21 مارچ کو سال کا سب سے بڑا سیارچہ زمین کے نزدیک سے گزرے گا، ناسا
ناسا کے مطابق اس موقع پر خلابازوں کو اس سیارچے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا۔
ناسا کے مطابق اس سیارچے کا قطر 915 میٹر ہے اور اسے پہلی بار بیس برس پہلے دریافت کیا گیا تھا۔
زمین کے نزدیک سے گزرنے والی خلائی اجزا کے مطالعے کے لیے قائم سینٹر فار نئیر ارتھ آبجیکٹ سٹڈیز کے ڈائریکٹر پاؤل چوڈاز نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’’ہمارے پاس 2001 FO32 سیارچے کے سورج کے گرد چکر لگانے کے مدار کی درست معلومات ہیں۔ اس بات کا بالکل امکان نہیں کہ یہ زمین کے پاس سے گزرتے ہوئے دس لاکھ پچیس ہزار میل سے زیادہ نزدیک آئے گا۔‘‘
یہ زمین اور چاند کے درمیان موجود فاصلے سے پانچ گنا زیادہ فاصلہ ہے، لیکن اتنا نزدیک ضرور ہے کہ اسے سیارچے کو ممکنہ طور پر خطرناک سیارچہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ناسا کا کہنا ہے کہ یہ سیارچہ 1 لاکھ 24 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرے گا۔ یہ رفتار زمین کے نزدیک سے گزرنے والے سیارچوں کی عمومی رفتار سے زیادہ ہے۔
ناسا کی جیٹ پروپلژن لیبارٹری کے پرنسپل سائنسدان لانس بینر نے بتایا کہ ’’اس سیارچے کے بارے میں معلومات فی الوقت کم ہیں اس لیے اس کے اس قدر نزدیک سے گزرنے سے ہمیں اس کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے بہترین مواقع مل سکیں گے۔‘‘
ناسا کا کہنا ہے کہ سیارچے کی سطح سے سورج کی کرنوں کے عکس سے خلابازوں کو اس کے بارے میں جاننے کے لیے بہت سی معلومات میسر ہوں گی۔
ناسا کے بقول سورج کی کرنیں جب کسی سطح سے ٹکراتی ہیں تو پتھروں میں موجود معدنیات کچھ روشنی جذب کر لیتی ہیں اور کچھ کا انعکاس کرتی ہیں۔ منعکس کی گئی روشنی کے مطالعے سے خلاباز ان معدنیات میں موجود کیمیکلز کا سراغ لگا سکتے ہیں جو اس سیارچے کی سطح پر موجود ہیں۔
پاؤل چوڈاز کے مطابق جب یہ آسمان سے گزر رہا ہو گا تو یہ آسمان پر موجود تمام اجزا سے زیادہ روشن دکھے گا۔‘‘
ناسا کا کہنا ہے کہ سیارچے 2001 FO32 کی جسامت کے برابر یا اس سے بڑے 95 فیصد سیارچوں کی فہرست تیار کی جا چکی ہے اور اگلی صدی تک ان میں سے کسی کا بھی زمین سے ٹکرانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔


