معاشرے کا موجودہ صورتحال اور ہمارے ترجیحات

ایک دائرے کے اندر مستقل رہنے والے یہ مختلف لوگ جو کہ پچھلے پچھتر سال سے ایک ایسی مملکت کے نام پر خود کو ایک جھنڈے کے سائے تلے یکجا کرنے کی ناکام کوشش میں مصروف عمل ہے۔ جو کہ بیچارے آج کل ایسی حالت میں جی رہے ہیں کہ نہ ملک میں رہنے کے لئے ان کے پاس کچھ بچا ہے اور نہ ہی اسی دائرے سے نکلنے کا کوئی ذریعہ ہے۔ بیچارے لوگ بری طرح پھنس چکے ہیں۔

Read more

پشاور امن مارچ

یاد رہے کہ 30 جنوری بروز سوموار خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس لائن مسجد، ظہر کے نماز کے دوران خودکش دھماکے سے لرز اٹھی۔ اس حادثے کے نتیجے میں 101 افراد شہید ہوئے جبکہ 150 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ اس حادثے کے بعد یک دم پشاور سمیت پورے خطے میں ایک بار پھر دہشت گردی کی بو آنے لگی، تو امن پرستوں اور قوم پرستوں کی ملی بھگت سے یہ طے ہوا کہ پشاور امن مارچ کے نام

Read more

پھولوں کا شہر پھر لہو لہان

ایک زمانہ ہوا کرتا تھا کہ پشاور میں ہر دوسرے روز دہشت گردی کی واقعات رونما ہو رہے تھے۔ درجنوں لوگ مختلف جگہوں پر بم دھماکوں اور خودکش دھماکوں میں قتل ہو رہے تھے۔ یہ دھماکے کبھی مسجد پر ہوتے تھے تو کبھی عوامی جگہوں پر ایسے واقعات رونما ہو رہے تھے۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ حالات بہتری کی طرف چلنے لگے۔ ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہوا جیسا کہ بڑے پراجیکٹ میں بی آر ٹی منصوبہ اور ارباب نیاز

Read more

پاکستان کا تعلیمی نظام

دنیا میں تعلیم کی اہمیت کسی سے بھی چھپا نہیں۔ کیونکہ یہی تعلیم و علم ہے جو کہ اک انسان اصلاح کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔ دراصل اصلاح سے مراد برداشت کرنے کی صلاحیت، جذبات پر قابو رکھنا، غیر ضروری کاموں سے اجتناب کرنا، انسانوں کے معاشرے میں انسان بن کر رہنا وغیرہ ہیں۔ پہلے تو پاکستان میں بدقسمتی سے لاکھوں بچے اور بچیاں تعلیمی نظام سے باہر ہے اور وہ دو فیصد لوگ جو ہائی تعلیم حاصل کرنے

Read more

جنت

ایک لمحے کے لئے حیران و پریشاں عقیدت مند یہ سوچتے ہوئے کہ کہی اس جنت کی بات تو نہیں ہو رہی جس کے لئے ہم دوسرے انسانوں کو محض اسی بنا پر قتل کرتے ہیں کہ وہ شراب نوشی اور زنا کرتے ہیں۔ اور ہم جنت میں جا کر حلال شراب پی کر اور پھر حوروں کے ساتھ ٹینس میچ کھیلیں گے۔ تو سن لو، ہمارا مقصد کبھی بھی اس جنت میں جانے کا نہیں، جس کے لئے ہمیں

Read more

غیرت کے نام پر قتل

غیرت کے نام پر قتل کرنا ایک ناسور ہے جو کہ اب بین الاقوامی سطح پر پھیل چکا ہے۔ اس ناسور کی زیادہ تر شکار خواتین اور کم عمر بچے ہوتے ہیں۔ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کرنے کا تصور ثقافت سے آیا ہے۔ دراصل ثقافت ایک خالص تصور ہے۔ ہم نے یہاں پر ثقافت اور سماجی برائیوں کو یکساں لے کر ایک طرح سے ثقافت پر ظلم کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہر ثقافت

Read more

سوشل میڈیا اور صارفین کے متغیر خیالات

سوشل میڈیا آج کل ایک ایسی پلیٹ فارم بن گئی ہے ، جس پر دنیا کے مختلف ممالک سے مختلف رنگ و نسل ، عمر اور جنسیات کے صارفین موجود ہوتے ہیں اور ہر وقت اپنے سوچ کے مطابق زیادہ سے زیادہ موثر پوسٹ ، یا تصاویر شائر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔زیادہ تر صارفین دوسروں کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے بھی موثر ثابت ہو رہے ہیں۔ ہر صارف اس حد تک مؤثر پوسٹ عموماً اپلوڈ کرتا ہے

Read more

اک کم ہی سہی

ہم جیسے تو صرف گنتی میں آتے ہیں۔ یہ جہاں تو مخصوص مخلوق کی ہے، جو کہ منفرد زندگی سے وابستہ ہر شے پر قابض ہے۔ ہم جیسے تو نہ جذبات رکھتے ہیں اور نہ احساسات۔ بلا اس جدید و رنگین دور میں جذبات کا کیا مول؟ ہم تو ماضی کے ہاتھوں مستقبل پر بک چکے ہیں۔ بکے ہوئے مخلوق سے کیا امید؟ ہم تو ہمدردی کے لائق ہے اور جہاں سے صرف ہمدردیاں سمٹ لیتے ہیں۔ ہمیں تو اپنے

Read more

رانگ نمبر

جس طرح آم کے درخت میں امرود نہیں اگتے، اس طرح پرامن ذہن میں دہشت پیدا نہیں ہوتا۔ دو مختلف فکر کبھی ایک نہیں ہو سکتے۔ آج کل معاشرے کا جائزہ لیں۔ تو پورا معاشرہ دو مختلف افکار اپنا کر اپنے دن گزار رہا ہے۔ ایک طرف نفرت، جنگ، ظلم و جبر اور درندگی ہے تو دوسری طرف محبت، امن، خلوص اور انسانیت کا بول بالا۔ انسانیت کا مقابلہ درندگی سے عروج پر ہے۔ بظاہر دیکھا جا سکتا ہے کہ

Read more

گمنام خیالات

اسلام گل نے دیہاتی علاقے کے ایک مسلم گھرانے میں آنکھ کھلی۔ وہ بھی دوسرے بچوں کی طرح بچپن کے دن کھیلنے کھودنے میں گزارنے لگا۔ اب وہ پانچ سال کا ہو چکا تھا۔ گھر والوں نے اس کا داخلہ سکول میں لیا۔ فارغ وقت میں وہ مدرسے جا کر قاری صاحب سے قرآن کریم کی تلاوت سنتا اور سیکھتا تھا۔ اب وہ روزانہ طور پر قاری صاحب کی مختلف مسائل پر نقطہ نظر بھی سنتا تھا۔ وقت کے ساتھ

Read more

کل، کل آئے گا

آخر کب تک ہم اس زندان کے اسیر رہیں گے جنہیں ہم زنداں ہی تصور نہیں کرتے۔ کب تک ایک عام آدمی کو یہ احساس ہو جائے گا کہ ہم ایک تاریخی دھوکے کی بنیاد پر جی رہے ہیں؟ اگر کوئی تھوڑا بہت سمجھانے کی کوشش کرے تو کس کس کو سمجھائے اور یقین دلائیں کہ ہم نا آشنا سمت جا رہے ہیں۔ اس زندان میں ہر شخص باشعور، با ضمیر، سمجھدار، پاکباز، ایمان دار اور پرہیز گار بھی ہے،

Read more

بے زباں عشق

لفظ عشق کا کہی پہ ذکر آئے تو بالکل عام سا تجربہ ہے کہ لوگوں کی چہروں پر فطری طور پر ایک مسکراہٹ اور تبسم سا نمودار ہو جاتا ہے اور فوراً سوالات پوچھنے لگتے ہیں۔ بھائی! کیوں اور کیسے عشق کے چکروں میں پڑے ہو؟ یہ سب چیزیں فضول ہے۔ ارے خدا کے بندے ہر جگہ، ہر وقت اور ساتھ میں ہر شخص کے لیے عشق کا تعارف یکساں نہیں۔ اگر ہمیں عشق اور لگاؤ ہے تو اس احساس سے ہے جو ہمیں سکون مہیا کرتا ہے جس سے ہم دبے زباں اور دل کے ساتھ تو محسوس کر لیتے ہیں، لیکن ظاہری طور پر بیان نہیں کر سکتے۔

Read more

یار! میں بھی انسان ہوں

شروع اس خوبصورت نام یا احساس سے جو ہمیں سکون فراہم کرتا ہیں۔ چاہیے وہ وقتی طور کا ایک خیال ہوں، یا ہماری ساری زندگی کی مجموعے کا ایک جملہ ہو۔ ہم نے جتنا جی لیا، بس کافی ہے۔ جو بھی کیا اس پر پشیمانی نہیں۔ اس معاشرے کا ایک عام سا باسی ہوں۔ نیند بھی آتی ہے اور ساتھ میں باقی لوگوں کی طرح کھانے پینے جیسی ضروریات بھی محسوس کر لیتا ہوں۔ اس دنیا کی درجہ بندی کے

Read more

ارتقائے شعور

انسان کی وجود کا ہونا تاریخ کی ابتداء سے بھی پہلے کی بات ہے۔ بیس لاکھ سال پہلے بھی آپ کو انسان کی وہی مانوس خصوصیات مل جاتی، جو کہ آج بھی ہے۔ جیسا کہ بچوں کے لئے فکر مند مائیں، بے فکر کھیلتے کھودتے بچے، بوڑھے بزرگ جو صرف نصحیت حد تک رہ گئے ہو اور سماجی پابندیوں سے الجھتے ہوئے نوجوان جو کہ ہر جگہ مقامی حسینہ کو متاثر کرنے کے لئے بے چین ہو اور اقوام کے دانا بزرگ، جنہوں نے سب کچھ دیکھ کر ایک زمانے میں محسوس کیا ہو۔

Read more

اکیسویں صدی میں جینے والے پرانے لوگ

بیس لاکھ سال پہلے آپ کو انسان کی وہی مانوس خصوصیات مل جاتی ہیں جو کہ آج بھی ہے۔ جیسا کہ بچوں کے لئے فکر مند مائیں، بے فکر کھیلتے کھودتے بچے، بوڑھے بزرگ جو صرف نصحیت حد تک رہ گئے ہوں اور سماجی پابندیوں سے الجھتے ہوئے نوجوان جو کہ ہر جگہ حسیناؤں کو متاثر کرنے کے لئے بے چین ہوں۔ قدیم انسان بھی اس طرح زندگی گزرتا تھا۔ رشتے نبھانا، دوستیاں رکھنا، اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا اور

Read more

عورت مارچ: جیو اور جینے دو

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مارچ کے آٹھویں تاریخ کو ”خواتین کا عالمی دن“ منایا جاتا ہے۔ اس دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں انسانی حقوق کے کارکن ہر مقام پر خواتین کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے مظاہرے اور مطالبے کرتے ہیں۔ پہلے پہل تو یہ تصور مقبول نہیں تھا۔ 2018ء کے بعد یہ تحریک جو پہلے سے موجود تھی ، زور پکڑ گئی، اب اسے عورت مارچ کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔

Read more

ہم اچھوت لوگ

اس جہاں میں آنکھ کھلی تو چند چیزیں اور روایات ایسی لگیں، جیسے ہمیں ورثے میں ملی ہوں۔ خاص طور پر ہر دوسرے کو اپنے برابر مان لینا۔ ہر انسان کی انسانیت کے بناء پر قدر کرنا۔ توہین یا تذلیل انسانی فطری طور پر کبھی بھی قابل قبول نہیں۔ لوگوں سے اختلاف کی بجائے ان کی رائے سے اختلاف رکھنا چاہیے ۔ خیال تو کچھ یوں تھا کہ سارے انسانی نظاموں میں یہ برابری اور مساوات عام سی بات ہو

Read more

ویلنٹائن ڈے بمقابلہ حیا ڈے

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال فروری کی 14 تاریخ کو ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن محبت کرنے والا ہر شخص اپنے چاہنے والے سے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ اس دن کے منانے کے لیے ہر سال نوجوان نسل کی تیاریاں عروج پر ہوتی ہیں۔ پھولوں، تخائف اور کارڈز وغیرہ کے ذریعے لوگ اپنے اپنے طریقے سے محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے کی ابتداء تقریباً 1700 سال قبل ہوئی تھی جو

Read more

دنیا، لوگ اور میں

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے۔ کسی کام سے ایک دوست کے ساتھ مکتب کے قریب سے گزر رہے تھا۔ مکتب اس دورانیہ سردیوں کے تعطیلات کی وجہ سے بند تھا۔ اس کی عمارت کافی دلکش تھی۔ دوست نے کہا چند لمحے کے لیے مکتب کے لان میں چہل قدمی کرتے ہیں تو میں نے اس کے اصرار کا مان رکھا اور ہم مکتب میں داخل ہو گئے اور جگہ پر بیٹھ گئے۔ یہ سہ پہر کا وقت تھا اور

Read more

اے وقت، ذرا تھم جا

کس کو معلوم کہ بے خودی کیا چیز ہے؟ خاموشیوں کی زباں کو جاننا اتنا آساں تو نہیں۔ کیا پتہ کس کو معلوم خاموشی کی وجہ؟ دکھ، گلہ، ضد، انا اور بے بسی۔ کس کس چیز میں ڈھونڈئیے خاموشیوں کی زباں کو؟ ایک طرف تو سمندر کی موجوں نے بتایا کہ مستی کیا ہے؟  شمع کو پگھلنے کی آرزو ہے تو پروانے کو جلنے کی تمنا کیوں؟ انسان کی ذات پر عجیب سی کیفیت آتی ہے۔ شکوے کس سے اور

Read more

نوک پا تک کھنچی اداسی کی چادر

زندگی گزر رہی ہے۔ وقت اپنے رواں رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ لیکن کبھی غور نہیں کیا کہ زندگی کس چیز کا نام ہے؟ جہاں تک اس موضوع پر لوگوں کے تجزیے کا تعلق ہے، تو اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ زندگی ایک چیز، شے یا شخص کا نام نہیں۔ جس نے بھی زندگی کو ایک شے پر محدود کیا تو اس نے ہمیشہ بدلے میں درد و غم پایا۔ زندگی کو ایک مخصوص شے

Read more

انا پرست لڑکی

ساری نظمیں، بہت ساری غزلیں بیکار گئی۔ بہت سے وعدے اور منتیں رائیگاں ہونے لگی۔ خواہشات نے آخر کار دم توڑ دیا۔ کیونکہ اسے صرف اپنے کتابوں اور کمرے سے محبت تھی۔ عجیب سی انا پرست لڑکی تھی۔ بہت سے کھلاڑی ہار مان گئے اور بعض نے تو کھیلنے کا ارادہ بھی نہیں کیا۔ کیونکہ انا پرستی اپنی عروج پر تھی۔ حسن، جوانی، دولت سب ہی ایک طرف اور ان کی انا پرستی دوسری طرف۔ پتہ نہیں کتنے نوجوانوں کی

Read more

پھر دسمبر آ گیا

باہر ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، گالیاں سنسان تھی۔ تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ درختوں کے نیچے گرے ہوئے پتے اک محسوس آواز کے ساتھ ٹھیل رہے تھے۔ چاند کی روشنی آسماں پر مدھم سی تھی۔ تارے ہلکے ہلکے بادل کے پیچھے چھپے تھے۔ ہوا کی وجہ سے کڑکی سے لپٹی پردہ بار بار ٹک ٹک کی صدا دے رہی تھی۔ ایک بار نظر گھڑیال پر پڑی، تو آدھی رات ہو چکی تھی۔ سردی کی وجہ سے کمبل میں لپٹا کرسی

Read more

آزادی، مگر کس سے؟

انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ آزاد رہنا چاہتا ہے۔ آزادی ایسی فطری عمل ہے، جیسے ہر جاندار پسند کرتا ہے اور اس کے برعکس قید و بند کسی کے لئے قابل قبول نہیں۔ آزادی ہمیشہ وہی لوگ طلب کرتے ہیں، جنہیں پہلے یہ احساس ہو جائے کہ وہ آزاد نہیں ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی آزادی کے لئے جستجو کرتے ہیں۔ آزادی کی کوئی جامع تعارف یہاں پر تو نہیں، بلکہ اس کا معیار سب کے

Read more

روشن خیالی

ہمارے معاشرے میں جب بھی کوئی روشن خیالی کا تذکرہ کرتا ہے، تو اکثر لوگوں کی ذہن اس خیال پر رک جاتی ہے، کہ یہ روشن خیالی تو لا دینی تصور ہے۔ اس سے ہر گز یہ مطلب نہیں کہ یہ لوگوں کو دین سے لا دینیت کی طرف راغب کرتی ہے۔ در اصل روشن خیالی وقت کی رفتار کو پہچاننا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے۔

اگر ہم ماضی میں دیکھ لے تو ہمارے پیغمبروں نے بھی روشن خیالی کا اظہار اور پرچار کیا ہے۔ ہمیشہ معاشرے کو ایک نئی سوچ سے نواز کر ایک جدید سمت کی طرف لانے کی اپنی بھر پور کوشش کی ہے۔ اس طرح اگر ہم پندرہویں اور سولہویں صدی میں یورپ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں، تو ہمیں واضح آثار ملتے ہیں کہ کس طرح ان لوگوں کا مقدر بدلا۔ یہاں تک کہ وہ دنیا کی رہنمائی کرنے لگے۔

Read more

مجھے الفاظ سے شکوہ ہے

جستجو اور جاننے کی خواہش انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے۔ انسان کی تہذیب کا تمام تر سفر اسی نا معلوم سے معلوم کی طرف جستجو کا سفر ہے۔ اس سفر کو آگے طول دیتے ہوئے چند مشہور زمانہ الفاظ کا ذکر کرتے ہیں، جن میں لفظ ”لعنت“، ”زندہ باد“ اور ”مردہ باد“ زیادہ تر زیر بحث آتے ہیں۔ یونہی دیکھ لیا جائے تو ان مذکور الفاظ کا روز بروز استعمال سے کوئی بھی دریغ نہیں کرتا۔

یہاں پر یہ سوال زیر بحث آتا ہے کہ یہ الفاظ اتنے موثر بھی ہیں یا صرف ہم نے باہمی دل چسپی کی بنا پر ان کو فوقیت دی ہے۔ روزمرہ زندگی میں ان الفاظ کے ادا کرنے کے بعد کسی کی اچھائی یا برائی اور ساتھ میں کسی سے بھی مصلحت کے تمام راستے بند ہوتے ہیں، تو یہاں عام آدمی کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ یہ الفاظ معاشرے میں نفرت کو فروغ تو نہیں دیتے؟

Read more

آزاد قیدی

قلم اٹھانے سے پہلے دل میں خیال آیا کہ خاموشی ہی بہتر ہیں، پھر سوچ لیا کہ کب تک یہ خاموشی؟ ایسا نہ ہو کہ یہ خاموشی مجھے اپنے اندر ہی سے مار ڈالے۔ میرے ذہن میں ہزاروں ایسے سوالات اور خیالات جو کہ قابل سوچ طلب ہیں، مگر معاشرے کی جذباتی فطرت کے سامنے ایک بے بس بندہ کیا کر سکتا ہے؟ مجھ سے سوال کرنے کا حق اور کسی چیز پر سوال اٹھانے کا حق چھین لیا گیا۔

Read more