راول پنڈی میں بسنت کے نام پرخون کی ہولی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مومن خاں مومن دہلوی کہتے ہیں کہ

”ہے اول بہار سیہ مستیوں کا جوش
دکھلائے ہے کچھ اب کی بہار دگر بسنت
مومن! یہ کیا کہا کہ ہے رسم ہنود اب
کاہے کو لائیں گے وہ مری گور پر بسنت ”

بہار آئی، بہار آئی، ہر سمت شور مچا تھا بہار آئی ہے۔ آہ! بہار ایسے کیسے آئی ہو؟

پیاری بہار تو بسنت کو ساتھ لاتی ہے یعنی رنگ رنگ کی پتنگیں آسمان کو دن میں سجا دیتی ہیں۔ لیکن یہ سب صرف بسنت کا تصور ہے ۔ اس کی اصل شکل تو بہت بھیانک ہے۔ یہ تو خون کی ہولی ہے۔

کم از کم میرے الفاظ ساتھ نہیں دیتے ہیں کہ کچھ بولوں، نہ ہاتھ کہ کچھ لکھوں۔ شعروں کا سہارا لینا پڑا کہ کچھ تو ہو جہاں سے آغاز ہو۔ کس کس سے سوال کیا جائے؟ اور کس پر مقدمات درج کرائے جائیں؟ کون ہو گا جو جواب دے گا کہ راولپنڈی میں بسنت کیسے منائی گئی؟ کس کے کہنے پر منائی گئی؟ کون سی اندرونی اور بیرونی قوتیں اس تحریک کے پیچھے تھیں؟ کس نے اس کے انتظامات کیے تھے؟ کہاں پتنگیں اور ان کی ڈوریں تیار کی گئیں؟

مگر عجیب کشمکش ہے مجھے تو یہ سب سوالات ہی بے کار لگ رہے ہیں ، بالکل بے معنی۔

اگر ہم کسی لبرل سے پوچھیں تو جواب ملتا ہے کہ تاریخی معنوں میں یہ تہوار ہمارے معاشرتی طرز کا حصہ ہے۔ اسلامی علما کے نزدیک غیر مسلموں کی تقلید۔ کچھ اساتذہ بسنت کو ایک ایسا تہوار بتاتے ہیں جو ہم سب کے لئے لیے خوشی کا ذریعہ ہے۔ کچھ لوگ اسے واہیات گردانتے ہیں۔ کسی کو یہ ایک فیسٹول لگتا ہے، کسی کو یہ غریبوں کا کھیل لگتا ہے۔

خیر یہ جو بھی ہے ، لیکن مجھے ایسے لگا ہے جیسے بسنت کا دن بہت سے لوگوں کی زندگی کے لئے عذاب بن کر آیا ہے۔

ایک ایسا عذاب جو کسی کی غلطی کی وجہ سے کسی اور کی سزا بن جاتا ہے۔ کسی انجان کو کٹہرے میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے۔ راولپنڈی شہر میں خون کی ہولی ایسے کھیلی گئی کہ سوچ کر آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔

ایک سو تریسٹھ سے زائد افراد رات 8 بج کر 47 منٹ تک مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں پہنچے تھے جو کہ بسنت منانے یا کسی اور کی بسنت منانے کی وجہ سے زخمی ہو گئے تھے۔ صرف یہی نہیں ریسکیو  1122 راولپنڈی کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ایک چھوٹا بچہ عثمان پتنگ پکڑتے ہوئے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گیا۔ تیسں کے قریب لوگوں کو نامعلوم شیل لگے، تقریباً اتنے ہی چھت سے گرنے اور پتنگ کی ڈور پھرنے سے زخمی ہوئے۔

لیکن سوال کس سے پوچھا جائے؟ اور ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے؟  ریاست کو؟ ریاست کے قوانین کو؟ ان قوانین کو نافذ کرنے والوں کو؟ یا قوانین بنانے والوں کو؟ آخر کس کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے؟ کس کے ہاتھ میں اس عثمان کا خون تلاش کیا جائے؟ چند روپے کی پتنگ کی لالچ کو؟ یا ان پتنگ سازوں کو جو اپنا کاروبار باوجود پابندیوں کے چمکا رہے ہیں۔ کون جانتا ہے سڑک پر جو ڈور کسی کی گردن میں پڑی وہ کس کی ہے؟

کیا سوال حکمرانوں سے کیا جائے یا بہار کی خوشی منانے والوں سے جنہیں ایسے لگتا ہے کہ بسنت ایک فیسٹیول ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کو بہار آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہ کیسا ویلکم کا انداز ہے، جہاں کسی کی گردن پر ڈور پھری ہے، کوئی چھت سے گرا ہے ، کسی کو بجلی لگی ہے؟

واہ بہار واہ۔ خوش آمدید!!!

قارئین! جو شاید سوشل ایکٹوسٹ ہوں ، ہمارے منتخب نمائندے ہوں، یا چھوٹے کاروبار کو سپورٹ کرنے والے ہمارے پیارے وزیراعظم، سوال ایک ہی ہے کہ یہ کون سا انداز ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو چھین لیتا ہے۔ یہ کیسی خوشیاں ہیں جو دوسروں کے گھروں میں رنج لاتی ہیں۔

بسنت امیروں کا کھیل ہو یا غریبوں کا۔ کسی کو تکلیف پہنچانا ظلم ہے اور ہم سب اس ظلم کا اندازہ شاید اس دن کریں گے جب خود حادثے کا نشانہ بنیں گے۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

آخر میں اپیل صرف یہی ہے کہ جشن ضرور منائیں لیکن اس کا انداز بدل لیں۔

بہار کو خوش آمدید تو مٹھائی بانٹ کر، دکھ تقسیم کر کے، چراغاں کر کے، غبارے اڑا کر یا پھر پھولوں کے پودے لگا کر بھی کیا جا سکتا یے لیکن اصرار پتنگ بازی کے مقابلے پر ہی کیوں، جس میں دکھاوا ہے، لالچ ہے، گولیاں چلا کر فتح کا جشن اور بچوں کا چھتوں سے گرنا اور مرنا ہے۔ خدارا اس سے گریز کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply