اسفندیار ولی صاحب فراش ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دنوں پہلے سوشل میڈیا پر ایک بہت ہی بری اور دل دہلانے والی خبر اچانک گردش کرنے لگی کہ اسفندیار ولی ( اللہ نہ کرے) فوت ہوگئے ہیں ـ میں نے ہمیشہ کی طرح اس پوسٹ پر من و عن بھروسہ نہیں کیا اور اس پر کسی بھی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا ـ اور جنرل میڈیا کا رخ کیا لیکن ادھر اس سلسلے میں بلکل خاموشی تھی اور کسی بھی قسم کی، کسی بھی چینل پر بریکنگ نیوز کا کوئی ٹِکر نہیں چل رہا تھا، تو دل کو تسلی اور اطمینان ہوا کہ چلو خبر جھوٹی ہے، افواہ ہے، کسی سیاسی غلیم یا کسی سیاسی یتیم نے یہ خبر یا افواہ پھیلائی ہوئی ہوگی ـ پھر جب سوشل میڈیا کی جانب لپکا اور ایک دو یار دوست اور بہی خواہوں کو فون اور میسجز کئے تو پتہ چلا کہ خبر میں کوئی صداقت نہیں اور کسی نے بے پر کی اڑائی ہوئی ہے ـ لیکن کچھ دنوں قبل پھر یہ خبر گردش کرنے لگی کہ اسفندیار خان سخت بیماری ہے اور ان کو کرونا لگنے کا بھی شائبہ ہے ـ گزشتہ کی طرح اس بار بھی پہلے میں نے خبر کی ذرا خبر لی، جب تصدیق ہوئی تو پھر کرونا کے ہونے یا نہ ہونے کی تصدیق کا مسئلہ تھا لیکن بعد میں وہ بھی مثبت نکلا اور پتہ چلا کہ اس بار اسفندیار خان واقعی صاحب فراش ہیں اور نجی ہسپتال میں زیر علاج ہیں ـ لیکن خطرے کی بات نہیں وہ روبصحت ہیں ـ

اللہ اسفندیار خان کو صحت کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے اور قوم کو اپنی راہنمائی سے مستفیض فرماتے رہیں ـ مسئلہ کیا ہے، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور موت اٹل ہے ہر کسی کو آنی ہے لیکن ہر کوئی، ہر کوئی نہیں ہوتا، ہر کسی کی موت ہر کسی کی موت نہیں ہوتی ـ اور یہی وہ موقعه ہوتا ہے جہاں پشتو میں کہا جاتا ہے کہ سل دې اومره یو دې مه مره ـ ترجمہ تیرے کنبے کے سو افراد لقمہ اجل بنے پر ایک پر موت کا فرشتہ کبھی بھی فریفتہ نہ ہو جس نے سسرے کنبے کا بیڑا اُئھایا ہوا ہو ـ یا پھر ایک ٹپہ ہے کہ خزې پۀ هر سڑی کنڈیگی ـ سړڑے هغه دے چہ پرے خاوره کنڈه شینه ترجمہ بیوی ہر کسی پر بیوہ ہو جاتی ہے پر مرد وہ ہے جس پر وطن کی مٹی ( بیوہ ) یا سوگوار ہو جائے ـ اور اسفندیار بے شک ان لیڈران میں سے ہیں جن کی خدانخواستہ نہ ہونے سے صرف ایک فرد کی کمی نہیں بلکہ پوری سیاسی دور اور عہد کی یتیم رہ جانے کے ڈر اور خوف کا شائبہ ہوتا ہے ـ لیکن پشوتونوں کی خوش قسمتی ہے کہ ان میں یہ سیاسی گھرانا فخر افغان باچا خان سے لیکر ایمل ولی خان تک ان کی سیاسی خدمت، یکجہتی، یگانگت اور یکسوئی کے لئے ہر دور میں اور ہر سیاسی صورت حال میں سینہ تان کر کھڑا رہتا ہے ، یہ اور بات کہ باچا خان جیسا ولی خان نہیں تھا ـ ولی خان کی طرح اسفندیار نہیں تھے اور اسفدیار کا ہم پلہ ایمل نہیں ہو سکتا اور ایمل ولی کے بعد ازمر ولی شاید ایسا نہ ہو، پر اپنی اپنی جگہ پر ہر ایک آئی کن تھا اور ہے ـ اور یہی پشتونوں کا اصل سرخیل سیاسی گھرانا ہے جس پر سارے پشتون متفق ہوتے ہیں اور ان کی اواز پر لبیک بولتے ہیں ـ

اسفندیار ولی خان سے میری قریبی ملاقات کراچی میں دو ہزار تین دو ہزار چار میں باچا خان مرکز میں باچا خان مرکز کی چھت پر باچا خان کی ایک برسی کے سلسلے میں جرس ادبی جرگہ کی طرف سے ایک منعقدہ پروگرام میں ہوئی تھی ـ اس پروگرام کے مہمان خصوصی اسفندیار خان تھے، صدارت ثور انقلاب پر پی ایچ ـ ڈی کرنے والے ڈاکٹر شیر زمان طائیزئ اور کمپئیرنگ اُس وقت کے محب وزیر اور اِس وقت کے باچا خان یونیورسٹی کے پختونخوا مطالعاتی سینٹر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محب وزیر کر رہے تھے ـ ہم نے پہلی بار پی ـ ٹی ـ وی نیشنل کو عابد حسین کی وساطت سے اس پروگرام کی رکارڈنگ کے لئے میڈیا پارٹنر بنایا تھا ـ لیکن کسی غلط فہمی کی وجہ سے اسفندیار خان بہت لیٹ آئے تھے لیکن ہم نے وہ پروگرام ان کے لئے ہی رکھا اور روکا ہوا تھا ـ جب وہ پہنچے اور پروگرام کی نوعیت کو دیکھا تو پھر بڑے آدمی کا بڑا پن بھی مہا کا بڑا ہوتا ہے اور پھر انھوں نے ایک بار نہیں بار بار ہمیں اپنے منعقدہ چھوٹے سے پروگرام کی بڑھائی کا احساس دلاتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں اپنے دیر سے آنے کا پچھتاوے کا کہتے اور ہمیں احساس دلاتے کہ ہم نے واقعی کوئی بڑا کام یا کانامہ سر انجام دیا ہے ـ

پھر میری دوسری ملاقات ان سے بارہ مئی کے واقعے کے بعد جب کراچی بار میں خطاب کے لئے آئے تھے تو پھر ان سے بحیثیت پشتون وکیل میری دوسری ملاقات ہوئی تھی ـ ویسے تو بلاواسطہ ان سے اتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں یا ان کو اتنی بار سنا ہے کہ ان کی کہی ہوئی کئی باتیں مجھے زبانی یاد ہے ـ جیسا کہ ایک پروگرام میں عمران خان اسفندیار خان کو سیاست کے داؤ پیچ سکھانے کی سعی لاحاصل کر رہے تھے کہ اسفندیار خان نے یہ کہہ کر ان کو چپ کرایا کہ عمران خان اگر میں آپ کو کرکٹ کے بارے میں سکھانے کی کوشش کروں تو میں کتنا بےوقوف لگوں گا ـ اس طرح دو ہزار نو میں اسماعیل یون مجھے کابل میں بتا رہے تھے جب ہم امن سیمینار کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے اور کچھ دن پہلےامن کے سلسلے میں سیاسی گفت و شنید کے لئےدیگر پشتون راہنماؤں کے ساتھ اسفندیار خان بھی گئے ہوئے تھے تو، اسماعیل یون بتا رہے تھے کہ شاید ربانی نے اسفندیار خان سے کہا کہ آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ آپ ہمارے معاملات میں بولنے کا؟

تو اسفندیار نے فٹ سے جواب دیا کہ کیا بات کرتے ہو میرے دادا کی قبر اور مدفن اس وطن میں ہے، میرا دادا اس مٹی میں دفن ہے اور آپ بولتے ہو کہ آپ ہماری اندرونی معاملات میں دخیل ہو رہے ہو ـ جس کے بعد ربانی کو بات سمجھ میں آئی اور پھر انھوں نے چپ سادھ لیا ـ اس طرح ایک انٹرویو کے دوران ایک اینکر نے ان سے کہا کہ خان صاحب جواب زرہ نرم اور دھیمے لہجے میں دینا، تو اس پر اسفنیدیار خان نے جواباً کہا کہ جیسے منہ ویسی چپیڑ یہ آپ پر ہے اگر آپ سوال نرمی سےکروگے تو جواب بھی نرمی سے دوں گا اور اگر سوال سخت اور کرخت کروگے تو جواب بھی سخت اور کرخت ملےگا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تم مجھ پر پتھر پھینکو اور میں تم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کروں ـ

ایک بار ایک جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے پائے گئے جب ایک جنرل نے سیاست دانوں کے بارے میں کہا کہ یہ اور ان کے بچے بڑے بڑے گاڑیوں میں گھومتے ہیں تو میرا خون کھولتا ہے کہ یہ اتنا پیسہ ان کے پاس آیا کہاں سے تو جواب میں اسفندیار نے کہا کہ جنرل صاحب سیاست دانوں کو چھوڑے مجھے یہ بتائیں کہ یہ آپ لوگ اور آپ کے بچے جو بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اتنی قلیل تنخواہوں میں یہ اتنا پیسہ آپ لوگوں کے ہاس کہاں سے آیا ـ یہ اور اس طرح کے کئ دیدہ دلیر اقوال ان کے کریڈٹ پر ہیں ـ میری دعا ہے کہ رب جلیل ان کو شفائے کاملہ، عاجلہ اور مستقلہ فرمائے تاکہ ملک و قوم کی سیاست میں اپنے مثبت سیاست کے کردار میں ایک بار پھر ویسا ہی نظر آئے جیسا کہ وہ تھے اور نظر آتے رہیں ہیں ـ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply