ایران و امریکا کے درمیان کشیدہ تعلقات کی برف پگھلنے لگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکا میں تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے، بظاہر نئے امریکا کو پرانے امریکا کی جانب رواں کرنے میں صدر بائیڈن نے باقاعدہ کوششیں کر دی ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے امریکا کے حلیف اتحادی ممالک بھی مخالف ہونا شروع ہو گئے تھے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ اگر ٹرمپ اگلی مدت اقتدار کے لئے بھی منتخب ہو جاتے ہیں تو امریکا کی مزید تباہی کا، ایسے موجب بنتے کہ امریکا کو واپسی کے لئے کئی دہائیاں انتظار کرنا پڑتا۔

صدر جو بائیڈن نے پرانے امریکا کی واپسی کے لئے اہم معاملات پر توجہ دینا شروع ہی نہیں کیا بلکہ عالمی طور جن معاملات میں ٹرمپ کی وجہ سے امریکا کی تشخص کو نقصان پہنچا، اسے جلد از جلد درست کرنا چاہتے ہیں، تاکہ امریکا پر کم ازکم ان کے حلیف اتحادی ممالک اعتماد کرنے کا عمل شروع کر دیں۔

حلف لینے کے بعد حسب روایت انہوں نے کئی ایسے قوانین کی منسوخی کے احکامات پر دستخط بھی کیے ، جو ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی کا موجب بنے تھے، امریکا آمد پر مخصوص ممالک کے شہریوں پر پابندی، تارکین وطن کے خلاف سخت گیر پالیسی، گرین کارڈ کے حصول پر پابندی، عالمی ماحولیاتی معاہدے میں واپسی سمیت اہم معاملات صدر بائیڈن کو نئے امریکا کے ورثے میں ملے۔

20 جنوری کو صدر بائیڈن نے پیرس معاہدے کی بحالی کے لئے دستاویز پر دستخط کر دیے تھے، جس کے بعد معاہدے کے مطابق گزشتہ دنوں امریکا باضابطہ طور پر معاہدے کا حصہ بن گیا۔ بائیڈن انتظامیہ کے مطابق ’پیرس معاہدہ عالمگیر اقدام کے لیے ایک بے مثال فریم ورک ہے۔‘ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ‘ ہم یہ بات جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اس کی تیاری میں مدد دی اور اسے ایک حقیقت بنایا۔ اس کا مقصد نہ صرف سادہ بلکہ وسیع بھی ہے یعنی ہم سب کو کرۂ ارض کی تباہ کن حدت روکنے اور دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے ان اثرات کے خلاف مضبوطی پیدا کرنے میں مدد دینا، جو ہم پہلے ہی دیکھ رہے ہیں۔

2016 میں جس طرح اس معاہدے میں ہماری شمولیت یادگار تھی۔ اور جیسے آج ہماری اس میں دوبارہ شمولیت ایک یادگار لمحہ ہے۔ آنے والے ہفتوں، مہینوں اور برسوں میں ہمارا کام اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ آپ ہمیں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو ہر سطح پر اپنی اہم ترین اور دوطرفہ اور کثیرطرفی گفت و شنید کا حصہ بناتے دیکھ چکے ہیں اور دیکھتے رہیں گے۔ ایسی بات چیت میں ہم دوسرے رہنماؤں سے پوچھ رہے ہیں کہ اس معاملے میں ہم مشترکہ طور پر مزید کام کیسے کر سکتے ہیں؟

موسمیاتی تبدیلی اور سائنسی سفارت کاری ہماری خارجہ پالیسی کے مباحث میں دوبارہ کبھی ’فاضل چیز‘ نہیں بن سکتی۔ موسمیاتی تبدیلی کے حقیقی خطرات سے نمٹنا اور اپنے سائنس دانوں کی بات سننا ہماری داخلہ و خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قومی سلامتی، مہاجرت، صحت کے شعبے میں عالمگیر کوششوں اور ہماری معاشی سفارت کاری و تجارتی بات چیت کا لازمی عنصر ہے۔ ہم تمام محاذوں پر دنیا کے ساتھ دوبارہ ربط قائم کر رہے ہیں جس میں 22 اپریل کو موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر صدر کی منعقد کردہ رہنما کانفرنس بھی شامل ہے۔ مزید یہ کہ ہم ’سی او پی 26‘ کو کامیاب بنانے کے لیے برطانیہ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے انتہائی متمنی ہیں ”۔

نئے امریکا کو مشرق وسطیٰ میں مداخلت کی وجہ سے دشواریوں کا سامنا ہوا اور ایران عظیم مشرق وسطیٰ میں ایک سخت گیر و ناقابل شکست طاقت ور مملکت کی صورت میں امریکا کے مقابل جم کر کھڑا رہا، ٹرمپ نے ایران کو دباؤ میں ڈالنے کے لئے سخت پابندیاں بھی عائد کیں اور 2018 میں پنے ہی سابق صدر اوباما کے معاہدے کو منسوخ کر کے خطے میں جنگ کی کیفیت پیدا کی، ایران نے امریکا کے مقابل شام، عراق، لبنان، یمن، سعودی عرب اور عرب ممالک میں سخت مزاحمت کی، یہاں امریکا، ایران کو اپنی پالیسی سے ہٹانے میں ناکام رہا اور ایران نے جواب میں اپنے ایٹمی پروگرام کو شروع کر دیا۔

ایران کا کہنا تھا کہ ’اس نے یورینیم کی افزودگی کا عمل 20 فیصد تک بڑھا دیا ہے‘ ۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے 2015 کے جوہری معاہدے سے دوری اختیار کرنے کے بعد یہ ایران کی تازہ ترین کارروائی تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس پر یورینیم کی افرودگی کی شرح بہت کم کر دی گئی تھی، تاکہ جوہری توانائی کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

ایرانی تیل کی ترسیل کو روکنے کے لئے امریکا نے سخت تادیبی کارروائیاں کی لیکن ایرانی جواب میں امریکی اتحادیوں کی آئل تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس سے پوری دنیا میں تیل کی رسد میں کمی واقع ہوئی اور عرب ممالک اپنے قدرتی قیمتی وسائل کے تحفظ کے لئے امریکا پر انحصار کرنے لگے۔ دوسری جانب ایران کی اہم شخصیات، جن میں جنرل قاسم سلیمانی سمیت جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کے قتل سے خطے میں ایرانی ممکنہ ردعمل سے عظیم مشرق وسطیٰ پر جنگ کے مزید مہیب سائے مسلط ہو گئے۔

صدر بائیڈن نے ایران سے تعلقات بحالی کے لئے میونخ سلامتی کانفرنس سے ورچوئل خطاب میں عندیہ ظاہر کیا، جسے دنیا بھر میں خصوصی اہمیت دی گئی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے متعلق دوبارہ سے مذاکرات شروع کرنے میں دلچسپی اس لیے رکھتا ہے تاکہ ایسی غلطیاں نہ کی جائیں جن سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال مزید خراب ہو۔ بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ انہیں شفافیت اور بہتر بات چیت کے ذریعے اسٹریٹجک غلط فہمیوں اور غلطیوں کو کم سے کم سطح پر لانا ہو گا۔

ان کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا، جب ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ”تہران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی اس صورت میں بند کرنے کو تیار ہو گا کہ اگر امریکہ ان کے ملک پر عائد پابندیاں اٹھا لے“ ۔ امریکا نے ایران کو جوہری معاہدہ میں واپسی میں لانے کے مزید دو اہم اقدامات بھی کیے اور اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف دوبارہ پابندیاں عاید کرنے کی قرار داد مؤخر کردی اور ایرانی سفارت کاروں کی نقل و حرکت پر بھی چھوٹ دے دی، امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کی جانب سے ای تھری سے معروف برطانیہ، فرانس، جرمنی کے گروپ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں دیے گئے بیان پر ایران نے بھی مثبت ردعمل دیا۔ چار ملکی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اگر ”ایران جے سی پی او اے معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری کرتا ہے تو امریکہ بھی ایسا ہی کرے گا اور وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے ’۔

امریکا نے ایران مخالف سعودی عرب کو یمن جنگ میں مزید اسلحہ کی فراہمی روکنے کی دھمکی دی تو دوسری جانب ایران نے جوہری پروگرام میں واپسی کے لئے یورینیم کی افرودگی کو محدود کرنے سے قبل معائنہ کاروں کو ایٹمی تنصیبات کے مشروط معاینے کی اجازت دے دی۔ اس سے قبل ایران کا کہنا تھا کہ ”امریکا، ایران پر لگائی گئی پابندیاں رواں ماہ 23 فروری تک ہٹانا شروع کر دے ورنہ وہ بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے معائنہ کرنے والے ماہرین کو اس کی جوہری تنصیبات کے معائنے سے روک دے گا“ ۔

تاہم ایران نے اپنی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد نہ ہونے پر بین الاقوامی اٹامک انرجی ایجنسی کے جوہری ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے ادارے کو مختصر نوٹس پر اپنی ایٹمی تنصیبات کے معائنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ عالمی جوہری توانائی کے ادارے ایجنسی کے سربراہ Rafael Grossi نے تصدیق کی ہے کہ ”23 فروری سے نافذالعمل ہونے والے ایرانی قانون کے تحت ایران عالمی ایٹمی ادارے کے ماہرین کو مختصر نوٹس پر اپنے جانب سے مقررہ اور خفیہ جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دے گا تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی کی مہلت میں تین ماہ کی توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے“ ۔

سابق امریکی صدر ٹرمپ کے دور اقتدار میں اپنائی گئی پالیسیاں کو صدر بائیڈن پرانے امریکا کی طرف لوٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم جہاں امریکی صدر مفاہمت کی پالیسی کا اظہار کرتے ہیں تو دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے ٹرمپ پالیسی کے تحت فریق مخالف کو کاربند ہونے کے لئے مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ نئے امریکا کا چہرہ پرانی شکل کا عکاس ہو گا، کیونکہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیاں مخصوص صدارتی مدت تک محدود نہیں ہوتی۔ عظیم مشرق وسطیٰ و جنوبی ایشیا سمیت کئی ایسے معاملات گمبھیر ہو چکے ہیں کہ بائیڈن کے لئے پیرس معاہدے کی طرح فی الفور واپسی کا عمل دشوار گزار نظر آتا ہے۔

امریکا اس وقت کورونا وبا کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے، جس میں 520,792 سے زائد امریکیوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے، معیشت کی بحالی سمیت دنیا میں واحد طاقت کا اجارہ دار بننا ہر امریکی کا خواب ہے، اس لئے صدر بائیڈن کی مفاہمتی پالیسیاں دراصل ٹرمپ انتظامیہ کا دوسرا روپ بھی قرار دی جا سکتی ہیں، جس میں سخت لہجوں و دھمکیوں کے بجائے، سفارتی انداز و عالمی طاقت ہونے کے فطری غرور کو ختم کرنا مشکل ہو گا، نسل پرستی کو کم کرنا اور کورونا وبا کے خاتمے کے بعد امریکا اگر پرانا امریکا بن کر واپس بھی لوٹتا ہے تو پرانے امریکا کا رویہ و روش بھی مثالی نہیں، کہ اس پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply