سگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور حکومت کی بے حسی
آج کل جرائم، دہشت گردی اور سیاست کی بری بھلی خبروں کے ساتھ ساتھ سگ گزیدگی کے واقعات کی خبریں بھی مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ ایک طرف دنیا کے ممالک ترقی کی دوڑ میں مگن ہیں اور وہاں انسانوں کا طرز زندگی روز بروز جدید دنیا سے ہم آہنگ ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ہمارے معاشرے کے انسان آوارہ کتوں کے کاٹنے جیسے مسئلے پر احتجاج کر تے نظر آ رہے ہیں۔
ماضی میں کتوں کے کاٹنے پر چودہ انجیکشن لگتے تھے لیکن اب اس کا علاج قدرے آسان ہے بشرطیکہ اسپتالوں میں مریضوں کے لیے مطلوبہ ادویات اور ویکسین دستیاب ہوں جن کی کچھ عرصہ قبل سندھ کے اسپتالوں میں عدم دستیابی کی بازگشت سنائی دیتی رہی تھی۔
ویسے کتا ایک وفادار جانور شمار ہوتا ہے پھر بھی ہمارے معاشرے میں لوگ، انسان تو انسان کتوں کو بھی آپس میں لڑوا کر بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ اس اعلیٰ معیار کے کھیل میں حصہ لینے کے لیے صاحب ذوق، اپنے کتوں کی پرورش میں کوئی کوتاہی نہیں برتتے۔ ان کے ناز نخرے اٹھانے کے علاوہ انہیں وہ غذائیں مہیا کی جاتی ہیں جو ایک غریب آدمی کو عمر بھر میسر نہیں ہو پاتیں ہاں مگر کسی غریب کی معمولی سی کوتاہی پر اکثر و بیشتر یہی بااثر افراد اپنے کتے چھوڑنے میں دیر بھی نہیں لگاتے۔
اگر مغرب کی بات کریں تو وہاں کتے کو گھر کے ایک فرد کی سی حیثیت اور حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض گوریاں اپنے مردوں سے زیادہ پیار اور عزت اپنے کتوں کی کرتی ہیں۔ ویسے ہمارے ملک میں بھی اشرافیہ اور سیاست دانوں کے کتوں کے ٹھاٹھ باٹ دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی نظروں میں بھی عوام سے زیادہ اہمیت ان کے پالتو جانوروں کی ہی ہوتی ہے۔
خیر بات ہو رہی تھی آوارہ کتوں کی جو بڑی تعداد میں گلی محلوں میں کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں اور بیماریوں کا شکار ہو کر کسی کو بھی کاٹ لیتے ہیں خاص کر بچوں کو۔ کتا مار مہم کے باوجود بھی یہ افسوس ناک واقعات تواتر کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ نظام ناکافی یا نامناسب ہے۔
کچھ علاقے تو ایسے بھی ہیں جہاں کئی برس گزر جانے کے باوجود ضلعی و میونسپل اور ٹاؤن کمیٹیوں کی جانب سے کتا مار مہم شروع کرائی ہی نہیں جاتی اور وہاں کتا مارنے کے بجائے ڈنڈی مارنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ یوں عوامی نمائندوں سے مایوس ہوئے عوام چند لمحوں کے لیے مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بیروزگاری جیسی آزمائشوں کو فراموش کر کے ان اقدامات پر غور کرنے لگتے ہیں کہ آوارہ کتوں سے خود کو اور بچوں کو کیسے محفوظ رکھیں۔
اسی مدعے پر چند ماہ پہلے سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے شہری کی درخواست پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم جاری کیا تھا کہ آئندہ کتے کے کسی بھی شہری کو کاٹنے پر وہاں کے میونسپل افسر کے خلاف کیس درج ہو گا۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو بھی پابند کیا کہ وہ غیر ذمہ دار میونسپل ملازمین کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہوئے ہفتہ وار رپورٹ پیش کریں۔ لیکن وہ عوامی نمائندے ہی کیا جو عوام کا احساس کریں۔
پچھلے دنوں انہی بڑھتے ہوئے واقعات پر سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ نے ایک بار پھر سماعت کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ اب کسی علاقے میں ایسا واقعہ پیش آیا تو وہاں کے ایم پی اے کو معطل کیا جائے گا اور وہ سینٹ الیکشن میں ووٹ نہیں دے پائے گا۔ ساتھ ہی متعلقہ افسران کی تنخواہ بند اور انہیں سرپلس میں رکھا جائے گا۔ ہم معزز عدلیہ کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ باقی شہروں کے لیے بھی یہی حکم جاری کیا جائے اور ساتھ ذمہ داروں کے خلاف سزاؤں کو بھی یقینی بنایا جائے۔
ایک روز قبل سول اسپتال حیدرآباد میں ایک صاحب اپنے چھوٹے بچے کو آوارہ کتے کے کاٹنے پر پریشان ہوئے علاج کے لیے پہنچے تو پتا چلا کہ صرف ان کا بیٹا ہی نہیں ، آج ہی آج میں مزید سات معصوم اور آوارہ کتوں کا شکار بن چکے تھے۔ سگ گزیدگی کے افسوس ناک واقعات ہوں یا اس کے ساتھ ساتھ بغیر ڈھکن کے کھلے گٹروں میں گر کر مرنے والے بچوں کے اندوہناک نوحے۔ جب تک سٹی اور ٹاؤن گورنمنٹ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائیاں نہیں کی جائیں گی عوام اپنے بنیادی مسائل پر یونہی روتے رہیں گے۔


