اسپیس ایکس، اسٹارشپ راکٹ کامیاب لینڈنگ کے بعد تباہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلائی گاڑیاں اور راکٹ بنانے والی امریکی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ کا مسلسل تیسرا راکٹ اپنی آزمائشی پرواز کے دوران پھٹا ہے۔

خلائی گاڑیاں اور راکٹ بنانے والی امریکی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ کا اسٹارشپ راکٹ کامیاب قرار دی جانے والی پرواز کے زمین پر اترنے کے کچھ ہی دیر بعد زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔ اس سے قبل بھی ‘اسپیس ایکس’ کی دو آزمائشی پروازیں کامیاب لینڈنگ نہیں کر سکی تھیں۔

دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلن مسک کی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ کی یہ آزمائشی پروازیں اس منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت مستقبل میں چاند اور مریخ پر انسانی بستیاں بسائی جائیں گی۔

تیسری آزمائشی پرواز نے ریاست ٹیکساس کے جنوبی علاقے بوکاچیکا سے بدھ کو اُڑان بھری اور 10 کلو میٹر بلندی تک پرواز کی جس کے بعد اس نے خلیج میکسیکو کی جانب لینڈنگ کا سفر شروع کیا اور کامیابی سے لینڈ کر گئی۔ تاہم کچھ ہی لمحے بعد یہ راکٹ زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔

اسٹار شپ لینڈنگ کے دوران اُفقی پرواز کرتی رہی جو ہموار رہی تاہم لینڈنگ پیڈ تک پہنچنے سے قبل ہی راکٹ نے دوبارہ عمودی پوزیشن اختیار کر لی اور بحفاظت لینڈنگ پیڈ تک پہنچ گیا۔

اسٹارشپ کے براہِ راست دکھائے جانے والے تجربے کے کمنٹیٹر نے آزمائشی پرواز کی کامیابی کا اعلان کیا اور اس پورے عمل میں حصہ لینے والوں کی محنت اور کاوش کو سراہا۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد راکٹ پھٹ گیا اور اس میں سے آگ کے شعلے بلند ہونے لگے۔

اسپیس ایکس کی جانب سے اس مشن میں ناکامی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ تاہم ایلن مسک نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اسپیس ایکس 10 نے صحیح سلامت لینڈنگ کی۔

اُنہوں نے کہا کہ اسپیس ایکس کی ٹیم شان دار کام کر رہی ہے اور بہت جلد وہ وقت آئے گا جب اسٹار شپ کی پروازیں ایک عام سی بات لگیں گی۔

اس سے قبل اسٹار شپ کی دو پروازیں لگ بھگ اتنی ہی بلندی تک گئی تھیں۔ تاہم واپسی کے سفر میں لینڈنگ سے قبل ہی یہ راکٹ تباہ ہوتے رہے ہیں۔ یہ تینوں پروازیں ساڑھے چھ منٹ تک جاری رہیں۔

واضح رہے کہ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلن مسک ایسی اسٹار شپ بنانے کے خواہاں ہیں جو لوگوں کو مریخ پر لے جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1660 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply