تعلیم کے باب میں ہمارا مجرمانہ قومی رویہ


تعلیم کا بنیادی مقصد انسان کو معرفت حق اور معرفت نفس کے جواہر سے بہرہ مند کرنا ہے۔
تعلیم انسان کو حق و باطل کی تمیز دیتی ہے۔
تعلیم انسان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرتے ہوئے اس کی تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کرتی ہے۔
تعلیم انسان کے اندر جوہر قابل پیدا کرتی ہے۔

تعلیم انسان کی شخصیت کو حقیقی کیریکٹر سے آراستہ کرتی ہے۔
تعلیم انسان کے رویوں کے اندر حسن پیدا کرتی ہے۔
تعلیم انسان کو سوچ کی پستی اور جمود سے نجات دلا کر اس کو وسیع النظر بناتی ہے۔
تعلیم انسان کو نئے تصورات سے آشنا کرتی ہے۔

تعلیم انسان کی غور و فکر کی صلاحیتوں کی آبیاری کر کے اس کے اندر تسخیر کائنات کی امنگ پیدا کرتی ہے۔
تعلیم انسان کو ذہنی وسعت عطا کر کے اس کے اندر برداشت، بردباری اور رواداری پیدا کرتی ہے۔
تعلیم انسان کو اختلاف کے آداب سکھاتی ہے۔

یہ تعلیم ہی ہے جس کے ذریعے معاشرے میں برداشت اور رواداری کے کلچر کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
یہ تعلیم ہی ہے جس کے ذریعے معاشرے سے عدم برداشت، انتہا پسندی اور تشدد کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ تعلیم ہی ہے جس سے منسوب ادارے کردار سازی کا کام کرتے ہوئے ایک مہذب اور ترقی یافتہ سماج کی تشکیل کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرتے ہیں۔

ہمارے ملک میں مگر بھانت بھانت کے نظام ہائے تعلیم، فرسودہ نصاب، آؤٹ ڈیٹڈ طریقہ ہائے تدریس، اساتذہ، ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپلز کی سطح پر ٹریننگ اور تربیت کے فقدان، نقل اور رٹا کلچر، فرسودہ طریق امتحان اور معیار کے بجائے مقدار پر زور جیسے عوامل کے باعث تعلیم کے مذکورہ مقاصد حاصل نہیں ہو پا رہے۔ یہی وجہ ہے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ”ڈگری یافتگان“ کی فوج ظفر موج میں مذکورہ مقاصد کی ادنیٰ سے جھلک بھی نہیں پائی جاتی۔

تعلیم کی اس تباہ کن صورتحال کی اصل وجہ یہ ہے تعلیم کبھی ہماری قومی ترجیحات میں شامل ہی نہیں رہی ہے۔

شعبۂ تعلیم کے ارباب حل و عقد اور پالیسی سازوں کو مذکورہ مقاصد سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ جن کے اپنے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں۔

ماؤزے تنگ نے کہا تھا کہ اگر آپ ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کرنا چاہتے ہیں تو اس کی ابتداء ہمیشہ ایک قدم سے ہوتی ہے۔

کسی بھی قوم کو ترقی سے ہمکنار کرنے میں ہمیشہ تعلیم ہی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

مملکت خداداد کو وجود میں آئے 74 برس کا عرصہ بیت چکا ہے، تعلیم کے باب میں مذکورہ مقاصد کے حصول کے لیے منزل کی طرف اٹھنے والے اس پہلے قدم کا ہمیں کہیں سراغ نہیں ملتا بلکہ ایک دانشور کے بقول ہم 74 برسوں سے منزل کے تصور سے نا آشنا ایک ایسی بس میں محو سفر ہیں جس کا کوئی روٹ نمبر ہی نہیں ہے۔

Facebook Comments HS