لنگر خانہ یا پھر کارخانہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ کراچی کے رہائشی ہیں تو آپ نے کراچی کی سڑکوں پر جا بجا لگے لنگر خانے یا دسترخوان کے مناظر دیکھے ہوں گے۔ کراچی کی ہر بڑی چورنگی اور مرکزی شاہراہوں پر بڑے بڑے لنگر خانے موجود ہیں جن میں روزانہ لاکھوں لوگ اپنے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔

کھانا کھانے والوں میں مزدور طبقے سمیت غریب اور نادار لوگوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے۔ اکثر جگہوں پر نہ صرف کھانا کھانے کی سہولت موجود ہے بلکہ گھر لے جانے کی سہولت بھی میسر ہے۔ کئی مشہور فلاحی تنظیمیں اس کام میں روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہیں جو لوگوں کی صدقہ و خیرات اور فنڈز کی شکل میں فلاحی تنظیموں کو ملتی ہے۔

فلاحی تنظیموں کے علاوہ حکومتی سطح پر وزیراعظم کے احساس لنگر اسکیم کی جانب سے بھی ملک بھر میں کئی لنگر خانوں کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد غریبوں کی بھوک مٹانا شامل ہے۔ وزیراعظم کی لنگر اسکیم ہو یا پھر فلاحی تنظیموں کا دسترخوان ، یہ دونوں سلسلے وقتی طور پر تو مناسب ہیں اور ضروری بھی، کیونکہ پاکستان کی بڑی آبادی شدید غربت اور مہنگائی سے نبرد آزما ہے اور وہ اپنے محدود وسائل کے باعث پیٹ بھرنے سے محروم ہے، وہ ان لنگر خوانوں سے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

لنگر خانوں کی ضرورت اپنی جگہ، مگر ان لنگر خانوں کے ساتھ ساتھ جو چیز اشد ضروری ہے وہ کارخانے اور انسان کو ہنر مند بنانے کے ادارے ہیں۔ یہ لنگر خانے جہاں ایک طرف غریب و مسکین لوگوں کا پیٹ بھر رہے ہیں تو دوسری جانب اسی لنگر خانے سے وہ لوگ بھی فائدہ اٹھاتے ہیں جو خود کما کر کھانا کھا سکتے ہیں مگر وہ ہڈ حرام بن جاتے ہیں اور ان کو با آسانی کھانا مل جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ محنت سے بھی جی چراتے ہیں۔ اسی طرح ان لنگر خانوں سے بہت سے ایسے لوگ بھی مجبوری کی وجہ سے کھانا کھاتے ہیں جن کے پاس کوئی نوکری یا کاروبار نہیں ہے، وہ مجبور ہو کر ان لنگر خانوں کا رخ کرتے ہیں۔

اگر بے روزگار غریبوں کو روزانہ لنگر دینے کے بجائے کوئی روزگار دلا دیا جائے تو وہ خود محنت سے کما کر اپنے گھر والوں کا پیٹ بھر سکتے ہیں ۔ اگر لنگر خانہ کھولنے کے ساتھ ساتھ کارخانوں کے قیام پر بھی دھیان ہو گا تو پھر خود بخود لنگر خانے پر دباؤ بھی کم ہو جائے گا اور ہزاروں بے روزگاروں کو نوکریاں ملیں گی۔ ویسے بھی کسی کو روزانہ کھانا دینے سے بہتر ہے کہ اس کو کسی ہنر کی تعلیم دے دی جائے تاکہ وہ معاشرے میں محنت کر کے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ پال سکے۔

ایک لنگر خانے پر اگر 2 ہزار بندہ ایک وقت میں کھانا کھا رہا ہے تو کم سے کم لاکھ ڈیڑھ  لاکھ تو لگ جاتا ہے اور پھر پورے مہینے کا بجٹ کروڑوں روپے میں پڑتا ہے۔ اس بجٹ میں سے کچھ حصہ بے روزگاروں کو کوئی ہنر سکھانے یا پھر کوئی کاروبار کرانے کے لئے مختص ہو جائے تو اس کا فائدہ نہ صرف اس ضرورت مند کو ہو گا بلکہ ملک کو بھی ہو گا۔

کسی کو نوکری دلوانا یا پھر کاروبار کرانا بھی خدمت انسانیت میں شمار ہوتا ہے اور یہ خدمت نسلوں میں منتقل ہو گی کیونکہ اگر کسی کو کاروبار کرائیں گے تو وہ کاروبار عروج پا سکتا ہے اور پھر وہ بچوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف انسانیت کی خدمت ہے بلکہ ملکی معیشت کی بھی خدمت ہے جو کہ آج کل برے حالات میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply