شہاب کی روحانیت کیا تھی

یہ بھی حقیقت ہے کہ قدرت اللہ شہاب نے اپنے روحانی پہلو کو ہمیشہ چھپا کر رکھا۔ دوران ملازمت تو خاص طور سے اسے پوشیدہ اور لو پروفائل رکھا۔ اس کے دو تین انتہائی قریبی دوستوں ممتاز مفتی، اشفاق احمد وغیرہ کے سوا شاید ہی کسی کو علم ہو۔ اس کے قریبی دوستوں میں احمد بشیر جیسا مارکسسٹ اور ابن انشا، جمیل الدین عالی وغیرہ بھی شامل تھے جو تصوف میں دلچسپی رکھتے تھے۔ سوشل میڈیا پر ایک الزام شہاب

Read more

یہ کالم ہر پڑھے لکھے انسان کو پڑھنا چاہیے

کیا ہماری صنعتوں، وسائل اور ضروری خدمات کو نجی ہاتھوں میں رہنا چاہیے یا حکومتی ملکیت میں ہونا چاہیے؟ نجی ادارے منافع چاہتے ہیں۔ حکومتیں استحکام چاہتی ہیں۔ جب صنعتیں نجی ہاتھوں میں چلی جاتی ہیں تو ان کی وفاداری شیئر ہولڈرز سے ہوتی ہے، قوم سے نہیں۔ بحران کے وقت پرائیویٹ مالکان ڈوبتے جہازوں کو چھوڑ دیتے ہیں، جب کہ حکومتیں دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے کھڑی رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بڑی توانائی کمپنی، جو برسوں

Read more

ایک باغی اور انقلابی شاعر کی یاد میں

برصغیر میں بے شمار باغی شاعر پیدا ہوئے۔ ان بڑے شاعروں میں ایک بڑا نام جوش ملیح آبادی کا بھی ہے۔ جوش وہ باغی شاعر تھا، جس نے اردو شاعری کی نئی تعریف متعین کی۔ اسی طرح اردو شاعری نے بہت سے قابل ذکر شاعروں کا عروج دیکھا ہے، جن میں سے ہر ایک نے اپنے وسیع ادبی منظر نامے پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان میں سے جوش ملیح آبادی ایک انقلابی قوت کے طور پر الگ کھڑے ہیں،

Read more

نئے صوبوں اور ریاستوں سے خوفزدہ لوگ

انتظامی اکائیوں کے طور پر صوبوں کا تصور قدیم تہذیبوں کا تصور ہے۔ رومی سلطنت، سلطنت فارس، اور یہاں تک کہ ابتدائی چینی خاندانوں نے وسیع علاقوں کو موثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے صوبائی نظام کا استعمال کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس گورننس ماڈل کو بہتر کیا گیا، اور آج بھی بہت سے ممالک انتظامیہ کی بنیادی اکائیوں کے طور پر صوبوں، ریاستوں یا خطوں پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، تیزی سے عالمگیریت، ڈیجیٹل گورننس، اور سماجی

Read more

آئی ایم ایف امداد اور مداخلت کے درمیان ایک لکیر

پاکستان کے آئین میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات کا ایک واضح خاکہ موجود ہے۔ لیکن حال ہی میں رونما ہونے والے ہنگامہ خیز واقعات نے عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان طاقت اور اختیارات کی تقسیم پر ایک بار پھر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی زی شعور شخص حکومت کے ان تینوں شعبوں کی آزادی و خود مختاری کے اصول کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ اس پر اتفاق رائے موجود

Read more

مقبول بٹ: وہ شخص جس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا

کشمیر کی تاریخ کے چند ناموں میں مقبول بٹ ایک ایسا نام ہے، جس سے یہاں کے نوجوانوں میں ایک تازہ جذبہ، اور عقیدت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ایک غیر متزلزل یقین کا آدمی تھا۔ جو کشمیریوں کی جدوجہد کی ایک لازوال علامت بن گیا، ایک انقلابی جس کا نظریہ وقت اور سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر ہے۔ 11 فروری 1984 کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی پر لٹکائے گئے مقبول بھٹ کی وراثت کشمیر کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ

Read more

مقبول بٹ، چے گویرا اور بھگت سنگھ

مقبول بٹ کے یوم شہادت کے حوالے سے کشمیری حلقوں میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ان تقریبات سے پہلے، جیسا کہ عام رواج ہے، ان کی تعریف اور توصیف میں کچھ ایسی تحریریں اور تقاریر سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں بٹ صاحب کو اس طرح پیش نہیں کیا جا رہا، جیسے ان کو پیش کیا جانا چاہیے، بلکہ کچھ لوگ ان کو اپنے، نظریات اور خیالات کے آئینہ میں ڈھال کر اور ایک نیا روپ

Read more

ٹرمپ کی پالیسیاں اور بحران کے دور میں انقلاب کی خواہش

اس وقت پوری دنیا میں معاشی ہلچل برپا ہے۔ اگرچہ اس کا سہرا صدر ٹرمپ کے سر باندھا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اقتصادی اور جغرافیائی خدشات دور کرنے کے لئے امریکہ نے کافی عرصے سے محصولات اور تجارتی پابندیوں کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ اس وقت یہ پالیسیاں خاص طور پر کینیڈا، میکسیکو اور چین جیسے اہم تجارتی شراکت داروں پر مرکوز ہیں اور ان کے اثرات اور غیر ارادی نتائج کے بارے میں معاشی حلقوں

Read more

بین الاقوامی اشرافیہ کون ہے 

ہمارے عہد میں گلوبلائزیشن اور ٹیکنالوجی کے ذریعے باہمی انحصار والی دنیا میں، ایک سایہ دار لیکن ہمہ گیر وجود قوموں اور معاشروں پر چھایا ہوا ہے۔ عام آدمی کو اس کے وجود کا علم نہیں۔ لیکن جو اس کا علم رکھتے ہیں، وہ اسے بین الاقوامی اشرافیہ کہتے ہیں۔ یہ گروہ سرحدوں، ثقافتوں اور قومی وفاداریوں سے بالاتر ہے، دنیا کے معاشی، سیاسی اور ثقافتی نظاموں پر غیر متناسب اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہ اشرافیہ کیا ہے۔ کون

Read more

صدر کی تقریر، تالاب میں ایک پتھر

  جنوری کی اس انتہائی سرد شام کو جب صدر ٹرمپ واشنگٹن میں صدارتی حلف اٹھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے، ملک کے طول عرض میں ٹیلی ویژن جھلملا رہے تھے، عوام بارز اور کلبوں کی ٹیلیویژن اسکرینوں سے چپکے ہوئے تھے۔ فون لائیو اپ ڈیٹس سے گونج رہے تھے۔ صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ قوم سے خطاب کرنے والے تھے، ان کے الفاظ پہلے سے پولرائزڈ اور سیاسی طور پر تقسیم شدہ امریکہ میں نئی لہریں بھیجنے کے لیے تیار

Read more

صدر ٹرمپ کینیڈا سے کیا سلوک کرے گا

صدر ٹرمپ سے ہر طرح کے بیان کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مگر شمالی امریکہ کے لوگ اس سے جس بیان کی توقع نہیں کر رہے تھے، وہ کینیڈا کے بارے میں اس کا حالیہ سنسنی خیز بیان ہے۔ اس غیر متوقع بیان نے شمالی امریکہ کی جغرافیائی سیاست کے بارے میں بحث کو پھر سے چھیڑ دیا ہے، صدر نے اپنے حالیہ بیان میں کینیڈا کی امریکہ میں ممکنہ شمولیت کی تجویز پیش کی ہے۔ اس بیان پر

Read more

وہ لکیر جو زندگیوں کو تقسیم کرتی ہے

وہ نومبر کی ایک دھندلی سی صبح تھی۔ ایک نوجوان لڑکی کی تصویر لائن آف کنٹرول کے ناہموار علاقے کے ساتھ ابھری، جو جموں اور کشمیر کو دو خطوں میں تقسیم کرنے والی ڈی فیکٹو سرحد ہے۔ اس کا ہر قدم خوف اور امید سے بھرا ہوا تھا۔ فوجیوں کے کراس فائر میں پھنس جانے کا خوف، اپنی دادی کے گلے ملنے کی امید، جو تقسیم کے اس پار رہتی تھی۔ اس کا سفر نہ صرف ذاتی ہمت بلکہ تاریخ،

Read more

عمران خان کی رہائی کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کے امکانات؟

حیرت انگیز اتحادوں اور غیر روایتی سفارت کاری کے حامل اس دور میں، کوئی ایک ایسے منظر نامے کا تصور کر سکتا ہے، جہاں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اب امریکی سیاسی اسٹیج پر دوبارہ ابھر چکے ہیں، پاکستان کے مشکلات میں گھرے سابق وزیر اعظم عمران خان کے لیے مدد کا ہاتھ بڑھانے پر غور کر سکتے ہیں؟ سابق وزیر اعظم عمران، جنہیں کبھی پاکستان میں نمایاں عوامی حمایت حاصل تھی انتظامیہ کی قید میں ہیں۔ ٹرمپ کی

Read more

امریکہ کی نظریاتی تقسیم یا ریڈ لائن کہاں ہے؟

گرد آلود میدانوں اور سبزہ زار پہاڑیوں کے اس پار، ایک روایتی امریکی فارم ہاؤس ہے۔ فارم ہاؤس پر اس انداز سے ہل چلایا گیا ہے، جس سے زمین پر نظریاتی تقسیم کی عکاسی ہوتی ہے۔ بائیں طرف، سورج مکھی کی قطاریں منظم توازن میں پھیلی ہوئی ہیں، ان کے سنہری چہرے طلوع آفتاب کی طرف ایسے مڑ رہے ہیں، جیسے اجتماعی اتحاد سے طاقت حاصل کرتے ہوں۔ دائیں طرف، جنگلی لیوینڈر فنکارانہ ترکوں میں پھیلا ہوا ہے، ہر پودا

Read more

یہ زہر بھرے سانس

پاکستان کے وسیع و عریض شہروں میں زندگی بقا اور گھٹن کے درمیان ایک مستقل جنگ بن چکی ہے۔ لاہور، کراچی اور فیصل آباد جو کبھی اپنے گہما گہمی والے بازاروں اور ثقافتی مقامات کے لیے مشہور تھے، اب دنیا کے آلودہ ترین شہروں کے چارٹ میں سرفہرست ہیں۔ وہ ہوا جس میں لوگ سانس لیتے ہیں وہ زندگی کو برقرار رکھنے والی طاقت نہیں رہی۔ یہ ایک سست زہر بن گیا ہے، جو پھیپھڑوں میں رینگتا ہے اور زیادہ

Read more

جھکی روح اور اونچا سر

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ حد نگاہ تاک پھیلی ہوئی، ایک وسیع و عریض جاگیر کے دل میں عارف نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ میاں حمزہ کی سرسبز اور زرخیز زمینوں میں ایک مزدور تھا، ایک رئیس جس کا اثر جائیداد سے باہر اور گاؤں والوں کی زندگی کے ہر پہلو تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ اسٹیٹ قدرتی خوبصورتی کا نظارہ تھی، لامتناہی ایکڑ پر پھیلے پھلوں کے درخت، خوشبو دار پھول، عمارتی لکڑی میں کام آنے

Read more

خاموشی کا وزن

سجاد اپنی چوڑی اور چمک دار میز کے پیچھے بیٹھا تھا۔ اس کی انگلیاں گھبراہٹ کے ساتھ ایک فائل کے کناروں کا سراغ لگا رہی تھیں جس میں اس سرکاری دفتر کا نشان موجود تھا جس کی اس نے تین دہائیوں سے زیادہ وفا داری سے خدمت کی تھی۔ عوامی امور کے ڈائریکٹر جنرل کے طور پر، وہ قانون اور طاقت کے درمیان نازک توازن کو نیویگیٹ کرتے ہوئے، لا تعداد سیاسی طوفانوں سے بچتے ہوئے، افسر شاہی کی سیڑھی

Read more

آئینی ترامیم کا سراب

اونچی عمارتوں اور بھولی بسری گلیوں کے درمیان گھسے ہوئے موسم سے دوچار دفتر میں، ایک تجربہ کار سیاستدان بیٹھا تھا، اس کے ہاتھ میں آئین کی ٹوٹی پھوٹی کاپی تھی۔ وہ اس دستاویز کے صفحات کھولتا تھا، اس کی چھان بین کرتا تھا اور ترمیم پر غور و فکر کرنے کی کوشش کر ہا تھا۔ مقصود آئین میں مجوزہ ترمیم تھی۔ آئین مقدس تھا، لیکن ترامیم ان کے کھیل کا میدان تھیں۔ اور ان کو حاصل شدہ مینڈیٹ کا

Read more

وجود میں امید کی کرن

برلن کے قلب میں ایک مدھم روشنی والے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے بارش کی بوندا باندی ہو رہی تھی۔ نوروز اپنے کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا، اس کا دماغ رات کے آسمان کی طرح بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ 23 سال کا نوجوان تھا، شہر کی ممتاز یونیورسٹی میں فلسفے کا طالب علم تھا۔ جب تک وہ یاد کر سکتا تھا، معنی تلاش کر رہا تھا۔ زندگی میں، رشتوں میں، وجود میں اور اس سب کچھ میں جو اس

Read more

جموں کشمیر: انتخابات کے بعد کیا ہو گا

ریاست جموں کشمیر میں حالیہ انتخابی نتائج خطے کی پیچیدہ سیاسی اور آئینی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے بعد ، جموں و کشمیر میں اہم سیاسی تنظیم ہوئی تھی۔ اس آئینی بندوبست کے تحت کشمیر ایک نیم خود مختار ریاست سے مرکز کے زیر انتظام علاقوں۔ جموں و کشمیر اور لداخ پر ، مشتمل یونین ٹریٹری بنا دی گئی تھی۔ موجودہ انتخاب کے بعد ، سیاسی منظر نامے

Read more

خطرناک لہروں میں ڈوبتے ہوئے خواب

گوادر کی خاموش، خاک آلود گلیوں میں، زندگی ایک دھیمی سی رفتار سے چلتی ہے۔ چھوٹی دکانوں اور بازاروں کی بھول بھلئیاں میں مختلف ناموں سے ایک شخصیت اکثر سائے میں چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ آپ اسے کوئی نام دے سکتے ہیں۔ شہباز، کریم، رفیق، اس کا نام خاموش لہجے میں سرگوشیاں کر تا ہے اور تلاش کرنے والوں کو دور سے سنائی دیتا ہے۔ یہ ایک ایسا اسمگلر ہے، جو سمندروں اور سرحدوں کے اس پار جانے کا

Read more

جنگ: عوام کا بیانیہ کیا ہے؟

جنگ ہی واحد راستہ ہے۔ امن کی طرف جانے والا ہر راستہ جنگ کے دروازے سے گزر کر جاتا ہے۔ امن کو صرف طاقت اور جبر سے مسلط کیا جا سکتا ہے۔ انسان ابھی اتنا مہذب نہیں ہوا کہ امن کو بطور آئرش قبول کر سکے۔ یہ حکمران اشرافیہ کا بیانیہ ہے۔ مگر اس بیانیہ کو اس مہارت اور ہوشیاری سے عوام پر مسلط کیا گیا ہے کہ کم از کم مشرق وسطی کی حد تک یہ ایک غالب بیانیہ

Read more

ٹھنڈی ندی کے کنارے

ٹھنڈی ندی کے کنارے آباد اس خوبصورت قصبے میں، جنگلی پھولوں کی مہک ہے، اور کھلتی چمبیلی کی خوشبو نے ہوا کو بھر دیا ہے۔ زندگی کا یہاں اپنا ڈھنگ ہے، جو ہلکی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ آزاد کشمیر کا ایک پر سکون خوابیدہ سا قصبہ ہے، جو اپنی مضبوطی سے جکڑی ہوئی برادری اور گہری قدامت پسند اقدار کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہ قصبہ تاریخی طور پر تبدیلی کا حامی نہیں رہا ہے، بلکہ اس

Read more

گھورتی ہوئی بے لگام غربت

بلند و بالا پہاڑوں اور پیچ در پیچ بل کھاتے ہوئے دریا کے درمیان بسے ایک چھوٹے سے دلکش شہر میں، زندگی باہر سے خوبصورت لگ رہی تھی۔ ہوا تازہ تھی، آسمان چوڑا تھا، اور ارد گرد کی پہاڑیاں ہریالی سے سرسبز تھیں۔ لیکن اس قدرتی خوبصورتی کی سطح کے نیچے، ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی تھی۔ گہری اور بے لگام غربت، جو اس شہر کے لوگوں کی زندگیوں کو مستقل طور ہر پریشان رکھتی تھی۔ یہ وہ قصبہ تھا،

Read more

کامیابی منزل نہیں، سفر ہے

علی احمد کے لیے ناکامی کوئی اجنبی چیز نہیں تھی۔ ناکامی کا تلخ تجربہ اسے اس وقت ہو گیا تھا، جب وہ ایک سینیئر سکول ٹیچر بھرتی ہوا تھا۔ پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک کے نظام تعلیم میں ایک سکول ٹیچر کبھی شہرت، دولت اور مادی آسائشوں کی ان حدوں کو نہیں چھو سکتا، جو ہمارے سماج نے ایک کامیاب شخص کے لیے مقرر کی ہوئی ہیں۔ اس ناکامی کے کھلے اعتراف کے بعد زندگی کے کئی میدان تھے

Read more

ناکامی کا بوجھ

دو عظیم پہاڑوں کے درمیان بسے ایک چھوٹے سے، موسم سے شکست خوردہ شہر میں، راشد نامی ایک شخص رہتا تھا۔ راشد ایک ایسا شخص تھا، جسے آپ نے شاید ہی کسی ہجوم میں دیکھا ہو گا۔ ظاہری شکل میں غیر معمولی، پتلے بھورے بالوں کے ساتھ، پریشانی کی لکیروں سے بھرا ہوا چہرہ، اور آنکھیں جو مستقل طور پر خاموشی کے ساتھ ابر آلود نظر آتی تھیں۔ اس کے کپڑے ہمیشہ صاف ہوتے تھے، لیکن کئی برسوں سے مسلسل

Read more

اذیت اور عیش و عشرت کے درمیان

یوسف کی عمر بائیس سال تھی، جب اس نے پہلی بار مغرب کی ایک باوقار یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں قدم رکھا۔ اس کا آبائی شہر، تیسری دنیا کے ایک پسماندہ اور قدامت پرست ملک کا ایک چھوٹا سا شہر تھا، بلند عمارتوں، متحرک گلیوں، اور بڑے خیالات سے بھرے طلباء کے سامنے یہ سب اب ایک قدیم دور کی یاد لگ رہا تھا۔ اس نے مغربی یونیورسٹی میں جو وظیفہ حاصل کیا تھا وہ صرف تعلیم کا

Read more

آکسفورڈ کا چانسلر اور ماضی کا بوجھ

پاکستان کے سابق وزیر اعظم کی چانسلر بننے کی خواہش پر عالمی میڈیا میں بات ہو رہی ہے۔ اخبارات میں کالم چھپ رہے ہیں۔ برطانوی اخبارات اس موضوع پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں دائیں اور بائیں بازوں کے لکھاری کھل کر لکھ رہے ہیں دی گارڈین نے تازہ ترین کالم میں اس موضوع کو زیر بحث لایا ہے۔ سابق وزیر اعظم کی اس عہدے پر دلچسپی کے بعد یہ عہدہ زیر بحث ہے، وگرنہ عام حالات

Read more

خطرے کی گھنٹی

ہمارے ہاں اکثر خطرے کی گھنٹی بجتی رہتی ہے۔ کچھ لوگوں کو اسلام خطرے میں نظر اتا ہے۔ کچھ لوگ ملک کو خطرے میں گھرا دیکھتے ہیں۔ خطرات کے اس شور میں اکثر حقیقی خطرات سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔ حقائق کی روشنی میں اس وقت اگر کسی چیز کو خطرہ ہے تو وہ ملک کا جمہوری نظام ہے۔ جمہوریت، کو طویل عرصے تک ہماری اس دنیا میں آزادی، مساوات اور قانون کی حکمرانی کے قیام کے لیے سیاسی

Read more

آمریت کے بطن سے جمہوریت کا جنم

گزشتہ دنوں میں نے ان ہی سطور میں عرض کیا تھا کہ موجودہ حکمرانوں کو تقریباً وہی مسائل در پیش ہیں، جو نصف صدی پہلے کے حکمرانوں کو در پیش تھے مگر وہ اپنے پیشروؤں کی ناکامیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ میں نے اس تناظر میں نے ایوب خان کی ناکامیوں کا ذکر کیا تھا۔ ان ناکامیوں کے ساتھ ایوب خان کے کچھ کارنامے بھی ہیں، جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کارناموں میں آزاد کشمیر میں

Read more

سبز انقلاب اور سنہری دور کے قصے

آج کل حکمران اشرافیہ کے بیانات دیکھ کر یہ یقین سا ہونے لگتا ہے کہ آج کے حکم رانوں کو بنیادی طور پر ان ہی مسائل کا سامنا ہے، جن کا نصف صدی پہلے کے حکم رانوں کو تھا۔ ان کے دعوے اور وعدے وہی ہیں۔ مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والے اعلانات بھی وہی ہیں۔ محل وقوع، الفاظ اور لب و لہجہ وہی ہے۔ بس وقت، تاریخ اور نام بدلتے رہتے ہیں۔ میں نے گزشتہ کالم میں

Read more

بائیس خاندان اور ٹاٹ والے سکول

یہ ایک ہائی سکول کی تصویر ہے۔ تصویر میں ایک عالیشان عمارت ہے۔ یہ عمارت جدید دور کے طرز تعمیر کے مطابق تعمیر کی گئی ہے، جو عموماً آزاد کشمیر میں غریب اور پسماندہ علاقوں میں سرکاری سکولوں کی تعمیر کے لیے مروج ہے۔ تصویر کے پس منظر میں دکھائی دینے والے سحر انگیز مناظر اس تصویر کی خوبصورتی کو دو بالا کر دیتے ہیں۔ حد نگاہ تک سر سبز درختوں سے ڈھکے ہوئے پہاڑ ایک طلسماتی منظر پیش کرتے

Read more

زخمی اونٹنی کی چیخ

زخمی اونٹنی کی چیخ بہت دور تک سنائی دی۔ بد قسمت اونٹنی کی ٹانگ جس طریقے سے کاٹی گئی، یہ ایک ہولناک واقعہ تھا۔ اس واقعہ میں ظلم، بربریت اور بے رحمی کی انتہا ہے۔ یہ کام ایک ایسی مخلوق نے کیا جو اپنے آپ کو اشرف مخلوقات قرار دیتی ہے۔ اپنے آپ کو انسان کہتی ہے۔ کوئی انسان بھلا کوئی ایسا کام کیسے کر سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے، جو ہر ایسے خوفناک واقعہ کے بعد اٹھایا جاتا

Read more

بوسیدہ دیوار کو دھکا کون دے؟

حس ظرافت رکھنے والا کوئی شخص ہماری سیاست پر ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ عام طور پر ہماری سیاست ٹریجڈی سے بھری ہے۔ اس میں مزاح کا پہلو بہت ہی کم ہوتا ہے۔ مگر اگر آپ حس ظرافت رکھتے ہیں تو آپ اس المناک سیاست میں بھی مزاح کا پہلو ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ہماری سیاست کا سٹیج بہت وسیع ہے۔ اس پر ہر وقت ہر طرح کے ڈرامے چلتے رہتے ہیں۔ ان ڈراموں سے کئی قسم کے کردار جڑے

Read more

پہاڑی لوگوں کا تاریخی احتجاج

یہ بلا شبہ آزاد کشمیر کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج تھا۔ آزاد کشمیر کم آبادی والا علاقہ ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق یہاں کی آبادی چار ملین کے آس پاس ہے۔ یہ آبادی دور دراز پہاڑوں اور دیہات میں پھیلی ہوئی ہے۔ شہروں اور قصبوں میں آمد و رفت کے لیے لوگوں کو انتہائی دشوار گزار راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ بہت سارے علاقوں کو اب بھی سڑکوں تک رسائی نہیں ہے، اور جہاں سڑکیں میسر ہیں وہ

Read more

کارل مارکس کی سالگرہ اور بائیں بازو کا زوال

گزشتہ دنوں کارل مارکس کی سالگرہ منائی گئی۔ دنیا بھر میں تقریبات ہوئیں۔ تقاریر ہوئیں۔ لوگوں نے اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ موقع کی مناسبت سے کسی نے خراج تحسین پیش کیا، تو کسی نے مارکس کے خیالات، نظریات اور تخلیقات پر روشنی ڈالی۔ سنجیدہ لوگوں نے مقالات اوور مضامین کے ذریعے مارکس اور اس کے کام پر روشنی ڈالی۔ ان تقاریر اور تحریروں میں زیادہ تر مارکس کی تعریف و توصیف ہی کی

Read more

جس جھولی میں سو چھید ہوئے

جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا۔ ابن انشا نے شاعرانہ انداز میں ایسی جھولی پھیلانے سے منع کیا، جس میں چھید ہوں۔ معاشیات اور سیاسیات کی دنیا میں جھولی کی جگہ بیگ اور تھیلے کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اس سلسلے میں دنیا کی تقریباً ہر ایک زبان میں کوئی نہ کوئی کہانی موجود ہے، جس میں کسی ایسے شخص کا ذکر ہے، جو دولت کمانے یا سرمایہ جمع کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا

Read more

ٹوٹتے اور بدلتے خوابوں کے درمیان

اس دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے، جس کے سارے خواب پورے ہوئے ہوں۔ بیشتر لوگ خوابوں کی ایک برات لے کر زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہوتا، جس کے سارے خواب پورے ہوئے ہوں۔ ان میں دنیا کی کامیاب ترین اور مشہور شخصیات بھی شامل ہیں۔ سائنسدانوں، شاعروں، ادیبوں اور سیاست دانوں کی ہزاروں سوانح عمریاں اس کی گواہ ہیں۔ کوئی زندگی میں استاد بننے کا خواب دیکھ رہا تھا تو وہ

Read more

ٹوٹتے اور بدلتے خوابوں کے درمیان

اس دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے، جس کے سارے خواب پورے ہوئے ہوں۔ بیشتر لوگ خوابوں کی ایک برات لے کر زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایسا نہیں ہوتا، جس کے سارے خواب پورے ہوئے ہوں۔ ان میں دنیا کی کامیاب ترین اور مشہور شخصیات بھی شامل ہیں۔ سائنسدانوں، شاعروں، ادیبوں اور سیاست دانوں کی ہزاروں سوانح عمریاں اس کی گواہ ہیں۔ کوئی زندگی میں استاد بننے کا خواب دیکھ رہا تھا تو وہ

Read more

سوشل میڈیا کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟

عام تاثر یہ ہے کہ نئی پیڑھی کے لوگ جدید علوم میں ہم سے اگے ہیں۔ یہ جدید دور کے لوگ ہیں۔ ان کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ہے۔ ان کو اس ٹیکنالوجی کے جدید شہکار ”سوشل میڈیا“ کا فائدہ حاصل ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی برکات اور جوان نسل کی اس تک رسائی ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار ممکن نہیں۔ لیکن کیا صرف ٹیکنالوجی تک رسائی اور اس کی سمجھ کافی ہے؟ اور کیا جدید ٹیکنالوجی سے واقفیت

Read more

پولیس کلچر اور اخلاقیات

پاکستان میں نظام انصاف کے بارے میں آئے دن بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے۔ اس میں عام دلچسپی اس وقت بڑھ جاتی ہے، جب نظام انصاف کے حوالے سے پاکستان کی عالمی رینکنگ پر کوئی تازہ ترین رپورٹ آتی ہے۔ عموماً اس طرح کی عالمی رینکنگ میں پاکستان کے نظام انصاف کا نمبر بہت نیچے ہوتا ہے۔ اس باب میں کئی عالمی اداروں کی طرف سے اعدا دو شمار پیش کیے جاتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو دیکھ

Read more

قرض کی پیتے تھے مے؟

نو منتخب یا ازسر نو منتخب حکمران اشرافیہ کو بڑے سخت قسم کے چلینجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج معاشی ہو گا۔ خود اسی حکومت کے کچھ رہنماؤں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر تشکیل پانے والی حکومت کے دور کے اختتام پر ملک کے معاشی بحران پر قابو پانے کا اعلان کیا تھا۔ وزیر اعظم کا بیانیہ یہ تھا کہ انہوں نے معاشی مسائل کی گمبھیرتا کے پیش نظر اس محاذ پر

Read more

لیڈر، ہیرو اور دیوتا

ہمارے ہاں شخصیت پرستی بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک باقاعدہ روگ ہے۔ کچھ لوگ اسے ”گریٹ مین سنڈرم“ یا عظیم آدمی کی تھیوری بھی کہتے ہیں۔ عظیم لوگوں اور خصوصاً عظیم لیڈر کے بارے میں یہ تھیوری انیسویں صدی میں بہت مقبول ہوئی۔ اس تھیوری کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ انسانی تاریخ کو صرف عظیم لوگوں کے اس پر اثرات کے ذریعے ہی سمجھا سکتا ہے۔ یہ عظیم لوگ اپنے سماج اور وقت کے ہیرو ہوتے ہیں۔ یہ لاثانی

Read more

مقبولیت، قبولیت اور انتخابی نتائج

یہ کالم میں نے انتخابات سے پہلے لکھا تھا۔ اس میں میں نے عرض کیا تھا کہ ”پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور پر لکھنا وقت ضائع کرنے والی بات ہے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے تحریری منشور کوئی نہیں پڑھتا۔ جو پڑھتا بھی ہے، وہ ان کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ منشور لکھنے کی محض رسم پوری کی جاتی ہے۔ اہتمام حجت کے لیے منشور تیار کیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ گاہے“ کاپی پیسٹ ”اور سرقہ بازی

Read more

مقدر بدل دینے والے منشور

انتخابات بہت قریب ہیں۔ انتخابی مہم عروج پر ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اپنا اپنا منشور سامنے لا چکی ہیں۔ ان انتخابات میں مختلف نظریات و خیالات کی حامل جماعتیں حصہ لے رہی ہیں۔ اگر ان میں سے پہلی بیس جماعتوں کے انتخابی منشور پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو بڑے دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں۔ اب تک جتنے بھی انتخابی منشور سامنے آتے ہیں، ان میں بڑی خوبصورت لفاظی سے کام لیا گیا ہے۔ ان میں لمبے چوڑے وعدے

Read more

عالمی عدالت انصاف اور انقلابی ورثہ

عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دنیا بھر میں دلچسپی کا باعث ہے۔ حالاں کہ عالمی قانون اور سیاست پر دسترس رکھنے والے لوگوں کو اس مقدمے کے نتائج کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ اگرچہ فریقین کے لیے اس عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد لازم ہے، لیکن اگر وہ اس پر عمل نہیں کرتے تو عدالت کے پاس اپنے فیصلے کے نفاذ کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ نفاذ کے لیے یہ فیصلہ اقوام متحدہ

Read more

تاریخ کا سبق کیا ہے؟

ہمارے ہاں تاریخ پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے کہ ہم لوگ تاریخ کے ایک خاص دور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تاریخ سے سبق سیکھ کر اپنی سمتیں درست کرنے کے بجائے ہم تاریخ کے سحر میں گرفتار ہیں، اور تاریخ کے سنہری ادوار کے واپس لوٹ آنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ حالاں کہ تاریخ اپنے آپ کو نہیں دہراتی، اور ہوبہو شکل میں تو بالکل بھی نہیں۔ اس لیے تاریخ کے کسی

Read more

انتخابات کے بعد کیا ہونے والا ہے؟

اس وقت دنیا کے ہر ملک میں طبقاتی تقسیم موجود ہے۔ یہاں تک کہ یہ طبقاتی تقسیم کیوبا جیسے ملک میں بھی پائی جاتی ہے۔ حالاں کہ کیوبا میں سوشلزم اب تک کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ یہ طبقاتی تقسیم اس وقت بھی پائی جاتی تھی، جب فیڈل کاسترو کی قیادت میں کیوبا ایک مکمل سوشلسٹ ملک تھا۔ یہ طبقاتی تقسیم سویت یونین میں بھی موجود تھی، جہاں تاریخ کا سب سے پہلا اور بڑا سوشلسٹ انقلاب برپا

Read more

امن کی کنجی کس کے پاس ہے؟

پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہونے تک جنوبی ایشیا میں امن نہیں آ سکتا۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران یو این کے سیکرٹری جنرل، امریکی حکومتی عہدیداروں اور عسکری حکام سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے پانچ اگست دو ہزار انیس کے بھارتی حکومت کے اقدامات اور بھارتی سپریم کورٹ

Read more

انتخابات سے وابستہ امیدیں؟

حالیہ اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی پر بھارت کے کچھ حلقوں میں جشن منایا جا رہا ہے۔ ہندی بیلٹ کی تین ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی، اور کانگرس کی شکست ان رجحانات کی عکسی کرتی ہے، جو دو ہزار چوبیس کے مرکزی پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا تعین کر سکتے ہیں۔ اگرچہ سیاست میں حالات بدلتے رہتے ہیں، اور آگے چل کر صورت حال بالکل ہی بدل سکتی ہے، ، اور کسی بھی جمہوریت میں

Read more

جب علم و دانش شجر ممنوع بنا

آج میں جس آدمی کے بارے میں لکھ رہا ہوں، اس کو اپ لکھاریوں کا باوا آدم کہہ سکتے ہیں۔ اس شخص نے ایک ایسے دور اور ماحول میں دو سو ساٹھ سے زائد کتابیں لکھی ہیں، جس دور میں ایک کتاب لکھنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ لیکن یہاں ایک یا دو نہیں، بات ہو رہی ہے دو سو ساٹھ کتب کی۔ اور یہ کتابیں بھی کوئی ہلکے پھلکے، رومانوی، ادبی یا جاسوسی موضوعات پر نہیں، بلکہ

Read more

یہ دیسی لبرل کون ہے؟

ہمارے ہاں اگر کوئی تھوڑی ہوشمندی یا روشن خیالی کی بات کرے تو اسے فوراً دیسی لبرل کا طعنہ دے دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ کوئی شخص دیسی یا بدیسی لبرل نہیں ہوتا۔ انسان یا لبرل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ لبرل ہونے کی کچھ بنیادی نظریاتی شرائط ہیں، جن پر پورا اترے بغیر کوئی شخص لبرل نہیں ہو سکتا۔ ان کڑی شرائط کی روشنی میں دیکھا جائے تو ہمارے ہاں بہت کم لوگ لبرل ازم کی تعریف پر پورا

Read more

آزاد کشمیر: بادشاہوں اور وزیروں کا دیش

آج میں آپ کو ایک دلچسپ کہانی سنانے جا رہا ہوں۔ یہ کہانی قدیم بادشاہوں، راجوں اور مہاراجوں کی نہیں، بلکہ جدید دور کے حکمرانوں کی ہے۔ مگر اس کہانی اور قدیم شہنشاہوں کی کہانی میں بہت کچھ مشترک ہے۔ ایک قدر مشترک انداز حکمرانی ہے۔ قدیم بادشاہوں کے معاون اور مشیر ان کے درباری ہوتے تھے، جن کو آج کے دور میں وزیر و مشیر کہا جا سکتا ہے۔ اپنے وزیروں و مشیروں یعنی درباریوں کے تقرر کے لیے

Read more

فلسطین: انصاف، ایک بے سود تمنا

اسرائیل حماس تنازعہ میں اقوام متحدہ کا ادارہ کہاں کھڑا ہے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، جو ہر جگہ اٹھایا جا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر اقوام متحدہ دنیا کے اس قدیم ترین اور شدید ترین تصادم میں بھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی تو پھر اس ادارے سے کسی سنجیدہ تنازعے کے حل کی توقع کیوں رکھی جا رہی ہے۔ خصوصاً کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے

Read more

نواز شریف کا بیانیہ کیا ہے؟

ہمارا دور بیانیہ کا دور ہے۔ افراد، گروہ اور سیاسی جماعتوں کا اپنا اپنا بیانیہ ہے۔ ملک میں خواہ کتنی ہی بڑی سیاسی جماعت کیوں نہ ہو۔ اس کا با قاعدہ تحریری آئین و منشور بھی ہو۔ ہر سطح پر لیڈر شپ بھی موجود ہو، جو وقتاً فوقتاً پارٹی پروگرام اور منشور بیان کرتی رہی ہو۔ مگر پھر بھی اب لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ پارٹی کا بیانیہ کیا ہے؟ یہی بات سیاسی رہنماؤں پر بھی صادق آتی ہے۔

Read more

آزاد کشمیر میں خواتین نے پرچم کیوں اٹھا لیے

گزشتہ دنوں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد آزاد کشمیر کی سڑکوں پر نکلی۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا، جس کی آزاد کشمیر کی تاریخ میں کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ آزاد کشمیر کی ستتر سالہ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ عورتوں کی اتنی بڑی تعداد احتجاج کے لیے سڑکوں پر آئی ہو۔ عورتوں ہی کی قیادت میں عورتوں پر مشتمل یہ مظاہرے اس احتجاج کے سلسلے کی ایک کڑی تھے، جو کافی عرصے سے آزاد کشمیر میں

Read more

حماس کیا ہے؟

حماس کیا ہے؟ اس میں کون لوگ شامل ہیں؟ اسرائیل حماس تصادم کے تناظر میں یہ سوال ہر کوئی اٹھا رہا ہے۔ اگر تاریخ میں دیکھا جائے تو حماس کی ابتدا 1928 میں مصر میں اخوان المسلمون کی بنیاد سے جا کر جڑتی ہیں۔ تاریخ کے اس دور میں اخوان المسلمون بنیادی طور عرب اور اسلامی ریاستوں میں ایک ایسی اسلامی تحریک کے طور پر منظم ہوئی تھی، جس کا مقصد اسلامی اقدار کو مسجد سے باہر نکال کر سیاسی

Read more

ریاست کے نام پر عوام دشمنی کا اظہار

ہمارے ہاں ریاست اور حکومت میں فرق نہیں کیا جاتا۔ اور یہ فرق نہ کرنے سے گڈ گورنس سمیت زندگی کے ہر شعبے پر بہت فرق پڑتا ہے۔ سب سے بڑا فرق تو یہ پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں حکومتیں اپنے آپ کو ریاست سمجھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اور اپنے آپ کو ریاست بنا کر پیش کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے حکومتوں کی نا اہلی، ناقص کارکردگی، وسائل کی لوٹ کھسوٹ، اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم جیسے

Read more

”پوسٹ آفس کے بغیر ملک“

”پوسٹ آفس کے بغیر ملک“ نامی شعری مجموعے کا شمار ہمارے وقت کی اہم ترین شعری تخلیقات میں ہوتا ہے۔ یہ انگریزی زبان کے ایک اہم ترین کشمیری امریکن شاعر آغا شا ہد علی کی شاعری کا تیسرا مجموعہ ہے۔ ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح اس میں بھی جلاوطنی، تڑپ اور وطن کو کھو دینے سے متعلق نظمیں ہیں۔ یہ مجموعہ مجھے ایک دعوت نامہ دیکھ کر یاد آیا، جو ایک تقریب کے سلسلے میں ہے۔ یہ تقریب

Read more

معاشی بحران کا راز کیا ہے؟

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان کا نمبر ون مسئلہ پاکستان کا معاشی بحران ہے۔ ہر گفتگو کا نقطہ ماسکہ یہی مسئلہ رہا ہے۔ اور ہر بحث کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ معاشی ہے، اور باقی تمام چھوٹے بڑے مسائل بھی کئی نہ کئی سے جا کر معاشی مسئلے سے ہی جڑتے ہیں۔ معاشی بحران کے حل کے لیے کئی منصوبے پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن ان منصوبوں پر عمل کب

Read more

بل اور تاریک بلوں میں رہنے والے لوگ

کل اچانک پروفیسر سے میری ملاقات ہو گئی۔ اس دفعہ پروفیسر سے بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی تھی۔ جو لوگ آٹھ دس سال پہلے میرے کالم پڑھتے رہے ہیں، وہ پروفیسر سے اچھی طرح واقف ہیں، جو اس وقت میرے کالموں کا ایک مستقل کردار رہا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب میں پروفیسر سے بات چیت کیے بغیر بہت کم کالم لکھتا تھا۔ پروفیسر میرے لیے حالات حاضرہ پر لکھنے کے لیے ذہنی محرک کا کردار ادا کرتا تھا۔

Read more

ڈکسن کا کشمیر پلان کیا تھا

میں نے گزشتہ کالم میں اوون ڈکسن کا ذکر کیا تھا۔ ڈکسن کون تھا؟ یہ کشمیر پر کیا فارمولہ لے کر آیا تھا؟ ڈکسن کو دنیا کے بڑے بڑے سکالر یہ کریڈٹ دیتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے یا بعد کے اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد کردہ کسی بھی ثالث کے مقابلے میں مسئلہ کشمیر کے حل کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ ڈکسن کی اس کاوش کے بارے میں اے جی نورانی نے ایک طویل مضمون لکھا،

Read more

پاک بھارت مشترکہ دفاع اورجموں کشمیر

گزشتہ کالم میں کشمیر پر مختلف فارمولوں کا ذکر کیا تھا۔ یہ وہ فارمولے تھے، جن پر پاکستان کی طاقت ور اشرافیہ نے سرکاری اور روایتی موقف سے ہٹ کر غور کیا۔ ان میں سے ایک فیلڈ مارشل ایوب خان کا ”پاک بھارت مشترکہ دفاع“ کا فارمولہ بھی تھا۔ اس فارمولے کی ایک بڑی وجہ ابھرتے ہوئے سرخ چین اور سوشلزم کا خوف تھا۔ ایوب خان کا خیال تھا کہ سویت یونین کے بعد اب چین برصغیر میں توسیع پسندانہ

Read more

مسئلہ کشمیر کے کتنے حل ہیں؟

مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے؟ یہ سوال ہر دوسرا آدمی پوچھتا ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں سے مسلسل یہ سوال پوچھا جا رہا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں سے لے کر کھیتوں اور کھلیانوں تک، اور کھیل کے میدانوں سے لے کر آرٹ فلم، سکولوں اور کالجوں میں ہر جگہ کئی نہ کئی یہ سوال سنائی دیتا ہے۔ اس سوال کے کئی جواب ہیں۔ ہر آدمی کے پاس مسئلہ کشمیر کا ایک اپنا حل ہے۔ پہلے اس مسئلہ پراور اس کے

Read more

من مانی گرفتاریاں اور عدالتیں

ہیبس کار پس ایک لاطینی اصطلاح ہے۔ کئی دیگر پچیدہ لاطینی اصطلاحوں کی طرح اس اصطلاح کا سادہ اور عام فہم ترجمہ اردو زبان میں نہیں ہے۔ اس کےجو تراجم کیے جاتے ہیں, وہ اصل سے بھی مشکل لگتے ہیں۔ جیسا کہ "پروانہ حاضری ملزم” یا حکم نامہ بدن وغیرہ۔ ان تراجم سے عام آدمی کے پلے کچھ نہیں پڑتا۔ عام زبان میں اس اصطلاح سے مراد ایک قانونی رٹ یا حکم ہے، جس میں مجاز اتھارٹی کو حکم دیا

Read more

قربان گاہ میں کھڑے عوام

وہ عوام سے قربانی مانگتے ہیں۔ مگر عوام تو ستر سال سے قربان گاہ میں کھڑے ہیں۔ تاریخ پر اک نظر ڈالیں تو ہر دور میں حکمران اشرافیہ عوام سے قربانی مانگتی رہی، اور عوام قربانی دیتے رہے ہیں۔ ان خوابوں کی قربانی جو انہوں نے حکمران اشرافیہ کے کہنے پر دیکھے تھے۔ اپنے بچوں کی تعلیم کے خواب۔ صحت کی سہولیات سے جڑے خواب۔ غربت، بھوک ننگ اور جہالت سے چھٹکارے کے خواب۔ یہ قربانی در قربانی کا ایک

Read more

آئین سب سے بڑا قانون ہے

آئین کسی بھی ملک کا سب سے بڑا قانون ہوتا ہے۔ ملک کا کوئی بھی قانون جو آئین سے متصادم ہو اسے غیر آئینی اور ناجائز سمجھا جاتا ہے۔ جن ممالک میں آئین کی حکمرانی ہے وہاں اگر کوئی ایسی درخواست ملک کی سپریم کورٹ کے پاس آئے، جس میں کسی قانون کو آئین سے متصادم قرار دیا گیا ہوتو عدالت کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس درخواست کا جائزہ لے، جسے عام طور پر جوڈیشل ریویو کہا

Read more

آئی ایم ایف اور جادو کی چھڑی

حکمران اشرافیہ ملک کی خود مختاری کے بارے میں فکر مند ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ وہ ملک کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ کیے بغیر آئی ایم ایف سے قرض لے سکتے ہیں۔ یہ سوچ نیک خواہش سے زیادہ کچھ نہیں۔ تاریخ میں آج تک کسی ملک نے آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر قرضہ نہیں لیا۔ اس کے بر عکس قرض کے خواں ملکوں کو آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے کا کڑوا گھونٹ پینا

Read more

آزاد عدلیہ کے بغیر کوئی سماج آزاد نہیں ہو سکتا

پاکستان کے آئین میں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات کا ایک واضح خاکہ موجود ہے۔ لیکن حال ہی میں رونما ہونے والے ہنگامہ خیز واقعات نے عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کے درمیان طاقت اور اختیارات کی تقسیم پر ایک بار پھر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی زی شعور شخص حکومت کے ان تینوں شعبوں کی آزادی و خود مختاری کے اصول کو تسلیم نہ کرتا ہو۔ اس پر اتفاق رائے موجود

Read more

آئین و آمریت کی جنگ کا ایک باب

جنرل ضیا الحق انتیس مئی انیس سو اٹھاسی کی سہ پہر کو اپنے سٹاف افسر جنرل رفاقت سے کاغذ اور قلم لانے کو کہا۔ کاغذ قلم دیا گیا تو جنرل نے اپنے ہاتھوں سے دو احکامات لکھے۔ پہلا حکم یہ تھا کہ محمد خان جونیجو کی حکومت کو برطرف کیا جاتا ہے۔ اور دوسرا حکم یہ تھا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انتہائی عجلت سے ان احکامات پر مشتمل ایک رسمی ڈرا فٹ

Read more

مجھے آئین پھاڑنے سے کون روک سکتا ہے؟

آئین کیا ہے؟ یہ دس یا بارہ صفحات کا ایک کتابچہ ہے۔ میں اس کو پھاڑ سکتا ہوں، اور کہہ سکتا ہوں کہ کل سے ہم مختلف نظام کے تحت رہیں گے۔ کوئی ہے جو مجھے ایسا کرنے سے روک سکتا ہے؟ یہ جنرل ضیا الحق کے الفاظ تھے، جو پاکستان میں آئین اور جمہوریت پسندوں پر ہتھوڑا بن کے برسے تھے۔ جنرل ضیا الحق نے پانچ جولائی 1977 کو پاکستان میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا

Read more

آئین کی حکمرانی اور عدالتوں کا کردار

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ڈوسو کیس میں سپریم کورٹ نے مارشل لا کے نفاذ کو درست قرار دے دیا تھا۔ اس فیصلے کو پاکستان کے عدالتی، سیاسی اور دانشور حلقوں میں سخت نا پسندیدگی اور شرمندگی سے دیکھا گیا۔ اس کے خلاف جہاں عوام نے ناراضی کے جذبات کا اظہار کیا وہاں قانونی حلقوں میں بھی رد عمل ہوا، جس کا واضح اظہار آگے چل کر عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب کیس کی اپیل میں ہوا۔ اس

Read more

جب عدالت نے مارشل لا درست قرار دے دیا

میں نے گزشتہ کالموں میں نظریہ ضرورت اور عدالتوں کے کردار کا تاریخ کی روشنی میں جائزہ لیا تھا۔ میرے اس تجزیے کی بنیاد مولوی تمیزالدین کیس تھا، جس کو پاکستان کی عدالتی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سلسلے کا اگلا اہم مقدمہ ”دوسو بنام ریاست ہے۔ اس اہم مقدمہ کے حقائق یہ ہیں کہ دوسو ایک عام قبائلی آدمی تھا، جس کا تعلق لورا لائی بلوچستان سے تھا۔ دوسو کو قتل کے الزام میں گرفتار

Read more

نظریہ ضرورت اور عدلیہ کا کردار۔

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ چوبیس اکتوبر انیس سو چون کو گورنر جنرل غلام محمد نے آئین ساز اسمبلی تحلیل کر دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسمبلی پاکستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتی، اور اس کی جگہ کونسل آف منسٹرز کو نامزد کر دیا۔ تاریخ دانوں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر متفق ہے کہ اصل مسئلہ اسمبلی کا نمائندہ یا غیر نمائندہ ہونے کا نہیں تھا، بلکہ اصل مسئلہ یہ تھا کہ گورنر جنرل

Read more

وہ مقدمہ جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ پہلی اسمبلی کا بنیادی فریضہ ملک کے لیے آئین بنانا تھا۔ اسمبلی اس مقصد کے لیے مختلف نظریات کے حامل، اور مختلف علاقوں کی نمائندگی کرنے والے ممبران کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جو ایک مشکل اور وقت طلب کام تھا۔ اس عمل میں سات سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد اسمبلی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جانے لگے، اور یہ

Read more

جب پہلی اسمبلی کو برخاست کیا گیا

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی کا بنیادی مقصد پاکستان کے لیے آئین بنانا تھا۔ لیکن سات سال کا طویل عرصہ گزارنے کے باوجود یہ اسمبلی اپنا یہ بنیادی فریضہ سر انجام دینے میں نام رہی۔ اسمبلی کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ پاکستان میں کس قسم کا نظام حکومت ہو گا؟ اس سوال کے جواب پر سخت اختلاف رائے تھا۔ کچھ ممبران کا خیال تھا کہ پاکستان کے لیے

Read more

قصہ اسمبلی کی برتری کا؟

آج کل دو معاملات پر عام بحث ہو رہی ہے۔ ایک اسمبلی کی بالا دستی اور برتری ہے۔ دوسری آئین و قانون کی حکمرانی ہے۔ اگر ان معاملات کا تاریخ کی روشنی میں جائزہ لیا جائے، اور پہلی آئین ساز اسمبلی سے اس کی شروعات کی جائیں تو کئی ہوش ربا انکشاف ہوتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی میں قائد اعظم نے کئی معاملات پر مختصر اظہار خیال کیا۔ ان میں رشوت، اقربا اور کرپشن جیسے کئی معاملات

Read more

غدار کون ہے؟

کچھ عرصہ پہلے لاہور ہائی کورٹ نے اپنے ایک انقلابی اور غیر معمولی فیصلے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ ایک سو چوبیس اے کو پاکستان کے آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔ اگر یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو یہ پاکستان کی قانونی اور سیاسی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ دفعہ ایک سو چوبیس، جسے عام طور پر ’سیڈیشن لا‘ کہا جاتا ہے نوآبادیاتی ماضی کی ایک بدصورت نشانی ہے۔ یہ قانون نوآبادیاتی حکم رانوں کی

Read more

یہ سو موٹو کیا ہے؟

یہ سو موٹو کیا ہے؟ اور کیوں ہے۔ اس موضوع پر گزشتہ دنوں پاکستان میں کافی بحث ہوتی رہی ہے۔ قانونی حلقوں کے علاوہ اس بحث میں عام لوگ بھی شامل رہے ہیں۔ دنیا بھر کے بیشتر قانونی نظاموں میں لاطینی الفاظ یا اصطلاحوں کا استعمال عام ہے۔ کامن لا میں اس کا تو اس قدر استعمال رہا ہے کہ بعض قانون دان اس علم کو پوری طرح سمجھنے کے لیے لاطینی زبان سیکھنا بھی ضروری قرار دیتے رہے ہیں۔

Read more

سربراہی اجلاس اور پالیسی کے تضادات

پاکستان نے دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ دعوت امریکہ میں جمہوریت کے لیے ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے تھی۔ وزارت خارجہ نے امریکہ اور دیگر میزبان ممالک کی طرف سے اس اجلاس کی دعوت پر شکر یہ ادا کیا، لیکن اس اجلاس میں شرکت سے معذرت کر لی۔ اس اجلاس میں سو سے زائد ممالک کو مدعو کیا گیا تھا۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک جمہوری اصولوں کے فروغ کے لیے امریکہ اور

Read more

روسی صدر کے وارنٹ گرفتاری اور امن منصوبہ

دنیا عجب ہنگامہ خیز حالات سے گزر رہی ہے۔ اس ہیجان خیزی میں بہت سی اہم خبروں سے صرف نظر کر لیا جاتا ہے۔ اس عمل میں کچھ ایسی خبریں بھی نظر انداز ہو جاتی ہیں، جو عام حالات میں ہر عام و خاص کے لیے گہری دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں ایک خاص ماحول ہے۔ سیاست میں غیر معمولی صورت حال ہے۔ سڑکوں پر طوفانی سیاست ہو رہی ہے۔ اس ماحول میں ذرائع ابلاغ کی توجہ

Read more

اسلامو فوبیا اور اجنبی کا خوف

گزشتہ دنوں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا ہے۔ مختلف حلقوں میں اس خطاب کی ستائش بھی ہوئی، اور اس پر تنقید بھی کی گئی۔ بلاول کے خطاب کا ایک اہم نقطہ اسلامو فوبیا تھا۔ اگر تقریر کے متن کو غور سے پڑھا اور سنا جائے تو در حقیقت بلاول بھٹو نے اسلامو فوبیا پر کوئی نئی بات نہیں کی۔ اس موضوع پر ان کے خیالات لفظ با لفظ وہی تھے، جن

Read more

کیا چین نے الیکشن چوری کرائے؟

دنیا میں جو الزامات امریکہ پر بطور سپر وار لگتے رہے ہیں، اب وہ چین کے خلاف عام سنائی دے رہے ہیں۔ دنیا میں یہ تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ چین اپنی من پسند حکومت لانے کے لیے دوسرے ملکوں کے انتخابی عمل میں مداخلت کر رہا ہے۔ دنیا میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ دنیا میں جن ممالک پر چین کا سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے، ان میں پاکستان پہلے نمبر پر آتا ہے۔

Read more

ججوں کے اختلاف رائے کو کیسے دیکھا جائے

پاکستان میں آج کل عام لوگ بھی اعلی عدالتوں کے فیصلوں میں گہری دلچسپی لیتے ہیں۔ وہ سیاسی نوعیت کے مقدمات کی تفصیل اور فیصلوں کو ٹیلی ویژن، اور سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں یا اخبارات میں پڑھتے ہیں۔ موجودہ سنسنی خیز سیاسی حا لات میں یہ دلچسپی اور بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے بڑے بڑے سیاسی تنازعے آج کل پاکستان کی اعلی عدالتوں میں زیر سماعت نظر آتے ہیں۔ آج کل سپریم کورٹ کی طرف سے کسی

Read more

قرضوں کا جال: حقیقت یا افسانہ

چین کے بارے میں امریکہ کو سخت تشویش ہے۔ وہ اس تشویش کا اظہار ہر محاذ پر کر چکا ہے۔ یوکرین کے خلاف روس کو فوجی امداد فراہم کرنے کے امکانات سے لے کر چین کی طرف سے دوسرے ممالک کو قرض دینے کے سوال پر امریکہ وقتاً فوقتاً اپنے خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔ رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق امریکہ کو پاکستان اور دیگر ممالک کی طرف سے چین پر واجب الادا قرضوں پر جو گہری

Read more

کافی شاپس پر لمبی قطاریں۔

لاہور میں کافی شاپ کے چمکیلے سائن بورڈ کی تصویر اچھی لگتی ہے۔ یہ کینیڈین مقبول عام نیا ریستوران ہے، جس کا افتتاح ہوتے ہی اس کے آگے قطاریں لگی ہوئی نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں معاشی بحران کی انتہا پر ایک ریستوران کے آگے اتنی طویل قطاریں لگ جانا اچنبھے کی بات ہے۔ اس پر بہت لوگوں کو حیرت ہے۔ ان قطاروں پر بات ہو رہی ہے۔ سینئر کالم نگار روف کلاسرا اس پر بہت اچھا کالم لکھ چکے ہیں۔ پاکستان سمیت تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں اب اس طرح کے صاف ستھرے، چمکیلے اور مہنگے مشہور برانڈڈ ریستورانوں کا کھلنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

اس سے پہلے کئی امریکی اور یورپی ”فاسٹ فوڈز“ اور کافی شاپس پاکستان کے مختلف شہروں میں کھل چکے ہیں۔ اس عمل کا آغاز بہت پہلے ہماری اس دنیا کے ”گلوبل ولیج“ بن جانے یا بنا دیے جانے کے نعرے سے ہوا تھا۔ اس تصور کے ساتھ ساتھ دنیا میں ”کھلے مقابلے اور بغیر کسی پابندی کے آزاد تجارت کا تصور بھی متعارف کروایا گیا تھا۔ اس تصور کی حمایت دنیا کی غالب حکومتوں اور طاقت ور کثیر الاقوامی کارپوریشنز نے کی، جن کو عرف عام میں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی کہا جاتا ہے۔

Read more

غوری کا قتل، اور یادگار کی تعمیر

گزشتہ کچھ عرصے ہندوستان میں تاریخی عمارات، سڑکوں اور باغات وغیرہ کے نام بدلنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اس بات کو لے کر ہندوستان کے قدیم حکم رانوں خصوصاً مسلم حکم رانوں کی تاریخ کے بارے میں ایک نئی دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔ لوگ جانا چاہتے ہیں کہ یہ حکمران کون لوگ تھے، کہاں سے آئے تھے۔ ان کا طرز حکمرانی کیا تھا۔ مقامی زبانوں، مذاہب اور طرز زندگی کے بارے میں ان کے کیا رویے اور پالیسیاں

Read more

ڈالر اوپر اور روپیہ نیچے کیوں جا رہا ہے

ڈالر، ڈالر اور ڈالر۔ پاکستان میں جس طرح ڈالر زیر بحث ہے، اس سے لگتا ہے یہ امریکی نہیں، بلکہ پاکستانی کرنسی ہے۔ گامے ماجھے اس پر بحث کر رہے ہیں۔ اپنی اپنی رائے دے رہے ہیں۔ ڈالر کے اتار چڑھاؤ کے اسرار و رموز بتا رہے ہیں۔ اور جن لوگوں کو اس پر بحث کرنی چاہیے، اور قوم کو سچ بتانا چاہیے کہ ڈالر کیوں اوپر جا رہا ہے، اور روپیہ کیوں نیچے جا رہا ہے، وہ یہ معاملہ

Read more

لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر

جدید میڈیا ہمارے زمانے کا ایک عظیم معجزہ ہے۔ اس میں ہر طرح کا روایتی اور غیر روایتی میڈیا شامل ہے۔ پاکستان پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دور سے گزر کر اب سوشل میڈیا کے پیچیدہ دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ہر طرف معلومات کی فراوانی ہے۔ مگر اس کے باوجود پاکستان میں اگر کوشش بھی کی جائے تو زندگی کے اہم شعبہ جات کے بارے میں تازہ ترین اعداد و شمار میسر نہیں ہوتے۔ اس طرح کی خدمات

Read more

نیک بادشاہ یا قانون کی حکمرانی؟

قانون کی حکمرانی کی عالمی فہرست میں پاکستان کا نمبر بہت نیچے آتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس کوئی گفتگو کوئی مباحثہ نہیں ہو رہا۔ حالاں کے اس ملک کو در پیش بیشتر مسائل کی وجہ ہی قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔ قانون کی حکمرانی کی کچھ بنیادی شرائط ہیں، جن کو پورا کیے بغیر قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن ان شرائط کو بھی پورا کرنے کے لیے کسی سماج میں

Read more

ڈیفالٹ کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟

حکمران اشرافیہ کے کچھ افراد کو یہ سوال کرتے سنا گیا ہے کہ ڈیفالٹ کو اردو میں کیا کہتے ہیں۔ تو جواب عرض ہے کہ اردو میں ڈیفالٹ کا آسان مطلب ”نا دہندگی“ ہے۔ اور نادہندہ سے مراد ایک ایسا شخص، گروہ، تنظیم یا ملک ہے، جو اپنا واجب الادا قرض یا اس کا کوئی حصہ بروقت ادا کرنے سے انکار کردے، یا وہ طے شدہ ادائیگی کرنے سے قاصر ہو۔ جیسا کہ ظاہر ہے ڈیفالٹ کا ترجمہ اور تعریف

Read more

فریب مسلسل

  پاکستان میں سیاست کا کوئی بھی موسم ہو۔ معیشت کی کوئی بھی حالت ہو۔ مسند اقتدار پو کوئی بھی حکمران فائز ہو، قطع نظر اس کے ملک کے سیاسی مکالمے اور گفتگو میں کچھ ایسے بیانات لازم ہوتے ہیں، جو ہر حالت میں سنائی دیتے ہیں۔ ان بیانات میں ایک تسلسل ہے۔ اور حکمران یہ بیانات اس درد مندی اور سوز سے جاری کرتے ہیں کہ عوام کے پاس ان پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

Read more

”آزاد دنیا“ اور انسانی حقوق۔

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ 1954 میں امریکہ کے ساتھ فوجی اتحاد کے معاہدے کا اعلان پاکستان میں ایک بہت بڑی کامیابی تصور کیا گیا۔ اس وقت کی حکمران اشرافیہ نے اس بات پر جشن منایا کہ انہوں نے طویل جدوجہد کے بعد بالآخر امریکہ سے اتحاد کر کہ بھارت کے مقابلے میں سیکورٹی کے میدان میں ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ جشن سیکورٹی کے باب میں ان کی اپنی جمع تفریق کا نتیجہ تھا۔

Read more

امریکی اڈے اور پاک امریکہ تعلقات

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ پاک امریکہ فوجی معاہدے کے لیے پچاس کی دہائی کے شروع میں ہی صورت حال پاکستان کے حق میں ہموار ہو چکی تھی۔ بقول پاکستانی پالیسی سازوں کے برسوں کی سخت محنت کے بعد فصل تیار تھی، اب مسئلہ اس کو بر وقت کاٹنے کا تھا۔ مگر وہ فیصلہ کن گھڑی آ نہیں رہی تھی۔ مختلف وجوہات کی بنا پر معاملات بار بار تعطل کا شکار ہو رہے تھے۔ سب سے بڑا سوال

Read more

ایران: حجاب اور نقاب میں آزادی کے خواب

ایران میں اخلاقیات کے نام پر جو جبر روا تھا اس کا قصہ بھی بڑا عجیب ہے۔ ایک بائیس سالہ خاتون مس امینی کے انداز حجاب پوشی سے ہوتا ہے۔ اس نوجوان خاتون نے اہل حکم کی ہدایات کے مطابق حجاب تو پہن رکھا تھا، مگر یہ حجاب پہننے کا انداز ویسا نہیں تھا، جیسا ایران کی حکمران اشرافیہ کے خیال میں ہونا چاہیے تھا۔ گویا مختلف طریقے سے حجاب پہننے کے جرم میں پولیس نے اسے گرفتار کر لیا،

Read more

ڈیفالٹ کا خطرہ: ڈیفالٹ کی تین شکلیں

آج کل پاکستان میں ہر طرف قرضوں کے ڈیفالٹ کے خطرے پر گفتگو ہو رہی ہے۔ جس ڈیفالٹ کی بات ہو رہی ہے، وہ کوئی عام ڈیفالٹ نہیں۔ قانونی زبان میں اسے ”ساورن ڈیفالٹ“ کہا جاتا ہے۔ یہ ساورن یعنی خود مختار ڈیفالٹ کیا ہے؟ سادہ الفاظ میں ایک خود مختار ملک کی جانب سے واجب الادا قرض کی ادائیگی میں ناکامی یا اس ادائیگی سے انکار کو ساورن ڈیفالٹ کہا جاتا ہے۔ اس ادائیگی میں ناکامی کی دو شکلیں

Read more

سویت اڑان، امریکی پریشانی اور پاکستان۔

گزشتہ کسی کالم میں امریکہ اور سویت یونین کے درمیاں زور پکڑتی ہوئی سرد جنگ اور معاشی و عسکری میدان میں خوفناک مقابلے کا ذکر کیا تھا۔ اس باب میں انیس سو تریپن کا سال ماسکو اور کمیونزم کے لیے حیرت انگیز کامیابیوں کا سال تھا۔ اس سال نہ صرف کمیونزم دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا تھا، بلکہ دنیا میں سرمایہ داری دنیا میں عدم استحکام اور بحران بھی گہرے سے گہرا تر ہوتا جا رہا تھا۔ اس

Read more

جب پاکستان امریکہ کا سچا دوست ٹھہرا

جیسا کہ گزشتہ کسی کالم میں عرض کیا تھا کہ پچاس کی دہائی کے ابتدائی دو برسوں میں پاکستان اور بھارت کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی آئی۔ اس دوران پنڈت نہرو اور لیاقت علی خان دونوں یکے بعد دیگرے امریکہ کے دورے کر چکے تھے۔ وزارت خارجہ اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی سطح پربھی کافی وسیع ہوم ورک ہو چکا تھا۔ اس ہوم ورک کے نتیجے میں اس موضوع پر چند ایک تفصیلی رپورٹس بھی

Read more

جب پاکستان کے لیے امریکی دروازے کھلے

پاکستان امریکہ تعلقات کے باب میں گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ چالیس کی دہائی کے اواخر میں امریکہ کی خواہش تھی کہ ان دونوں جنوبی ایشیائی ملکوں کو سویت یونین کے خلاف اپنے عالمی اتحاد کا حصہ بنائے۔ اگرچہ اس خطے میں کمیونزم کے خلاف لڑائی میں شراکت داری کے لیے اس کی پہلی ترجیع بھارت تھا، جو رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے خطے کا بڑا ملک تھا۔ لیکن جغرافیائی محل وقوع اور سٹرٹیجک اعتبار سے پاکستان

Read more

سمندر سے گہرے رشتے؟

پاک چین تعلق کی ابتدا کیسے ہوئی۔ ”ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہرے“ اس رشتے کی عقلی اور منطقی بنیادیں کیا ہے؟ گزشتہ کسی کالم میں عرض کیا تھا کہ انیس سو انچاس میں امریکہ چیرمین ماؤ کی قیادت میں برپا ہونے والے چینی انقلاب کو جنوبی ایشیا کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔ وہ اس خطرے کے مقابلے کے لیے بھارت اور پاکستان کے ساتھ اتحاد کا خواں تھا۔ مگر بھارت اور امریکہ کے درمیان چینی انقلاب پر بنیادی

Read more