بنجر پہاڑوں کو سرسبز و شاداب خطے میں بدلنے والے کو پاگل کیوں کہا جاتا تھا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سادیمن نے 617 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر لگ بھگ 11 ہزار برگد اور انجیر کے درخت کاشت کیے۔

صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے یا محنت میں عظمت ہے۔ ایسی کہاوتوں پر عمل کرنے والے اس زمانے میں ویسے تو کم لوگ ہی ملتے ہیں۔ البتہ آج کے افراتفری کے دور میں بھی چند مثالیں ان کہاوتوں کو سچا ثابت کرتی ہیں۔

ایشیائی ملک انڈونیشیا کے ایک گاؤں میں مخبوط الحواس سمجھے جانے والے ماحول دوست سادیمن نے 24 برس کی انتھک محنت اور لگن سے بنجر پہاڑوں کو سرسبز و شاداب خطے میں بدل دیا ہے جس کی وجہ سے قحط سالی کے شکار ان کے علاقے میں پانی دستیاب ہو گیا ہے۔

اپنے علاقے میں ‘مباح’ یا ‘دادا’ کہلائے جانے والے 69 سالہ سادیمن نے وسطی جاوا کے پہاڑوں میں کاشت کاری کے لیے آگ کے ذریعے زمین کی تیاری شروع کی۔ بعد ازاں درختوں کی کاشت کے لیے انتھک محنت کی۔ تاکہ علاقے کے خشک دریاؤں اور نہروں میں پانی آ سکے۔​

انڈونیشیا کا روایتی ہیٹ اور سفاری شرٹ پہنے سادیمن کہتے ہیں کہ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ برگد کے درخت کاشت نہیں کرتے تو ان کا علاقہ خشک ہو جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے تجربے کے مطابق برگد اور انجیر کے درختوں میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔

سادیمن نے 617 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر لگ بھگ 11 ہزار برگد اور انجیر کے درخت کاشت کیے۔ تاکہ زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار اور زمین کے کٹاؤ کو روکا جا سکے۔

ان کی کوششوں کے سبب اس علاقے میں اب بہار کی آمد ہے اور جہاں کبھی زمین بنجر تھی۔ اب وہاں رہائشیوں کو کھیتوں کو سیراب کرنے اور گھریلو استعمال کے لیے پانی دستیاب ہے۔

شروعات میں سادیمن کی کوششوں کو سراہا تو گیا۔ تاہم علاقے کے چند رہائشیوں کی طرف سے سادیمن کے برگد کے بیج گاؤں میں لانے پر تنقید بھی کی گئی۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ان درختوں میں آسیب ہوتے ہیں۔

گاؤں کے ایک رہائشی ورتو کا کہنا تھا کہ شروعات میں لوگ سمجھتے تھے کہ سادیمن پاگل ہے۔ لیکن اب ان کی کوششوں کے ثمرات دیکھ لیں۔

ورتو کا مزید کہنا تھا کہ سادیمن کی کوششوں سے لوگوں کو اب صاف پانی کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔

سادیمن اپنے منصوبے کے لیے درکار فنڈز اپنی نرسری میں لونگ اور کٹھل کے پودے فروخت کر کے حاصل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے بارشوں کی کمی کی وجہ سے کاشت کار ایک سال میں صرف ایک فصل کاشت کر سکتے تھے۔ جب کہ ان کے بقول اب پانی کی فراہمی کی بدولت سال میں دو یا تین فصلیں بھی کاشت کی جا سکتی ہیں۔

چمکتی آنکھوں کے ساتھ سادیمن کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی خوش حال ہو گی اور وہ جنگلات کو بار بار آگ نہیں لگائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1693 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply