کرے و دراصل مہنگائی بڑھنے کے بڑھنے کا باعث ہیں اور یہ عوامل پٹرول، گیس اور بجلی کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی قیمتیں ہیں، بھاری ٹیکس کی شرح کم کرنے کے بجائے نرخوں میں سال بھر میں ایڈجسمنٹ کے نام پر سال بھر میں کئی بار اضافہ کرنے کی روش کو ختم کیا جائے۔ پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخوں میں متواتر اضافے سے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ عوام کو اپنے مالی معاملات کے حوالے سے جھٹکے برداشت کرنا پڑتے ہیں، ملک اور قوم کو ان اقتصادی جھٹکوں سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے، اگر پٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں کو کچھ عرصے کے لئے منجمد کر دیا جائے۔

صوبائی حکومتوں کے پاس مہنگائی کو کم کرنے کا اختیار موجود ہے، لیکن بعض ایسے قانونی و آئینی معاملات ہیں، جن کا مکمل اختیار وفاق کے پاس ہے، مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے وفاق و صوبوں کے اشتراک سے میکرو اکنامک مینجمنٹ بہتر کرنے کی ضرورت ہے، پٹرول، بجلی اور گیس کے نرخوں کو منجمد کرنے سے عوامی طبقہ اپنے مالی معاملات کو بہتر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، صنعتوں، تعمیرات اور زرعی شعبے کی شرح پیداوار میں تیزی آ سکتی ہے اور کسانوں سمیت محنت کشوں کو سہولیات فراہم کرنے سے مہنگائی کم کرنے کی کوششوں کا آغاز ہو سکتا ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

ہمارے ملک میں برسراقتدار آنے والی حکومت عوام سے قربانیاں ہی طلب کرتی رہی اور انہیں سہانے خواب دکھاتی رہی، جن کی بڑی بھیانک تعبیر سامنے دیکھنے کے بعد اس صورتحال کو قبول کرنے کے لئے کوئی بھی تیار نظر نہیں آتا۔ عوام نے بڑی قربانیاں دی ہیں، اب حکومت کی ذمہ داری ہے وہ روزمرہ استعمال خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء کم نرخوں پر فراہم کرنے کے ٹھوس اقدامات کرے، وقتی طور پر عوام کو دلاسے دینے کے بجائے ایسے مستقل اقدامات کرے کہ لوگوں کی حقیقی اشک شوئی ہو سکے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ قرض لے کر قرض اتارو کی مہم کا تمام بوجھ عوام پر منتقل نہ کیا جائے۔ بلکہ مہنگائی کا جن بوتل میں بند کرنے کے لئے زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments