پاکستانی سیاست کے ”میں بیمار آں“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خاکدان ارضی پر بے شمار قوتوں نے مختلف ادوار میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑھے اور پھر آنے والے نئے فاتح کے لیے جگہ خالی کر دی۔ یہاں کبھی اہل روم کا ڈنکہ بجا، کبھی اہل یونان کا طوطی بولا، کبھی بنی اسرائیل نے اپنی حماقتوں کا ثبوت دیاتوکبھی بنی اسماعیل نے زینت بڑھائی۔ کبھی عجمیوں نے محفل سجائی، کبھی مصریوں کے زور بازو کو آزمایا گیا، کبھی تاتاریوں کی وحشت نظر آئی توکبھی عرب جلوہ افروز ہوئے، کبھی انگریزوں کا بول بالا ہوا اورکبھی نازیوں کاپرچم لہرایا گیاغرض کہ اس دنیا کی بساط مسلسل تغیر و انقلاب کا شکار رہی ہے۔

ہم نازاں ہیں اپنے اکابرین ملت پر کہ جنہوں نے اپنے خون جگر سے اس خاک وطن کے ہر ذرے کی آبیاری کی اور اس قوم کو زندہ و سلامت رکھنے کے لیے ساز و سامان مہیا کیا۔ بے شک پاکستان ہماری دیرینہ آرزوؤں کی تکمیل کا سبب بنا ہے۔ ظہور پاکستان اسلام کے لیے اس تاریک ماحول میں ایک گوہر شب چراغ کی مانند تھامگر افسوس آج اس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ پاکستانی عوام کا اپنے محبوب سیاسی لیڈروں سے ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے ملک سے وفاداری کا ثبوت دیں گے اگرچہ سیاسی قیادتوں کی جانب سے جواب میں یقین دہانیاں ہی ملی مگر حقیقت اس سے بالکل الٹ ہوتی۔

جو بھی حکمران آیا اس کا بس ایک ہی نعرہ ”ہل من مزید“ مجھے اور کھلاؤ، مجھ پر عنایات کی بارش کرو۔ بد قسمت سادہ لوح قوم ہمیشہ مفاد پرست حکمران ٹولے کے چنگل میں پھنستی رہی اور اب عوام کی یہ حالت ہے کہ ”گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا“ ۔ خدا خدا کر کے عوام نے پچھلے الیکشنز میں تبدیلی سرکار کو موقع دیا مگر پرائے تو پرائے، اپنے بھی سازشوں کا جال بننے لگے۔ اس وقت احتساب کا کڑا امتحان شروع ہے جس فرد نے بھی وطن عزیز کے عوام کی امانت کو ”مال مفت، دل بے رحم“ کی طرح لوٹا ہے اب اس کا کڑا احتساب ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ جنہوں نے عوام کا مال کھایا کیا وہ خاموش رہیں گے؟ کیا وہ بخوشی کال کوٹھری میں جانا پسند کر لیں گے؟ جواب یقیناً نفی میں آئے گا۔ اس موقع پر ”مجھے بچنا ہے، مجھے بھاگ جانا ہے“ کی سرگوشیاں سنائی دیں گی مگر کپتان کی للکار ”میں ان کو نہیں چھوڑوں گا“ وطن فروش اورعوام دشمن اپوزیشن کا حوصلہ توڑنے کے لیے کافی ہے۔ جب اپوزیشن کو این آر او ملنے کا امکان ہر جگہ سے ختم نظرآیا تو پھر وزیر اعظم کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لینے والے دن سے ایک خطرناک کھیل کی ابتدا کی گئی۔

جان بوجھ کر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان کھڑے ہو کر پریس کانفرنس کی گئی اور فساد کی فضا بنائی گئی جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے لوگوں کی جانب سے مصدق ملک اور احسن اقبال کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ اس موقع پر مریم صفدر نے اپنے کارکنوں کو باقاعدہ جواب دینے کی ترغیب دی۔ پچھلے دن شہباز گل کے ساتھ عدالت حاضری پر باقاعدہ امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرنے کے لیے بدتمیزی کی گئی۔ نون لیگ ایک منصوبے کے تحت اب عوام کو لڑانا چاہتی ہے تاکہ اس کو تحریک چلانے کے لیے چند لاشیں مل جائیں۔

یہ ایک خطرناک چال ہے جو نون لیگ کی قیادت اپنی بقا کے لیے لڑ رہی ہے اور چاہتی ہے کہ سادہ عوام اس جنگ کا ایندھن بنیں اور یوں ان کے بچاؤ کا راستہ نکلے۔ اپوزیشن کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ عوام دوست دشمن کو پہچان گئے ہیں اور جانتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جو عدالتوں کی جانب سے سیسلین مافیا اور گاڈ فادر کے القابات سے نوازا جا چکا ہو اور سزا یافتہ ہو جبکہ اس کی بیٹی بھی سزایافتہ مجرم ہو۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس گاڈ فادر کے دو بیٹے مفرور اورعدالتی اشتہاری بھی ہیں، ایک سمدھی عدالت سے مفرور اور عدالتی بھگوڑا ہے۔

ایک بھتیجا اپنی کرپشن کی سزا کے ڈر سے باہر بھاگا ہوا ہے جبکہ ایک بھتیجی اور اس کا خاوند بھی احتساب کے خوف سے باہر کے ملک میں چھپے بیٹھے ہیں سب کھوٹے سکے ہیں پاکستانی لوگ جانتے ہیں کہ یہ ”لوہے کے نقلی چنے“ ہیں۔ پرانا لطیفہ ہے مگر عقل مند کے لیے اشارہ ہی کافی ہے۔ ٹرین میں رش بہت تھا اور لوگوں کی اکثریت سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے کھڑی تھی۔ پہلے سوار ہونے والوں کو سیٹ مل گئی بعد میں آنے والے کے پاس کھڑے رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا لیکن پورے ڈبے میں ایک شخص ایسا تھا جو ایک پوری برتھ پر مزے سے لیٹا ہوا تھا۔

جو شخص اس کو سیدھاہو کر بیٹھنے کو کہتا، تو وہ غصہ سے بولتا ”تینوں نہی پتا میں کون آں“ ۔ دوسرا شخص گھبرا کر دوبارہ کوئی سوال نہ کرتا اور وہاں سے فوراً سرک جاتا۔ یہ معاملہ کافی دیر سے ایسے ہی چل رہا تھا کہ ایک سٹیشن سے نیا مسافر اس ڈبے میں سوار ہوا۔ اس نے دیکھا کہ سارے ڈبے میں صرف ایک ہی برتھ ایسی ہے جہاں جگہ بن سکتی ہے مگر اس پر ایک شخص ٹانگیں پھیلائے لیٹا ہے۔ نیا مسافر بڑی مشکل سے جگہ بنا کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ جناب بیٹھنے کے لیے کچھ جگہ چاہیے تو لیٹے ہوئے آدمی نے ناراضگی سے گھورتے ہوئے کہا ”تینوں نہی پتا میں کون آں“ ۔

یہ بات سن کر نئے مسافر نے بھی غصے سے کہا ”توں دس دے کون اے“ ۔ لیٹے ہوئے شخص نے ملتجیانہ انداز میں کہا ”میں بیمار آں“ ۔ آصٖٖف علی زرداری نے پی ڈی ایم کے اجلاس میں نواز شریف کو پاکستان آنے کی دعوت دے ڈالی ہے جبکہ استعفوں سے انکار کر دیا ہے یوں اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکال کر عمران خان کو سیاست میں کھلا میدان مہیا کر دیا ہے۔ اب مریم صٖفدر بچاری کبھی اپنے پاپا کی طرف دیکھتی ہے اور کبھی جیل جانے کا ڈر اس کی نیند اڑا دیتا ہے۔

اوپر بیان کیے گئے لطیفے والا معاملہ ہمارے ملک میں بھی چل رہا ہے جہاں عمران خان نے جب نظام ٹھیک کرنے کا سوچا تو ہر ادارے میں براجمان اپوزیشن کی قیادت نے برا منایا کیونکہ عمران خان کے آنے سے پہلے یہ سب پاکستان کے ”کانگڑی پہلوان“ سمجھے جاتے تھے جبکہ حقیقت میں یہ سب مافیاز ”میں بیمار آں“ کی عملی تفسیر ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply