حفیظ شیخ: ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ کے انتخابات میں ایک مقابلہ باقی سب کو گہنا گیا۔ اسلام آباد کی جنرل سیٹ سے تحریک انصاف کے حفیظ شیخ کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی سے تھا۔ اس سیٹ کا حلقہ انتخاب قومی اسمبلی تھا اور ظاہر ہے کہ وہاں تحریک انصاف کے حامیوں کی اکثریت ہے جو وہ حکومت بنائے بیٹھی ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کا جیتنا یقینی تھا۔ اوپر سے ان کی شہرت بھی ایسی ہے کہ انہیں عالمی مالیاتی اداروں کا حمایت یافتہ قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی جیت بالکل ہی یقینی تھی۔

ایسے میں جب یوسف رضا گیلانی نے انہیں شکست دی تو یہ ایک ناقابل یقین سی بات تھی۔ اس کا نتیجہ تو ظاہر ہے یہی نکلتا ہے کہ حکومت اسمبلی میں اپنی اکثریت کھو چکی ہے۔ اسی تاثر کو زائل کرنے کے لیے وزیراعظم نے اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ حفیظ شیخ تو اچھے بھلے خزانے پر وزیر بنے بیٹھے تھے، انہیں الیکشن لڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ میں ایک ناراضگی پائی جاتی ہے کہ عوام کے منتخب کردہ وزیروں کی وہ طاقت نہیں ہے جو غیر منتخب وزیر مشیر رکھتے ہیں۔ غیر منتخب افراد عوام کو جوابدہ نہیں ہوتے جبکہ ان کے اقدامات کا جواب منتخب نمائندوں کو اپنے اپنے ووٹر کو دینا پڑتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حفیظ شیخ کے معاملے میں اسی اعتراض کو دور کرنے کی خاطر کپتان نے انہیں منتخب کروانے کا فیصلہ کیا۔

اچھا اب ایک چیز دلچسپ ہے۔ اسلام آباد کی سینیٹ میں دو نشستیں ہیں جن پر انتخاب ہوا، ایک جنرل نشست اور دوسری خواتین کی۔ اب جنرل نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے، یوسف رضا گیلانی نے 169 ووٹ لیے اور 7 ووٹ مسترد ہو گئے۔ لیکن خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی فوزیہ ارشد نے 174 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کی مد مقابل مسلم لیگ نون کی فرزانہ کوثر کو 161 ووٹ ملے۔ پانچ ووٹ مسترد کر دیے گئے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ہی پارٹی کے ایک امیدوار کو اس اسمبلی نے 174 ووٹ کیوں دیے جبکہ دوسرے کو صرف 164 ملے۔ یہ دس ووٹ کہاں اور کیوں غائب ہو گئے؟ پھر ایسا کیا جادو ہوا کہ فوزیہ ارشد کی باری پر پانچ لوگوں نے غلطی کی مگر حفیظ شیخ کی قسمت میں سات لوگوں کی غلطی بھگتنا لکھا تھا۔

حفیظ شیخ کے معاملے میں غلطی کرنے والے ایک تو شہریار آفریدی ہیں۔ وہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہیں اور ان کا درجہ وفاقی وزیر کا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مناسب تربیت نہ پانے کی وجہ سے وہ نمبر لکھنے کی بجائے وہاں دستخط کر آئے۔ سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ ”بیلٹ پیپر پر یہ واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ آپ کو نمبر لکھ کر واضح کرنا ہے کہ آپ کس کو ووٹ ڈال رہے ہیں۔ میں خود بھی سینیٹ انتخابات میں ریٹرننگ افسر رہ چکا ہوں اور اکثر اراکین جان بوجھ کر بیلٹ پیپر پر دائرہ بنا آتے ہیں یا دستخط کر دیتے ہیں یا پھر ٹک کا نشان لگا دیتے ہیں جس سے ووٹ ضائع ہو جاتا ہے۔“ حسن ظن رکھا جائے تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ غالباً آفریدی صاحب بھی پرچی پڑھنے میں ہماری طرح ڈھیلے ہیں۔

دوسرا نام زرتاج گل کا لیا جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی مشیر خاص فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ زرتاج گل نے ووٹ ڈالنے میں غلطی کی جبکہ وزیراعظم کے مشیر خصوصی شہباز گل کہتے ہیں کہ انہوں نے غلطی نہیں کی۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کہیں یہ سات غلطیاں کابینہ کی رنجش کا نتیجہ تو نہیں؟ ایسا کیا ہوا کہ فوزیہ ارشد کو درست ووٹ ڈالنے والے حفیظ شیخ کی باری پر خطا کر گئے؟

بہرحال کیونکہ ووٹ بہت ہی خفیہ ہوتا ہے اس لیے بس یا تو خدا جانتا ہے کہ کس نے خطا کی یا پھر ممکن ہے کہ جان بوجھ کر خطا کرنے والوں کو علم ہو۔ باقی تو کسی کو پتہ نہیں۔ بہرحال خطا وزیروں نے کی اور سزا نہ صرف حفیظ شیخ کو بھگتنا پڑی بلکہ اب عمران خان بھی اعتماد کا ووٹ دوبارہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

چلیں چھوڑیں یہ بیکار کی باتیں۔ شاہنامہ اسلام کے مصنف حفیظ جالندھری کے چند اشعار پڑھتے ہیں کہ منہ کا ذائقہ کچھ بدلے۔

ہر ایک رہنما سے بچھڑنا پڑا مجھے
ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

عرض ہنر بھی وجہ شکایات ہو گئی
چھوٹا سا منہ تھا مجھ سے بڑی بات ہو گئی

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1380 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “حفیظ شیخ: ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی گھات ہو گئی

Leave a Reply