کیا جمہوریت صرف نواز شریف کی واپسی کا انتظار کر رہی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان جمہوری تحریک کی طرف سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان حکومت مخالف جد و جہد کو شدید جھٹکا ہے۔ اگرچہ مریم نواز اور پی ڈی ایم کے دیگر لیڈروں نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ اپوزیشن اتحاد ختم ہوگیا ہے اور کہا ہے کہ ہمارا تعاون جاری رہے گا لیکن عملی طور سے اب اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں اپنے اپنے طریقے سے سیاسی عمل میں حصہ لیں گی۔ اس میں کسی کے بھی کامیاب ہونے کا امکان نہیں ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کے لئے پی ڈی ایم میں پیدا ہونے والا اختلاف ایک اچھی خبر ہے۔ عمران خان اس موقع پر اگر سیاسی تدبر سے کام لیں تو انہیں سیاسی ماحول کی تلخی کم کرنی چاہئے اور پریس کانفرنسوں، ٹوئٹ یا ٹاک شوز میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے کی بجائے پارلیمنٹ کو فعال بنانے کی کوشش کی جائے۔ تاہم فوری رد عمل کے طور پر متعدد وزیروں اور تحریک انصاف کے لیڈروں نے جو ٹوئٹ پیغامات جاری کئے ہیں، ان سے مفاہمانہ ماحول پیدا ہونے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ البتہ کسی بھی واقعہ کے فوری رد عمل کو حتمی لائحہ عمل کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس لئے امید کی جانی چاہئے کہ حکمران جماعت میں فیصلہ کرنے والے لوگ عقل کے ناخن لیں گے اور طویل سیاسی مناقشت کے بعد ملک کی بہتری اور عوام کو ریلیف دینے کے مقصد سے مواصلت اور افہام و تفہیم کی فضا پیدا کی جائے گی۔ یہی طریقہ تحریک انصاف کے لئے بھی مناسب ہوگا۔ ملک میں تصادم کے شدید ماحول کو کم کرکے ہی حکومت بھی کوئی ٹھوس کام کرنے کے قابل ہوسکے گی۔

آج پی ڈی ایم کے اجلاس کےبعد لانگ مارچ ملتوی ہونے کی توقع تو نہیں کی جارہی تھی لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اسمبلیوں سے استعفوں کے سوال پر اختلاف کے پیش نظر یہ واضح تھا کہ متوقع لانگ مارچ غیر مؤثر اور کاغذی کارروائی سے زیادہ حیثیت اختیار نہیں کرسکے گا۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو بے دلی سے کئے جانے والے احتجاج کے مقابلے میں اسے ملتوی، مؤخر یا منسوخ کرنے کا فیصلہ بہر طور بہتر طریقہ ہے۔ یوں بھی یہ فیصلہ کرتے ہوئے سیاسی متانت کی بجائے جذبات کو پیش نظر رکھا گیا تھا۔ پوری دنیا کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کا سامنا کررہی ہے۔ ایسے حالات میں جب لاک ڈاؤن اور سماجی دوری ضروری طریقےسمجھے جارہے ہیں، پی ڈی ایم نے جلسے کرنے اور گلی گلی احتجاج ضروری سمجھا۔ اس وقت پاکستان کورونا وائرس کے تیسرے دور کا سامنا کررہا ہے۔ کووڈ 19 کی ساخت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے اس وقت اس کی جو قسم عام ہے وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سےپھیلتی ہے اور بعض صورتوں میں مہلک بھی ہے۔ حکومت نے حال ہی میں پنجاب میں اسکول بند کرنے کے علاوہ متعدد شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بھی متعدد علاقے سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت بند ہیں۔ ان حالات میں لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا جیسا پروگرام صحت عامہ کے نقطہ نظر سے بھی مناسب نہیں تھا۔

اس کے باوجود پاکستان جمہوری تحریک کے صدر مولانا فضل الرحمان دو روز پہلے تک اعلان کررہے تھے کہ ’کورونا بھی اپوزیشن کے لانگ مارچ کو نہیں روک سکے گا‘۔ یہ زمینی حقائق کی روشنی میں ایک غیر ذمہ دارانہ بیان تھا لیکن سیاسی نقطہ نظر سے بھی مناسب نہیں تھا۔ مولانا فضل الرحمان اس کی خفت اب لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ضرور محسوس کررہے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور سے مرنجاں مرنج لہجے میں بات کرنے والے مولانا آج اس حد تک سنجیدہ اور دل آزردہ تھے کہ انہوں نے مریم نواز کے اصرار کے باوجود پریس کانفرنس میں سوالوں کے جواب دینے کی بجائے، التوا کا اعلان کرکے روانہ ہوجانا ہی مناسب سمجھا۔ پی ڈی ایم کے لیڈروں کو بخوبی علم تھا کہ استعفوں کے سوال پر وہ کسی صورت آصف زرداری کی پوزیشن کو تبدیل نہیں کرسکیں گے۔ دوسری طرف مسلم لیگ (ن) اور جمیعت علمائے اسلام (ف) نے استعفوں کو لانگ مارچ سے منسلک کرنے کا فیصلہ کررکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ڈی ایم کا آج ہونے والا اجلاس تلخ اور مختصر رہا۔ اجلاس میں ایک دوسرے کی نیت پر بالواسطہ سوال اٹھائے گئے، جس کے نتیجہ میں لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔

پیپلز پارٹی نے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی ’اجازت‘ لینے تک استعفوں کے سوال پر اتفاق کرنے سے معذرت کی ہے۔ گو کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ پارٹی میں جس سطح پر جو بھی فیصلہ ہوگا، وہ آصف زرداری کی سیاسی صوابدید کے مطابق ہی ہوگا۔ جیسے مسلم لیگ (ن) میں پارٹی کا کوئی ادارہ نہیں بلکہ نواز شریف کی رائے اور مشورہ ہی حتمی حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ آصف زرداری کی پوزیشن پی ڈی ایم کے آج کے اجلاس سے بہت پہلے سے واضح تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے ضمنی اور سینیٹ انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ آصف زرداری کی حجت پوری کرنے کے لئے ہی کیا تھا لیکن مسلم لیگ (ن) کی ساری قیادت یہ اندازہ کرنے میں ناکام رہی کہ آصف زرداری آج بھی اسی حکمت عملی پر کاربند ہیں جو انہوں نے جنوری 2018 میں بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے خلاف بغاوت میں کردار ادا کرتے ہوئے اختیار کی تھی۔ پھر اسی سال مارچ میں صادق سنجرانی کو چئیر مین سینیٹ بنوا کر انہوں نے واضح کیا تھا کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی طرح تصادم کی سیاست میں ملوث نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی دعوت پر منعقد ہونے والی آل پرٹیز کانفرنس میں ہی پی ڈی ایم قائم ہوئی تھی اور آصف زرداری نے ہی اس کا سب سے زیادہ فائدہ سمیٹا ہے۔ انہوں نے خود کو شاطر سیاسی کھلاڑی کے علاوہ معتدل مزاج سیاسی متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسی لئے پیپلز پارٹی عمران خان کو نامزد وزیر اعظم ضرور کہتی ہے لیکن وہ کسی بھی قیمت پر اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ایسا ٹکراؤ نہیں چاہتی جس راستے پر نواز شریف اور مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) گامزن ہے۔

پاکستان جمہوری تحریک کا آغاز بظاہر ’ووٹ کو عزت دو‘ کے جمہوری نعرے سے ہؤا تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک اصولی لڑائی کی بجائے سیاسی ہتھکنڈوں کے کرتب دکھانے کا پلیٹ فارم بن گئی۔ یہ لگنے لگا تھا کہ اس کا مقصد موجودہ حکومت گرانا اور خود اقتدار تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ کوئی بھی تحریک جب کسی سیاسی اصول کی بجائے، ایک خاص مقصد کے حصول کی شکل اختیار کرے گی تو ناکامی ہی اس کا مقدر ہوگی۔ اپوزیشن قیادت کو پاکستان جمہوری تحریک کے پلیٹ فارم سے احتجاج کا آغاز کرنے سے پہلے یہ طے کرنا چاہئے تھا کہ وہ کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض 6 ماہ پہلے قائم ہونے والا اپوزیشن اتحاد، اس وقت شدید بحران اور فکری انتشار کا شکار ہے۔ جب تک ووٹ کی عزت اور سیاسی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کے اصولوں پر کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہوتا، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر کوئی سیاسی جد و جہد نہیں کرسکتیں۔ تعاون کے ڈھونگ میں اگر سب سیاسی قوتیں اپنا اپنا ہدف حاصل کرنے کی تگ و دو کریں گی تو جمہوری بالادستی کے اصول کامیاب نہیں ہوسکتے۔

اپوزیشن نے اتحاد قائم کرنے کی کوشش بھی شاید اسی لئے کی تھی کہ ملک کی ہر سیاسی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ وہ اپنے طور پر کامیاب سیاسی تحریک نہیں چلا سکتی۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار کے لئے مصالحت و مفاہمت کی طویل تاریخ لئے ہوئے ہیں۔ ہر پارٹی نے موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ جب تک بڑی سیاسی پارٹیوں میں یہ مزاج راسخ رہے گا، جمہوریت کی بحالی، پارلیمنٹ کی بالادستی اور ووٹ کو عزت دو کا مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ مسلم لیگ (ن) نے گزشتہ سال جنوری میں جنرل باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کے لئے تعاون کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ مراعات یا وعدے حاصل کئے ہوں گے۔ اب اگر آصف علی زرداری وہی کام کررہے ہیں تو اس پر حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ واضح طور سے مسلم لیگ (ن) نے نوشتہ دیوار نہیں پڑھا اور یہ سمجھ لیا کہ تحریک کا مومنٹم بننے کے بعد وہ پیپلز پارٹی کو استعفے دینے پر مجبور کرلے گی۔

پی ڈی ایم کے اجلاس میں آصف زرداری کی یہ حجت عذر لنگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی کہ میاں صاحب واپس آجائیں تو ہم استعفے ان کے ہاتھ میں دیں گے اور مل کر جیل جائیں گے۔ مریم نواز کا یہ مؤقف برحق ہے کہ پاکستان کو لیڈروں کی لاشوں کی بجائے زندہ قائد چاہئیں۔ پیپلز پارٹی سے زیادہ اس بات کا ادراک کسی دوسری جماعت کو نہیں ہوسکتا کہ انتقامی سیاست کے ماحول میں کوئی لیڈر ملک سے باہر رہ کر زیادہ بہتر طریقے سے کسی جمہوری جد و جہد کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ یہ قیاس کرنا محال ہے کہ نواز شریف اگر لندن سے واپس آکر کوٹ لکھپت جیل چلے جائیں تو اس اقدام سے کیوں کر ملک میں جمہوریت بحال ہوجائے گی۔ کیا جمہوریت صرف نواز شریف کی واپسی کا انتظار کررہی ہے؟ اس سے پہلے آصف زرداری یا کسی دوسرے کی بات ماننے پر راضی نہیں ہے؟

وقت آگیا ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) طے کرلیں کہ انہیں فوری فائدے کے لئے کسی بالادست قوت کی بی ٹیم بننا ہے یا ملک میں حقیقی جمہوریت کی جد و جہد کو آگے بڑھانا ہے۔ نواز شریف کی مقبولیت میں ان کے دلیرانہ اور دو ٹوک مؤقف کی وجہ سے اضافہ ہؤا ہے۔ انہیں حقیقتاً سمجھنا ہوگا کہ ملک کے عوام ان سے جمہوری عمل کو بامقصد بنانے کی توقع لگائے ہوئے ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا اور سمجھانا قیادت کا کام ہے کہ یہ مقصد حاصل کرنا، نہ آسان ہے اور نہ ہی اسے ایک ہلے میں زور لگا کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگر صبر سے طویل المدت سیاسی جد و جہد کا راستہ اختیار نہیں کرسکتی تو بہتر ہوگا کہ وہ بھی زرداری صاحب کی انگلی پکڑ کر موجودہ مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کرلے۔

جمہوری جد و جہد کے لئے نواز شریف کو سیاسی پارٹیوں سے زیادہ عوامی تائید و حمایت کی ضرورت ہے۔ انہیں خود بھی یہ یقین کرنا ہوگا کہ ماضی کی تمام تر خامیوں اور کمزوریوں کے باوجود عوام کی بڑی تعداد ’ووٹ کو عزت دو ‘ کے سلوگن پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہیں مایوس کرکے نواز شریف قومی ہیرو سے معمولی سیاسی لیڈر بن جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1811 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply