باز اور قمریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگ کی وجوہات بارے میرے لکھے مضمون کو اگر کچھ نے پسند کیا تو کچھ نے اسے پسند کیا یا نہیں، یہ بات اہم نہیں تھی بلکہ ان کا یہ تبصرہ اہم تھا کہ جنگوں کے ختم ہونے کی تمنا کی جا سکتی ہے لیکن ایسا ہوگا کبھی نہیں۔ اس پر ایک انگریزی کا محاورہ ”Never say never“ یعنی ”کبھی نہیں کبھی نہ کہو“ یاد آیا۔ جنگ اور امن سے متعلق مضمون کے آخر میں میں نے لکھا تھا کہ نہ صرف جنگ سے نفرت کرنی چاہیے بلکہ کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ دنیا سے فوج کا وجود ختم ہو جائے۔ دنیا بھر کی فوجوں پر ہونے والے اخراجات سے دنیا کو ارضی جنت بنایا جا سکتا ہے۔ اس ہی بات کو کچھ دوستوں نے تمنا یعنی ”Wish“ کہا۔

جی ہاں تمنا ہوگی تو کوشش بھی کی جائے گی کہ تمنا پوری ہو۔ عالمی معیشت کا ایک بڑا حصہ ”وار انڈسٹری“ کہلاتا ہے جسے قابل قبول بنائے جانے کی خاطر ”ملٹری انڈسٹریل کمپلکس“ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ صرف اسلحے کی صنعت ہی نہیں بلکہ اسلحے سے بچنے کی صنعت بھی ہے اور صرف اسلحے سے بچنے کی صنعت ہی نہیں بلکہ عسکری ناکارہ ساز و سامان بشمول اسلحے کو استعمال کی اشیاء میں تبدیل کرنے کی صنعت بھی ہے۔ اب دنیا میں افواج نے اپنے لیے وسائل پیدا کرنے کی خاطر بہت سے دوسری طرح کے کارخانے لگا لیے ہیں۔ بہت سے عام کاروبار شروع کیے ہوئے ہیں۔ ان کارخانوں اور ان کاروباروں سے حاصل ہونے والا سرمایہ یا تو فوج کے افسروں اور کسی حد تک عام فوجیوں کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے، انہیں عام آبادی سے زیادہ سہولتیں فراہم کیے جانے کی خاطر صرف کیا جاتا ہے یا اسے دوبار ”فوجی صنعتی کمپلکس“ میں لگا دیا جاتا ہے۔

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ جنگیں نہ ہونے کی بات خیال خام یا خواہش ہے، انہیں فوج کی زبان میں ”Doves“ یعنی قمریاں یا فاختائیں کہا جاتا ہے۔ ویسے تو عموماً یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فوج کی قیادت میں بھی Doves اور Hawks یعنی باز یا شکرے ہوتے ہیں لیکن یہ غلط ہے، فوج میں سبھی کو Hawks ہونا ہوتا ہے، وہ اگر قمریاں بن جائیں تو وہ فوجی نہیں ہو سکتے کیونکہ فوجی کی تربیت میں جنگ اولیت رکھتی ہے۔ فوج کو چاہے افسر ہو یا جوان جنگ لڑنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور اسے باز صفت ہونے کا درس دیا جاتا ہے۔

البتہ یہ اور بات ہے کہ فوج کی قیادت میں نرم خو اور تند خو دونوں ہی طرح کے افراد ہوتے ہیں لیکن ان سب کا مطمح نظر ایک ہی ہوتا ہے۔ دشمن سے ملک کی حفاظت کرنا اور ایسا کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر لڑنا۔ حفاظت کرنے کا معاملہ تب ہی اٹھے گا جب دشمن آپ کے خلاف جنگی، نیم جنگی یا خفیہ طور پر جنگی کوئی کارروائی کرے یا کر رہا ہو۔

سیاسی قیادت میں جہاں جنگ کیے جانے یا پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے متنازعہ معاملات کو حل کیے جانے کی بات ہوتی ہے اور ان میں سے کوئی ایک یا بیک وقت دونوں یا کبھی ایک اور کبھی دوسرا طریقہ اختیار کیے جانے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے وہاں البتہ شکرے بھی ہوں گے اور قمریاں بھی۔ اس مقام پر بعض اوقات اس سطح کی قمریوں کی سنی بھی جاتی ہے۔ لیکن وہ قمریاں جو جنگ کو ناپید کیے جانے کے مطالبے کو محض تمنا یا آرزو کہتے ہیں وہ ایسی ہیں جو عوام میں موجود باز صفت افراد اور گروہوں کے آگے گردن نیہوڑائے جانے کی جانب مائل ہیں۔

ویسے تو دنیا بھر کی اقوام میں قمریوں اور بازوں کا وجود ہوتا ہے لیکن مہذب ملکوں میں قمریاں عموماً زیادہ اور متحد ہوتی ہیں جو بازوں کو بیشتر اوقات پھٹکنے نہیں دیتیں لیکن ایسے ملکوں میں جہاں قوم پرستی زیادہ ہو یا جہاں کوئی ملک فی الواقعی اس قوم کا دشمن ہو یا جہاں ایسا دشمن بنا لیا گیا ہو اور اس کے غیظ سے بہت ڈرایا جاتا ہو وہاں بیشتر قمریاں بھی دراصل بازوں کی شریک ہوتی ہیں اس لیے کہ وہ آواز تک نہیں نکالتیں۔

پاکستان اور ہندوستان دو ایسے ملک ہیں جہاں کے لوگوں میں باز زیادہ ہیں اور قمریاں بلکہ اصل قمریاں بہت ہی کم۔ پاکستان اور ہندوستان کے آپس میں دشمن ہونے کی کیا وجوہ ہیں؟ تقسیم ہند؟ دونوں ہی مذاہب کو ماننے والوں نے ایک دوسرے کو مارا۔ بہت برا ہوا لیکن معاملہ ختم ہو چکا۔ مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے میں بھارت کی امداد؟ جب اپنے ہی اپنوں سے نالاں ہوں تو کسی اور سے کیا گلہ۔ لے دے کر دو معاملات رہ جاتے ہیں کشمیر اور سیاچین۔

کشمیر کشمیریوں کا معاملہ ہے۔ ہم سب کشمیریوں کو جائز حق دیے جانے کے حق میں ہیں۔ کشمیر کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کیے جانے کی کیا تک ہے۔ دریاؤں کے پانی کا معاملہ ہے۔ بہت سے ملکوں میں یہ معاملہ ہے اور بہت تند ہے، یہ معاملات باہمی طور پر طے کیے جا سکتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں فوج محض دشمنی کی بنا پر پل رہی ہے۔ ہندوستان میں پاکستان کے مسلمان کو ہندووں کا دشمن بتانے والے ہندو اچھے خاصے ہیں اور پاکستان میں ہندوستان کے ہندووں کو پاکستان بلکہ اسلام کا دشمن بتانے والے کچھ کم نہیں۔

لاعلمی کا تو کوئی علاج نہیں کیا جا سکتا۔ بہت زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب طالبان نے بامیان میں ہزاروں سال پہلے بنائے گئے بدھ کے مجسمے ڈھائے تھے۔ پھر چند سال پیشتر ”داعش“ والوں نے موصل کے میوزیم میں عسیری اور فنیقی زمانے کے بت گرا گرا کر توڑ دیے۔ جو نہیں ٹوٹے انہیں ہتھوڑوں اور برموں کی مدد سے توڑا گیا اور یہ کام پوری مذہبی دلجمعی سے کیا گیا۔ ہزاروں سال پرانا ثقافتی ورثہ برباد کر دیا گیا۔ ایسا کرنے والوں کو شاید بلکہ یقیناً علم نہیں تھا کہ حضرت ابراہیم نے جو بت توڑے تھے ان کے سامنے لوگ سجدہ ریز ہوتے تھے، پیغمبر اسلام نے بھی جو بت کعبے اور اس کے ارد گرد سے ہٹوائے تھے وہ بھی پوجے جانے والے بت تھے۔

روایت یہ بھی ہے کہ حضور نے کعبے کے اندر دیوار پہ بنی حضرت مریم اور ننھے عیسٰی کی تصویر نہیں مٹوائی تھی۔ پانچ سے سات ہزار سال پرانے عجائب گھر میں رکھے ہوئے بت تو محض دیکھنے اور اس عہد کی تہدیب سے آگاہی کی خاطر تھے جب یہ بت بنائے گئے تھے۔ ان کے آگے کوئی سر نہیں نیہوڑاتا تھا۔ ایسی ہی لاعلمی کی وجہ سے جامع الازہر کے شیخ نے کہا ہے کہ اسلام کے بارے میں نئی تشریح کی ضرورت ہے۔

اسی طرح جنگ روکنے کے لیے بھی عمرانیات کی نئی شرحیں درکار ہیں۔ عام لوگ عام لوگوں کے ہرگز دشمن نہیں ہوا کرتے۔ جنگیں لوگ نہیں کرتے جنگیں حاکم کیا کرتے ہیں۔ حاکم فوجی بھی ہوتے ہیں اور سیاست دان بھی۔ فوج تو پلتی ہی جنگ کی سیاست پر ہے اور سیاست دان جنگ کے اعلانات کی وجہ سے اقتدار مضبوط کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اصل قمریاں زیادہ سے زیادہ بنائی جائیں اور باز نواز قمریوں کو بے نقاب کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply