ینکاری گیم ریزرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ سے ینکاری جانے کا پروگرام بنتا تھا،  پھر رہ جاتا اور اب آئندہ ویک اینڈ پر بات ٹھہری۔ اب کی بار لگ رہا تھا کہ بیل منڈھے چڑھ ہی جائے گی۔ دراصل کوئی بھی اس تفریح سے محروم نہیں رہنا چاہتا تھا اور جب گروپ بڑا ہو جائے تو بہت سوں کی شرکت کسی نہ کسی ذاتی کام سے مشروط ہوتی جاتی ہے۔

نائیجیریا کی باؤچی سٹیٹ میں واقع ینکاری گیم ریزرو جاس سے 325 کلومیٹر کی مسافت پر ہے۔ 2250 مربع کلومیٹر پر محیط اس گیم ریزرو میں تقریباً ہر قسم کی جنگلی حیات موجود ہے اور ویسٹ افریقہ میں سب سے زیادہ ہاتھی یہاں پائے جاتے ہیں۔

ہمارا گروپ پانچ فیمیلیز پر مشتمل تھا اور سب اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے ، البتہ انتظامی سہولت کی غرض سے گاڑیوں کو ایک ترتیب دے دی گئی اور طے کر لیا گیا کہ ہر ڈرائیور پیچھے والی گاڑی کو نظر میں رکھے تاکہ کسی گاڑی کے بریک ڈاؤن کی صورت میں وہ اکیلا نہ رہ جائے۔ یوں تو شاید ہی کوئی ویک اینڈ ہوتا تھا کہ ہم تفریح کے لئے نہ نکلیں لیکن ینکاری جانے کے لئے سبھی پر جوش تھے۔ اس اشتیاق کا سبب ایک تو وہ باتیں تھیں جو ینکاری کے بارے میں سن رکھی تھیں اور دوسرے یہ کہ تقریباً سب کے لئے کسی گیم ریزرو میں جانے کا پہلا اتفاق تھا۔

سفر کے آغاز پر آدھا دن گزر چکا تھا۔ سفر کا پہلا حصہ بارونق راستہ تھا اور سڑک بھی ہموار تھی اس لئے جلدی سے طے ہوا۔ اس کے بعد والی سڑک سنگل تھی اور کٹی پھٹی بھی۔ ایک مقام پر کچھ دیر کے لئے رک گئے اور تازہ دم ہو لئے۔ اس کے بعد کے راستے میں اکا دکا گاڑی مخالف سمت سے کراس کرتی رہی، مجموعی طور پر سڑک ویران تھی۔ چالیس کلومیٹر کا سفر باقی تھا کہ سورج غروب ہوا اور جلد ہی مکمل اندھیرا چھا گیا۔ اس وقت سڑک پر ہماری گاڑیوں کے علاوہ ٹریفک بالکل نہ تھی۔

میرے پیچھے ایک ہی گاڑی تھی جو کیپٹن نیازی نے حال ہی میں خریدی تھی ، اسی لئے سب سے پیچھے رکھا تھا کہ نئی گاڑی کے بریک ڈاؤن ہونے کا چانس کم ہوتا ہے۔ کچھ دیر بعد مجھے پچھلی گاڑی کی لائٹس نظر نہیں آئیں۔ میں نے گاڑی آہستہ کی ، پھر سائیڈ پر پارک کر لی۔ مزید پانچ منٹ گزر گئے گاڑی کے آثار نظر نہ آئے۔ پیچھے جا کر تلاش کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اندھیرے میں کسی گاڑی کے آنے کا شائبہ ہوا۔ کچھ دیر میں قریب آئی تو معلوم ہوا کہ کیپٹن نیازی کی گاڑی کی لائٹس اچانک بند ہو گئیں حتی کہ ہیزرڈ لائٹس بھی آن نہیں ہو رہی تھی ، اس لئے وہ بڑی احتیاط سے رینگنے والی رفتار سے گاڑی چلا رہے تھے۔

باقی سفر کے دوران اندھیری گاڑی کو آگے رکھا تاکہ میری گاڑی کی روشنی میں ان کو راستہ نظر آتا رہے۔ ہمارے ینکاری پہنچنے میں کچھ تاخیر ہوئی مگر دوسرے ساتھیوں نے اس دوران ہم سب کے لئے رہائش کا انتظام کر رکھا تھا۔ جنگل میں ایک ایسا ہوٹل تھا جہاں پر رہائش کا انتظام کسی عمارت کے کمروں کی بجائے جھونپڑیوں میں تھا جو ایک وسیع رقبہ پر پھیلی ہوئی تھیں کیونکہ ہر دو جھونپڑیوں کا درمیانی فاصلہ کافی زیادہ تھا اور اس ایریا میں راستے یا پگڈنڈیاں نہیں بنی ہوئی تھیں۔

اس طرح جنگل کو تراش خراش سے محفوظ بھی کیا ہوا تھا اور سیاحوں کو اصل جنگل کے ماحول میں رہنے کا موقع فراہم کیا گیا تھا۔ ہم ٹارچ کی روشنی میں اپنی ہٹ تک پہنچے جو کہ گولائی کی شکل میں تھی۔ ہٹ کے اندر ایک ڈبل بیڈ دو کرسیاں اور ایک میز رکھی تھی۔ ایک بلب کی روشنی کا بھی انتظام تھا۔ احتیاطاً ہم نے ٹارچ اور موم بتیاں اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں۔ واش روم میں ٹھنڈا اور گرم پانی میسر تھا۔ واش روم کی مقابل سمت میں زمین سے چار فٹ اٹھی ہوئی دو پٹ والی پرانی سی لکڑی کی کھڑکی تھی جو فی الوقت بند تھی۔ ہٹ سے باہر مکمل اندھیرا اور جنگل والی خاموشی تھی جو کسی وقت درختوں پر پرندوں کی پھڑپھڑاہٹ یا بندروں کے چھلانگ لگانے سے ٹوٹتی تھی۔ کھانے کا انتظام ہمارے پاس تھا۔ کھانے کے بعد ہم جلد سو گئے کہ جنگل میں یہی رواج ہوتا ہے۔

صبح نماز کے بعد کھڑکی کے پٹ کھلے رکھ کر ہم بستر پر دراز ہو گئے۔ کچھ ہی دیر میں آہٹ ہوئی، دیکھا تو دو بندر کھڑکی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پیشتر اس کے کہ وہ کمرے کے اندر آتے ، ان کو بھگا کر کھڑکی بند کر دی گئی۔ ہوٹل انتظامیہ کی طرف سے ناشتہ ہٹ کے اندر پہنچانے کا انتظام تھا۔ اس کے بعد ہم نے سفاری ٹرک پر جنگل کی سیر کے لیے نکلنا تھا۔ سفاری کے لئے ہم مقررہ جگہ پہنچے۔ معلوم ہوا کہ ہم تا خیر سے پہنچے اور سفاری روانہ ہو چکی تھی جس کا ہمیں بہت افسوس ہوا۔

انتظامیہ کا ایک ملازم ہمارے پاس آیا اور کہا کہ اگر ہم اپنی گاڑی پر جنگل میں جانا چاہتے ہیں تو گائیڈ کی خدمات میسر ہیں۔ ہم نے ایسا ہی کیا۔ بیگم بیٹی کو لئے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئیں اور گائیڈ کو آگے بٹھا کر اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑا۔ حقیقتاً جنگل میں گھومنا اور جنگلی حیات کا مشاہدہ کرنا ایک مہماتی احساس تھا جو دلچسپ بھی تھا اور ڈراؤنا بھی۔ راستے میں جانور نظر آتے تو گائیڈ ان کی نشاندہی کرتا جاتا۔

تقریباً سبھی قسم کے جانور وہاں موجود تھے اور زیادہ تر غول کی شکل میں آزادانہ گھوم پھر رہے تھے مثلاً نیل گائے، ہپوز، گینڈے، زرافے، چیتے وغیرہ۔ ایک مقام پر گائیڈ نے شیر کی بھی نشاندہی کی مگر دور تھا ، اس لئے ہمیں نظر نہیں آیا جبکہ ہمارے دوسرے ساتھی جو سفاری ٹرک پر گئے تھے انہوں نے شیر دیکھا تھا۔ راستہ کچا اور تنگ سا تھا اور اطراف میں گھنے درخت۔ بعض اوقات تو اوپر پہنچ کر اطراف کے درخت مل جاتے اور سرنگ بن جاتی تھی۔

راستے میں کہیں کہیں کھلی جگہیں بھی تھیں۔ ایک کشادگی والے مقام پر ہم پہنچنے والے تھے کہ گائیڈ نے فوراً رکنے کا کہا۔ میں وہیں رک گیا۔ سامنے دیکھا تو ہاتھیوں کا ایک غول نظر آیا جو تعداد میں درجن سے زائد ہی تھے۔ تین ہاتھی راستے میں بیٹھے تھے باقی بائیں جانب ملحقہ جگہ میں کچھ کھڑے تھے کچھ بیٹھے ہوئے تھے جبکہ کچھ مستی کر رہے تھے جس کے نتیجے میں چند درخت اکھڑے پڑے تھے۔ اس غول میں چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر سائز کے بچے بھی شامل تھے۔

گائیڈ نے کہا کہ ہارن مت بجائیں مگر گاڑی سٹارٹ رکھیں۔ ہمارا راستہ مکمل بند تھا جہاں ہم کھڑے تھے وہاں جگہ اتنی کشادہ نہ تھی کہ گاڑی کا رخ تبدیل کیا جا سکتا۔ ہم ہاتھیوں کی آزاد فضاء میں سرگرمیاں دیکھ کر محظوظ ہوتے رہے مگر دل میں اندیشہ بھی تھا کہ کہیں وہ ہمیں دیکھ نہ لیں۔ جنگلی حیات کو آزاد فضاء میں دیکھنا اور چڑیا گھر میں دیکھنے میں بہت فرق ہے۔ ہاتھیوں کا غول دس بارہ منٹ ہمارے راستے میں رکاوٹ بنا رہا۔

اس کے بعد وہ بائیں جانب نکل گئے اور ان کے جانے کا منظر دلچسپ تھا۔ آگے بڑے ہاتھی تھے ، اس کے بعد چھوٹے بچے اور آخر میں ہتھنی نے چھوٹے بچے کو سونڈ سے آگے دھکیلا اور اس کے پیچھے چلنے لگی۔ میں نے جب گاڑی آگے بڑھائی تو ہتھنی گاڑی کی طرف لپکی مگر گاڑی سپیڈ پکڑ چکی تھی۔ راستے میں پانی کے جوہڑ بھی نظر آئے۔ دو گھنٹے بعد ہم واپس پہنچے۔ کچھ دیر ہٹ میں آرام کیا۔ رات کے وقت اندھیرے میں ہٹ کی حیثیت تو ہوٹل کے کمرے ایسی تھی مگر دن میں اردگرد کا منظر نظر آنے سے ہٹ میں قیام کا لطف دوبالا ہوا۔ ایسی خاموش فضاء کہ ہوا کا جھونکا ہی سکوت کو توڑے اور ایسا تسکین آور ماحول کہ روح کو سرور بخشے انسان کو اس پر آشوب دور میں کبھی کبھار ہی میسر آ سکتے ہیں۔

کچھ دیر کے لئے آرام کرنے کے بعد ہم سب گرم پانی کے چشموں کی طرف روانہ ہوئے جو زیادہ دور نہیں تھے۔ ہوٹل کی بائیں جانب ایک راستہ کچھ دور جا کر ڈھلوان کی شکل میں نیچے اترتا چشموں تک پہنچتا ہے۔ یہ چشمے قدرت کا ایک حسین مظہر ہیں۔ دیکھنے میں بند گلی کی مانند بند نہر ہے جس کا ایک سرا عمودی چٹان سے مکمل بند ہے۔ چٹان کی اونچائی کافی زیادہ ہے اور اس کے نیچے سے چشمے پھوٹ رہے ہیں جو نظر نہیں آتے۔ پانی کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ ایک نہر کی شکل میں رواں ہے۔

پانی کا درجہ حرارت نہایت معتدل اور شفاف اتنا کہ ریت کے ذرات صاف نظر آتے ہیں۔ چار سے پانچ فٹ گہرا سبز رنگت کی جھلک دینے والا پانی ہر سیاح کو نہر میں اتر جانے کی دعوت دیتا ہے اور سبھی بصد شوق ماہی بے آب کی طرح اس طرف لپکتے ہیں۔ شوق سیاحت میں یہاں مختلف ممالک سے لوگ آتے ہیں۔ سوئمنگ اور بے لباسی لازم و ملزوم ہیں۔ اس کثیر الثقافتی اکٹھ میں ہر کوئی اپنی تہذیب اجاگر کر رہا تھا۔

ہم نے بھی نہر میں اترنے کا ارادہ کیا۔ بیٹی کو جس کی عمر اس وقت چار پانچ ماہ تھی، پالنے میں لٹا کر پاس ہی اپنا بیگ وغیرہ رکھ دیا۔ ابھی ہم کنارے تک پہنچے تھے کہ پالنے کی طرف دو تین بندر آتے دکھائی دیے۔ ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ نہر کے دونوں کناروں کے درختوں پر بندروں کی ایک فوج تھی جو ادھر ادھر پھلانگ رہے تھے۔ ہمارے گروپ میں ایک بڑی عمر کی خاتون تھیں ہم نے بیٹی ان کے حوالے کی کہ اس کا خیال رکھیں۔ پانی کا درجہ حرارت بہت خوش کن تھا جس کی وجہ سے یہ تفریح خوشگوار رہی۔ اس جگہ نے ہم پر ایسا جادو کیا کہ ہمیں ینکاری جانے کا دوبارہ اتفاق ہوا تو ہم جنگل میں جانے کی بجائے اسی مقام پر پکنک منا کر واپس آ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply