دوحہ معاہدہ: ایک برس مکمل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کمزور جمہوری اقدار والے ممالک کے افغانستان میں من پسند نظام لانے کے دباؤ پر ڈیڈ لاک!

صدر بائیڈن نے سابق صدر کے خلاف مواخذے کی قرارداد میں ناکامی کے بعد اعتراف کیا کہ امریکا میں جمہوریت کمزور ہو چکی ہے۔ یہ ایک ایسے مملکت کے صدر کا اظہار مایوسی تھا جنہیں اپنی ڈھائی سو برس سے جاری جمہوریت پر فخر رہا۔ لیکن حالیہ انتخابات میں امریکا کی جمہویت کی جو تصویر سامنے آئی ہے، وہ نظام جمہوریت پر سوالیہ نشان ضرور اٹھاتے ہیں، 100 رکنی امریکی سینیٹ میں انتخابات میں شکست کے بعد کیپٹل ہلز پر حملے کے لئے عوام کو اکسانے کے الزام میں کارروائی ہوئی، لیکن دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے سابق صدر ٹرمپ سزا سے بچ گئے، امریکی صدر جو بائیڈن کو اس بات کا قلق ہے کہ سابق صدر کے عمل کو پوری دنیا میں براہ راست دکھا گیا، قوی ثبوت ہونے کے باوجود ری پبلکن اراکین کا پھر بھی ٹرمپ کا ساتھ دینا، دراصل مضبوط جمہوری نظام میں کمزوری کا احساس دلا رہا ہے۔

امریکا، اس وقت اپنی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے عالمی برداری میں تنہائی کا شکار ہو چکا ہے، جسے امریکا حکام سمیت پوری دنیا میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ امریکی پالیسیوں نے نہ صرف امریکا بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا۔ اسی تناظر میں کہ امریکی پالیسیوں کی وجہ سے کئی ممالک خانہ جنگی و بے امنی کا شکار ہوئے، اب بھی امریکا کا کردار اس حوالے سے مایوس کن گردانا جا رہا ہے۔ افغان طالبان کی جانب سے 16 فروری کو ایک بار پھر امریکی عوام کے نام کھلا خط لکھا گیا، جب کہ 14 فروری 2018 میں بھی افغان طالبان نے کانگریس اور امریکی عوام کو کھلا خط لکھا تھا، جس میں امریکی فوج کے نخلا کے مطالبے کو دہراتے ہوئے افغانستان کے مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل پر زور دیا گیا تھا۔

افغان طالبان نے امریکی امن پسند عوام و دانشوار کے سامنے کئی سوالات رکھتے ہوئے جوابات پر غور کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ بالخصوص جنگ جاری رکھنے اور کابل انتظامیہ کی غیر موثر حکومت کی پشت پناہی کو پورے خطے میں عدم استحکام اور مضر اثرات کا باعث قرار دیا گیا، منشیات کی پیداوار میں اضافے پر تشویش، معصوم بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں اور کھربوں ڈالر کے لاحاصل جنگ میں اخراجات کو امریکی عوام کے ٹیکس کو ضیاع کہا۔

2018 میں امریکی فوجی حکام کے مطابق 3546 فوجیوں کی افغان جنگ میں ہلاکت، 20 ہزار کے زخمی اور ہزاروں فوجیوں کے نفسیاتی و ذہنی مسائل کا اعتراف کیا۔ بالآخر مذاکراتی عمل دوحہ میں چلتا رہا، یہاں تک کہ 29 فروری 2020 کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مفاہمتی اصولوں کی بنیاد پر دوحہ معاہدہ طے پاگیا لیکن بدقسمتی سے اس پر سنجیدگی سے عمل درآمد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ 16 فروری 2021 کو ایک مرتبہ پھر افغان طالبان نے امریکی عوام کو کھلا خط لکھا اور مختلف معاملات پر اپنی پالیسی کو بیان کیا، افغان طالبان دوحہ معاہدے کو برقرار رکھنے کے لئے زور دے رہے ہیں، جب کہ جو بائیڈن انتظامیہ معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ بھی دے چکے ہیں، جس پر کابل انتظامیہ نے خیر مقد م بھی کیا۔ افغان طالبان یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ اگر معاہدے کے برخلاف ہوا تو وہ اس کا جواب دیں گے۔

اپنے کھلے خط میں افغان طالبان سیاسی حل و وعدوں کی پاسداری کی حقیقی معنوں میں پابندی کی یقین دہانی کرا رہے ہیں، نیز یہ بھی انہوں نے لکھا کہ دوحہ معاہدہ کوئی دو فریق کے درمیان دستاویز نہیں بلکہ جب دستخط کیے جا رہے تھے تو اقوام متحدہ سمیت 50 ممالک کے سیاسی نمائندے بھی موجود تھے۔ انہوں اسلامی اقدار کے مطابق خواتین کو مکمل حقوق دینے اور منشیات کی پیدوار کے خلاف اپنے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ ”ایک بار پھر یادآوری کرتے ہیں کہ ہمارا ملک اور ملت ایک مسلط شدہ جنگ سے دست و گریبا ن ہے، اس جنگ کا خاتمہ سب کی ذمہ داری اور مفاد میں ہے اور اس کے خاتمہ کے لیے دوحہ معاہدے کا مکمل نفاذ سب سے بہترین ذریعہ ہے، امارت اسلامیہ اپنی ذمہ داریوں کو متوجہ ہے، دیگر فریق بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں، امارت اسلامیہ کسی کی داخلی امور میں مداخلت کرتی ہے اور نہ ہی کسی کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ کسی کو بھی ہمارے ملک کے امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتی ہے، اپنی سرزمین اور ملت سے دفاع ہمارا جائز حق ہے“ ۔ یہ افغان طالبان کی جانب سے ایسی تنظیموں و عناصر کے حوالے سے یقین دہانی کرائی ہے کہ سرزمین افغانستان، امریکی و نیٹو افواج کے جانے کے بعد انتہا پسندو ں کا ہیڈ کوارٹر نہیں بننے دیں گے۔

بین الافغان مذاکرات میں افغانستان کے سیاسی مستقبل پر ہی ڈیڈ لاک ہیں، جس پر افغان روایات کے مطابق اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عالمی برداری اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ ایک درد سر مسئلہ ہے کیونکہ کابل انتظامیہ، خود کو تحلیل کرانے کے لئے تیار نہیں، اور عبوری حکومت کے قیام پر افغان اسٹیک ہولڈرز میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب دوحہ معاہدے کے مطابق افغان طالبان کے مطابق عمل درآمد بھی نہیں ہورہا، امریکا و کابل انتظامیہ یہی دعویٰ افغان طالبان کے خلاف بھی کر رہے ہیں، تاہم یہاں عالمی برداری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جمہوری نظام، ایک ایسے طاقت ور ترین مملکت امریکا میں بھی ڈھائی سو برس مسلسل چلنے کے باوجود کمزور ہے۔

امریکی صدر کا اعتراف جمہوریت پسندوں کے لئے نوشتہ دیوار ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جمہوریت کے تمام پارلیمانی یا صدارتی نظام میں خامی موجود نہیں، برطانیہ جیسی مملکت میں خود بادشاہت قائم ہے، زبانی آئین کے تحت مملکت چلائی جاتی ہے۔ برطانیہ نے عالمی جنگوں میں لاکھوں انسانوں کو ہلاک کیا، یہاں تک کہ خود امریکا بھی تاج برطانیہ کا غلام رہا، ان حالات میں پوری دنیا کا جائزہ لیا جائے کہ ہر مملکت میں جمہوری نظام کا نفاذ مختلف ہے، افغانستان بھی ہزاروں برس کی تاریخ رکھتا ہے، مختلف ثقافت و روایات کے ساتھ افغانستان کے عوام کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی سرزمین میں اپنی پسند کا نظام لانے کا فیصلہ کریں، کسی بھی ملک کی یہ خواہش کہ خود تو وہ بادشاہت کے تابع ہو، آمریت ہو، جمہوریت کمزور ہو، لیکن افغانستان میں وہ نظام لائے، جو انہیں پسند ہو، لیکن خود ان کی مملکت میں نافذ نہ ہو تو ان زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

28 ( 29 ) فروری کو امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مفاہمتی معاہدے کا ایک برس مکمل ہو جائے گا، دنیا کو بھی اس امر کی زیادہ ضرورت ہے کہ کیا دونوں فریقین نے دوحہ معاہدے کے مطابق عمل کیا یا نہیں، کسی ایک فریق پر دباؤ و ذمے داری ڈالنا، معاملہ کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں نیٹو کی جانب سے بیان آ چکا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے انخلا کے برخلاف مئی کے آخر میں بھی نامعلوم عرصہ تک موجود ہوں گے۔

امریکا، کے اپنے تحفظات ہیں، حالاں کہ واضح ہے کہ 2500 امریکی افواج افغانستان میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے، جب ایک لاکھ 35 ہزار سے زائد فوجی افغان طالبان کی عسکری قوت کو ختم نہیں کرسکے تو نیٹو کے 7500 فوجی ملا کر بھی افغانستان میں کس طرح غلبہ پاسکتے ہیں۔ نیٹو افواج میں شامل غیر موثر کردار ادا کرنے والے ممالک نے واپسی کی یقین دہانیاں بھی شروع کردی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امریکی فوجیں نکل جائیں اور افغانستان کے قبرستان میں پھنس جائیں، نیوزی لینڈ نے اپنے تمام فوجی رواں برس مئی میں واپس بلا نے کا اعلان کر دیا ہے خیال رہے کہ امریکی فوج نے کچھ فوجی اڈوں کو مکمل طور پر خالی کر دیا ہے جب کہ کچھ کو افغان فوج کے حوالے کر دیا ہے جن میں صوبہ اروزگان کا ترین کوٹ، ہلمند کا بست، لغمان کا گمبیری اور پکتیا کا لائٹننگ شامل ہے جبکہ قندوز کے جونز، ننگرہار کے ڈی آلینکار، بلخ کے شاہین، کابل کے بشپ، فاریاب کے میمانہ اور زابل کے قلات فوجی اڈوں کو بند کیا گیا اور صرف دو ائر فیلڈ جلال آباد اور قندھار کے رہ گئے ہیں۔

مئی 2021 امریکی افواج کا مکمل انخلا کی حتمی تاریخ تو ہے لیکن کابل انتظامیہ کی وجہ سے جتنی تاخیر ہوئی ہے، اس سبب امکانات ہیں کہ امریکی فوجیوں کے قیام کی مدت بھی کچھ مہینے یا نامعلوم مدت تک کے لئے بڑھا دی جائے۔ یہ صورتحال دوحہ معاہدے کو خطرے میں ڈال دے گا۔ نیٹو و امریکا کا خیال ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا نکالے بغیر جانے سے القاعدہ و داعش یہاں مضبوط ہو سکتی ہے۔ اب یہ تو سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین کو بھارت، کابل انتظامیہ، امریکا سمیت کئی ممالک اپنے مفادات کے لئے افغانستان میں کس طر ح سہولت کاری کر رہے ہیں، انہیں خود افغانستان کی سرزمین کو افغان عوام کی خواہشات کے مطابق امن کے قیام کے لئے مداخلت ختم کرنا ہوگی۔

امریکا اپنے جمہوری نظام میں کمزوری کے احساس کو ختم کرنے کے کوشش کرے۔ جس زمینی طاقت کا اپنا سیاسی نظام مضبوط نہ ہو، غیر یقینی ہو، وہ کس طر ح کسی دوسری مملکت میں اپنی پسند کا نظام نافذ کرنے کا سوچ سکتا ہے، یورپ و مغربی ممالک خود نسل پرستی و اسلام فوبیا کے عفریت کا شکار ہیں، انہیں ترجیح طور پر مغربی انتہا پسندی کے خاتمے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عالمی فورم غیر جانبداری سے دوحہ معاہدے کے ایک برس مکمل ہونے کے بعد پیش رفت کے جائزے میں زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر اپنی رائے دیں۔ کابل انتظامیہ، افغان طالبان، مملکت میں قیام امن کے لئے لچکدار رویئے کو مظاہرہ کریں اور امن کو موقع دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *