نیا نظام کون لا سکتا ہے؟

پاکستان میں ہر نئی حکومت ایک نئے نظام کی بات کرتی ہے۔ نئی صبح کی نوید دیتی ہے۔ عوام میں ایک نئی امید جگاتی ہے۔ مگر صرف چند ماہ بعد سب کچھ پرانی ڈگر پر چل نکلتا ہے۔ مسائل پہلے سے زیادہ گمبھیر ہو جاتے ہیں۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی پہلے سے زیادہ بڑھ…

Read more

جنتا پارٹی کا انتخابی منشور اور کشمیر یوں کا حق ملکیت

بھارت میں انتخابی عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور سامنے آیا۔ اس منشور میں بھارت میں ہر ایک کے لیے کچھ نہ کچھ ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے خوشخبریاں اور امیدیں ہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے فکر اور اندیشوں کا سامان ہے۔ کچھ لوگ مستقبل میں مذہب…

Read more

پوپ نے سچ کہا

شام، یمن اور افغانستان میں بچوں کی ہلاکت کا برا ہ راست ذمہ دار امریکہ ہے۔ یہ بات کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے کہی ہے۔ پوپ نے یہ بات ویٹیکن سٹی میں گزشتہ دنو ں امریکی طلبہ اور اساتذہ کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ پوپ فرانسس کی ذات یا…

Read more

زوال کے اسباب میں پوشیدہ دانش کیا ہے!

ایک عظیم تہذیب کو اس وقت تک باہر سے نہیں تباہ کیا جا سکتا جب تک یہ خود اپنے آپ کو اندر سے تباہ نہ کرے۔ روسی نژاد امریکی لکھاری ایریل ڈورنٹ نے اس ایک فقرے میں قوموں کے عروج و زوال کی پوری داستان سمو دی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے یہ بات صرف روم کی عظیم سلطنت کی تباہی کے اسباب بیان کرتے ہوئے ہی کہی ہو، مگر اس بات میں پوشیدہ دانش کا اطلاق صرف قدیم سلطنتوں پر ہی نہیں، جدید دور کی ریاستوں اور قوموں پر بھی ہوتا ہے۔

قدیم رومن سلطنت کی تباہی اور زوال دنیا بھر کے دانشوروں، تاریخ دانوں اور سیاست کاروں کی دلچسپی اور مباحث کا اہم ترین موضوع رہا ہے۔ کئی صدیاں اس پر بحث مباحثوں کے بعد دنیا اب اس سلطنت کے زوال کے کچھ اسباب پر متفق ہے۔ دنیا بھر میں پرائمری سکول کے بچوں سے لے کر پی ایچ ڈی تک سب کو اس سلطنت کے زوال کے ایک ہی قسم کے اسباب بتائے جاتے ہیں۔ اس عظیم سلطنت کے زوال کے کئی اسباب ہیں، مگر مجموعی طور پرآٹھ دس وجوہات ایسی ہیں، جن کو مختلف ملکوں اور قوموں کے حالات کے مطابق مختلف الفاظ میں پڑھایا یا بیان کیا جاتا ہے ؛ چنانچہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ ہر قوم قدیم دور کی عظیم رومن سلطنت کے زوال سے وہ سبق سیکھنے کی کوشش کرتی ہے، جو قوموں اور ملکوں کے بقا کے لئے ضروری ہے۔

Read more

کچھ کرم نوازی ادھر بھی کیجیے!

نیوزی لینڈ کے واقعے کے کئی پہلو ہیں۔ اس میں سب کے لیے کوئی نہ کوئی سبق ہے۔ جو جس نظر سے چاہے اس واقعے کو دیکھ سکتا ہے، اپنی مرضی کا سبق سیکھ سکتا ہے۔ اس طوفانی واقعے کی گرد بیٹھ چکی ہے۔ جذبات میں اٹھنے والا تلاطم کچھ کم ہوا ہے، مگر انسانی…

Read more

امن‘ خطے کی آخری امید ہے!

امن طاقت سے نہیں افہام و تفہیم سے ممکن ہے۔ البرٹ آئن سٹائن کی اس بات کی سچائی سے انکار ممکن نہیں۔ افغانستان اس کی زندہ مثال ہے۔ دنیا کی ایک سپر پاور اپنے طاقت ور اتحادیوں سمیت گزشتہ بیس سال سے طاقت کے زور پر امن مسلط کرنے کی سعیٔ لا حاصل میں مصروف…

Read more

مخبوط الحواس شخص یا دہشت گرد؟

دہشت گردی کیا ہے؟ دہشت گردی کیا نہیں ہے؟ یہ ایک پرانا سوال ہے، جس کے کئی جوابات ہیں۔ یہ سوال بیک وقت سیاسیات، عمرانیات، فلسفے اور علمِ جُرمیات کا سوال ہے۔ ایک مخصوص واقعہ دہشت گردی ہے یا قتل عام ؟ اس سوال پر نظری بحث کرتے ہوئے مذکورہ بالا سارے علوم بروئے کار…

Read more

تنہا بھیڑیا، مخبوط لحواس شخص یا دہشت گرد؟

دہشت گردی کیا ہے؟ دہشت گردی کیا نہیں ہے؟ یہ ایک پرانا سوال ہے، جس کے کئی جوابات ہیں۔ یہ سوال بیک وقت سیاسیات، عمرانیات، فلسفے اور علم جرمیات کا سوال ہے۔ ایک مخصوص واقعہ دہشت گردی ہے یا قتل عام؟ اس سوال پر نظری بحث کرتے ہوئے مذکورہ بالا سارے علوم بروے کار آتے…

Read more

عورت کا اصل مسئلہ کیا ہے؟

''میں ایک فیمنسٹ ہوں۔ میں ایک مدت سے اس سماج میں بطور عورت زندہ ہوں۔ یہ بڑی بے وقوفی کی بات ہو گی اگر میں خود اپنا ساتھ نہ دوں‘‘ یہ بات مشہور شاعرہ، دانشور اور ادیب مایہ انجیلو نے کہی تھی۔ مگر آج کے دور میں عورت کی طرف داری کے لیے عورت یا…

Read more

سیاست دان جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟

جمہوریت ایک عظیم نظام ہے۔ بہترین طرز زندگی ہے۔ اس کی ان گنت برکات ہیں۔ اس نظام کی برکات سے عوام کو بہت فائدہ ہوتا ہے، مگر یہ سیاست دان ہیں، جو اس سے سب سے زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔سیاست دان بھی عوام کا حصہ ہیں۔ مگر عوام کے برعکس انہیں ایک مقررہ مدت کے لیے دوبارہ عوام کے پاس جانا پڑتا ہے۔ گویا جس طاقت اور اقتدار کا وہ لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں، اس کو جاری رکھنے کے لیے ہر بار عوام کی تائید و حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر بسا اوقات سیاست دان خود غرضی پر اتر آتے ہیں، اور جمہوریت کی رسوائی کا باعث بنتے ہیں۔جمہوریت میں عوام کی حمایت اور تائید ہی واحد چیز ہے، جو اقتدار کی ضمانت ہے۔ اقتدارکے لیے سیاست دان کہاں تک جا سکتے ہیں؟ اس کی دنیا کی جمہوریتوں میں بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اور آج جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے، اس عمل کی ایک اہم مثال ہے۔ حزب اختلاف جو الزامات نریندرا مودی پر لگا رہی ہے، اگر وہ درست ہیں تو یہ بھارتی جمہوریت کے لیے بہت بری خبر ہے۔

Read more