21 مارچ کو سال کا سب سے بڑا سیارچہ زمین کے نزدیک سے گزرے گا، ناسا


This NASA photo released on March 11, 2021 shows the view from inside the dome of NASA’s Infrared Telescope Facility as the 3.2-meter telescope atop Hawaii’s Mauna Kea will be used to measure the infrared spectrum of asteroid 2001 FO32.
ویب ڈیسک — امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ اتوار 21 مارچ کے روز 2001 FO32 نامی ایک چھوٹا سیارچہ زمین سے بیس لاکھ کلومیٹر دور سے گزرے گا۔ یہ اس سال کا سب سے بڑا سیارچہ ہوگا جو زمین سے اتنی نزدیک سے گزرے گا۔

ناسا کے مطابق اس موقع پر خلابازوں کو اس سیارچے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔

ناسا کے مطابق اس سیارچے کا قطر 915 میٹر ہے اور اسے پہلی بار بیس برس پہلے دریافت کیا گیا تھا۔

زمین کے نزدیک سے گزرنے والی خلائی اجزا کے مطالعے کے لیے قائم سینٹر فار نئیر ارتھ آبجیکٹ سٹڈیز کے ڈائریکٹر پاؤل چوڈاز نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’ہمارے پاس 2001 FO32 سیارچے کے سورج کے گرد چکر لگانے کے مدار کی درست معلومات ہیں۔ اس بات کا بالکل امکان نہیں کہ یہ زمین کے پاس سے گزرتے ہوئے دس لاکھ پچیس ہزار میل سے زیادہ نزدیک آئے گا۔‘‘

یہ زمین اور چاند کے درمیان موجود فاصلے سے پانچ گنا زیادہ فاصلہ ہے، لیکن اتنا نزدیک ضرور ہے کہ اسے سیارچے کو ممکنہ طور پر خطرناک سیارچہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ 1 لاکھ 24 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرے گا۔ یہ رفتار زمین کے نزدیک سے گزرنے والے سیارچوں کی عمومی رفتار سے زیادہ ہے۔

ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کے پرنسپل سائنسدان لانس بینر نے بتایا کہ ’’اس سیارچے کے بارے میں معلومات فی الوقت کم ہیں اس لیے اس کے اس قدر نزدیک سے گزرنے سے ہمیں اس کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے بہترین مواقع مل سکیں گے۔‘‘

ناسا کا کہنا ہے کہ سیارچے کی سطح سے سورج کی کرنوں کے عکس سے خلابازوں کو اس کے بارے میں جاننے کے لیے بہت سی معلومات میسر ہوں گی۔

ناسا کے بقول سورج کی کرنیں جب کسی سطح سے ٹکراتی ہیں تو پتھروں میں موجود معدنیات کچھ روشنی جذب کر لیتی ہیں اور کچھ کا انعکاس کرتی ہیں۔ منعکس کی گئی روشنی کے مطالعے سے خلاباز ان معدنیات میں موجود کیمیکلز کا سراغ لگا سکتے ہیں جو اس سیارچے کی سطح پر موجود ہیں۔

پاؤل چوڈاز کے مطابق جب یہ آسمان سے گزر رہا ہو گا تو یہ آسمان پر موجود تمام اجزا سے زیادہ روشن دکھے گا۔‘‘

ناسا کا کہنا ہے کہ سیارچے 2001 FO32 کی جسامت کے برابر یا اس سے بڑے 95 فیصد سیارچوں کی فہرست تیار کی جا چکی ہے اور اگلی صدی تک ان میں سے کسی کا بھی زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3333 posts and counting.See all posts by voa