پہلوی حکومت کا دوسرا دور


اگر ہم تاریخ میں استبدادی حکومتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کسی بھی استبدادی حکومت کی ایک طبیعی عمر ہوتی ہے۔ آشفتہ حالات کے اندر استبدادی حکومت عوام کی ہمدرد ا اور خیر خواہ بن کر برسر اقتدار آتی ہیں جس کو استبدادی حکومت کا بچپن کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس زمانے میں مشکلات زیادہ ہوتی ہیں اور مستبد حکمران کو اپننے قدم جمانے کے لیے بہت کوشش کرنا پڑتی ہے۔ جب استبدادی حکومت مکمل طور پر طاقت حاصل کر لیتی ہے تو اپنی جوانی کی عمر میں ہوتی ہے جس میں تمام تر طاقت و قدرت کا منبع خود مستبد حکمران بن چکا ہوتا ہے۔ استبدادی چہرہ جب کھل کر عوام کے سامنے آتا ہے تو یہی مطلق العنانیت ہی اس کے زوال کا باعث بنتی ہے اور استبدادی حکومت اپنے اختتام کو جا پہنچتی ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا بھر میں افراتفریح کا سماں تھا، عالمی اتحاد اور گٹھ جوڑ کمزور ہو چکے تھے۔ اکثر ممالک بالخصوص برطانیہ شدید اقتصادی بدحالی کا شکار ہو چکا تھا۔ ایسے میں عالمی طاقتوں نے اپنے زیر تسلط ممالک کو اپنے حال پر چھوڑ دیا اور ان عالمی طاقتوں پر مکمل طور پر انحصار کرنے والے ممالک کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔

رضا خان کی حکومت بھی اس نہج پر پہنچ چکی تھی، ملک کے اندر شدید عوامی نفرت اور عالمی سطح پر شدید تنہائی کے باعث برطانیہ نے رضا خان کو معزول ہونے پر راضی کر لیا۔ رضا خان حکومت چھوڑ کر ملک سے باہر چلا گیا اور اب ا س کی جگہ اس کے نوجوان بیٹے محمد رضا کو ایران کا نیا بادشاہ بنا دیا گیا۔ رضا خان جیسے سفاک بادشاہ کے جاتے ہی سیاسی و سماجی دباؤ میں رہنے والی سیاسی احزاب، تنظیمیں، شخصیات نے سر اٹھانا شروع کیا اور ایک بار پھر گویا ملک میں سیاسی و سماجی آزادی نظر آنا شروع ہو گئی۔

پارلیمنٹ، کابینہ، سیاسی پارٹیاں، سفارت خانے اور دربار، ان پانچ ارکان کے درمیان شدید سیاسی جنگ چھڑ چکی تھی۔ یہ کہنا غلظ نہ ہوگا اس زمانے میں حکومتی اختیارات کی رسہ کشی کے اندرشاہ ایران کا دربار کمزور ترین رکن تھا۔ شاہ نے اپنے متزلز ل اقتدار کو ثبات دینے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنا شروع کیے۔ شاہ ایران نے جس پہلو سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا، وہ پارلیمنٹ اراکین کا آپسی اختلاف تھا۔ کیونکہ ظاہراًیہ لوگ عوام کے ووٹوں سے پارلیمنٹ تک پہنچے تھے لیکن در حقیقت یہ عوام کے نہیں بلکہ ان سفارت خانوں کے نمائندے تھے جن سے یہ اراکین پارلیمنٹ فرداً فرداً منسلک تھے۔ سیاسی رہنما عوامی موقف سے زیادہ سفارت خانوں کے موقف کا تحفظ کرتے نظر آتے تھے۔ (اس دور کی ایرانی پارلیمنٹ کی بہترین مثال آج کی پاکستانی پارلیمنٹ ہے )

شدید سیاسی ابتری کا دور تھا، کوئی بھی کابینہ چند ماہ سے زیادہ عرصہ قائم نہ رہ پاتی۔ سیاسی ناپائیداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ طویل ترین دورانیہ جو کسی بھی وزیر اعظم نے حکومت کی، اس کی مدت ایک سال تھی۔ اسی دوران شاہ پر قاتلانہ حملہ ہوا جو بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق خود دربار نے کروایا تھا تاکہ ملکی سیاست کو مکمل طور پر قابو میں کرنے کا جواز پیدا کیا جا سکے۔ اور ایسا ہی ہوا، اس قاتلانہ حملے کا ذمہ دار حزب تودہ (اس وقت کی سب سے مضبوط کمیونسٹ پارٹی) کو قرار دیا اور ملک بھر میں کمیونسٹ گروہوں، طالب علموں اور معروف شخصیات کو سرکوب کیا گیا۔

ملک میں روٹین کے قوانین مکمل طور پر ختم کر دیے گئے، غیر معمولی حالات کا اعلان کر کے مملک کو سیکیورٹی سٹیٹ میں تبدیل کر دیا گیا جس کی وجہ سے شاہ کو اپنا تسلط مستحکم کرنے کا بہترین موقع میسر آیا۔ انہی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہ نے پارلیمنٹ کومکمل طور پر اپنے اختیار میں لانے کی قرارداد بھی منظور کروا لی۔

شاید ابھی شاہ کی حکومت کے حصے میں سکون نہیں لکھا تھا کیونکہ سیاسی افراتفریح کو قابو کیا ہی تھا کہ ملک میں تیل کی تحریک شروع ہو گئی۔ اس زمانے میں دنیا کے مختلف خطوں میں تیل کی دریافت شروع ہوئی تھی، دنیا میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہو چکا تھا اور اس صنعتی انقلاب کا محور تیل تھا۔ برطانوی کمپنیاں تیل پیدا کرنے والے ممالک سے دھڑا دھڑ تیل نکال کر لے جا رہی تھیں۔ از جملہ ایران کے اندر بھی یہی عمل جاری تھا۔ ایرانی حکومت کو پندرہ فیصد یا شاید اس سے بھی کم منافع رائیلٹی ٹیکس کی صورت میں ملتا، باقی پچاسی فیصد برطانوی کمپنیاں لے جاتیں۔ ایک طرف ملک کے اندر فقر و محرومیت دوسری طرف خارجی ممالک کا ملکی تیل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا، عوام کے اندر جلتی پر تیل کا کام کر رہا تھا۔

تیل کو قومی ملکیت بنانے کی تحریک دن بہ دن زور پکڑنے لگی، اس تحریک کی قیادت کروانے والے دو معروف نام ڈاکٹر محمد مصدق اور آیت اللہ ابوالقاسم کاشانی ہیں۔ ڈاکٹر مصدق سیاسی طبقات کی نمائندگی کر رہے تھے اور آیت اللہ کاشانی عوامی طبقے کی۔ ان حالات میں مختلف نظریات رکھنے والی تمام سیاسی پارٹیاں ان دو نکات پر متحد ہو گئیں کہ شاہ کے اختیارت کو محدود کیا جائے اور اسے کسی قانون کے تابع ہونا چاہیے، دوسرا تیل کو قومی ملکیت بنایا جائے۔ اس تحریک کے سامنے دو بڑے محاذ موجود تھے، ایک برطانیہ جو تیل پر قابض تھا اور دوسرا شاہ جو ایران پر قابض تھا۔

اسی تحریک کی قیادت میں ڈاکٹر مصدق کو انتخابات میں کامیابی ملی اور وہ ایران کے وزیراعظم بن گئے۔ وزیر اعظم بنتے ہی پہلا حکم ایرانی تیل کو قومی ملکیت میں شامل کرنا تھا جس پر برطانیہ بہت آگ بگولہ ہوا اور ایران پر سیاسی و اقتصادی پابندیاں عائد کرنا شروع کر دیں، ان پابندیوں کے نتیجے میں پیدا ہوانے والی مشکلات نے ڈاکٹر مصدق کی حکومت کو بھی کمزور کیا۔ آئندہ انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے سے ڈاکٹر مصدق کو ہروا دیا گیا۔

آیت اللہ کاشانی کی قیادت میں اس دھاندلی کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے، جن میں کافی خونریزی بھی ہوئی، بالآخر یہ مظاہرے کامیابی سے ہمکنار ہوئے اور ملک میں دوبارہ عام انتخابات کا اعلان ہو گیا۔ ڈاکٹر مصدق دوبارہ کامیاب ہو کر وزیر اعظم بنے لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپنی حکومت کے تحفظ کی خاطر کئی بد عنوان اور کرپٹ سیاستدانوں کو بھی اپنی کابینہ میں اہم وزارتیں دے دیں۔ (موجودہ پاکستانی حکومت کو اس کا ایک نمونہ سمجھا جا سکتا ہے )

ان اقدامات کے بعد آیت اللہ کاشانی نے ڈاکٹر مصدق کی حمایت ختم کر دی جس کے نتیجے میں عوام کے اندر بھی مصدق کے خلاف غم وغصہ پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ اسی زمانے میں ایک اور گروہ (نواب صفوی کی قیادت میں ) فدائیان اسلام کے نام سے سامنے آیا جنہوں نے م کرپٹ سیاستدانوں کو مسلح کارروائیوں کے ذریعے سے قتل کرنا شروع کر دیا، حتی ایک وزیر اعظم کو بھی قتل کر دیا گیا۔ اس گروہ کی مسلحانہ کارروائیوں کے بعد سیاسی رہنماؤں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ فدائیان اسلام کے سرکردہ افراد کو بعد میں قید کر کے پھانسی دے دی گئی۔

یہاں یہ بات ذکر کرنا لازمی ہے کہ قیام تمباکو، قیام مشروطہ، تیل کو قومی ملکیت بنانے کی تحریک یا فدائیان اسلام، کہیں بھی انقلاب یا مستقل اسلامی حکومت کی بات نہیں کی گئی بلکہ ہر تحریک کے اندر موجودہ نظام کے اندر ہی چند اصلاحات کو مختلف طریقوں سے عملی کروانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔ یہ چند اہم سیاسی و سماجی واقعات تھے جو انقلاب اسلامی کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ایران میں وقوع پذیر ہوئے۔

Facebook Comments HS