ایک ناخوشگوار منظر جو باعثِ حیرت نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ ایک نا خوش گوار نظارہ تھا‘ جو گزشتہ دنوں ملک کے لیے قانون بنانے والے سب سے اہم ادارے کی عالی شان عمارت کے سامنے دکھایا گیا۔ اس نظارے میں حصہ لینے والے دونوں طرف کے کرداروں کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی، جن کو عوام نے ایک جمہوری عمل میں منتخب کر کے اس مقتدر عمارت تک رسائی کا اعزاز بخشا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ اور عوام نے ان کے ذمے کتنا اہم کام لگایا ہے۔ یہ عوام بھی جانتے ہیں، اور ان کے منتخب نمائندے بھی۔ اور یہ بات تو شاید کسی بھی جمہوریہ کا اوسط ووٹر بھی جانتا ہے کہ اس کے منتخب کردہ ممبران کا پہلا اور بنیادی کام قانون بنانا ہے۔
قانون سے مراد وہ قواعد و ضوابط، جن کے بغیر کوئی تہذیب یافتہ معاشرہ یا ریاست چل ہی نہیں سکتی۔ منتخب ممبران پر مشتمل مقننہ قانون سازی کے ذریعے ہی یہ طے کرتی ہے کہ کسی ملک کے شب و روز کیسے ہوں گے۔ اس کا حال و مستقبل کیا ہو گا۔ اس ملک میں مختلف اداروں و افراد کی ذمہ داریاں کیا ہوں گی۔ اس ملک کے شہریوں کے حقوق و فرائض کیا ہوں گے۔ اس سماج میں کیا کیا کام کرنے کی اجازت ہو گی، اور کون کون سے کام ممنوع قرار پائیں گے۔ کون سا فعل جرم ٹھہرے گا، اور اس جرم کی سزا کیا ہو گی۔ گویا یہ ادارہ جسے ہم عرف عام میں پارلیمنٹ کہتے ہیں، کسی بھی ملک میں سب سے اہم ترین کام سرانجام دیتا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ یہ ادارہ قانون سازی کا اہم ترین فریضہ سرانجام دیتا ہے، بلکہ کسی بھی جمہوری ملک میں یہ مقتدر ترین ادارہ بھی ہوتا ہے۔
مغرب کے تسلیم شدہ جمہوری ماڈلز میں‘ خواہ وہ سرمایہ دارانہ جمہوریت ہو، لبرل جمہوریت ہو، سوشل ڈیموکریسی ہو یا سوشلسٹ جمہوریت ہو، اس بات پر کافی حد تک اتفاق پایا جاتا ہے کہ زندگی کے تمام اہم معاملات میں اس ادارے کو برتری اور بالا دستی حاصل ہے۔ ریاست و حکومت کے دیگر تمام چھوٹے، بڑے ادارے اس کے تابع ہوتے ہیں۔
اپنے فرائض منصبی کے حوالے سے یہ لوگ کسی بھی ملک کے اہم ترین لوگ ہوتے ہیں‘ اور چونکہ ان لوگوں نے سب سے نازک اور اہم ترین فریضہ سرانجام دینا ہوتا ہے، اس لیے ان کے انتخاب و تقرری کا معاملہ بھی بہت اہم ہوتا ہے۔ اصولی طور پر یہ کسی سماج کے بہترین لوگ ہونے چاہئیں جو نا صرف قانون کی پیچیدگیوں کا گہرا ادراک رکھتے ہوں، بلکہ یہ قانون کی حکمرانی پر غیر متزلز ل یقین بھی رکھتے ہوں۔ قانون کو اہم مانتے ہوں، اور اس کے احترام میں اپنی مثال آپ ہوں۔
یہ کسی دیو مالائی سیارے پر رہنے والے لوگوں کی بات نہیں۔ یہ اس سیارے کی بات ہے، جس پر ہم بستے ہیں۔ جب سے انسانی تہذیب کا آغاز ہوا ہے، تب سے یہ سوال ہمیشہ زیر غور رہا ہے کہ ملک و سماج کے لیے سب سے اہم ترین فریضہ ادا کرنے والے لوگوں کا انتخاب کیسے کیا جائے؟ تاریخ میں اس کے لیے مختلف نظریے اور طریقے اختیار کیے جاتے رہے۔ قدیم یونان و بابل کی تہذیبوں میں اہل فلاسفہ اور دانش وروں کے لیے شاید سب سے اہم ترین سوال یہی رہا کہ ملک چلانے کے لیے بہترین لوگ کون ہیں؟ ان کو کیسے منتخب کیا جائے؟ اور ان کا انتخاب کرنے کا اختیار کس کے پاس ہونا چاہیے؟
طویل تاریخی تجربات کے بعد دنیا نے بڑی حد تک اس بات پر اتفاق کیا کہ اس سلسلے میں مخلوق خدا یعنی عوام کی دانش پر ہی بھروسہ کیا جائے تو بہتر ہے۔ اس طرح دنیا میں ایک طویل سلسلۂ عمل سے گزر کر آزادانہ رائے دہی اور جمہوری طریقے سے ممبران پارلیمنٹ کے چنائو کا رواج شروع ہوا، جو دنیا کے کامران معاشروں میں آج تک کامیابی سے جاری ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری دنیا نے جمہوریت کے کسی ایک متفقہ طریقے پر اتفاق نہیں کیا۔
کئی ایک ممالک نے اپنے اپنے سیاسی نظریات، مقامی ثقافتی اقدار اور رسوم و رواج کے مطابق لوگوں کی رائے لینے کا طریقہ کار اختیار کیا۔ آج عوامی جمہوریہ چین کے اندر اس طرح کے عوامی فیصلے ایک سرمایہ دارانہ اور لبرل جمہوریت سے بہت مختلف ہیں۔ اس طرح لبرل جمہوریتوں اور سماجی جمہوریتوں کے جمہوری سلسلۂ عمل اور انتخابی نظاموں میں کافی فرق موجود ہے۔ ایسے ممالک بھی موجود ہیں، جو فیصلہ سازی میں عوامی شرکت کو آج بھی ضروری نہیں تصور کرتے، جن میں مشرق وسطیٰ کی بادشاہتیں، اور خلیج کی ریاستیں شامل ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں‘ جہاں مغربی جمہوریت کی روایات اور کلچر تو موجود نہیں لیکن مغربی جمہوریت رائج ہے، اس باب میں مشکلات سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ ایسے ممالک میں جمہوری کلچر اور طرز زندگی کی عدم موجودگی میں بظاہر جمہوریت تو رائج ہوتی ہے، لیکن قدرتی طور پر اس کے وہ نتائج نہیں نکلتے، جن کی جمہوری نظام حکومت سے توقع کی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر ایسے ممالک میں انتخابات تو باقاعدگی سے ہوتے ہیں، لیکن ان انتخابات میں وہ شفافیت نہیں ہوتی، جو جمہوریت کی بنیادی شرط ہے‘ یعنی جمہوری عمل سے گزرنے کے باوجود عوام آزادانہ طریقے سے اپنی مرضی کے نمائندے منتخب نہیں کر سکتے۔ اس طرح جمہوری عمل کے راستے میں گوناگوں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں جاگیر داری نظام، فرسودہ زرعی نظام، پسماندہ قبائلی اور دیگر قدیم اور روایتی سماجی بندوبست بڑی رکاوٹیں ہیں۔
پاکستان کے جمہوری نظام کے کمزور ہونے کی ایک بڑی وجہ سیاست میں دولت کا استعمال ہے۔ اس دولت کے استعمال کے کئی ایک طریقے ہیں، جن میں دولت کے ذریعے ووٹ خریدنے سے لے کر، رائے عامہ کو متاثر کرنا اور رائے دہندگان کی مرضی پر اثر انداز ہونا بھی شامل ہے۔ قانون کی حکمرانی کے فقدان کی وجہ سے اس باب میں موجود چھوٹے موٹے قوانین پر بھی عمل درآمد نہیں ہوتا۔ انتخابی امیدوار قانونی حدود سے کہیں زیادہ وسائل خرچ کرتے ہیں۔ الیکشن سے جڑے کئی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہیں۔
دھونس، دھاندلی اور لالچ سمیت ہر غیر قانونی اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح گنے چنے لوگوں‘ گروہوں اور خاندانوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر رکھا ہے، جو ہر انتخابی عمل میں ان کی فتح کی ضمانت بنتا ہے۔ یہ کھیل کھیلنے کے لیے جس میدان کا وہ انتخاب کرتے ہیں، وہ ہموار نہیں ہے۔
وہ ان کے لیے ہموار اور مخالفین کے لیے ناہموار اور دشوار ہوتا ہے۔ اس طرح مسلسل جمہوری عمل سے گزرنے کے باوجود وہی لوگ بار بار منتخب ہو کر سامنے آتے ہیں، جن کو عام آدمی کے مقابل خصوصی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ خواہ وہ سماجی و معاشی پس منظر ہو۔ دولت مرتبہ یا خاندانی وجاہت ہو۔ اس قسم کے ماحول میں صرف ایسے لوگ ہی بار بار منتخب ہو سکتے ہیں، جن کا تعلق بالا دست طبقات، خوش حال اور دولت مند لوگوں یا سیاسی طور پر مراعات یافتہ خاندانوں کے ساتھ ہے۔ اس طرح جو چیزیں مسلمہ قسم کی جمہوریتوں میں باعث شرم اور لمحہ فکریہ ہیں، وہ ہماری جمہوریت میں باعث فخر سمجھی جاتی ہے۔
ان حالات میں اگر ہم سابق وزرا یا ممبران پارلیمنٹ کے ایک ہجوم کو پارلیمنٹ کے سامنے دست و گریبان دیکھتے ہیں۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور عادی مجرموں کی طرح دوسروں پر جسمانی حملے جیسے مجرمانہ افعال میں مشغول دیکھتے ہیں، تو یہ بات باعث شرم تو ہے، باعث حیرت نہیں۔ یہ محض اس تلخ حقیقت کا سادہ سا اظہار ہے کہ جمہوری نظام گراوٹ کی پستیوں کو چھو رہا ہے‘ اور زوال کے اس سفر کے رکنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply