عامر لیاقت صاحب! ہندو پاکستانیوں کا خیال کیجیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تحریک انصاف کے ایم این اے اور معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی تصویر کی جگہ ہندو دیوی کی تصویر لگا کر ٹویٹر پر پوسٹ کی اور کہا یہ مریم نواز کا نیا روپ ہے۔

اب صرف بات یہ نہیں پاکستان میں رہنے والے 50 لاکھ ہندوؤں کی دل آزاری عامر لیاقت کی اس ٹویٹ کی وجہ سے ہوئی ہے، پاکستان میں بلاسفیمی کا بھی دوہرا معیار ہے۔ پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں سے آئے روز اس قسم کا رویہ روا رکھا جاتا ہے۔ پھرجب کپیل دیو جیسے معروف سماجی کارکن کا ردعمل آتا ہے تو ان (عامر لیاقت) کا جھٹ سے معافی نامہ سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن کب تک ایسا چلتا رہے گا؟

عامر لیاقت سے اچھے تو میرے دوست عبد الرحمان پلی ہیں جو مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دینے کے لئے اپنی خاندانی روایات کو برقرار رکھتے چلے آ رہے ہے اور اپنے ارد گرد رہنے والے ان تمام ہندوؤں سے وہی پیار اور پریت کرتے ہیں جو وہ سب سے کرتے ہیں۔

عامر لیاقت سے بہتر تو ہمارے دوست مولوی یوسف رند ہیں، جن کا کہنا ہے مذہب کوئی بھی ہو، انسانیت کا درس دیتا ہے، ایک مذہبی اسکالر سے زیادہ علم تو عمرکوٹ میں صحافت کرنے والے اس نوجوان صحافی سہیل کنبھر کو ہے جنہوں نے صحافتی کام میں کبھی بھی مذہبی شناخت کی بنا پر جانب داری کا مظاہرہ نہیں کیا۔

جب ہم شاپنگ کرتے ہیں تو برانڈ کا مذہب نہیں پوچھتے، کھانے کے دوراں برگر پیزا کی ذات نہیں معلوم کرتے، کافی اور چائے کے فرقے کے اوپر تبصرہ نہیں کرتے تو کسی ہندو دیوی دیوتا کو مریم نواز سے منسوب کر کے کب تک ہندوؤں سے مذاق کرتے رہیں گے؟

ہمارے بیچ میں لاکھوں ہزاروں ایسی کہانیاں اور کردار ہیں جو باہمی پیار اور امن پر مبنی ہیں، وہ لوگ جو اپنی پیدائش سے لے کر آج تک ہر انسان کا ہر غم اور خوشی میں سہارا بنتے آ رہے ہے، وہ لوگ جن کے گھر کے صحن میں دو ایسے برتن ہمیشہ ہوتے ہیں، جس میں سے ایک میں پانی اور ایک میں وہ باجرہ جو پرندوں کے لیے رکھتے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی ان پرندوں سے نہیں پوچھا تمہارا تعلق کس مذہب یا فرقے سے ہے؟

عامر لیاقت جو بین المذاہب ہم آہنگی  اور احترام باہمی کی بات کیا کرتے تھے ، اگر ان کی مریم نواز سے سیاسی ان بن تھی تو وہ اخلاقی حدود میں رہ کر بھی اختلاف کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نفرت انگیز اقدام کو ترجیح دی۔

میں بحیثیت ایک پاکستانی شہری پاکستان میں رہنے والے تمام لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب، آئین اور قانون نفرت کا درس نہیں دیتا۔ اس لیے بجائے نفرت اور انتشار پھیلانے کے ہمیں یہ عزم کرنا چاہیے کہ ہم سب ایک دوسرے کا سماجی، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی سبھی حوالوں سے احترام کریں گے، کوئی چاہے کسی بھی جماعت، مذہب یا قوم سے کیوں نہ ہو، پاکستان میں رہنے والا ہر شہری پاکستانی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply