پنجاب حکومت نے پی ٹی آئی کا چہرہ کیسے داغدار کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے این اے 75 کے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ الیکشن کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ الیکشن کمشن نے 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب میں بدنظمی، ہنگامہ آرائی اور 20 پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسروں کے رات بھر لاپتا رہنے اور انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارروائی نہ کرنے پر کئی افسروں کو معطل کرنے کی بھی ہدایت کر دی ہے۔

مسلم لیگ نون نے این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں مبینہ طور پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے ، الیکشن کے دوران امن و امان کی صورتحال بھی افسوسناک رہی جس کی وجہ سے دو افراد قتل ہوئے اور لڑائی جھگڑے بھی ہوئے، ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ اور پولیس امن و امان برقرار رکھنے اور پرامن پولنگ کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔

پنجاب حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے تحریک انصاف کے منہ پر جو کالک ملی جا چکی ہے ، وہ آئندہ عام انتخابات تک اس کے منہ سے نہیں دھوئی جا سکے گی، اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں، جب سے مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تب سے وزیراعظم عمران خان کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے نامزد کیے گئے فرد کی وجہ سے بے پناہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اب ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں پیدا ہونے والی صورتحال نے تنقید کرنے والوں کو سچا ثابت کر دیا ہے جس کے بعد عمران خان کو اپنے فیصلے پر ضرور نظرثانی کرنی چاہیے۔

این اے 75 میں تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور مسلم لیگ نون کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار کے درمیان مقابلہ تھا، یہ سیٹ مسلم لیگ نون کی تھی، اس سیٹ پر پیر افتخار الحسن المعروف ظارے شاہ عام انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے جو انتقال کر گئے، مسلم لیگ نون نے ظارے شاہ کی بیٹی کو ٹکٹ دیا جس کی وجہ سے ان کو ہمدردی کا ووٹ بھی مل رہا تھا۔

مسلم لیگ نون 35 سال تک پنجاب پر حکومت کرتی رہی ہے، ان کو انتخابات لڑنے کا بہت تجربہ ہے، ماضی میں دیکھا جائے تو مسلم لیگ نون نے شاید ہی پنجاب میں کوئی ضمنی الیکشن ہارا ہو ، اس کی وجہ سے مسلم لیگ نون کی منصوبہ بندی ہے جو تحریک انصاف نہیں کرسکی، ضمنی انتخاب جیتنے کے ماہر لیگی رہنما حمزہ شہباز شریف ہے۔

حمزہ شہباز نے ایک ٹیم بنا رکھی تھی، جہاں بھی ضمنی الیکشن ہوتا تھا ، وہ دو ماہ قبل اپنے کارکنوں پر مشتمل ایک ٹیم اس حلقے میں بھیج دیتے، اس علاقے کے ڈپٹی کمشنر، کمشنر، ڈی پی او اور آرپی او کو زبانی طور پر واضح ہدایات دی جاتیں کہ یہ ٹیم جب بھی کوئی کام کہے گی اس کو فوری طور پر کرنا ہے، ٹیم حلقے میں پہنچ کر عوام سے رابطے کرتی، چھوٹی چھوٹی کارنر میٹنگز بلائی جاتیں اور عوام کے مسائل سنے جاتے اور ان کو فوری طور پر حل کیا جاتا، اکثریت کے مسائل چھوٹے چھوٹے ہوتے جو مقامی سطح پر ہی حل کر دیے جاتے، اس عمل سے 50 فیصد ووٹر خوش ہو جاتے اور وہ نون لیگ کو ووٹ ڈال دیتے۔

دوسرے مرحلے میں مسلم لیگ نون جوڑ توڑ اور لین دین کرتی اور ووٹر سے ووٹ لینے میں کامیاب ہو جاتی، تیسرے مرحلے میں انتخابی حکمت عملی کے تحت جہاں مسلم لیگ نون کی اکثریت ہوتی وہاں کھل کر باکس بھرے جاتے اور جہاں مسلم لیگ نون کمزور ہوتی تھی وہاں حیلے، بہانوں سے پولنگ سست کرا دی جاتی اور یوں مسلم لیگ نون ضمنی انتخاب جیت لیتی تھی۔

پنجاب میں تحریک انصاف نے ایسی کوئی حکمت عملی نہیں بنائی، حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف کے وزراء اور دیگر عہدیدار عوام سے ایسے دور بھاگتے جیسے بکرا قصائی سے بھاگتا ہے، وزیراعلیٰ سمیت صوبائی وزراءکی تمام توجہ ٹی وی کوریج، تصاویر چھپوانے اور اپوزیشن کو گالیاں دینے پر ہوتی ہے، عوام جائے جہنم میں، ویسے بھی عمران خان نے عوام کی زندگیاں جہنم ہی بنا دی ہیں۔

پنجاب کے نمائشی وزیر اعلیٰ کو چاہیے تو یہ تھا کہ تحریک انصاف کے عہدیداروں کو پہلے ہی ڈسکہ بھیج دیتے جس میں کوئی وزیر یا رکن اسمبلی شامل نہ ہوتا، اندرون خانہ مسلم لیگ نواز کی طرح یہ عہدیدار عوام سے رابطے کرتے اور ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرتے مگر اقتدار کے نشے میں ڈوبے ہوئے پنجاب کے حکمران کو تونسہ کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت نے تحریک انصاف کے منہ پر جو کالک ملی ہے ، وہ این اے 75 میں دوبارہ الیکشن میں یہ کالک صاف کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں، موجودہ حالات میں الیکشن کمیشن کے فیصلے کو ہر جانب سے سراہا جا رہا ہے، یہ بھی نئی تاریخ رقم ہوئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے حکومت کے خلاف فیصلہ دیا ہے ورنہ ماضی میں پنجاب اور مرکز میں حکومت کرنے والی پارٹی مسلم لیگ نون کے خلاف کبھی الیکشن کمیشن نے ان کے خلاف فیصلہ دینے کی جرأت نہیں کی۔  اس کا کریڈٹ یقینی طور پر وزیراعظم عمران خان کو دینا چاہیے کہ انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق اداروں کو آزاد بنا دیا ہے جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے یہ دبنگ فیصلہ دیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply