تلاش اور امید کا قحط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی زیب النساء سٹریٹ کے پاس ایک کتابوں کی دکان پر ہفتہ وار آوارہ گردی کرتے ہوئے ممتاز مفتی صاحب کی ”تلاش“ جانے کیوں خریدی۔ دکاندار ایک بزرگ آدمی تھے اور ہم نے کتاب کی خریداری پر کچھ رعایت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ کتاب پڑھنے والے کے لئے یہ پیسے اہمیت نہیں رکھتے۔

خیر ہم نے وہ کتاب لے تو لی اور پہلی ہی فرصت میں پڑھ ڈالی۔ لیکن اس کے بعد تو جیسے اندر کا مد و جزر تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ سب سے زیادہ نقصان تو اس ذہن سازی کا ہوا جو گزشتہ دو دہائیوں سے ہمیں اللہ پاک سے دور کر رہی تھی۔

کافی ساری ایسی تقریبات یا یوں کہ لیں مذہبی میلوں میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں پر کچھ خطیب ایسے بھی ہوتے تھے جو سوائے ڈرانے کے اور کوئی علم نہ رکھتے تھے۔ اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ اللہ پاک کے پاس ایک موٹا ڈنڈا ہے ادھر ہم نے مرنا ہے ادھر وہ ڈنڈا ہم پہ برسنا شروع ہو جائے گا۔

وہ تو بھلا ہو ممتاز مفتی صاحب کا۔ جنہوں نے یہ کتاب ”تلاش“ لکھ کر ہماری یہ مشکل حل کر دی۔ اور اس کے بعد اللہ پاک کچھ اپنے اپنے سے لگنے لگے اور پھر اللہ پاک کے ساتھ یوں سمجھیں ایک خاص تعلق بن گیا۔ بہت جلد سارے معاملات اللہ پاک کو سپرد کرنے شروع کر دیے۔

توکل جسے کہتے ہیں وہ حقیقی معنوں میں زندگی میں شامل ہو گیا۔ زندگی آسان ہونے لگ گئی۔
نماز پڑھتے وقت ایک توقف کر کے روتے بچے کو گیند پکڑا دینا۔

باپ بیٹے کا دوست بن کر رہنا۔ اور پھر اسی بیٹے کا باپ کو گلہ کہ آپ نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔ کیا کمال انداز سے گرہیں کھولی ہیں۔

یہ سب اس انداز میں بیان کیا کہ ذہن پر ایک کاری ضرب لگی۔ ہمارے تخیلات میں بنے سارے خاکوں پر گویا سیاہی کی دوات گر گئی۔ اندر تک سب کچھ ہلا کر رکھ دیا۔ ہمیں سب کچھ ایک نئے انداز سے شروع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔

مجسمہ ساز جیسے غیر ضروری پتھروں کو کھرچنے کے بعد پتھر میں چھپے مجسمے کو سب کے سامنے عیاں کر دیتا ہے۔ شاید ہمیں کہیں اندر ہی اندر اپنی ذات سے آشکار ہونا ہے۔

اب پھر سے کچھ ایسا وقت آن پڑا ہے کہ امید کی بات کم اور وہی خطیب والے ڈراوے کچھ زیادہ ہو گئے ہیں۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ شاید مارکیٹ میں باقی اجناس کی طرح ”امید کا بھی قحط“ پڑ گیا ہے۔

آئیں مل کر امید کا چراغ جلاتے ہیں۔
آئیں تلاش کو پھر سے پڑھتے ہیں۔
آئیں اللہ پاک کی ذات کے سامنے اپنے دکھڑے بیان کرتے ہیں۔
آئیں توکل کی راہ پہ چلتے ہیں۔
آئیں ایک بار پھر ”تلاش“ کو پڑھتے ہیں
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply