صادق سنجرانی کی کامیابی کے لئے عمران خان کون سا ”شفاف“ شعبدہ دکھائیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپوزیشن پر روپے دے کر ووٹ لینے کی کوشش کا الزام لگایا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اب اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کے لئے دولت صرف کر رہی ہے۔ دوسری طرف پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے لئے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔ گیلانی حال ہی میں وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو ہرا کر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔

قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان، حفیظ شیخ کی شکست سے پہنچنے والی سیاسی ہزیمت پر سخت رنجیدہ ہیں۔ اس کا اظہار ہفتہ کے روز قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد کی گئی تقریر میں بھی ہوا تھا اور آج پی ٹی آئی کے اجلاس میں بھی انہوں نے اس شکست پر دکھ کا اظہار کیا۔ اس سیاسی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے اور پارٹی کی صفوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کی بجائے وزیر اعظم اپوزیشن اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تنقید کا نشانہ بنا کر خود کو سرخرو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات الیکشن کمیشن کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ الیکشن کمیشن پر پے در پے حملوں کا ایک مقصد اسے دباؤ میں لا کر تحریک انصاف سے متعلق متعدد معاملات میں ’نرم‘ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

حکمران تحریک انصاف کا فارن فنڈنگ کا معاملہ ابھی تک الیکشن کمیشن کے زیر غور ہے۔ اپوزیشن کی قیادت بار بار اس کیس کا فیصلہ کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اس کیس میں اگر الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے خلاف فیصلہ دے دیا تو اس کی نمائندہ حیثیت خطرے میں پڑ سکتی ہے اور یہ مطالبہ سامنے آ سکتا ہے کہ عمران خان سمیت تحریک انصاف کے سب ارکان اسمبلی کو نا اہل قرار دیا جائے۔ عملی طور سے ایسا ناخوشگوار فیصلہ عمران خان کے لئے اپنی زندگی کی سب سے بڑی سیاسی شکست ہوگی۔ ایک تو انہیں پارٹی کی نمائندہ حیثیت بچانے کے لئے سخت تگ و دو کرنا پڑے گی۔ دوسرے سیاست میں مالی بدعنوانی کا جو الزام وہ اپوزیشن پارٹیوں اور لیڈروں پر لگاتے ہیں، ان کا جواز ختم ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن کا فیصلہ یہ واضح کر سکتا ہے کہ تحریک انصاف نے چندہ جمع کرنے اور اسے استعمال کرنے کے حوالے سے سنگین خلاف ورزیاں کی تھیں۔ اور اگر اس معاملہ میں درخواست دہندہ کی دلیل اور شواہد کو اہمیت دی گئی تو اس میں عمران خان کی مالی بدعنوانی کا ثبوت بھی سامنے آ سکتا ہے۔

اس پس منظر میں الیکشن کمیشن پر عمران خان کی براہ راست نکتہ چینی، دراصل خود کو اس بے پایاں دباؤ سے نکالنے کی غیر شعوری کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس طرح ملک کا وزیر اعظم ایک آئینی ادارے کے وقار، خود مختاری اور قانونی حیثیت کو مشکوک کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ حکومت نے ایسی بیان بازی کبھی احتساب بیورو کے بارے میں نہیں کی کیوں کہ موجودہ چئیرمین نیب عمران خان کی خواہش و ضرورت کے مطابق اپوزیشن لیڈروں کے خلاف مقدمے قائم کرنے، اہم لیڈروں کو گرفتار کر کے طویل مدت تک حراست میں رکھنے کے علاوہ وقفے وقفے سے جسٹس (ر) جاوید اقبال یہ بیان بھی جاری کرتے رہے ہیں کہ بدعنوانی میں ملوث بڑی مچھلیوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ اس قسم کے بیان کسی اہم آئینی ادارے کے چیئرمین کو زیب تو نہیں دیتے لیکن حکومت وقت کے اینٹی کرپشن بیانیے کو سہارا ضرور دیتے ہیں جس سے عمران خان پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لئے انہیں نیب کی کوئی ناکامی یا احتساب قوانین کی کوئی کمزوری دکھائی نہیں دیتی حالانکہ ایک طرف نیب عدالتوں میں مقدمات ثابت کرنے میں مسلسل ناکارہ ثابت ہو رہی ہے تو دوسری طرف اعلیٰ عدالتوں میں ججز احتساب بیورو پر سخت نکتہ چینی بھی کرتے رہے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 4 مارچ کو قوم سے وزیر اعظم کے خطاب کے بعد ایک غیر معمولی بیان میں ناقص انتخاب منعقد کروانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخاب میں ہار قبول کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ حکومت اسلام آباد سے ہارنے والی نشست پر دھاندلی کا الزام لگاتی ہے لیکن جیتنے والی نشست کے نتیجہ کو خوش دلی سے قبول کرتی ہے۔ حالانکہ ان دونوں نشستوں کے لئے پولنگ ایک ہی طریقہ کے تحت ایک ہی عملہ نے کروائی تھی۔ عمران خان نے اس خطاب میں الیکشن کمیشن پر جمہوریت کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا جس کا جواب ایک تحریری بیان کی صورت میں دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیروں نے الیکشن کمیشن کے بیان کو یہ کہہ کر مسترد کرنے کی کوشش کی تھی کہ الیکشن کمیشن کو وزیر اعظم کی تقریر پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے تھا لیکن سرکاری جماعت کے کسی معتبر کو اپنے لیڈر کو یہ بتانے کا حوصلہ نہیں ہوا کہ چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز ہو کر الیکشن کمیشن پر حرف زنی انہیں زیب نہیں دیتی۔

عمران خان نے الیکشن کمیشن کی وضاحت پر کان دھرنے اور اپوزیشن کی سیاسی پیش قدمی کا جواب دینے کے لئے اسے فریق بنانے سے گریز کرنے کی بجائے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو ناقص قرار دیا اور مشورہ دیا کہ الیکشن کمیشن کو ایجنسیوں سے خفیہ بریفنگ لینی چاہیے تاکہ اسے پتہ چلے کی سینیٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی قومی ادارہ جو خاص قاعدہ و ضابطے کے طور پر کام کرتا ہو، ایک ایسے وزیر اعظم کے ہر بیان کا نوٹس نہیں لے سکتا جو اپنے ایک مخصوص سیاسی ایجنڈے کے لئے ہر روایت ختم کرنا اور کسی بھی انتہا تک جانا درست سمجھتا ہو۔ عمران خان نے آج بھی اسی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن پر یوسف رضا گیلانی کو چئیر مین سینیٹ بنوانے کے لئے سینیٹرز خریدنے کا الزام لگایا تو دوسری طرف الیکشن کمیشن کو ناکام اور ناقص قرار دیا ہے۔

وزیر اعظم کا دعویٰ تھا کہ ان کی پارٹی کے سینیٹرز سے رابطہ کر کے انہیں چئیر مین شپ کے لئے اپوزیشن کے امید وار کو ووٹ دینے کے لئے کئی کئی کروڑ روپے کی پیش کش کی گئی ہے تاہم عمران خان نے ان سینیٹرز کے نام نہیں بتائے جنہیں روپوں کی پیش کش کی گئی ہے۔ حیرت البتہ اس بات پر ہے کہ اپوزیشن نے یوسف رضا گیلانی کو اپنا امید وار آج نامزد کیا ہے لیکن اس کے ’کیشئیر‘ روپوں کی تھیلیاں لے کر پہلے ہی تحریک انصاف کے معصوم سینیٹرز کے پاس جا پہنچے۔ یہ معاملہ بھی قابل غور ہونا چاہیے کہ اپوزیشن کو آخر تحریک انصاف کے سینیٹرز سے ہی کیوں ووٹ خریدنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس ماہ کے شروع میں ہونے والے انتخاب کے بعد تحریک انصاف اگرچہ سینیٹ کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے لیکن اس کے ارکان کی تعداد پھر بھی 26 ہے۔ یعنی سینیٹ کے تین چوتھائی ارکان کا حکمران جماعت سے تعلق نہیں ہے۔ متعدد چھوٹی پارٹیوں کے نمائندے سینیٹر ہیں۔ اس کے علاوہ اس وقت ایوان بالا میں چھ ارکان آزاد رکن کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کوئی بھی خریدار پہلے ایسے کمزور اہداف کی ہمدردیاں حاصل کرنے یا انہیں ’خریدنے‘ کی کوشش کرے گا۔

اس حوالے سے یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ تمام تر سیاسی مشقت اور الزام تراشی کا طوفان بپا کرنے کے باوجود حکومت اور اس کی حلیف جماعتوں کو سینیٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔ اس وقت سینیٹ میں حکمران اتحاد کی کل نشستیں اپوزیشن سے کم ہیں۔ پاکستان جمہوری تحریک میں شامل جماعتوں کو ایوان بالا میں اب بھی اکثریت حاصل ہے۔ اس صورت حال میں اضافی ووٹوں کی ضرورت اپوزیشن کی بجائے حکومت کو ہو گی تاکہ وہ اپنے امیدوار صادق سنجرانی کو کامیاب کروا سکے۔ 12 مارچ کو سینیٹ کی موجودہ سیاسی پوزیشن کے مطابق چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہونے کی صورت میں یہ دونوں عہدے اپوزیشن کو حاصل ہوں گے۔

اسی لئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے آج کی پریس کانفرنس میں سوال کیا ہے کہ جب حکومت کو سینیٹ میں اکثریت ہی حاصل نہیں ہے تو کس برتے پر اس نے چئیر مین کی پوزیشن کے لئے اپنا امید وار نامزد کیا ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ حکومت اس انتخاب میں بھی دباؤ، دھاندلی اور رشوت کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی خواہش مند ہے۔ یہ ایک جائز اور مناسب سوال ہے کیوں کہ حساب کتاب بالکل واضح ہے۔ حکومتی اتحاد کے سینیٹرز 45 کے لگ بھگ ہیں۔ پھر عمران خان نوشتہ دیوار دیکھ کر صبر کرنے کی بجائے کس بنیاد پر اپوزیشن پر ووٹ خریدنے کا الزام لگا رہے ہیں؟ اس صورت میں تو حکومت کا امیدوار کامیاب ہوا تو اسے بے ایمانی سمجھنا درست اور جائز ہوگا۔

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا ہے کہ حکومت ایجنسیوں کے ذریعے سینیٹرز کو ہراساں کر رہی ہے۔ ان پر سرکاری امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اگست 2019 میں عمران خان کی حکومت صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی واضح اکثریت کے باوجود ’خفیہ ووٹ‘ میں ان پر اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ اپوزیشن کے 14 ’باضمیر‘ سینیٹرز اس موقع پر حکومت کے کام آئے تھے۔ اب بھی کوئی ایسا ہی کرشمہ صادق سنجرانی کو دوبارہ چئیر مین سینیٹ منتخب کروا سکتا ہے۔ دیانت داری سے یہ انتخاب جیتنے کے لئے حکومت کے پاس نمبر پورے نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1815 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply