پولیس اور عوام
میں اسلام آباد پولیس کی مصالحت کمیٹی کی ممبر ہوں۔ میرا اور اسلام آباد پولیس کا ساتھ سن 2009 سے ہے۔ جب ہم اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ایف ایم ریڈیو میں بطور آر جے کام کرتی تھیں۔ ہم پولیس کے مورال کو بلند کرنے، لوگوں کو قانون کی آگہی دینے اور ٹریفک قوانین کی پاسداری پر ریڈیو پروگرام کرتے تھے۔
تب سے اب تک ایک سوال ہے جو ہمیشہ دماغ کو جھنجھوڑتا ہے کیا وجہ ہے پولیس اچھے اقدام اور قربانیوں کے باوجود عوام میں اپنا مقام حاصل نہیں کر سکی ، جس کی وہ حق دار ہے؟
میری نظر میں اس کی چند وجوہات ہیں جو معاشرے میں پہلے دن سے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں ۔ پہلی وجہ پولیس کا براہ راست امن و امان قائم رکھنا ہے جس میں جلسے جلوس، دوسری وجہ سیکورٹی انتظامات تیسری اہم وجہ جرائم کا ہونا ہے۔
امن و امان کے حوالے سے سب سے زیادہ عوام سے آمنا سامنا رہتا ہے جس کی مثال آپ اس طرح بھی لے سکتے ہیں ملک میں کوئی بھی مسئلہ ہو، پانی، بجلی، گیس، تنخواہوں، جیسے مسائل میں عوام اگر احتجاج کرتے ہیں، روڈ بلاک وغیرہ تو ان کو منتشر کرنے کے لئے پولیس ہی فرنٹ لائن میں کھڑی ہوتی ہے، کبھی کبھی تو آنسو گیس لاٹھی چارج بھی کرنا پڑ جاتا ہے جس سے عوام کے دل میں پولیس کے لیے ایک خلش پیدا ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ جرائم کی روک تھام کے لیے ناکوں پر عوام کی چیکنگ پر مامور عملے کا رویہ اچھا نہ ہونا بھی نفرت کا سبب بن جاتا ہے۔ تھانوں میں شکایات کے سلسلے میں جانے والے سائلین کو مطمئن نہ کرنا، ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک بھی اس نفرت کا موجب بنتا ہے ۔
حقیقت میں پولیس اور عوام کے مابین براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ پولیس سے عوام کو اکثر شکایات ہی رہی ہیں جن کو دور کرنے کی غرض سے قاضی جمیل الرحمان نے بطور آئی جی اسلام آباد کا چارج سنبھالتے ہی عوام اور پولیس کے درمیان دوریاں ختم کرنے کے لئے چند ضروری اور بہت ہی اہم اقدامات اٹھانے شروع کر دیے جن میں سائلین کی داد رسی ، ایف آئی آر کا فوری اندراج، تفتیش میں بہتری، تھانہ کلچر میں تبدیلی، نئی پولیس ٹریننگ پالیسی، عوامی رابطہ مہم، عوام کی رہنمائی کے لئے تھانوں کی سطح پر پولیس گائیڈز تعینات کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ان اقدامات کی وجہ سے اسلام آباد پولیس عوام میں کافی حد تک اعتماد کی فضاء بحال کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ جس کا کریڈٹ آئی جی اسلام آباد اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے۔ آئی جی اسلام آباد ایک بہت ہی اچھے اور نیک سیرت خدا ترس انسان ہیں ، جن کے دل میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ ہے۔ جو چاہتے ہیں پولیس اور عوام ایک پیج پر آ جائیں ، ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں ، مل کر کام کریں تاکہ مستقبل میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسلام آباد شہر کو امن کا گہوارہ بناتے ہوئے ہمیشہ کے لیے جرائم پیشہ عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
مزید یہ کہ قوانین کو بہتر بنانے کے لئے اور ان کے بہتر نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ منافقانہ رویوں کو ترک کیا جائے۔ میں مانتی ہوں کہ قوانین نافذ کرنے میں پولیس کا بہت گہرا عمل دخل ہے لیکن معاشرتی رویے اور شہریوں کا کردار زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اگر شہری اپنے حق کے حصول کے لیے رشوت نہ دیں تو یقیناً معاشرے میں پولیس کے اس کردار کو جو ان کے منفی پہلو کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، بہتر بنانے میں زیادہ سے زیادہ مدد مل سکتی ہے۔


