پہاڑوں کی آغوش میں


پہاڑوں سے محبت یوں تو خیبر پختونخوا ، گلگت، اور کشمیر کے لوگوں کے خون میں شامل ہے۔ شمالی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی شخص خواہ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو پہاڑوں کا نام سنتے ہی ایک سحر کی کیفیت میں جکڑ جاتا ہے۔

ان تمام علاقوں سے منسلک ہر شخص پہاڑوں کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جنہیں پہاڑ بھی محبت کرتے ہوں اور انہیں اپنی آغوش میں لے لیں۔ اگرچہ پہاڑوں سے محبت ایک سخت اور جان لیوا شوق ہے۔

پس انسان اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ سدپارہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے قومی ہیرو محمد علی سدپارہ بھی ایسے چند لوگوں میں شامل ہیں جن کا عشق پہاڑ اور شوق کوہ پیمائی تھا۔ اپنے شوق کو پورا کرنے کے لئے محمد علی سدپارہ نے کئی بار جان کی پروا کیے بغیر دنیا کی بلند ترین چوٹیاں سر کیں۔ اسی لگن اور شوق میں جب اس بار فروری کے مہینے میں غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ساتھ کے۔ ٹو سر کرنے کے مشن میں تھے تو پہاڑوں نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔

پہاڑوں سے اس عشق اور محبت کی داستان لکھنے کے لئے جب بھی قلم اٹھاؤ تو انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا لکھوں؟ دنیا کی بلند ترین چوٹی پر وطن عزیز کا پرچم لہرانے کا جنون لکھوں یا اداروں کی بے حسی لکھوں، اس جہان فانی سے کوچ کر جانے کے بعد ملنے والے اعزازات کی داستان لکھوں یا زندگی میں درپیش آنے والی مشکلات کی کہانی لکھوں، آج اس جہان فانی سے کوچ کرنے کے بعد ہونے والے لاکھوں کی لاگت کا سرچ آپریشن لکھوں یا اس وقت کی کہانی لکھوں جب اس ہیرو نے کوئی پیمائی میں استعمال ہونے والے محدود سر و سامان کے ساتھ جان لیوا پہاڑی راستوں اور کٹھن مراحل سے گزر کر دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر وطن عزیز کا پرچم سر بلند کیا۔

آج پوری قوم یہ سوال کر رہی ہے کہ اس وقت جب ہمارے ہیروز ہمارے ساتھ ہوتے ہیں تو انہیں کسی ادارے کی اتنی سی بھی سرپرستی حاصل کیوں نہیں ہوتی کہ وہ بنیادی ضروریات پوری کر سکیں اور جب اس جہان فانی سے کوچ کر جائیں تو لاکھوں کے سرچ آپریشن کیے جاتے ہیں اور اعزازت سے نوازا جاتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ ہم ان ہیروز کی زندگی میں ان کی قابلیت سے ناواقف رہتے ہیں۔

جناب! ایک بات عرض کرتی چلوں کہ نہ تو لاکھوں کی لاگت کے سرچ آپریشن اب فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی اعزازات اور تمغات سے گھروں کی ضروریات پوری ہوتی ہیں۔ بے شک وطن کی محبت سے سرشار اور اپنے شوق کو پورا کرنے والے اس سے پہلے بھی بنا ادارتی پشت پناہی کے وطن کا نام روشن کرتے رہے ہیں۔ لیکن اگر ان شخصیات کو اداروں کی جانب سے تھوڑی بہت پشت پناہی حاصل ہو جائے تو ان کے حوصلے اور بھی بلند ہو سکتے ہیں۔ بہرحال جب آپ دھن کے پکے ہوں تو حالات جیسے بھی ہوں ان سے نبرد آزما ہونے کے لئے راستے بنا لئے جاتے ہیں۔

بالکل ایسے ہی اپنے شوق کو پورا کرنے اور وطن کی محبت سے سرشار یہ لوگ کہیں جانوں کی قربانی دیتے ہیں، تو کہیں شدید سردی میں بے سر و سامان پہاڑوں کو سر کرتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کئی محمد علی ہیں جو اپنے شوق اور وطن کا پرچم بلند ترین چوٹیاں پر لہرانے کی خواہش میں مختصر ترین سروسامان اور حکومتی پذیرائی نہ ہونے کی وجہ سے غیر ملکیوں کے پورٹر کے طور پر ان پہاڑوں کو سر کرتے ہیں۔ بھاری بھر کم سامان اور بہت محدود ذرائع کے ساتھ ان سنگلاخ پہاڑوں کو سر کرتے ہوئے ہمارے ہیروز شاید سوچتے ہوں گے کہ کوئی ان قابلیت کو جانتے ہوئے ان کی پشت پناہی اور مالی امداد کرے اور وہ بھی مکمل ضروریات کے ساتھ اپنے سفر کو آگے بڑھا سکیں۔

ہم محمد علی سدپارہ کو تو ان کی زندگی میں وہ مقام نہ دے سکے جس کے وہ حق دار تھے۔ جو ہو چکا ہے اس پر تو سوائے پچھتاوے کے ہمارے بس میں کچھ نہیں لیکن یقین جانیے ابھی بھی ہمارے پاس کئی ہیروز ہیں جنہیں صرف حکومتی اور ادارتی پشت پناہی کی ضرورت ہے۔ حکومت اور ذمہ دار اداروں کو ان ہیروز کی مالی مدد اور حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ بعد میں آہ و بکا کرنے کی بجائے بروقت ان زندگیوں کو پرسکون بنایا جائے۔

Facebook Comments HS