انقلاب کون لا سکتا ہے؟

کسی بھی تحریک کو سمجھنے کے لیے لازمی ہے کہ اس کے تمام مراحل کا بغور مطالعہ اور تجزیہ و تحلیل کیا جائے۔ تحریکیں مختلف مراحل سے گزر کر ہی اپنے حقیقی ہدف تک پہنچتی ہیں۔ تحریک کا اولین مرحلہ عوام کے سامنے فکری و آئیڈیالوجیکل بنیاد کو واضح کرنے کا ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں موجودہ نظام سے بیزاری و عدم اطمینان ایجاد کرنا ہوتا ہے لہذا ہر تحریک کو آغاز میں ایک شدت اور رفتار کی ضرورت ہوتی

Read more

تحریکوں کے نشیب و فراز اور رہبر کی بصیرت

طبیعی عوامل کے باعث پیش آنے والی تبدیلیوں میں سے ایک اہم تبدیلی فرسائش کا عمل ہے، فرسائش یعنی کسی چیز کا کثرت استعمال سے فرسودہ ہو جانا، گھس جانا۔ مثلاً ہم روز مرہ زندگی کے مختلف امور میں فرسائش یا فرسودگی کا عمل دیکھتے ہیں، کبھی دھوپ میں پڑی چیزیں فرسودہ ہو جاتی ہیں، بعض چیزوں کو ہوا فرسودہ کر دیتی ہے۔ کبھی دریا اور زمین کے مابین مقابلے کا نتیجہ فرسودگی کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور

Read more

قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند

سن 1966 میں برطانیہ نے ایران پر اپنا تسلط آہستہ آہستہ کم کرنا شروع کیا لیکن یہ تسلط امریکہ کو ساتھ ساتھ منتقل کیا جاتا رہا۔ برطانوی سامراج کی روش استعماری تھی جب کہ امریکہ کا طریقہ کار استکباری تھا۔ مشرق وسطی کی سیاسی، عسکری اور اقتصادی اہمیت کے پیش نظر امریکی استکبار در حقیقت اپنے لیے ایسا ملک چاہتا تھا جس کی مدد سے خطے میں اپنے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنا سکے اور اس کام کے لیے

Read more

حوادث میں قیادت و رہبری کا امتحان

کسی بھی تحریک کے دوران پیش آنے والے حوادث و واقعات اس تحریک کی کامیابی یا ناکامی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر تحریک کی قیادت ایک بابصیرت اور دور اندیش رہبر کے ہاتھ میں ہو تو ہر پیش آنے والا حادثہ تحریک کے سفر کو مزید تیز کر دیتا ہے لیکن اگر قیادت و رہبری کے اندر حوادث کا رخ موڑنے کی صلاحیت موجود نہ ہو تو یہ تحریک بہت جلد دم توڑ دیتی ہے۔ حوادث کی

Read more

حادثات کو تحریک میں بدلنے کا ہنر

تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے جہاں استبدادی حکومتوں نے اپنے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو شروع ہوتے ہی بے دردی کے ساتھ کچل دیا اور یہ تحریکیں پیدا ہوتے ہی دم توڑ گئیں۔ تاریخ بشریت کے اندر نہایت قلیل تعداد ایسی تحریکوں کی نظر آتی ہے جن کی پربصیرت قیادت نے استبدادی حکومتوں کے سفاکانہ اقدامات کو انہی کے خلاف استعمال کر کے اپنی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کر دیا ہو۔

ظالم و ستم گر حکومتوں کا شیوہ ہے کہ اپنے خلاف اٹھنے والی تحریک کو آغاز میں ہی عبرت کا نشان بنا دیا جائے تاکہ اس تحریک کے حامی افراد اس راستے پر چلنا تو درکنار، اس کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دیں۔ اگر کوئی تحریک اس مرحلے میں جانبر ہو جائے تو کوئی بھی طاقت اس کو کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔ حکومت اپنے خلاف اٹھنے والی تحریکوں پر ابتدا ہی میں شدید ضرب لگاتی ہے اور کسی بھی غیر انسانی فعل سے دریغ نہیں کرتی جس کی سب سے بڑی مثال واقعہ کربلا کو قرار دیا جا سکتا ہے۔

Read more

سفید انقلاب سے اسلامی انقلاب کی طرف سفر

سن 1963 میں اس وقت کے ایرانی وزیراعظم اسداللہ اعلم نے بلدیاتی کونسلز کے انتخابات کے اندر اصلاحات کا عمومی قانون پیش کیا جس کے مطابق آئندہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لیے مسلمان ہونے کی شرط ختم کر دی گئی، حلف لینے کے لیے قرآن مجید کی جگہ ”آسمانی کتاب“ کے لفظ کو شامل کر لیا گیا۔ اسی طرح خواتین کو ووٹ دینے کی اجازت بھی دے دی گئی جو اس پہلے خواتین کو حاصل نہیں تھی۔

Read more

دین کی از سر نو شناخت

قدیم علم طبیعات کے مطابق کائنات کے چار بنیادی عناصر آگ، پانی، مٹی اور ہوا، تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسی قدیمی علم طبیعات کے اندر ماہرین نے تحقیق کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ بنیادی عناصر صرف چار نہیں ہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں موجود ہیں اور آج بھی اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے روایتی اور رائج علوم سے ہٹ کر سوچنے کی پاداش میں ہی گلیلیو کو پھانسی پر لٹکا دیا

Read more

تحریک انقلاب کا فکری مرحلہ

انقلاب اسلامی کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ایران کے اندر مختلف ادوار میں اصلاحی تحریکیں وجود میں آتی رہی ہیں جن میں سے چند تحریکوں کا ذکر قارئین کی خدمت میں پیش ہوا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض ہوا ہے کہ ان تمام اصلاحی تحریکوں کے اندر کہیں بھی نظام اسلامی کا تصور پیش نہیں کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب امام خمینی  نے انقلابی تحریک کا آغاز کیا لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ

Read more

پہلوی حکومت کا دوسرا دور

اگر ہم تاریخ میں استبدادی حکومتوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ کسی بھی استبدادی حکومت کی ایک طبیعی عمر ہوتی ہے۔ آشفتہ حالات کے اندر استبدادی حکومت عوام کی ہمدرد ا اور خیر خواہ بن کر برسر اقتدار آتی ہیں جس کو استبدادی حکومت کا بچپن کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس زمانے میں مشکلات زیادہ ہوتی ہیں اور مستبد حکمران کو اپننے قدم جمانے کے لیے بہت کوشش کرنا پڑتی ہے۔ جب استبدادی حکومت مکمل طور پر

Read more

پہلوی حکومت کی آمرانہ حماقتیں

رضا خان نے قدیم ایرانی سلطنت کے تسلسل کے اظہار کے طور پر اپنے نام کے ساتھ پہلوی لکھنا شروع کیا، گویا ایران کا تین ہزار سال پرانا تشخص دوبارہ دنیا کے نقشے پر ابھر چکا تھا۔ کسی بھی آمر حکومت کی طرح رضا خان نے بھی آغاز میں ترقی و خوشحالی کا نعرہ لگا کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کیں۔ قاچاری حکومت کے ظلم و ستم میں دہائیوں تک زندگی گزارنے والے عوام نے بھی عوامی رجحانات کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نئی حکومت سے امیدیں وابستہ کر لیں اور رضا خان کی شکل میں لوگوں کو ایران کا نجات دہندہ نظر آنے لگا۔

Read more

انقلاب اسلامی کا تاریخی پس منظر

تاریخ انسانی کے اندر رونما ہونے والی اجتماعی و سماجی تبدیلیاں کئی پہلوؤں سے اہمیت کی حامل ہیں۔ ان تاریخی حادثات و واقعات سے درست استفادہ کرنے کے لیے لازمی ہے کہ ان کا تجزیہ و تحلیل علمی بنیادوں پر کیا جائے۔ بصورت دیگر یہ سبق آموز واقعات ایک کہانی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ اب تک قارئین محترم کی خدمت میں انقلاب کی تعریف، انقلاب کی خصوصیات، اور انقلاب کے بارے میں پائے جانے والے معروف نظریات پیش

Read more

انقلاب ایران کے چار منفرد عناصر

انقلاب فرانس کے بعد لفظ انقلاب کو مثبت مفہوم ملا، اس سے قبل انقلاب کو شورش اور بغاوت کے معنی میں منفی حیثیت حاصل تھی۔ دنیا میں رونما ہونے والے چند انقلابات ایسے ہیں جن کو جامع انقلاب کہا جا سکتا ہے۔ انقلاب فرانس، انقلاب روس اور انقلاب اسلامی ایران ایسے انقلابات ہیں جو اثر کے اعتبار سے بہت زیادہ قوی ثابت ہوئے اور اپنے اندر جامعیت رکھتے ہیں۔ تینوں انقلابات کی ماہیت میں بہت فرق موجود ہے لیکن ایک

Read more

انقلاب اسلامی کے متعلق مائیکل فوکو کا نظریہ

دنیا میں رونما ہونے والی معاشرتی و سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں موجود کتابیں، مقالہ جات، تجزیہ و تحلیل کی کاوشیں ان افراد کی طرف سے ہیں جنہوں نے اس تبدیلی کو خود جا کر نہیں دیکھا بلکہ صحافتی خبروں کی مدد سے رائے قائم کی۔ اسی طرح انقلاب اسلامی کے متعلق موجود کتابیں، مقالہ جات یا تجزیہ و تحلیل زیادہ تر ان افراد کی طرف سے ہے جنہوں نے لائبریریوں میں یا ٹی وی چینلز کی مدد سے انقلاب

Read more

انقلاب اسلامی کے متعلق چالمر جانسن کا نظریہ

معاشرہ ایک مجموعے کا نام ہے جس کے اندر مختلف خصوصیات کے حامل افراد مل کر رہتے ہیں۔ باہم رہنے والی چیزیں یا تو تجمیع کی حالت میں رہتی ہیں یا پھر ترکیب کی حالت میں۔ مثال کے طور پر گندم کا دانہ ایک خاص وزن، حجم، رنگ، غذائیت اور ذائقہ رکھتا ہے، اگر ہم گندم کے چند دانے ایک جگہ پر جمع کر دیں تو یہ حالت تجمیع کہلائے گی کیونکہ ان سب نے مل کر کوئی اجتماعی شکل اختیار نہیں کی۔ لیکن اگر اسی گندم کے دانے کو پیس کر، نمک اور پانی کے ساتھ ایک خاص مقدار اور طریقے کے ساتھ ملایا جائے تو ایک نئی شکل وجود میں آتی ہے جس کا ذائقہ اپنے اجزائے ترکیبی سے مختلف ہے۔ ان اجزائے ترکیبی کو الگ الگ چکھیں تو ان کا ذائقہ مرکب کے ذائقہ سے مختلف ہے۔ لیکن اگر ہم ان اجزائے ترکیبی میں سے کسی ایک کو بھی نکال دیں تو مرکب کی اصلی حالت ختم ہو جائے گی اور وہ اپنی خصوصیات کھو دے گا۔ پس مختلف خصوصیات رکھنے والی اشیا کا اس طرح سے باہم مل جانا ترکیبی حالت کہلاتا ہے۔

Read more

انقلاب اسلامی کے متعلق جیمز ڈیوس کا نظریہ

گزشتہ تحریروں میں ہم نے مختلف مقامات پر کارل مارکس کے نظریہ انقلاب کو اشارتاً بیان کیا ہے جس کے مطابق کسی بھی معاشرے کے اندر رونما ہونے والی سیاسی و اجتماعی تبدیلیوں کی وجہ صرف اور صرف اقتصادپر مبنی ہوتی ہے۔ معاشرے کے اندر اقتصادی بدحالی خودکار طریقے سے طبیعی طور پر مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی انقلاب کو جنم دیتی ہے جس کے لیے کسی منظم آئیڈیالوجی یا رہبری کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ کارل مارکس کے نظریے

Read more

انقلاب اسلامی کے متعلق مارون زونس کا نظریہ

علم سیاست کے اندر ایک دلچسپ موضوع حکمرانوں کی نفسیاتی شخصیت کا علمی بنیادوں پر تجزیہ و تحلیل کرنا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کسی کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ ان موضوعات کو زیربحث لائے لیکن کسی بھی ملک کے حالات کا گہرا تعلق اس ملک پر حکومت کرنے والے فرد کی نفسیاتی شخصیت سے ہوتا ہے۔ اسی طرح حکومتی سطح پر کی جانے والی قانون سازی، فیصلہ سازی، یا دیگر اقدامات پر بھی حکمران کی نفسیاتی شخصیت کا

Read more

انقلاب اسلامی کے بارے میں تھیڈا سکافل کا نظریہ

انقلاب ایک اجتماعی روئیداد ہے اور کسی بھی انقلاب کو سمجھنے کے لیے لازمی ہے کہ اس کو قوانین علوم اجتماعی کی روشنی میں پڑھا اور پڑھایا جائے۔ علمی ماحول نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں وقوع پذیر ہونے والی اہم ترین سیاسی و سماجی تبدیلیاں ہمارے ہاں آ کر اپنی اصلی اہمیت کھو دیتی ہیں۔ اگر خوش قسمتی سے کسی اجتماعی روئیداد کو بہت زیادہ توجہ مل بھی جائے تو اس کا دائرہ چند واقعات تک ہی محدود

Read more

انقلاب کیوں فراموش ہو گیا؟

قیام پاکستان کے بعد سے وطن عزیز میں طالب علموں کو ایک مضمون بنام ”مطالعہ پاکستان“ پڑھایا جاتا ہے جس میں طالب علموں کو مطالعہ کے نام پر چند واقعات اور ان کی تاریخیں رٹوا دی جاتی ہیں۔ اساتذہ نے بھی اسی طرز پر ”مطالعہ“ کیا تھا اور موجودہ نسل بھی اسی بھیڑ چال کے تحت ”تاریخ پاکستان“ جاننے کی مدعی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طالبعلموں کے اندر سب سے کم پسندیدہ مضمون تاریخی نوعیت کا مضمون ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تلقینی و تقلیدی روش تعلیم نے یونیورسٹیوں، کالجوں اور مدرسوں میں پڑھنے والے طالب علموں کو سوائے بھیڑ چال کے کچھ بھی نہیں سکھایا اور یہ پڑھی لکھی بھیڑیں یہ نہیں سوچتیں کہ ان کے اپنے زمانے کے لیے کیا ضروری ہے بلکہ یہ سوچتی ہیں کہ ان سے پہلی بھیڑوں نے کیا پڑھا تھا، جبکہ تعلیم کا مطلب آگاہی اور بصیرت کے ساتھ علم حاصل کرنا ہے۔

قرآن مجید کتاب تعلیم و ہدایت ہے اور اس کتاب ہدایت کے اندر ایک بڑا حصہ سابقہ اقوام کی تاریخ ہے۔ ناکام ہے وہ معاشرہ جو بھیڑ چال کے تحت اس تاریخ کو فقط ثواب تک محدود کر دے اور کامیاب ہے وہ انسان اور سماج جو انہی تاریخی واقعات کے اسباب و عوامل کی روشنی میں اپنے زمانے کے اصول دریافت کرے۔ سن 220 اور سن 2020 کا انسان سو فیصد ایک جیسی فطرت رکھتا ہے، اس کی ہدایت کے بنیادی قوانین بھی مشترک ہیں، یہی وجہ ہے کہ تاریخ، قدیم اور موجودہ انسانوں کے مابین ایک علمی رابطے کا کام کرتی ہے۔

Read more

انقلاب اسلامی کی اہمیت

آغاز میں کسی بھی معاشرے کے اندر لائی جانے والی کسی بھی تبدیلی کو انقلاب کہا جاتا تھا۔ تدریجاً لفظ انقلاب نے اپنا درست مطلب ڈھونڈ لیا اور اپنے اندر ایک مخصوص معنی کو شامل کر لیا۔ لہذا اب ہر تبدیلی یا اصلاح کو انقلاب سمجھنا غلط ہو گا۔ جیسا کہ ہمارے یہاں پہلے سے موجود فاسد نظام کی ملمع کاری کو بھی انقلاب کہہ دیا جاتا ہے، یا ایک ایک کر کے مختلف شعبوں کی اصلاح کا نام بھی انقلاب رکھ دیا جاتا ہے۔ جب کہ انقلاب اس معاشرتی تبدیلی کو کہتے ہیں، جو نا گہاں ہو، ہمہ جہت ہو، اور یہ تبدیلی کسی آئیڈیالوجی کے نتیجے میں رو نما ہوئی ہو۔

تاریخ میں انقلابی تحریکوں کا بغور مطالعہ اور ان کا عملی تجزیہ معاشرے کے سنجیدہ اور علم دوست افراد کے لیے مفید اور قوی ثابت ہو سکتا ہے۔ جس طرح اپنے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے، کسی دوسرے معاشرے کا کامیاب زرعی، تعلیمی یا صنعتی ماڈل مطالعہ کر کے ان شعبوں کے اندر کئی مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں، بالکل اسی طرح دنیا بھر میں رو نما ہونے والے انقلابات کے اسباب، عوامل، اثرات اور نتائج کا مطالعہ کر کے اپنے معاشرے کے لیے درست نظام تشخیص دیا جا سکتا ہے۔

Read more

”کودتا“ کیا ہے؟

’کودتا‘ (coup d ’état) کی اصطلاح انیسویں صدی میں معروف ہوئی، جب نپولین بونا پارٹ فرانس میں حکومت کا تختہ الٹ کر برسراقتدار آیا۔‘ کودتا ’یعنی ایک ضرب نا گہانی کے ساتھ کسی نظام کو گرا دینا۔‘ کودتا ’صرف فوجی طاقت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ضرب نا گہانی کسی بھی اندرونی یا بیرونی طاقتور گروہ کی طرف سے ہو سکتی ہے۔ چوں کہ‘ کودتا ’کے نتیجے میں بھی حکومت تبدیل ہو جاتی ہے، اس لیے اس کو بھی عموماً انقلاب کہہ دیا جاتا ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تاریخ بشریت میں اکثر حکومتیں‘ کودتا ’کے ذریعے تبدیل ہوئی ہیں اور بہت ہی قلیل تعداد، ایسی حکومتوں کی ہے، جو کسی تحریک کے نتیجے میں وجود میں آئی ہوں۔‘ کودتا ’کے ذریعے وجود میں آنے والی تبدیلیاں غیر عوامی ہوتی ہیں۔ عوام کو خبر بھی نہیں ہوتی اور راتوں رات حکومتیں گرا دی جاتی ہیں۔ اگر‘ کودتا ’کرنے والے طاقتور گروہ کو موجودہ حکومت کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے، تو خون ریزی بھی ہو جاتی ہے۔

’کودتا‘ کے ذریعے آنی والی حکومتیں، بعض اوقات اصلاحات بھی لے کر آتی ہیں۔ اس کی وجہ سے انہیں عوامی حمایت حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن در حقیقت یہ تبدیلیاں انقلاب نہیں کہلاتیں، سوشلسٹ نظریات کے تحت دنیا میں رونما ہونے والی اکثر سیاسی تبدیلیاں طاقت کے بل بوتے پر لائی گئیں۔ مثلاً: صدام حسین کا آنا بھی ایک ’کودتا‘ تھا اور جانا بھی ’کودتا‘ تھا۔ کیوں کہ دونوں مرتبہ طاقت کے ذریعے سے حکومت کو گرایا گیا۔ اسی طرح مصر میں جمال عبد الناصر بھی ’کودتا‘ کے ذریعے ہی برسر اقتدار آیا۔ سابق نظام مملکت کو ذلت اور پستی کے کمال تک پہنچا چکا تھا۔ عوام کی تنگ دستی اور مسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، جمال عبد الناصر نے چند دیگر فوجی افسروں کے ساتھ مل کر حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نے ایسی بنیادی اصلاحات متعارف کروائیں، جس سے اس کی حکومت کو عوامی حمایت حاصل ہو گئی۔

Read more

انقلاب اور انقلاب نما تبدیلیوں میں فرق

کہتے ہیں کسی جگہ کبوتر بازی کا مقابلہ ہو رہا تھا، سب لوگ اپنے اپنے کبوتر مقابلے میں اڑانے کے لیے لائے ہوئے تھے، لیکن ایک شخص اسی مقابلے میں اپنا گدھا لے کر آ گیا۔ لوگ حیران ہوئے اور گدھے کے مالک سے پوچھا کہ کبوتر بازی کے مقابلے میں تم گدھا کیوں لے کر آ گئے؟ اس شخص نے نہایت اعتماد سے جواب دیا کہ یہ گدھا ہے، سوجھ بوجھ تو نہیں رکھتا، کبوتروں کو اڑتا دیکھ کر شاید یہ بھی اڑنے لگے۔

یہی صورتحال ہماری ہے، بحیثیت قوم ہمارا ایمان ہے کہ ہمارا گدھا بھی کبوتروں کے ہمراہ اڑے گا اور اس ایمان کامل کا نتیجہ یہ ہے کہ اس قوم نے ہر نظام اور ہر حکمران سے یہ سوچ کر دم باندھے رکھی کہ اب تو ترقی و خوشحالی ہمارا مقدر بن کے رہے گی۔ اس قوم کے سامنے ہر سیاسی و اجتماعی تبدیلی کو بنام انقلاب متعارف کروایا جاتا رہا اور یہ قانع و شاکر قوم ہمیشہ انقلاب کے نام پر دھوکا کھاتی رہی۔

Read more

تبدیلی کب آئے گی؟

گزشتہ تہتر سالوں میں وطن عزیز کے اندر شاید ہی کوئی ایسی سیاسی یامذہبی حزب وجود میں آئی ہو جس نے نظام کی تبدیلی کا نعرہ نہ لگایا ہو اور اسی وطن عزیز کا شاید ہی کوئی ایسا باشندہ ہو جو اس نعرے کے جھانسے میں نہ آیا ہو۔ یہ عمل سالہا سال سے دوہرایا جا رہا ہے اور عوام اسی ایک نعرے کے دھوکے میں آکرسالہاسال سے کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان گنت سیاسی و مذہبی

Read more

کیا خونریزی انقلاب کا لازمہ ہے؟

انقلاب کا نام آتے ہی ہمارے ذہنوں میں تشدد و خون ریزی کا تصور پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ تصور اپنی جگہ درست ہے کیونکہ اگر دنیا میں برپا ہونے والے نماٰیاں انقلابات کا مطالعہ کیا جائے تو تشدد کا عنصر لازمی نظر آتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تشدد واقعی انقلاب کی خصوصیت ہے؟ سماجی علوم کے ماہرین کی نگاہ میں تشدد انقلاب کی خصوصیت نہیں ہے اور انقلابی کا متشدد ہونا اس کی تربیت کا حصہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ تشدد کو انقلاب کا لازمہ کہا جا سکتا ہے کیونکہ جہاں بھی انقلابی تحریکیں اٹھتی ہیں وہاں سب سے پہلا خطرہ موجودہ حکومت کو لاحق ہوتا ہے اور وہ ان تحریکوں کو سرکوب کرنے کے لیے تشدد کا سہارا لیتی ہیں۔

بعض اوقات اس حکومتی تشدد کے ردعمل میں انقلابی تحریکیں بھی تشدد کا مظاہرہ کرتی ہیں یا انقلاب کی کامیابی کے بعد انقلاب مخالف افراد کو سزائیں دینے کا کام بھی تشدد کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں گزشتہ دو سو سالوں کے اندر تشدد کا عنصر مشترک طور پر تمام انقلابی تحریکوں میں ملتا ہے اور شاید اسی لیے تشدد کو انقلاب کی خصوصیت سمجھا جانے لگا۔ تشدد در حقیقت بیرونی عوامل کی وجہ سے مراحل انقلاب میں پیدا ہوتا ہے جبکہ خود انقلاب کے اندر ایسا کوئی تقاضا موجود نہیں ہوتا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوئی بھی انقلاب بذات خود تشدد نہیں چاہتا بلکہ حالات ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ تشدد پیدا ہوجاتا ہے اور اس تشدد کا درجہ اور شدت کیا ہوگی، یہ مختلف عوامل پر انحصار کرتا ہے۔

Read more

اکثریت نہیں چاہیے، فعالیت چاہیے

ایک قانون جس پر ہم سب بلا استثنا ایمان رکھتے ہیں، وہ ہے قانون اکثریت۔ پاکستان آج کیوں تک ترقی نہیں کر سکا؟ کیونکہ سب ایک نکتے پر جمع نہیں ہو سکے۔ مذہبی جماعتیں ملک میں کیوں کوئی قابل ذکر کام انجام نہیں دیں سکیں؟ کیونکہ سب ایک پیج پر نہیں ہیں۔ سب کو ساتھ لے کر چلنے اور منزل تک پہنچ جانے کا جو معجزہ ہم کرنا چاہتے ہیں، یہ علمی و عملی کسی لحاظ سے امکان پذیر ہی

Read more

قیادت و رہبری کون کر سکتا ہے؟

وطن عزیز کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو ہمیشہ سیاسی ابتری کا شکار رہتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ صرف سیاست کا میدان ہی آفت زدہ ہے بلکہ شاید ہی کوئی شعبہ ہو جس کے کارکنان روزانہ سڑکوں پر نہ ہوتے ہوں۔ کسی دن اساتذہ تو کسی دن ڈاکٹر، کبھی تاجر تو کبھی ٹرانسپورٹر، غرض یہ کہ ملک میں روزانہ کوئی نہ کوئی ہڑتال، دھرنا چل ہی رہا ہوتا ہے۔ میڈیا کو سنسنی خیز خبریں ملتی ہیں، اینکرز کو ریٹنگ بڑھانے کے لیے گرما گرم موضوع مل جاتا ہے اور سیاست دانوں کو مخالفین کو پچھاڑنے کا ایک اور بہانہ۔

رہی سہی کسر وہ میراثی پوری کر دیتے ہیں جو انتہائی سنجیدہ موضوعات کو جگت بازی کی صورت میں پیش کر کہ عوام کو محظوظ کرتے ہیں، ظاہر ہے جگت پسند قوم کو ہر جگہ جگت باز ہی ملتے ہیں اور اس جگت بازی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ٹی وی، اخبارات، سوشل میڈیا، نجی محفلیں، کہیں بھی سنجیدہ اور علمی ماحول نہیں ملتا، اور ملے بھی کیسے، جب عوام کے منتخب نمائندے ہزاروں کے مجمع میں ایک دوسرے کو جگتیں لگانا کار خیر سمجھتے ہیں تو ان کے حامی کیسے کسی میدان میں ان سے پیچھے رہ سکتے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ اس ٹھٹھا، مذاق کے ماحول میں کوئی فکر مند ہی نہیں کہ ملک روز بہ روز کیوں زوال پذیر ہے؟

Read more

ناامیدی پھیلانے والے دانشور اور قلم کار

جذبے کا پانچواں رکن پرامید رہنا ہے۔ قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ نا امیدی کو گناہ حتی کفر و شرک قرار دیا ہے۔ انقلاب کی راہ میں کبھی بھی انسان خود پر مایوسی طاری نہ ہونے دے۔ انبیا کی ایک اہم صفت بشیر و نذیر ہونا ہے، بشیر یعنی ہر حال میں پر امید رکھنے والا، انبیاظلم و ستم کی چکی میں پسے عوام کو فتح و کامرانی کی امید دلاتے ہیں کیونکہ امید کی کرن پیدا ہوتے ہی

Read more

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق

عام مشاہدے کی بات ہے کہ دنیا میں کامیاب اور ناکام افراد کے درمیان اہم فرق اس جذبے کا ہوتا ہے جس کے تحت وہ زندگی کے مختلف مراحل کو عبور کرتے ہیں۔ علمی میدان ہو یا معاشی زندگی، ا نفرادی تربیت کی بات ہو یا اجتماعی امور کی، عسکری جنگیں ہوں یا سیاسی معرکے، فتح اسی کا مقدر بنتی ہے جو کبھی کم نہ ہونے والے جذبے کے ساتھ مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے۔ جذبہ ایسی نفسیاتی خصوصیت ہے

Read more

یہ خطہ بانجھ ہو گیا

انقلاب کی ممتاز ترین خصوصیت یہ ہے کہ سابقہ نظام اور نظریے کی جگہ نیا نظام و نظریہ لے لیتا ہے اور اس کے بعد نئے نظام کی ترویج کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ آغاز انقلاب سے لے کرنئے نظام کے قائم ہونے اور نئے نظام کے قیام کے بعد بھی تمام مراحل میں ایک منظم اور واضح آئیڈیالوجی کارفرما ہونا لازمی ہے ورنہ کسی بھی لمحے یہ پورا نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ مثلاً اگر عوام آئیڈیالوجی کی

Read more

آئیڈیالوجی کیوں ضروری ہے؟

انقلاب کیا ہوتاہے؟ اس کے عوامل و اسباب کیا ہوتے ہیں؟ اس کی اہم خصوصیات کیا ہیں؟ ان بنیادی سوالات کا جواب نہ جاننے کا نقصان وہی ہوتا ہے جو ہم بحیثیت معاشرہ برسوں سے اٹھاتے چلے آرہے ہیں کیونکہ ہمیں ہر ریلی، ہر مظاہرہ، ہر جلسہ، ہر ہڑتال میں جوق در جوق شرکت کرنے کو کہا جاتا ہے اور یہ کہ اس ریلی کے اختتام پر انقلاب ہمارا منتظر ہوگا اور اس قوم کی قسمت بدل جائے گی۔ تہتر

Read more

قوم کو بیدار کرنے کے لیے ایشوز نہیں، آئیڈیالوجی چاہیے

انقلاب کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ کسی مکتب (آئیڈیالوجی) کی بنیاد پر وقوع پذیرہوتاہے۔ پاکستان میں مکتب یا آئیڈیالوجی غیر متعارف اصطلاح ہے۔ یہ شاید قدیم ہندی تہذیب کے اثرات ہیں کہ ہمارے ہاں رسم و رواج کو ہی مکتبی حیثیت حاصل ہے اور کسی نے یہ اصطلاحات متعارف بھی نہیں کروائیں بلکہ ہم چند رسومات و احساسات کو ہی علم، سیاست حتی دین کی بنیاد سمجھ بیٹھے۔ مسلمان معاشرے میں رسومات، جمود، تحجر اور تعصب جیسی

Read more

عدم اطمینان شرط انقلاب ہے

ویسے تو سرمایہ دارانہ نظام کے بہت سے گران بہا تحفے ہمیں ملے ہیں لیکن سب سے بڑا تحفہ یہ ہے کہ اس نظام نے ہمارے معاشرے میں پڑھنے لکھنے کا سب سے بڑا محرک فکر معاش کو بنا دیا ہے۔ طالب علموں کو بچپن سے پڑھائی کا مقصد اچھی نوکری بتایا جاتا ہے اس لیے انہی شعبہ جات میں داخلے زیادہ ہوتے ہیں جن سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جوان کو ایک اچھی نوکری مل سکے اور یہ

Read more

اسلامی تحریک – اصلاح

اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں اصلاحی تحریکیں وجود میں آتی رہی ہیں۔ مسلمان عمومی طور پر یقین کے ساتھ توقعات رکھتے ہیں کہ ہر صدی میں ایک یا ایک سے زیادہ مصلح پیدا ہوتے رہے ہیں اور عملی طور پر یہ صرف اور صرف اصلاحی تحریکیں رہی ہیں۔ اس لیے اصلاح، مصلح، اصلاحی تحریکوں جیسے الفاظ سے مسلمانوں کے کان مانوس ہیں۔ اسلامی تاریخ میں اصلاحی تحریکوں کا بغور مطالعہ اور ان کا عملی تجزیہ معاشرے کے سنجیدہ اور

Read more