شام میں خانہ جنگی کے دس سال: پناہ گزین جو اب ترکی کو اپنا گھر بنا رہے ہیں

ولیم آرمسٹرانگ - بی بی سی مانیٹرنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ترکی میں شامی بچے

Getty Images
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ترکی میں 1.7 فیصد سے زیادہ شامی 18 سال یا اس سے کم عمر کے ہیں

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں دس برس سے جاری شورش کے بعد 36 لاکھ بے گھر شامی باشندے ترکی میں رہ رہے ہیں۔ یہ دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مختلف جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ شامی باشندے آہستہ آہستہ ترکی میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ شامی پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد وطن واپسی کی امیدوں کو ترک کر کے ترکی میں مستقبل بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

تاہم رائے عامہ کے جائزوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مقامی ترک شہری شامی پناہ گزینوں کی موجودگی سے ناخوش ہیں اور آنے والے برسوں میں اُن کے ترکی میں مستقل انضمام میں چیلنجز درپیش ہونگے۔

ترک حکام کو مستقبل کا تعین کرتے ہوئے ان دونوں مسابقتی رجحانات کو زیر غور رکھنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیئے

’دنیا میں سات کروڑ سے زیادہ لوگ پناہ گزین ہیں‘

’خلافت‘ کے خاتمے کا مطلب دولت اسلامیہ کا خاتمہ بھی ہے؟

’شام میں محفوظ علاقوں کے قیام کو بین الاقوامی حمایت حاصل‘

پس منظر

سنہ 2011 میں شامی بغاوت کے آغاز کے بعد سے ترکی میں شامی شہریوں کی تعداد تواتر سے بڑھتی رہی ہے۔ ترکی میں اس وقت 36 لاکھ سے زیادہ شامی باشندوں کو ‘عارضی تحفظ’ کا درجہ حاصل ہے۔

ترک حکام کی جانب سے دیا گیا یہ درجہ اقوام متحدہ کے مہاجرین کے لیے مخصوص درجے سے مختلف ہے جو انھیں رہائش اور کام کا حق دیتا ہے۔

زیادہ تر شامی باشندے ملک کے شہری علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد میں یہ استنبول میں رہتے ہیں، جس کے بعد سب سے زیادہ جنوب میں واقع سرحدی صوبہ گیزیانتپے میں رہتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پناہ گزین کیمپوں میں صرف 58 ہزار شامی پناہ گزین رہائش پذیر ہیں۔

ترکی میں رجسٹرڈ شامی شہریوں کی تعداد حالیہ برسوں میں مستحکم رہی ہے، جو سنہ 2017 کے بعد سے 34 لاکھ سے 37 لاکھ کے درمیان ہے۔

یہ جزوی طور پر انقرہ کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ مارچ 2016 میں ہونے والے معاہدے کا نتیجہ ہے، جس کے مطابق ترکی مالی مدد کے بدلے یورپ جانے والے تارکین وطن کو روکتا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے یونان پر بھی غیر قانونی طور پر مہاجرین کو ترکی واپس بھیجنے کا الزام لگاتے ہیں۔

ترکی نے اسی طرح شام کے ساتھ اپنی سرحدوں سے پناہ گزینوں کے داخلے کو روکنے کے لیے کوششیں تیز کی ہیں اور جون 2018 میں 764 کلومیٹر لمبی دیوار کی تعمیر مکمل کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری آف ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 سے لے کر اب تک ترکی کے سرحدی محافظین نے 465 افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔

‘میں کسی بھی حالت میں شام واپس نہیں جاؤں گا’

اس طرح کے اقدامات کے باوجود جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ترکی میں شامی باشندے آباد ہو رہے ہیں اور واپس جانے کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے ادارے یو این ایچ سی ار کی حمایت یافتہ ‘سیریئن بیرومیٹر’ نامی سالانہ رپورٹ جو ترکش جرمن یونیورسٹی کے مائگریشن اینڈ انٹیگریشن ریسرچ سینٹر کے تعاون سے تیار کی گئی ہے اس کے مطابق پچھلے سالوں کے دوران حیرت انگیز تبدیلی آئی ہے۔

ستمبر 2020 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ‘میں کسی بھی حالت میں شام واپس نہیں جاؤں گا’ کہنے والے شامی مہاجرین کا تناسب 2017 کی رپورٹ میں 16 اعشاریہ 7 فیصد سے 51 اعشاریہ 8 فیصد تک بڑھ چکا ہے۔

ان لوگوں کی تعداد جو کہتے ہیں ‘اگر جنگ ختم ہوئی اور جو حکومت میں دیکھنا چاہتا ہوں تشکیل دی گئی تو میں شام واپس چلا جاؤں گا’ 59 اعشاریہ 6 فیصد سے کم ہو کر 30 اعشاریہ 3 فیصد رہ گئی ہے۔

ترکی اور شام کی مشترکہ شہریت رکھنے کے خواہشمند افراد کی تعداد کم ہو رہی ہے اور لوگ صرف ترک شہریت رکھنے کے حق میں ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ترکی میں عوامی سہولیات سے مطمئین شامی افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

ترکی میں شامی باشندوں کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں اس بات کا اندازہ فروری 2020 میں اُس وقت ہوا جب ترکی نے ہزاروں تارکین وطن کو یونان جانے کے لیے اپنی سرحد کھول دی تھی۔

شامی شہریوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی جتنی کچھ مبصرین کی پیش گوئی تھی۔ شامی باشندوں کی تعداد دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے مہاجرین سے بہت کم تھی۔

سیریئن بیرومیٹر نامی رپورٹ کی نگرانی کرنے والے پروفیسر مراد اردوغان نے بائیں بازو کے حزب اختلاف کے اخبار بیرگُن کو بتایا کہ ‘جتنے لوگوں کی توقع تھی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی کیونکہ شامی یہاں آباد ہوگئے ہیں۔’

اسی طرح شمالی شام میں ترک فوج کی کارروائیوں کے باوجود بھی بڑی تعداد میں شامی واپس اپنے ملک نہیں گئے حالانکہ اعلیٰ ترک اہلکاروں بشمول ملک کے صدر رجب طیب اردوغان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی کے بعد ایسا ہوگا۔

یواین ایچ آر سی کے مطابق صرف 101530 شامی شہری 2016 سے 2020 کے درمیان ترکی سے رضاکارانہ طور پر واپس گئے ہیں۔

شام اور ترکی کے درمیان سرحدی دیوار

Getty Images
شام کے شہر ادلب میں بے گھر افراد ترکی کی سرحدی دیوار کے پاس جمع ہیں

عدم اطمینان کی فضا: ‘وہ خطرناک لوگ ہیں جو مستقبل میں ہمارے لیے مشکلات پیدا کریں گے’

شامی باشندوں کے ترکی میں آباد ہونے کے ساتھ ترک شہریوں کی ناراضگی میں کمی نہیں آئی ہے۔ ‘سیریئن بیرومیٹر’ رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سے مقامی ترک شامیوں کو آبادی، ثقافتی اور معاشی لحاظ سے ایک خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔

تقریبا 75 فیصد ترک جواب دہندگان نے اس سوال کہ ‘ہم شامی باشندوں کے ساتھ مل کر پرامن طریقے سے رہ سکتے ہیں’ کا جواب ‘نہیں’ میں دیا۔ تقریباً 87 فیصد نے شامی باشندوں کو سیاسی حقوق دینے کی تجویز کو رد کیا اور اگر ان جوابات میں لوگوں کی سیاسی وابستگی کو مدنظر رکھیں تب بھی کچھ خاص فرق نظر نہیں آتا۔

شامی باشندوں کے بارے میں جب لوگوں کی رائے پوچھی گئی تو اس میں سر فہرست یہ خیالات سامنے آئے ‘وہ خطرناک لوگ ہیں جو مستقبل میں ہمارے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔’ (42 فیصد)

اس کے بعد ‘یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ملک کی حفاظت نہیں کرسکے’ (41.4 فیصد)

اور ‘وہ “ہم پر ایک بوجھ ہیں’ (39.5 فیصد)۔

استنبول میں مقیم ایک شخص جو اس جائزے میں شامل تھے ان کی جانب سے دیے گئے جوابات رپورٹ میں شامل کیے گیے ہیں۔ ان میں کہا گیا ‘صرف یہ کہنا کے ہم سب مسلمان ہیں کافی نہیں ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سب کے پیچھے بہت بڑے فرق پائے جاتے ہیں، بہت بڑے معاشرتی اور ثقافتی فرق۔’

تحقیقاتی ادارے میٹروپول کے جائزے کے مطابق فروری 2020 میں 70.5 فیصد ترک جواب دہندگان کے خیال میں پناہ گزینوں نے معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اور 76.7 فیصد کہتے ہیں کہ پناہ گزینوں کو شہریت نہیں ملنی چاہیے۔

اسی طرح استنبول پولیٹیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جنوری 2020 میں استنبول کے رہائشیوں سے کیے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے سے یہ معلوم ہوا کہ 78 فیصد لوگوں کے خیال میں حکومت ‘ترک شہریوں کی نسبت شامیوں کے ساتھ بہترسلوک کرتی ہے۔’

کبھی کبھار ترک اور شامی کمیونٹی کے درمیان کشیدگی تشدد میں بدل جاتی ہے، کچھ سیاست دانوں نے شامی باشندوں کے خلاف جذبات کو بھڑکانے کی کوشش بھی کی ہے۔

اس سب کے باوجود سیریئن بیرومیٹر نامی رپورٹ کے مطابق 48.7 فیصد ترک جواب دہندگان نے کہا کہ اُن کے خیال میں تمام شامی پناہ گزین ترکی میں ہی رہیں گے، 29.7 فیصد کو توقع ہے کہ زیادہ تر یہی رہیں گے اور 8.9 فیصد کے نزدیک نصف کے قریب یہیں رہیں گے۔

دریں اثنا ہزاروں شامی کاروبار ترکی میں قائم ہوچکے ہیں اور تقریباً 700000 شامی نژاد بچے سکول جا رہے ہیں۔

شامی پناہ گزین

Getty Images

کووڈ 19 کی ویکسینیشن: ’ہزاروں پناہ گزین درخواست ہی نہیں دے سکے‘

کووڈ 19 کی ویکسینیشن ان کی مقامی آبادی میں گھل مل جانے کے عمل کا ایک پیمانہ ہو گا۔

‘عارضی تحفظ’ کا درجہ حاصل کرنے والے پناہ گزین ترک شہریوں کی طرح آن لائن یا ٹیلی فون نظام کا استعمال کر کے ویکیسیشن پروگرام میں شامل ہوسکتے ہیں۔

انقرہ کے تحقیقی ادارے ریسرچ سنٹر آن اسائلم اینڈ مائیگریشن (آئی جی اے ایم ) کی چیئر پرسن میٹین کوراباتیر نے آزاد نیوز ویب سائٹ بیانیٹ کو بتایا کہ مہاجرین شناختی نمبر استعمال کرکے وکسینیشن کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

تاہم بہت سے پناہ گزین جنھیں ‘عارضی تحفظ’ کا درجہ حاصل ہے وہ جن علاقوں میں اُن کا اندراج ہوا ہے اُن سے مختلف صوبوں میں ملازمت کرتے ہیں اور وہیں رہائش پذیر ہیں لہٰذا وہ مالی یا لاجسٹیکل وجوحات کی بنا پر شناختی نمبر کا استعمال کر کے ویکسین لگوانے کے لیے درخواست نہیں دے سکتے۔

انھوں نے متنبہ کیا کہ لاکھوں غیر رجسٹرڈ تارکین وطن نظام کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔

دریں اثنا آئی جی اے ایم کے اہلکار ازیمے کالسکان کا کہنا تھا کہ بہت سارے شامی باشندوں کو ویکسین کی تقسیم کے آنلائن اور ٹیلیفون نظام کے استعمال میں دشواری ہے کیونکہ یہ صرف ترک زبان میں دستیاب ہیں۔

توازن برقرار رکھنے کی کوشش: ‘چاہے ہمیں یہ پسند آئے یا نہیں ہمیں اِن کے ساتھ مل کر رہنا ہوگا’

تقریباً ایک دہائی پہلے شروع ہونے والی شام کی جنگ کے بعد جب پناہ گزینوں نے ترکی کا رخ کرنا شروع کیا تو ملک کو ان لوگوں کو معاشرے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کرنے اور اس بارے میں رائے عامہ کو ملحوظ خاطر رکھنا مشکل کام تھا۔

پروفیسر مراد اردوغان نے اپنے انٹرویوز میں ان کے لیے علیحدہ بستیوں کے قیام سے منسلک خطرات کے بارے میں متنبہ کیا ہے جس میں ترک اور شامی شہری قریب رہائش پذیر ہوں لیکن متوازی معاشروں میں بٹے ہوئے ہوں۔

لیکن آبادیاتی رجحانات ایک ایسی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو واپس بدلی نہیں جا سکتی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ترکی میں 17 لاکھ شامی باشندے 18 سال یا اس سے کم عمر ہیں۔ ہر روز سیکٹروں بچے شامی افراد کے گھر پیدا ہوتے ہیں۔

اردوغان کا کہنا ہے کہ ‘چاہے ہمیں یہ پسند آئے یا نہیں ہمیں اِن کے ساتھ مل کر رہنا ہوگا۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18481 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp