لاہور میں کافی شاپ کے چمکیلے سائن بورڈ کی تصویر اچھی لگتی ہے۔ یہ کینیڈین مقبول عام نیا ریستوران ہے، جس کا افتتاح ہوتے ہی اس کے آگے قطاریں لگی ہوئی نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں معاشی بحران کی انتہا پر ایک ریستوران کے آگے اتنی طویل قطاریں لگ جانا اچنبھے کی بات ہے۔ اس پر بہت لوگوں کو حیرت ہے۔ ان قطاروں پر بات ہو رہی ہے۔ سینئر کالم نگار روف کلاسرا اس پر بہت اچھا کالم لکھ چکے ہیں۔ پاکستان سمیت تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں اب اس طرح کے صاف ستھرے، چمکیلے اور مہنگے مشہور برانڈڈ ریستورانوں کا کھلنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔
اس سے پہلے کئی امریکی اور یورپی ”فاسٹ فوڈز“ اور کافی شاپس پاکستان کے مختلف شہروں میں کھل چکے ہیں۔ اس عمل کا آغاز بہت پہلے ہماری اس دنیا کے ”گلوبل ولیج“ بن جانے یا بنا دیے جانے کے نعرے سے ہوا تھا۔ اس تصور کے ساتھ ساتھ دنیا میں ”کھلے مقابلے اور بغیر کسی پابندی کے آزاد تجارت کا تصور بھی متعارف کروایا گیا تھا۔ اس تصور کی حمایت دنیا کی غالب حکومتوں اور طاقت ور کثیر الاقوامی کارپوریشنز نے کی، جن کو عرف عام میں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی کہا جاتا ہے۔
Read more