عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن: ابھی کچھ لوگ باقی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں اپنے بہنوئی کی علالت کے باعث ان کی تیمارداری اور پھر ان کے انتقال کی وجہ سے اپنے گھر سے زیادہ تر دور ہی رہا، کل جب گھر آیا تو دیکھا ایک پلا (کتے کا بچہ ) گھر کے سامنے پڑا تکلیف سے چلا رہا تھا۔ وہ بار بار اٹھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن درد کی شدت اور کمزوری کی وجہ سے لڑکھڑا کے گر جاتا تھا۔ ہم نے اسے کسی طرح پانی اور دودھ پلایا تو تھوڑا سا فرق پڑا لیکن اب بھی وہ درد کی شدت سے تڑپ رہا تھا پیچھے کی ٹانگ میں ایک زخم بھی موجود تھا۔ وہ اپنے وجود میں باقی بچی تمام طاقت کو اکٹھا کر کے اٹھنے کی کوشش کرتا اور درد سے تڑپ کر گر جاتا۔ نہ جانے وہ کب سے اسی حالت میں پڑا تھا۔

خیال آیا کہ عائشہ چندریگر فاؤنڈیشن ( اے سی ایف ) سے رابطہ کیا جائے جو اس طرح کے زخمی جانوروں کی مدد و دیکھ بھال کرنے کا ادارہ ہے۔ انہیں فون کیا اور تمام صورت حال سے آگاہ کیا ان کی جانب سے ہمیں کہا گیا آپ ہمیں اپنا پتہ ایس ایم ایس کر دیں ، ہم جلد از جلد گاڑی روانہ کرتے ہیں۔ گاڑی آنے تک ہم اس کی دیکھ بھال کرتے رہے، کچھ دیر بعد اے سی ایف کی گاڑی پہنچ گئی، گاڑی کے ساتھ آنے والے ایک صاحب نے فوری طور پر پلے کا معائنہ کیا اور ہمیں بتایا کہ شاید یہ کسی گاڑی سے ٹکرایا ہے یا پھر اس نے زہر کھا لیا ہے۔

بہرحال ہم سے ایک فارم بھروایا گیا اور پلے کو نہایت احتیاط سے گاڑی میں ڈال کر لے گئے ، ہمیں بتایا گیا کہ ہم پوری کوشش کریں گے کہ یہ جلد از جلد صحت یاب ہو جائے۔ یہ تمام حالات دیکھ کر جہاں اطمینان و تسلی ہوئی وہیں دل سے عائشہ چندریگر اور ان کی فاؤنڈیشن کے لیے ڈھیروں دعائیں بھی نکلیں۔

یہ عجب اتفاق تھا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہم کئی روز تک ایک اسپتال میں اپنے بہنوئی کی تیمارداری کے سلسلے میں موجود رہے اور وہاں انتظامی حوالے سے کئی دل سوز مناظر دیکھے۔ ہمیں وہاں ایک احساس بہت شدت سے ہوا کہ کوئی بھی بڑا اسپتال جہاں انتہائی نگہداشت کے وارڈ موجود ہوں اور وہاں عام پبلک کے علاج کی سہولت بھی موجود ہو ، وہاں ماسوائے تمام طبی احتیاطی پابندیوں کے کسی بھی قسم کی داخلی پابندیاں، رکاوٹیں یا سختیاں نہیں ہونی چاہئیں کیوں کہ یہ تمام چیزیں مریض کی تیمارداری میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔

مریض کے عزیز و اقارب ایک طرف اپنے مریض کے حوالے سے پریشان ہوتے ہیں تو دوسری جانب وہ ان مشکلات سے پریشان ہوتے ہیں اور اگر کسی جگہ یہ تمام پابندیاں لگانا ضروری محسوس ہوں تو پھر وہاں اس طرح کے اسپتال ہونا قطعی ضروری نہیں، جہاں مریض کو خون دینے کے لیے آنے والوں کو کئی کئی گھنٹوں انتظار اور کئی مراحل سے گزرنے پر اپنا ہی خون جلانا پڑے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا یوں ضروری محسوس ہوا کہ سوچتا ہوں کہ شکر ہے وہ معصوم جانور ایسے علاقے میں زخمی پڑا تھا جہاں کم از کم ایسی کوئی پابندی نہیں تھی جہاں اے سی ایف کی طبی گاڑی کو پہنچنے میں کوئی رکاوٹ ہوتی۔ زندگی اور موت اللہ کے اختیار میں ہے ، اللہ نے انسان کو تمام مخلوق پر اشرف بنایا ہے تو انسان کو بشمول انسان کے تمام مخلوق کا خیال کرنا چاہیے۔

ایک جانب جہاں ہم کئی انسانی شفاخانوں کی انتظامیہ کے رویوں اور انتظامات سے شدید مایوس ہوئے وہیں کل کے اس واقعے میں اے سی ایف کے کام نے اس مایوسی کو کچھ کم کیا۔ سوچتا ہوں ابھی انسانیت مکمل ختم نہیں ہوئی۔ ابھی کچھ لوگ باقی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *