قانون کی حکمرانی اور افواجِ عالم: تاریخی تناظر

قانون کی حکمرانی ایک بنیادی اصول ہے جو ہر فرد کی سماجی حیثیت، طاقت یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر معاشرے میں مساوات، انصاف اور جوابدہی کو یقینی بناتا ہے یہ وہ بنیاد ہے، جس پر جمہوری معاشرے استوار ہوتے ہیں اور اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کیوں اہمیت رکھتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی مساوی

Read more

آئیے جوش پر حکمت کو ترجیح دیں اور اندھی پیروی سے بچیں

تیز رفتاری سے بھاگتی اس دنیا کے لوگوں کو نئے رنگوں سے آشنا کروانے اور سماجی تبدیلی کو آگے بڑھانے میں مقبول اور متاثر کن رہنماؤں کے کردار کو کم نہیں کیا جا سکتا۔ قائد اعظم، مہاتما گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر، مہاتیر محمد اور نیلسن منڈیلا جیسی شخصیات کو سماجی انصاف، مساوات اور آزادی کے حصول کے لئے کی جانے والی انتھک اور لازوال خدمات کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ تاہم افسوس ناک بات یہ ہے کہ

Read more

کیا ملک احتجاج اور ایجی ٹیشن کا متحمل ہو سکتا ہے؟

تیز رفتار ترقی کے دور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ علم کا فہم بہت کم رہ گیا ہے جبکہ سوشل میڈیائی رابطوں اور لاتعداد پلیٹ فارمز کی وجہ سے ہر قسم کی معلومات آسانی سے میسر ہیں۔ آج ہر کوئی اپنی مرضی کا بول، بول رہا ہے، مرضی کی چیز پڑھ رہا ہے اور لکھ رہا ہے۔ لامحالہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر کوئی خود کو درست اور دوسروں کو غلط سمجھ رہا ہے۔ تلخی کے

Read more

مظلوم فلسطینیوں کی جرات مندانہ پکار

  تباہ حال علاقے میں کرب و اذیت کا شکار چند محصور روحیں بے یقینی کے عالم میں پھنسی ہوئی ہیں۔ دھوئیں اور خوف کی تیز بو سے علاقے کی آزاد ہوا بھی بھاری ہو چکی ہے، کیونکہ بم دھماکے زمین پر اور گن شپ ہیلی کاپٹر آسمان پر چیخ رہے ہیں دھماکہ خیز مواد اور گولیوں کی آوازیں کانوں کے پردوں کو چھیدتی ہیں۔ اطراف میں ہونے والی تباہی کی مستقل یاد دہانی کے طور پر ، ان روحوں

Read more

فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس: عوام اور سیاست دانوں کا کردار

موجودہ سیاسی منظر نامہ انتہائی غیر یقینی اور تقسیم کا شکار ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سب سیاست دان دستیاب طاقت اور ذاتی مفاد کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایک گروہ عوامی طاقت کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ دوسرا گروہ طاقت ور رفیق کی پشت پناہی پر نازاں ہے۔ بد قسمتی سے ملکی تاریخ کا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے بلکہ ہماری پوری تاریخ میں ایسے سیاسی رہنماؤں کی متعدد مثالیں موجود ہیں، جنہوں نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات

Read more

توانائی کا بحران اور عوام پر اثرات

بجلی، پانی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی شہریوں کا بنیادی حق ہے اور حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کریں۔ عوام کے مفاد سے براہ راست تعلق رکھنے والی سروسز کی فراہمی کو یقینی بنانے میں ہمیشہ سے حکومتوں کا اہم کردار رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں توانائی کے بحران کے سبب یوٹیلٹی بلز کے ہوش ربا ریٹس سے عوام کی بڑی تعداد براہ راست

Read more

جمہوری ممالک میں فوج کا حکومتی معاملات میں عمل دخل

جیسا کہ آج ہم جانتے ہیں کہ مسلح افواج کے سیاسی کنٹرول کی جڑیں نمائندہ جمہوریت کے تصور میں پیوست ہیں۔ اس سے مراد عوامی خودمختاری پر مبنی سویلین اداروں کی بالادستی، دفاعی اور بشمول سکیورٹی پالیسی سازی فوجی قیادت پر ہے۔ یہاں یہ قابل ِ ذکر بات ہے کہ جمہوری ریاست میں آئین، ریاست اور مسلح افواج کو دو قسم کے ممکنہ خطرات سے بچانا ضروری ہوتا ہے۔ فوجی عزائم رکھنے والے سیاستدانوں سے اور سیاسی عزائم رکھنے والی

Read more

پاکستان کے طاقت ور اداروں کا ماضی

اداروں کی موجودہ محاذ آرائی ملک کو ایک ایسی دلدل میں دھکیلتی دکھائی دیتی ہے جس کا انجام اچھا نظر نہیں آتا۔ یاد رکھیں! تمام مسائل کا حل ڈائیلاگ میں ہوتا ہے جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی مسائل میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ ہم اپنی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمارے طاقتور اداروں کا کردار کبھی بھی مثالی نہیں رہا اگر آج ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر مستقبل کے لیے بہتر لائحہ عمل تلاش کر پائیں تو شاید ہماری

Read more

کیا پاکستانی عدالتیں اپنے دائرہ کار سے تجاوز کرتی ہیں؟

عدلیہ کو مقنّنہ اور انتظامیہ کے ساتھ ریاست کے بنیادی ستونوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ عدلیہ کے بغیر ریاست کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اس لیے جس طرح مقنّنہ اور انتظامیہ کی کارکردگی ریاست کی مضبوطی پر اثرانداز ہوتی ہے اسی طرح عدلیہ کا کام بھی کسی طور نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا تھا ”تاریخ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں

Read more

اگرچہ نئے پاکستان کا سفر بہت لمبا ہے مگر قافلہ جانب منزل ہے

پارسا بھی بھٹک گئے اکثر۔ کچھ کشش تو ہے۔ گناہوں میں۔ پاکستان کے موجودہ حالات کی ایک کہاوت سے گہری مماثلت نظر آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک نوجوان کی شادی ہو گئی۔ نوجوان چونکہ باقاعدگی سے کوئی کام کرتا نہیں تھا۔ لہذا سارا دن اپنے گھر کے پاس ایک لوہار کی دُکان پر بیٹھا رہتا اور وہاں بیٹھے سوچتا رہتا کہ یہ کام بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔ ایک بار وہ اپنے سسرال والوں سے ملنے

Read more

جج صاحبان کا خط کس کے لیے بنے گا ”وبال جان“

مشہور فلاسفر افلاطون کا قول ہے کہ حاکم وقت ایک دریا کی مانند ہے اور رعایا چھوٹی ندیاں اگر دریا کا پانی میٹھا ہو گا تو ندیاں بھی میٹھا پانی دیں گی اور اگر دریا کا پانی تلخ ہو گا تو لازمی ندیوں کا پانی بھی تلخ ہو گا، اس کے شاگرد سقراط نے ایک بار کہا تھا کہ عدل کا قیام اسی معاشرے میں ممکن ہے جس کے افراد قدرتی صلاحیتوں کے مطابق اپنے اپنے فرائض انجام دے رہے

Read more

اپوزیشن‌کا ٹھنڈی ٹھمری پر ڈسکو‌ ڈانس

پاکستان کی موجودہ سیاسی حالت واقعی قابل رحم ہے۔ سیاسی پارٹیاں اگرچہ تین ہی قابل ذکر ہیں مگر سمندر سیاست میں تلاطم کی سی کیفیت کچھ عرصہ سے تھمنے میں ہی نہیں آ رہی، اگر مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کی بات کریں تو وہ ”ہینگ لگے نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا آئے“ کے مصداق مزے سے اہل بندوق اور اہل ترازو کی چھتری تلے چین کی بانسری بجاتے ہوئے مشکل حالات اور معاملات کی بے یقینی میں سوشل

Read more

سیاست چابک سے نہیں بلکہ لچک سے چلتی ہے

یاد رکھیں! آپ کی بات کا وزن اونچا بولنے سے کم ہوتا ہے کیونکہ بات کے موثر ہونے کا تعلق صرف استدلال سے ہے۔ اسمبلیوں میں گلا پھاڑ پھاڑ کے بولنے اور چیخ چیخ کے اپنی طاقت اور قوم کا سرمایہ ضائع کرنے والے اگر آہستگی اور دھیما پن اختیار کر لیں تو یقیناً قوم کے مینڈیٹ کا حق ادا ہو جائے گا ورنہ اک طوفان بدتمیزی برپا رہے گا۔ وہ جو سیانے کہتے ہیں کہ اچھے دوست اور مخلص

Read more

مریم نواز کے سر پر پنجاب کی چادر

سیاسی بے یقینی اور بدحال معیشت کے خطرات کے ساتھ ساتھ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں نے عوام کو مزید بد حال کر ڈالا ہے، جبکہ منہ زور مہنگائی کے باوجود نگران حکومتی وزراء کی جانب سے سرسوں کا تیل ہتھیلی پر جمانے کی کوششیں جاری ہیں، کسی کو عوام کی فکر نہیں، ورنہ وزراء کے بقول نو من تیل موجود نہ ہونے کے باوجود آج بھی رادھا ناچ رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سڑکوں اور

Read more

آنے والا وقت بہت سے سوالات کا جواب دے گا

پہاڑوں کا کیلوں کی طرح زمین میں ٹھونکا ہونا، سمندروں کا ایک مخصوص راستے پر اپنا سفر جاری رکھنا، دن اور رات کا ایک ترتیب سے ظاہر ہونا، چرند، پرند، حیوانات اور نباتات کا حکم ربی پر سر تسلیم خم کرنا، یہ سب اس کرہ ارض پر خدائی نشانیاں ہیں۔ وقت کا داروغہ ہر دم دہائی دے رہا ہے کہ زمانے کی چند سال کی کامیابی پر خوشی نہ مناؤ۔ یہ تو محض ایک دھوکا ہے مگر افسوس آج میرا

Read more

سراج الحق کی شکست کا نوحہ

الیکشن میں عجب تماشا ہو گیا۔ انسانیت کا پلڑا ہلکا ہو گیا؟ کیا یہ سچ ہے؟ یہ انہونی کب اور کیسے ہوئی؟ پاکستانی معاشرے میں ایک طرف شخصیت پرستی، کرپشن، اقرباء پروری، رشوت، سفارش، فراڈ، دھوکہ، نسلی منافرت، علاقائی تعصب، مذہبی گراوٹ، اخلاقی تنزلی، جہالت میں گھرے ہوئے افراد کا جم غفیر اور دوسری طرف مختصر سے گروہ کے ساتھ عدل و انصاف اور انسانیت کا علم بردار کھڑا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کلمہ طیبہ کے نام پر

Read more

انتخابی نتائج ماننے کا عوامی عندیہ: خوش آئند بات

عرب کے ریگزاروں میں بسنے والے ان پڑھ بدو کو جب نبی پاک ﷺ نے ایک سوچ دی تو آپ ﷺ کی ذات مبارک پر کئی نشتر چلائے گئے اور سخت اذیتیں دی گئیں۔ مگر نبی پاک ﷺ چونکہ عرب کے جاہل اور ان پڑھ افراد کی بے ترتیب زندگی کو ایک منظم زندگی میں ڈھالنا چاہتے تھے چنانچہ وسائل کی کمی اور ساتھیوں کی کمی کے باوجود لمبے عرصے کی کوشش کے بعد آپ ﷺ ان نفوس کی زندگی

Read more

سیاسی میوزیکل چیئر میں باری کبھی بھی آ سکتی ہے

سر زمین پاکستان پر ایک لمبے عرصے تک معصوم سسکیوں اور ناتمام حسرتوں کا رومانس چلتا رہا ہے جبکہ دوسری طرف اقتدار میں شراکت داری کے لیے سرگرداں اشرافیہ نے اپنی عمدہ اداکاری سے کئی عشروں تک بے چارے عوام کو بے وقوف بنائے رکھا۔ بد قسمتی سے اس بھیانک سفر کے دوران یہاں بسنے والوں کے لیے شب و روز ایک ہی انداز میں طلوع اور غروب ہوتے رہے ہیں۔ نہ کسی کی جواب دہی ہوئی، نہ سرزنش ہوئی

Read more

سانحہ 9 مئی اور پی ٹی آئی کا پلان سی

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت سی سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی گئی جن میں اے این پی بھی شامل ہے، مگر اے این پی کی سیاسی قیادت نے عمدہ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے اپنے ووٹرز کو قابو میں رکھا اور سیاسی مخالفین کے لئے سیاسی میدان خالی نہیں چھوڑا۔ جب 12 اکتوبر 1999 ء کو منتخب وزیراعظم کو برطرف کر کے اقتدار پر پرویز مشرف قابض ہوئے تب طیارہ ہائی جیکنگ سازش کے پیش نظر مسلم لیگ

Read more

پی ٹی آئی کی مظلومیت اور حقیقت

آج ملک میں ایک عجیب سی فضا بنی ہوئی ہے۔ سیاسی سٹیج کے سبھی اداکار اپنے اعمال اور اپنی روٹی کا حساب دینا پسند نہیں کر رہے۔ عشرے بیت گئے، نسلیں جوان ہو گئیں مگر اب تک اختیار اور پیٹ کی بھوک ختم نہیں ہوئی۔ ”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے۔ بہت نکلے میرے ارماں، لیکن پھر بھی کم نکلے“ ۔ سچی بات ہے کہ میدان کے باہر بیٹھ کر ”ہدایت کاری“ کرنا بہت آسان، مگر میدان میں

Read more

کیا پاکستانی معاشرہ سٹاک ہوم سنڈروم کا شکار ہے؟

نفسیات کی دنیا میں کئی دہائیوں سے ایک اصطلاح، سٹاک ہوم سنڈروم اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے جس کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ مسلسل تناؤ، انحصار اور بقا کے لیے تعاون کرنے کی ضرورت کے نتیجے میں یرغمال بنائے گئے قیدی کا اغوا کنندہ سے جذباتی لگاؤ کا ہونا، سٹاک ہوم سنڈروم کہلاتا ہے۔ سٹاک ہوم سنڈروم، اسیر ہونے کا ایک نفسیاتی ردعمل ہے۔ سٹاک ہوم سنڈروم والے لوگوں کا اپنے اغوا کاروں کے ساتھ کچھ

Read more

امریکی سازش سے امریکی حمایت تک کا سفر

عرب کے ریگزاروں میں بسنے والے ان پڑھ بدو کو جب نبی پاکﷺ نے ایک سوچ دی تو خدا کی پناہ! کیا کیا خطابات اور القابات سے آپﷺ کی ذات مبارک پر نشتر چلائے گئے۔ کن کن اذیتوں سے گزارا گیا اور جگہ جگہ مسائل کے جو انبار لگائے گئے وہ ایک الگ داستان ہے۔ نبی پاک ﷺ کی اس تحریک کا مقصد، ان پڑھ اور جاہل افراد کی زندگی کو نیا فلسفہ حیات دینا اور ریگستان عرب کی بے

Read more

امریکی سازش سے امریکی حمایت تک کا سفر

کسی دانش ور نے کہا ہے کہ جب آدمی حد سے بڑھ جاتا ہے اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انسانوں کا خدا بننے کا خواہشمند ہوتا ہے تو دراصل اس طرح وہ طاغوت کی راہ میں لڑ رہا ہوتا ہے جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ”ایماندار لوگ وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں“ ۔ تاریخ انسانی ایسے بے شمار ہیروز

Read more

امریکی سازش سے امریکی حمایت تک کا سفر

خواب وہ نہیں ہوتے جو آپ سوتے میں دیکھتے ہیں بلکہ وہ ہوتے ہیں جو آپ کو سونے نہیں دیتے۔ ہر انسان جب اس زمین پر آتا ہے تو اس کے لیے بھی دوسرے لوگوں کی طرح مختلف شکلوں اور مقداروں میں مسائل اور وسائل موجود ہوتے ہیں جن کو عقل کے استعمال سے اپنے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنانے کا اختیار، اس کے پاس ہوتا ہے۔ آج کے مادی دور کا کامیاب انسان وہ ہے جو کروڑوں لوگوں

Read more

کیا مختاراں مائی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک ہی کہانی تو نہیں؟

پاکستان کے سیاسی افق پر چند سال پہلے مدینہ کا چاند نظر آنے پر تشکیل ریاست مدینہ کا نعرہ بلند ہوا۔ آج تین سال بعد سیاست میں نئی جہت لانے والے کپتان نے ریاست مدینہ کی جانب گامزن قافلے کا رخ ٹی وی ڈراموں اور سوشل میڈیا کی طرف موڑ دیا ہے۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سوشل ایپ ٹک ٹاک جوائن کر لی جبکہ وزیر اعظم نے ریاست مدینہ کی تشکیل کے لیے کامیاب راستہ ٹی وی ڈراموں کو

Read more

بدلا بدلا ہے عمران خان

خود اعتمادی کی دولت یقیناً ایک بہترین ہتھیار ہے جس کی مدد سے آگے بڑھنے کے راستے آسان ہوتے جاتے ہیں اور یہ سچ ہے کہ انسان اپنی زندگی کے سفر میں بہت سے تجربات سے گزرنے کے بعد ہی اعتماد کی دولت سے نوازا جاتا ہے۔ آج کل ساری دنیا نے جس شخص کو موضوع بحث بنایا ہوا ہے اس کا سبب پراعتماد رویہ ہی ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان جس جرات اور بہادری کے ساتھ امریکہ

Read more

فرید پراچہ کی ”عمر رواں“

انسان اس دنیا میں ایک مقصد دے کر بھیجا گیا تھا مگر افسوس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس نے دنیا کی آسائشوں سے آسودگی حاصل کرنا شروع کردی اور یوں اپنے مقصد عظیم سے منہ موڑ لیا۔ یہ کہانی اس کرہ ارض پر بسنے والے اکثر لوگوں کی ہے مگر جن لوگوں نے بے آرامی کو آرام پر ترجیح دی اور سہل راستہ اختیار کرنے کی بجائے مشکل منزلوں کا انتخاب کیا تو گویا انہوں نے اپنے رب کی

Read more

ریاست مدینہ یا ریاست یثرب کا سفر

ہماری قوم کے نصیب بھی کیا عجیب ہیں۔ نصیب لکھنے والے نے نصیب بنانے اور سنوارنے کے لیے بندے پیدا ہی نہیں کیے۔ اب پتا چلا کہ چند سال پہلے تبدیلی کے نام پر پڑھایا جانے والا نیا سبق دراصل مغربی تھنک ٹینک کی اختراع تھی جس میں کرپشن، میرٹ اور دیگر خرابیوں کے خلاف جہاد کے ساتھ ریاست مدینہ کی پیوند کاری بھی کی گئی تھی۔ بچارے عوام نے کرپشن فری پاکستان، میرٹ، گرین پاسپورٹ کی عزت، وسیع روزگار

Read more

کس۔ نے تمہیں اے سی لگایا؟

ایک استانی نے اپنی کلاس کے بچوں کو ایک نامکمل فقرہ دیا جس کو ہر بچے نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق مکمل کیا۔ نامکمل فقرہ یہ تھا ”ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے“ ۔ اب آپ بچوں کے مندرجہ ذیل جوابات دیکھیں۔ ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے پھر بھی وہ بڑا آدمی بن جاتا ہے۔ ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جس سے ہوشیار رہنا بہت ضروری ہے۔ ہر

Read more

مشکل میں ہیں مزدور کے حالات

قدرت نے اس زمین کی افزائش اور پھر اس کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے مختلف افراد پر ان کی صلاحیتوں کے مطابق ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا اور یوں دنیا میں پہلی بار حاکم اور محکوم، آ قا اور غلام کا تعلق متعارف ہوا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی کی اس دوڑ میں کسی نے آگے نکل جانا ہے اور کسی نے پیچھے رہ جانا ہے مگر ماہرین نے کاروبار زندگی میں پسے، بجھے، بے توقیر، بے

Read more

ذہنی و جسمانی صحت کا حصول کیسے ممکن بنائیں؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج کا انسان بہت مصروف ہو گیا ہے اور ستم یہ کہ اس مصروفیت نے اس کی ترجیحات بھی بدل دی ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو پرانے وقتوں میں لوگوں کو خوشیاں تلاش کرنے کے لیے پیسے نہیں خرچ کرنے پڑتے تھے، سکون حاصل کرنے کے لیے سکون آور گولیاں نہیں کھانی پڑتی تھی اور صحت و تندرستی کے لیے جم نہیں جانا پڑتا تھا۔ ان لوگوں کا طرز زندگی اس طرح کا تھا کہ یہ سب چیزیں ان کو بکثرت دستیاب تھیں مگر چونکہ موجودہ دور میں انسانی ترجیحات بدل چکی ہیں لہٰذا صحت، خوشیاں اور سکون سے زیادہ اہمیت پیسہ کمانے کو مل گئی ہے۔

Read more

پاکستانی سیاست میں مفادات اور تضادات کا کھیل

مفادات کا عجیب جمعہ بازار لگا ہوا ہے۔ مفادات میں تضادات نے ایک عجیب بھونڈی صورت اختیار کر رکھی ہے ۔ الغرض ہر قانون ساز اسمبلی میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج نظر آتا ہے۔ مفادات و تضادات کے اس چکر میں نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی مشینری بھی بری طرح گھری نظر آتی ہے۔ کبھی پنجاب میں باہمی رضامندی سے سینٹ الیکشن بھگتا لیا جاتا ہے تو کبھی اپوزیشن لیڈر سینٹ کے الیکشن میں ’باپ‘

Read more

اپوزیشن کی لڑائی اور حکومتی پالیسی میں تبدیلی

کائنات میں حسن اور توازن کا سبب پیار، محبت اور ایثار ہیں۔ انسانوں کے باہمی تعلق کو ایک خوبصورت حدیث سے سمجھاتا ہوں۔ نبی پاکﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان بھائی محفوظ ہو۔ دوسری جگہ ارشاد نبیﷺ ہے کہ تم اپنے دو جبڑوں کے درمیان کی چیز کی ضمانت دے دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ سبحان اللہ، یہ فرمان مصطفی ہے جس کے ہم

Read more

سوشل میڈیا: موجودہ دور کا مؤثر ہتھیار

ہر دور میں طاقتور اور کمزور میں مقابلہ رہا ہے اور اس لڑائی میں کامیابی کے لیے مروجہ ہتھیاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ ہر دور میں کامیابی کے لیے درکار ہتھیاروں میں تبدیلی آتی رہی۔ اس زمین نے اپنی پیدائش سے لے کر آج تک بے شمار انقلابات دیکھے ہیں۔ اس زمین میں ان حکومتوں کے خلاف عوامی انقلاب برپا ہوا جن کی بنیاد حسب، نسب اور طاقت پر رکھی گئی تھی۔ زمین کی تاریخ میں چند وقفوں کے

Read more

دیہاڑی باز پاکستانی سیاست دان

شیخ سعدی ؒ کہتے ہیں کہ ایک بار وہ شہر ”دیار بکر“ میں ایک بڈھے کے مہمان تھے جس کے پاس بے انتہا دولت تھی۔ اس کا ایک خوبصورت لڑکا بھی تھا جس سے اس کا باپ بے پناہ محبت کرتا تھا۔ ایک رات وہ امیر بڈھا آدمی کہنے لگا میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں کہ میرے شہر کے ساتھ جنگل میں ایک درخت تھا جو درختوں میں اضافہ کی وجہ سے کہیں گم ہو گیا ہے۔ ارد گرد کی آبادی اس درخت کو مبارک سمجھتے ہوئے مرادیں مانگنے وہاں جاتے تھے۔

میری کوئی اولاد نہ تھی چنانچہ میں بھی اس غرض سے وہاں گیا۔ میں نے کئی راتیں اس درخت کے پاس بیٹھ کر خدا کے حضور روتے ہوئے گزاری، تب کہیں جا کر میری مراد پوری ہوئی اور مجھے یہ فرزند نصیب ہوا۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ میں نے اگلے دن لوگوں سے سنا کہ وہ خوبصورت لڑکا اپنے دوستوں سے چپکے چپکے سے کہتا ہے ”اے کاش! مجھے اس درخت کا علم ہوتا تو میں وہاں جا کر دعا کرتا کہ اس بڈھے سے میری جان جلد چھوٹ جائے۔“

Read more

اب ایسا نہیں چلے گا

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس کرۂ ارض پر بسنے والوں کی اکثریت کسی نہ کسی نبی کی پیروکار رہی ہے جن کی تعلیمات میں اخلاقیات کو انسانیت کی معراج بتایا گیا۔ بیان قرآن و پیغام خداوندی، فرمان نبیﷺ اور تعلیمات فقراء و آئمۂ کرام ازل سے ابد تک زمین میں بسنے والے سب انسانوں کے لیے امن، محبت اور سلامتی کا درس دیتی نظر آتی ہیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ”ارزاں کیوں ہے خون انسانی“

Read more

پاکستانی سیاست کے ”میں بیمار آں“

اس خاکدان ارضی پر بے شمار قوتوں نے مختلف ادوار میں اپنی فتوحات کے جھنڈے گاڑھے اور پھر آنے والے نئے فاتح کے لیے جگہ خالی کر دی۔ یہاں کبھی اہل روم کا ڈنکہ بجا، کبھی اہل یونان کا طوطی بولا، کبھی بنی اسرائیل نے اپنی حماقتوں کا ثبوت دیاتوکبھی بنی اسماعیل نے زینت بڑھائی۔ کبھی عجمیوں نے محفل سجائی، کبھی مصریوں کے زور بازو کو آزمایا گیا، کبھی تاتاریوں کی وحشت نظر آئی توکبھی عرب جلوہ افروز ہوئے، کبھی

Read more

خوشیاں کیسے ملتی ہیں؟

روز ازل سے ابد تک کچھ فیصلے اٹل ہیں، کچھ تصویریں مکمل اور کچھ نامکمل ہیں، کچھ رویے بولتے ہیں،  کچھ صرف محسوس ہوتے ہیں، کچھ باتیں طے ہیں اور کچھ کی گتھی سلجھائی جا رہی ہے۔ ان سب حالات، واقعات اور وسائل کے اندر رہ کر ایک انسان کو اپنی زندگی گزارنا ہوتی ہے۔ اگر ہم آفاقی اور زمینی حقیقتوں کو سمجھ جائیں گے تو کامیاب ورنہ ناکام کہلائیں گے۔

Read more

پاکستانی قوم کے لیے لمحہ فکریہ

مشہور انگریزی شاعر ولیم بلیک نے کہا ہے ”عظیم کام اس وقت ہوتے ہیں جب انسان اور پہاڑ ملتے ہیں جبکہ کوئی بھی عظیم کام سڑکوں پر دھکم پیل کرنے سے نہیں ہوتا“ ۔ قومیں اگر ٹھیک وقت پر صحیح اور بر وقت فیصلے کر لیں تو وہ اپنے مستقبل کو محفوظ کر سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ اچھے فیصلے کرنے کے لیے زندگی کی حقیقتوں کو جاننا ضروری ہوتا ہے۔ پہاڑوں کو سر کرنا، چوٹیوں کو سرنگوں کرنا اور بلندیوں کو حاصل کرنا ہی زندگی کو بامقصد بناتا ہے جبکہ سڑکوں پر شور و غل کرنے، جلسے جلوسوں میں زبانی جمع خرچ کرنے سے کبھی بھی بڑے مقاصد حاصل نہیں ہوتے بلکہ ایسا کرنے سے صرف اجتماعی کثافت میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔

Read more

قوموں کی زندگی میں مسلسل کوشش کی اہمیت

ایک شخص سمندر کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ دور ایک نوجوان ساحل کے ایک خاص حصے پر بار بار نیچے جھکتا، کوئی چیز اٹھاتا اور اس کو سمندر میں پھینک دیتا۔ چلتے چلتے وہ نوجوان کے قریب پہنچ گیا۔ اب وہ کیا دیکھتا ہے کہ ساحل کے اس حصے میں سمندر کنارے ہزاروں مچھلیاں تڑپ رہی ہیں شاید کسی بڑی موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پر لٹا دیا ہے اور وہ نوجوان

Read more

کیا اپوزیشن ملک میں انارکی پھیلانا چاہتی ہے؟

پاکستانی سیاست کا المناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو اسلامی معاشرے میں رہتے ہوئے اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دنیا کی چالبازیوں کو بھی ذہن میں رکھنا پڑتا ہے اس دوہرے معیار نے قوم کو نمونے ہی دیے ہیں جو دلوں میں بغض، پیٹ میں حرام اور کعبہ کا طواف پر طواف۔ کعبہ خود چکر میں ہے کہ یہ لوگ کس چکر میں ہیں اور یوں چند دنوں میں ہی ان اچھے انسانوں کی اخلاقی قدریں اور انسانیت کا درد، سیاسی رنگ بازیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔

Read more

بنتے ہوئے بندوں کو خدا دیکھ رہا ہوں

بارش کا ننھا قطرہ جب بادل سے ٹپکا تو نیچے گرتے ہوئے اس نے سمندر کی چوڑائی دیکھی تو شرمندہ ہوتے ہوئے دل ہی دل میں کہا ”سمندر کے سامنے میری کیا حیثیت ہے؟ اس کے ہوتے ہوئے تو میں نہ ہونے کے برابر ہوں“ ۔ اسی دوران اس گرتے ہوئے قطرے کو ایک سیپی (صدف) نے اپنے منہ میں لے لیا اور کچھ عرصہ دل و جان سے اس کی پرورش کی۔ تھوڑے ہی دنوں میں یہ قطرہ ایک

Read more

پاکستان کی سیاسی، مذہبی اور ادبی قیادت

فائیو سٹار ہوٹل میں ننھے بچے کو بھوک لگی تو ماں نے ایک کپ دودھ کے سو روپے ادا کیے۔ راستے میں بچہ بھوک سے دوبارہ بلک پڑا۔ گاڑی روک کر ایک ڈھابے والے سے جب دودھ لیا تو پیسے پوچھنے پر اس بچے کی ماں کو جواب ملا ”بیٹی! ہم بچے کے دودھ کے پیسے نہیں لیتے، اگر ضرورت ہے تو اور بھی مل جائے گا“ ۔ ڈھابے والے بوڑھے کے چند الفاظ سن کر وہ امیر زادی چند

Read more

کشمیر کی پکار

جس طرح پانی کے حیات آفریں قطرے، چمنستانوں کی آبیاری کر کے ان کو سیراب و شاداب کرتے ہیں اور پھر اشجار چمن اپنی گل فشانیوں کے ذریعے سے سامان بہاراں کا سبب بنتے ہیں، اسی طرح وہ مظلوم بندگان خدا، جو کسی عظیم اور اعلیٰ مقصد کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر شہادت کا رتبہ حاصل کرتے ہیں وہ نہ صرف خود کامیاب و کامران ہوتے ہیں بلکہ اپنی قوم اور نسل کی مستقل بقا و استحکام

Read more

بدلتی دنیا کی دو مقبول کہانیاں

وقت کے ہاتھوں میں زندگی کی ڈوریں تھمانے، ہواؤں کے رخ پر بہنے اور اس بہتے پانی کا حصہ بننے سے شاید وقتی طور پر آسودگی کے چند ناپائیدار لمحات میسر آ جائیں مگر مستقل کامیابی کے لیے چند دوسری حکمتیں اور تدبیریں کام آتی ہیں۔ ہمیشگی کا احساس ایک دلفریب نغمہ ہے جس کو سننے کو ہر کان بیتاب ہے مگر ہمیشگی کے حصول کے راستے پر چلنا، فی زمانہ پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے۔ عارضی نفع

Read more

حکومت اور بیوروکریسی کا قبلہ درست ہونا ناگزیر

رسم بدلی، رواج بدلا، نئے انداز نے زمانے کا چلن بدلا۔ افراد کی تعداد پر جنگیں لڑی جاتی تھیں، ساز و سامان کی کثرت فتح و شکست کا فیصلہ کرتی تھی۔ حالات نے کروٹ لی تو ذہن کی بلند پرواز  نے سوچ کو نیا رنگ دیا اور پھر معیشت نے سب کو پچھاڑ دیا۔ اب جس ملک کی اقتصادی حالت اچھی ہے وہ ترقی کے زینے طے کرتے ہوئے دنیا میں عزت پا رہا ہے۔ اقتصادیات کی اس جنگ میں

Read more

عمران خان: ایک جنگجو اور دلیر کپتان

تاریخ انسانی ایسے بے شمار ہیروز سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں چند ایسے کام کر ڈالے کہ جن کا تصور بھی محال تھا۔ بعض کے اٹھائے گئے اقدامات نے آئندہ آنے والی نسلوں کو صدیوں تک اپنے کاموں کے ثمرات سے سیراب کیا اور کچھ کے فیصلوں نے انسانی تاریخ کا دھارا ہی بدل ڈالا۔ انہوں نے زمانے کوایک نئی سوچ بخشی اور ان دیکھی منزلوں کے لیے نئے راستے دریافت کیے ۔ مگر یہ وقت

Read more

پرائم منسٹر سٹیزن پورٹل سے کون خوفزدہ ہے؟

پاکستان میں مختلف ادوار میں ہر عوامی یا فوجی حکومت کی کوشش رہی ہے کہ چند ایسے کام ضرور کرے جن کی وجہ سے عوام کو ریلیف مل سکے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سب سے پہلے غریبوں کے لیے ”روٹی، کپڑا اور مکان“ کا نعرہ لگایا پھر ملک کے نادار اور غریب لوگوں کی مالی مدد کے لیے ”بینظیر انکم سپورٹ پروگرام“ متعارف کروایا گیا۔ قاف لیگ نے اپنے دور میں بے شمار ترقیاتی کام کروانے کے علاوہ ”1122“

Read more

امن و سلامتی اور بین المذاہب ہم آہنگی

ہمارے نظام تعلیم میں صرف ڈگریاں بانٹی جا رہی ہیں اور تربیت کا عنصر بالکل غائب ہے بلکہ یوں کہیں کہ تعلیم و تربیت کی اصل روح کا فقدان ہے دوسری طرف ہمارے انصاف کے اداروں میں اتنی سکت نہیں کہ وہ جرائم کا مکمل خاتمہ کر سکیں جبکہ مذہبی ادارے بھی بد قسمتی سے معاشرے کے آلودہ ماحول سے متاثر ہونے کی وجہ سے اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ دشمن قوتوں کے لیے ایسے حالات ہمیشہ اچھے اور سازگار ہوتے ہیں چنانچہ اس ابتر صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے مفاد پرست سیاسی، مذہبی اور ادبی ٹولے مختلف لسانی، علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر اپنا کھیل کھیلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

Read more

وزیراعظم صاحب! لفاظی کافی نہیں ہے

ایک شخص صدا لگاتا ہے کہ کون ہے جو انسانی کردار کی سر بلندی کے لیے میرے ساتھ چلے گا۔ اس آواز پرحالات کے جبر کے ہاتھوں پسے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد لبیک کہتی ہے اور یوں ایک ”نئے پاکستان“ کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ اگر ہم اس نئے دور کے پہلے اڑھائی سال کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ اداراتی اصلاحات، ہر گھر کی دہلیز پرانصاف کی دستیابی، اچھی صحت سب کے لیے، تعلیمی

Read more

اپوزیشن کی ترجیحات میں کورونا کی تباہ کاریاں شامل نہیں

قائد اعظم کا فرمان ہے ”مسلمان نوجوانو! اس امر کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھو کہ آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کی باگ ڈور کل آپ کے ہاتھ میں ہو گی۔ کیا آپ صاحبان نے اپنے آپ کو اس جانشینی کے لیے تیار کر لیا ہے؟ کیا آپ نے ایسی تربیت اور ایسا نظم حاصل کر لیا ہے کہ اس عظیم ذمہ داری کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں؟ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو آج ہی اس کی ابتدا کر دیں۔ ایسا کرنے کا وقت اب ہے خدائے تعالی آپ کو کامیاب کرے“ ۔

آج ضرورت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے محبوب قائد کے اس فرمان کو ذہن میں رکھ کر سوچے کہ موجودہ ملکی حالات کی پکار کیا کہتی ہے؟ کورونا کی للکار کیا کہتی ہے؟ اپوزیشن کی پھنکار کیا کہتی ہے؟ این آر او کی جھنکار کیا کہتی ہے؟ اب پاکستانیوں کو بتانا ہوگا کہ کیا ہم دوستوں اور دشمنوں کی پہچان رکھتے ہیں؟ کیا ہم کھوٹے اور کھرے کے فرق کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم سفید اور سیاہ کو الگ کر سکتے ہیں؟ یاد رکھیں! تربیت مکمل ہوتی ہے یا نامکمل ہوتی ہے، درمیان میں کچھ نہیں ہوتا۔

Read more

احتسابی عمل سے وابستہ امیدیں

دنیا کے ہر ملک کی اپوزیشن ہمیشہ ایک تعمیری اور مثبت سوچ کے ساتھ حاکم وقت کی اصلاح اور ملکی مفاد کی حفاظت کرتی ہے۔ غیر ممالک میں حکومت اوراپوزیشن کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہاں ہمیشہ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر سیاست کی جاتی ہے اورقومی ترجیحات، ذاتی ترجیحات پر غالب نظر آتی ہیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں پچھلے ستر سالوں سے کوئی بھی رہنما مثبت سوچ اور ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر سوچنے پر تیار نہیں تھا اور عوام کے حصے میں صرف تلخی وقت کے کڑوے گھونٹ پینے کو آئے۔

Read more

سچے افراد کی کمی ہو تو ایسی اقوام کسی کی آئیڈیل نہیں ہوتیں

قدیم معاشرت کے زیر اثر شخصیت پرستی کی لعنت نے کبھی ہمارا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس خطہ زمین کے چھوٹے ذہن، چھوٹی سوچ اور ذات کے دائرے کے اندر رہنے والے غلام لوگ ہمیشہ سے بت پرستی (شخصیت پرستی) جیسے شرک اور لعنت کے گرویدہ رہے ہیں۔ پاکستان بھی اس خطے کا ایک حصہ ہے کل جب جنرل ایوب خان اس ملک کا صدر تھا تو ہر جگہ ”ایوب خان“ شاباش، واہ واہ، تعریف، خوشامد ”۔

Read more

میڈیا کے میر جعفر اور میر صادق

(محترم عمران امین صاحب کو اپنی بات کہنے کا مکمل حق ہے۔ محض یہ نشاندہی کرنا مقصود ہے کہ صحافیوں کی رٹ پٹیشن میں نواز شریف یا کسی دوسرے سیاسی رہنما کا کوئی نام نہیں۔ و – مسعود) اللہ نے انسان کو فیصلے کا اختیار دیا ہے کہ وہ انا اور خود داری کے ساتھ زندگی گزارنا پسند کرتا ہے یا غلام بننا پسند کرتا ہے۔ حق کا علمبردار بنتا ہے یا بے ایمانی، جھوٹ، خود غرضی اور مفاد پرستی

Read more

فردوس عاشق اعوان کے سر پر پنجاب کی پگ

ابد قسمتی سے موجودہ وقت میں ایک دوسرے کو نیچا گرانے کی دوڑ، انفرادی اور شخصی مفادات کا تحفظ، کرپشن کی داستانیں، بے اصولی کا چلن اور ایسے ہی بے کار مقابلوں میں نام نہاد سیاسی و مذہبی قیادت کی ساری قوتیں صرف ہو رہی ہیں۔ پچھلی اور موجودہ حکومتی کارکردگی پر تنقید، الزام تراشیاں اور لڑائی جھگڑے کی ساری صورتحال میں اگر بات نہیں ہوتی تو اپنی اپنی ذمہ داریوں کی بات نہیں ہوتی جبکہ دوسری طرف ملک میں

Read more

پاکستان کا مستقبل روشن ہے

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ طبعی حالات، جغرافیائی محل وقوع، رنگ، نسل، زبان اور رسم و رواج کے اختلافات کی بنا پرانسان مسلسل مختلف گروہوں میں تقسیم ہوتا گیا اور یہ تقسیم انجام کار اتنی مستقل ہو گئی کہ اس کے نتیجے میں ملکوں اور قوموں کا وجود عمل میں آ گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ انسان نے دوسرے انسان کو اپنا بھائی سمجھنے کی بجائے دشمن خیال کرنا شروع کر دیا بلکہ اس سے

Read more

عوام کے فیصلے کا وقت آن پہنچا

ہمارے ہاں ایک پارٹی نے احتساب کا نعرہ لگایا اور اقتدار پایا جبکہ دوسری پارٹیوں نے اپنے ماضی کے کارنامے گنوائے اور عوام سے جوتے کھائے۔ اس بار قیادت نئی ہے مگر ساتھ میں وہی سیاسی بھانڈ، ابن الوقت اور مالشیے، جو کبھی اس تھالی کے بینگن اور کبھی اس تھالی کے۔ آج ادھر سر تسلیم خم اور کل ادھر ویلکم (Welcome) ۔ مگراس بار ایک بات تو طے ہے کہ جس نے بھی بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئے ہیں وہ اپنے کیے کی سزا پاکر رہے گا۔ اب تک موجودہ حکومت نے بیرونی دنیا کی چالوں کو تو کامیابی سے بے نقاب کرتے ہوئے ناکام کیا ہے مگر ذہن میں رہے کہ اصل خطرہ اندرونی سازشوں اور سازشیوں سے ہے۔

Read more

پاکستانی سیاست کے خطرناک مغالطے

شاگردوں نے استاد سے پوچھا، ”مغالطہ سے کیا مراد ہے؟“ استاد نے کہا کہ میں ایک مثال دیتا ہوں۔ دو مرد میرے پاس آتے ہیں جن میں سے ایک صاف ستھرا اور دوسرا گندا ہے۔ میں ان کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ غسل کر کے پاک صاف ہو جائیں۔ آپ بتائیں کہ ان میں سے کون غسل کرے گا؟ شاگردوں نے فوراً کہا، ”گندا مرد“۔ اس پر استاد بولا، ”نہیں بلکہ صاف مرد غسل کرے گا، کیوں کہ اسے نہانے کی عادت ہے، جب کہ گندے مرد کو صفائی کی قدر و قیمت معلوم ہی نہیں، لہذا اب بتاؤ کہ کون نہائے گا؟ سب نے کہا، “گندہ”۔ استاد مسکرائے اور جواب دیا، “دونوں نہائیں گے، کیوں کہ صاف مرد کو نہانے کی عادت ہے اور گندے کو نہانے کی ضرورت ہے”۔

استاد نے ایک بار پھر پوچھا کہ اب کون نہائے گا؟ شاگردوں کا اس بار مشترک جواب تھا، “دونوں”۔ جواب سن کر استاد نے کہا کہ کوئی بھی نہیں نہائے گا، کیوں کہ گندے مرد کو نہانے کی عادت نہیں، جب کہ صاف کو نہانے کی حاجت نہیں۔ استاد کے ہر بار ایک الگ جواب سے شاگرد پریشان ہو گئے بولے، “آپ ہر بار الگ جواب دیتے ہیں اور ہر جواب درست معلوم ہوتا ہے۔ آپ ہی بتائیں کہ ہمیں درست بات کیسے معلوم ہو؟” اس پر استاد نے کہا، “مغالطہ یہی تو ہے”۔

Read more

پاکستان میں رائج فیملی پارٹی سسٹم

ایک مغربی مفکر کے بقول ”اچھا سپاہی جنگ کے پہلے ہی دن لڑ کر مر نہیں جاتا، بلکہ وہ زندہ رہتا ہے، تا کہ دشمن سے اگلے دن لڑ سکے“۔ وہ لڑنے آیا، تماشائی آئے اور میدان سجا۔ لڑائی کا پہلا دن، پر جوش نعرے اور ولولہ انتہائی عروج پر، ہر طرف چہل پہل اور مبارک باد کے پیغامات مگر یہ کیا کہ تماشائی آہستہ آہستہ منظر سے سرکنے لگے۔ غائب ہوتے سایوں نے سب کے چہروں پر تفکر پیدا کر دیا۔ تقریر نے مایوس کیا، بد ظن کیا اور بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔

ہماری مسلح افواج، ہمارے سر کا تاج، سرحدوں کی امین، عوام کی جان، دشمن کے لیے وبال جان، خود داری کا نشان اور اسلام کا فرمان۔ اللہ اللہ کیسے دن آ گئے، جب اپنے ہی محسنوں پر تیر اندازی کی جانے لگی۔ جس انگلی کو پکڑ کر چلنا شروع کیا تھا آج وہ انگلی ہی بوجھ لگنے لگی۔ ارے صاحب، ہم لوگ کیا جانیں! طاقت کی محبت اور محبت کی طاقت میں فرق۔ غلام ذہنوں کے زیر اثر ہم نے عقیدت، پرستش، اندھے اعتقاد و احترام اور شخصیت پرستی کی کالی پٹی اپنی آنکھوں پر باندھ رکھی ہے۔

Read more

سب سے پہلے پاکستان تو عمران خان واحد چوائس

قدرت کے بہت سے قوانین میں سے ایک قانون، زندہ چیزوں کے ساتھ ساتھ بے جان چیزوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون کے مطابق ہر چیز کو حاصل کرنے کی ایک قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے، مطلوبہ چیز کا حصول تقریباً نا ممکن ہوتا ہے۔ پھولوں کی ایک بیل، مہینوں میں پھیلتی ہے اور مہینوں قائم رہتی ہے، جب کہ ایک درخت برسوں میں تیار ہوتا ہے اور سالہا سال اپنے سائے سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ قوموں کی تعمیر بھی ایک عظیم مقصد ہے، اور اس مقصد کے حصول میں توسیع کی بجائے، استحکام کے پہلو کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ استحکام کے بغیر توسیع کی مثال، ایسے ہی ہے جیسے بنیاد کے بغیر کسی بھی مکان کی تعمیر۔

پاکستان موجودہ وقت میں بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ مسائل کے گرداب سے نکلنے کے لئے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے۔ سال 2020ء پاکستانی تاریخ کا ایک اہم سال، جس کا اختتام بہت سی تبدیلیوں اور بدلتے رجحانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ نئی سوچ اور نئے نظام میں احتساب کے خدشات نے مملکت پاکستان کے مختلف اداروں اور حلقوں میں خوف، دہشت اور تذبذب کی کیفیت پیدا کر دی ہوئی ہے، چناں چہ اس نئی سوچ اور نئے نظام کو نا کام بنانے کے لئے تمام اداروں میں شامل بد عنوان عناصر، بشمول سیاسی و مذہبی قائدین کی فوج اور حکومتی بس کے مسافر بھی اپنی پوری توانائیاں اور وسائل استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Read more

اپوزیشن کی اصلیت اور عوام کی ذمہ داری

جب انسان نے اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر، دوسرے انسانوں کا خدا بننا چاہا، تو اس قدر تباہی ہوئی کہ اس عمل نے انسانوں کو درندوں اور بھیڑیوں کے مقام پر کھڑا کر دیا۔ کسی نے غالباً اسی انسانی جذبہء انتقام سے متاثر ہو کر کہا تھا کہ ”درختوں کی شاخوں پر بیٹھے ہوئے بندروں نے زمین پر انسانوں کے ہاتھوں، انسانوں کے قتل و خون ریزی کا بازار گرم دیکھا، تو بے اختیار ان کے منہ سے نکلا: خدا کا شکر ہے کہ ہم ارتقا (EVOLUTION) سے بچ گئے۔“

فرمان نبیﷺ ہے ”تم میں سے بہترین وہ ہے، جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔ ثابت یہ ہوا کہ طاقت، امارت، عہدہ، مرتبہ، نسبت، رنگ اور نسل کی بنیاد پر کوئی اچھا یا برا نہیں ہو گا۔ اچھا بننے کی کسوٹی ان سب چیزوں سے مبرا ہے۔ نہ سپر نیچرل ہونے کی ضرورت ہے اور نا ہی میٹا فزکس کی کسی تھیوری کو پڑھنے کی۔ سادہ سی بات ہے کہ جس کی ذات دوسرے انسانوں کے لیے فائدہ مند ہو گی، وہ افضل ہے۔ اللہ کا یہ قانون عام آدمی کے لیے بھی ہے اور حکمرانوں کے لیے بھی۔

Read more

ووٹ کے ساتھ کورٹ کو بھی عزت دو

پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے حالیہ بیانات پیش خدمت ہیں۔ آصف علی زرداری فرماتے ہیں، ”آج شہباز شریف اندر گئے ہیں، کل ہم سب نے جانا ہے اور ایک دن یہ سب تو ہونا ہے۔“ مریم صفدر کہتی ہیں، ”ہمارے خاندان کے افراد سے عدالتوں کے چکر لگوائے گئے، جب کہ فیصلے پہلے سے لکھے جاتے ہیں اور یہ گرفتاری ہونا ہی تھی۔“ آج کل اپوزیشن چیخ چیخ کر اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کو گنوا رہی ہے اور دوسری طرف نواز شریف طویل عرصے تک بیک فٹ پر کھیلنے کے بعد، دوبارہ فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا عزم رکھتے ہیں۔

ہماری چالاک اور شاطر اپوزیشن، ہمیشہ سے ایک ہی وقت میں جارح بھی ہوتی ہے اور پس پائی کرنے والی بھی۔ عوام کو دکھاتی کچھ ہے اور کرتی کچھ ہے۔ ”وہی روپ دھار لیا جو پیا من بھائے“ کے مصداق حصول مقصد کے لیے جائز اور نا جائز کام کے لیے ہمہ وقت تیار، سیاسی بازی گروں کا یہ ٹولہ، جسے عرف عام میں اپوزیشن کہتے ہیں، در اصل بے ایمان افراد کا اکٹھ ہے۔ حکومت وقت تو پہلے دن ہی سے ان کو گھاس ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتی، کیوں کہ عمران خان اپنے انتخابی نعرے ”میں ان چوروں اور لٹیروں کو رلاؤں گا“ پر پوری طرح عمل کر رہے ہیں۔

Read more

نہ رہے بانس نہ بجے بانسری

دو آدمی سڑک پر سائیکل چلا رہے تھے کہ آمنے سامنے آنے پر ایک دوسرے سے ہلکا سا ٹکرا گئے۔ ابتدائی طور پر ہلکی پھلکی سی بحث ہوئی، مگر جلد ہی بات ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ چناں چہ نتیجے میں دونوں اپنے گھر جانے کی بجائے تھانے پہنچ گئے۔ اگر اس واقعے پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ دونوں سائیکل کے ٹکرانے سے زخمی نہیں ہوئے تھے بلکہ تکرار کے بعد لڑائی کی وجہ سے زخمی حالت میں تھانے پہنچے۔ کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے، ”کوئی شخص کسی انسان کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا، جتنا وہ شخص اپنی نادانی سے خود کو پہنچاتا ہے۔“

ہماری روزمرہ زندگی میں اس طرح ہوتا ہے کہ بعض دفعہ ایک معمولی بات بڑھتے بڑھتے تلخی کی آخری حدود تک پہنچ جاتی ہے یا پھر کبھی عام سی بات بھی، اس وجہ سے بری لگتی ہے کہ بات کہنے والا نا پسندیدہ شخص ہوتا ہے۔ ایک قول کے مطابق، ”آپ دنیا سے اپنے نا پسندیدہ افراد کو نکال نہیں سکتے، البتہ ان کے ساتھ نبھا کر کے، اپنی زندگی خوش گوار کر سکتے ہیں۔“ جب کسی پر یہ حقیقت منکشف ہو جائے، تو وہ نا ممکن چٹان سے کیوں ٹکرائے گا؟

Read more

اپوزیشن کی نیت کیا ہے؟

1998 ء میں ملک کے معروف صحافی کامران خان نے میزائل سٹوری لکھی تو ایک ہلچل مچ گئی۔ مقتدر حلقوں میں بے چینی پھیل گئی اور پھر اس سٹوری پر چوہدری شجاعت حسین کے معروف الفاظ ”مٹی پاؤ“ والا معاملہ کیا گیا۔ اب تقریباً بتیس سال بعد میاں نواز شریف نے اپنے حالیہ خطاب میں اس سٹوری کی تصدیق کر دی اور بتایا کہ 1998 ء میں امریکہ کی جانب سے افغانستان پر داغے گئے چند میزائل پاکستان کے علاقے

Read more

پاکستان میں نفاذ اردو

کوئی بھی قوم ترقی کے میدان میں اس وقت تک ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتی، جب تک اس کے افراد کی غالب اکثریت زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہو۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ حصول علم کے ساتھ زبان کا گہرا تعلق ہے لہذا زبان کا انتخاب علم حاصل کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ افراد کی ذہنی سطح اور مخصوص دینی، ادبی اور ثقافتی پس منظر میں ایک قومی زبان کی تشکیل، حصول علم کو آسان

Read more

کیا پاکستانی قوم نئے پاکستان کے لیے سنجیدہ ہے؟

چینی کا بحران ہو، آٹے کا فقدان یا پٹرول کی عدم دستیابی کا طوفان ہونیزجے آئی کی پھنکار ہو، مائنس ون کی للکار ہویا کورونا کی جھنکار ہو، ہماری اپوزیشن ہر قدم پر ہر مقام پر، ہر آہٹ پر اور ہر چوکھٹ پر سجدے کے لیے بے تاب اور عمران خان سے نجات کا خواب دیکھ رہی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارا پورا معاشرہ بھی نفسا نفسی کے عالم میں گھرا ہوا ہے اور ”ہل من مزید“ سے آگے سوچ

Read more

پی ٹی آئی میں شامل عادی پیرا شوٹرز کے مائنس کا وقت

ایک طالب علم پیپر دینے کے لیے امتحان گاہ جا رہا تھا کہ راستے میں ایک جاہل لڑکے سے کسی بات پر ان بن ہو گئی اور بات اس حد تک آگے بڑھی کہ لڑائی تک جا پہنچی۔ ارد گرد کے لوگ بیچ میں آئے اور صلح صفائی ہو گئی مگر جھگڑے کو ختم کرنے میں کچھ وقت لگ گیا تھا جس کی وجہ سے طالب علم پیپر سے لیٹ ہو گیا اور یوں اس کا ایک قیمتی سال ضائع ہو گیا۔ خلیفہ حضرت عمر فاروقؓ کا قول ہے ”دانش مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلے میں خیر کو جان لے، بلکہ دانش مند وہ ہے جو یہ جان لے کہ دو شر میں سے بہتر کون ہے“ ۔

Read more

وزیر اعظم کی سٹیزن پورٹل پر ایک بار پھر توجہ

کسی بھی ملک کی ترقی میں عوامی نمائندوں اور سرکاری افسروں کی عمدہ تال میل کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ مہذب اور زندہ معاشروں میں فرض شناس اور سمجھ دار عوامی قیادت اوربیوروکریسی اپنے فرائض کی بجا آوری اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر کرتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دنیا میں ماضی یا موجودہ دور کی حاکم اقوام کو بام عروج تک لے جانے میں ان کی سیاسی قیادت اور اعلیٰ افسران کی مثبت اور دیانت دارانہ سوچ

Read more

پرسکون نیند ایک نعمت ہے

ہمارا دین مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر پہلو پر ہمیں ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور نبی پاکﷺ نے جو فرما دیا، وہ حرف آخر ہے۔ آج کی میڈیکل سائنس بھی ان فرمودات الہی اور نبویﷺ کی تصدیق کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاء کی گئی نعمتوں میں سے ایک نعمت نیند ہے۔ یہ نعمت خداوندی اس کائنات میں بسنے والے انسان، حیوان، چرند، پرند، حشرات الارض الغرض دنیا

Read more

ابن آدم پہ ہاتھ ذرا ہلکا رکھے

رب تعالیٰ نے تخلیق کائنات کے بعد دو جنسوں کو بھی تخلیق کر دیا۔ ان کی تخلیق کا مقصد ایک دوسرے کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک روا رکھنا، دکھ درد بانٹنا اور ایک اچھا رفیق بننا تھا۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مرد اور عورت انسانی زندگی کی گاڑی کے دوپہیے ہیں، کوئی بھی گاڑی ایک پہیہ سے مسافت طے نہیں کرسکتی۔ چنانچہ زندگی کے بناؤاوربگاڑمیں دونوں جنسوں کا برابر کاہاتھ ہوتاہے۔ مگر بد قسمتی سے صدیوں

Read more

ہیلن کیلر کا درد اور ہمارا معاشرہ

مارک ٹوین نے ایک بار کہا تھا ”انیسویں صدی کی دو سب سے دلچسپ ترین شخصیات نپولین اور ہیلن کیلر ہیں“ ۔ اس بات میں کوئی شک بھی نہیں کہ ہیلن کیلر اس صدی کی عظیم شخصیات میں سے ایک ہیں۔ وہ پیدائشی طور پر نارمل تھیں مگر انہیں ایک بیماری نے اس طرح پچھاڑا کہ صرف انیس ماہ کی عمر میں بہری، گونگی اور اندھی بنا دیا۔ ہیلن کیلر بالکل نابینا تھیں مگراس کے باوجود انہوں نے اتنی کتابیں پڑھ لیں جتنی بہت سارے آنکھوں والوں نے نہ پڑھی ہوں وہ بہری ہونے کے باوجود ان لوگوں سے زیادہ موسیقی سے لطف اندوز ہوتی جن کے کان بھلے چنگے تھے۔

Read more

عمران خان اور امریکہ بدل ڈالنے والے بک ڈیوک میں قدر مشترک

امریکہ کی خانہ جنگی کے اختتام پر وہاں کے حالات انتہائی برے تھے۔ امریکیوں کے لیے تلخی اورتکلیف کے دن تھے۔ ہر طرف ویرانی اور بھوک ناچ رہی تھی۔ کاروبار بند تھا اورکھیت اجڑ چکے تھے۔ اس خانہ جنگی میں واشنگٹن ڈیوک جنرل لی کی قیادت میں لڑا۔ جنرل لی کے ہتھیار ڈال دینے کے بعد ایک عرصہ قید کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعدجب واشنگٹن ڈیوک واپس اپنے علاقے میں آیا تو اس کے اجڑے اور ویران کھیتوں میں

Read more

وزارت اطلاعات میں نئے چہرے

وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ کرسی اُور اختیار کب کہاں اُور کیسے کسی سے چھن جائے یا مل جائے۔ یہ یک ایسا راز ہے جس کاصرف اللہ کی ذات کو علم ہے۔ عمران خان کی بائیس سال کی جدوجہد کی کامیابی میں مسلسل آگے بڑھنے کا جنون اُور وقت کے مطابق صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت کا بڑا عمل دخل نظر آتا ہے۔ ایک کھلنڈرا نوجوان جس کو شہرت بھی ایسی ملی کہ جس کا ہر بندہ خواب دیکھے۔ جو

Read more