ارتقائے شعور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان کی وجود کا ہونا تاریخ کی ابتداء سے بھی پہلے کی بات ہے۔ بیس لاکھ سال پہلے بھی آپ کو انسان کی وہی مانوس خصوصیات مل جاتی، جو کہ آج بھی ہے۔ جیسا کہ بچوں کے لئے فکر مند مائیں، بے فکر کھیلتے کھودتے بچے، بوڑھے بزرگ جو صرف نصحیت حد تک رہ گئے ہو اور سماجی پابندیوں سے الجھتے ہوئے نوجوان جو کہ ہر جگہ مقامی حسینہ کو متاثر کرنے کے لئے بے چین ہو اور اقوام کے دانا بزرگ، جنہوں نے سب کچھ دیکھ کر ایک زمانے میں محسوس کیا ہو۔

یہ قدیم انسان بھی اس طرح زندگی گزرتا تھا۔ رشتیں نبھانا، دوستیاں رکھنا، اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا اور ابتری لینے کے لئے کوشش کرنا۔ لیکن یہ سب چیزیں کرنا کوئی بڑی بات نہیں، کیونکہ بہت سارے یہ خصوصیات تو جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے۔ جانوروں کو بھی مصبیت کے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور اس طرح ان میں بھی قوت احساس پایا جاتا ہے۔ دراصل انسان کا تعلق بھی اسی جاندار میں سے ایک خاندان سے ہے۔

ویسے ایک عرصے کے لئے انسان نے بھی اور جانداروں سے علیحدہ ہونے کی کوشش کی۔ شاید اپنا دفاع صحیح سے نہ کر سکا۔ ممکن ہے کہ آپ کو اچھا نہ لگے لیکن یہ ایک حقیقت پر مبنی آرا ہے کہ ہم ایک بہت بڑے اور پر شور خاندان کے افراد ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ ہم نے باتیں سیکھی تا کہ ایک دوسرے سے خیالات کا اظہار کر سکے۔ پھر رفتہ رفتہ ہم ان چیزوں کے بارے میں سوچنے لگے جیسے ہمیں سہولت میسر ہونے لگی۔ پتھروں سے آگ جلایا اور پتوں سے بدن ڈھانپنے کی ضرورت محسوس کی۔

دور تک رابطے کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر آگ جلائی یا ڈھول بجائے۔ دوست اور دشمن کی شناسائی ہوئی۔ ایک گروہ کی شکل میں رہنے لگے تا کہ دشمن سے محفوظ رہے۔ اس وقت کے حساب سے ان بڑے بڑے سہولیات سے آراستہ ہوئے۔ لیکن اس وقت کے اس قدیم لوگوں کی ابتداء ترقی پذیر زندگی میں کچھ رکاوٹیں اور مفروضے ایسے شامل ہوئے جن کے اثرات ابھی تک برقرار ہیں اور سکون کی زندگی کے مکمل طور پر مخالف پہلو ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑی عناصر ثقافت اور مذہب ہیں۔

اس وقت کے انسان نے جن چیزوں سے خوف محسوس کیا تو انہیں اپنا خدا تسلیم کر لیا۔ کوئی سورج سے خوفزدہ ہوئے تو کسی نے آگ کو اپنا خدا مان لیا۔ آہستہ آہستہ مذاہب کا وجود میں انا شروع ہوا۔ اس طرح کوئی سورج کی پوجا کرنے لگے تو کوئی آگ کی پرستش کرنے لگے اور بعض تو پتھر سے بھی متاثر ہوئے۔ آگے جا کہ عبادات کا سلسلہ بھی ایک عجیب اور منفرد منطق کے ساتھ شروع ہوا۔ جو کہ مثال کے ساتھ زیادہ واضح ہو جائے گا۔ ایک شخص محسوس حالت میں سورج کے سامنے بیٹھا ہے اور کچھ طلب کرتا ہے تو وہ شے ان کو میسر آتا ہے تو ان کی سوچ یہاں پر پھنس جاتا ہے کہ یہ چیز کی مل جاننے کی وجہ سورج کے سامنے منفرد انداز میں بیٹھ کر طلب کرنے سے مل جاتا ہے اور اس طرح وہ اس فعل کو عام کر دیتا ہے اور یوں ہی عبادات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔

جب کوئی دوسرا یہی عمل دہراتا ہے تو نتیجہ حسب توقع نہیں نکلتا پھر وہ نا امیدی کا شکار ہو جاتا ہے اور پہلے والے کے پاس چلا جاتا ہے۔ اس کے لئے پہلے والے کے مانگنے سے وہ چیز میسر ہو جاتا ہے تو اسی اسنا میں وہ پہلا والا بابا یا پیر کا درجہ حاصل کرتا ہے اور اسی طرح آگے جا کہ اس داداگری کا فائدہ اٹھا کر وہ پیسے بھی طلب کرنا شروع کر دیتا ہے، بعض کی تو مقرر فیس ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ اس کے آنے والے نسلوں کے لئے سب کچھ زندگی ضروریات کا بندو بست ہو جاتا ہے۔

ہمیں محدود حد تک مقرر سوچیں مل جاتی ہیں۔ لیکن یہ لوگ ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں، جہنوں نے وقت کی رفتار کو جانچ لیا اور آگے بڑھتے گئے۔ حالانکہ یہ محدود فضا تک سوچنے والے تعداد میں زیادہ ہے لیکن کئی عناصر کی وجہ سے بے اعتمادی، خوف و ڈر اور لالچ میں مبتلا ہیں۔ بیچ میں کئی صدیاں گزر گئی۔ انسان آتے آتے اکیسویں صدی میں پہنچ گیا۔ انسان نئی دور میں وہ کچھ کر گیا جس کے کرنے کی تصور بھی ایک زمانے میں مذاق سمجھا جاتا تھا۔

زندگی کے ہر شعبے میں انسان نے خود کو سہولیات سے آراستہ کیا اور چاند تک رسائی ممکن بنائی۔ بدقسمتی سے بعض ایسے سوچ، خیالات اور نظریات ابھی بھی زیادہ تر با اثر طریقے سے اپنے اپ کے بل پر قائم ہیں، جیسے دیکھ اور خود محسوس کر یہ کہنا ہو گا کہ ہم اکیسویں صدی کے لوگ نہیں، بلکہ کوئی ہمیں گھسیٹ کر اکیسویں صدی میں لایا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply