شاملو کی کامیابی کا دیسی فارمولہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ تل دھرنے کو بھی جگہ میسر نہیں تھی۔ طلبا و طالبات اور ان کے محترم اساتذہ سب اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ملک کے مایہ ناز موٹیوشنل اسپیکر کی متاثر کن باتیں سننے میں مگن تھے جو کبھی اسٹیفن کووے کے تو کبھی نپولین ہل کے نادر کتابی اقتباسات سے حوالہ دے دے کر ان کے اندر کے سوئے جن کو جگانے اور انہیں کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کرنے کے لئے سر توڑ کوشش میں مصروف تھا اور یقیناً یہ اس کی کامیابی کے فارمولے ہی تھے کہ ماحول میں گرمی پھیل چکی تھی۔

دوسری وجہ ملکی جامد معیشت کی عکاسی کرتے ہوئے خاموش ٹکر ٹکر دیکھتے  پنکھے بھی تھے۔ غالباً وہ بھی کسی نادر فارمولے کی تلاش میں تھے جو ان میں جان ڈال سکے۔

ماحول کی یکسوئی اور دلچسپی کرنٹ دار اقوال کا نتیجہ تھی کہ جس نے نوجوانوں کو سیماب پا بنایا تھا، اگر اس دم انہیں کشمیر آزاد کرانا پڑتا تو کچھ شک نہیں وہ یہ بھی کر گزرتے۔ لیکن رنگ میں بھنگ تب پڑا جب مجمعے میں سے میرا یارِ غار شاملو اعتراضات کی گٹھڑی سمیت نمودار ہوا۔

”آپ نوجوانوں کو اتنے پیچیدہ فارمولوں میں کیوں ڈال رہے ہیں؟“ شاملو کا اعتراض کرنا تھا کہ منتظمین نے اسے گھیرا لیکن موٹیویشنل اسپیکر نے شاملو کو بات کرنے کے لئے اسٹیج پہ بلا لیا۔ تو شاملو گویا ہوا کہ پیارے سامعین مجھے جناب کی پراثر تقریر سے کوئی گلہ نہیں لیکن یہ سارے کامیابی کے بدیسی ٹوٹکے ہیں۔ دیسی ٹوٹکے میں بتاؤں گا۔‘‘

شاملو نے ربط پکڑا اور گویا ہوا:

ؔؔجب اترپردیش کے کچھ ٹھیکے داروں سے ٹھیکے داری چھن گئی تو انہوں نے مملکت خداداد کی راہ ہموار کی،  مطلب یہ کہ مملکت خداداد کی بنیاد میں کچھ اور ہو نہ ہو ٹھیکہ بنیادی وجہ ہے۔ تو میری کامیابی کا بنیادی فارمولہ ٹھیکہ ہے۔ آپ سیاست دان دیکھیں، آپ سیٹھ دیکھیں، سماجی کارکن کے سماجی کام دیکھیں، ڈاکٹر دیکھیں، صحافی کے منہ پہ اور قلم کار کے قلم پہ لگا قط دیکھیں جن سے سچ کے بارود کو روکا جاتا ہے، فقط اس وجہ سے کہ کسی ٹھیکے پہ زد نہ لگے۔ ہر ایک کی امیری کا دار و مدار ٹھیکے پہ ہوتا ہے۔

کسی نے کہا تھا کہ ”آپ کی کامیابی کا دار و مدار آپ میں موجود شوق کی گہرائی پہ ہوتا ہے“ میں کہتا ہوں کہ آپ کی کامیابی کا دار و مدار ٹھیکے کے حجم پر ہوتا ہے۔ جتنا بڑا ٹھیکہ اتنا بڑا امیر۔ اس کے لئے کسی خصوصی تعلیم کی ضرورت نہیں بس کسی سیاسی پارٹی کے بے ایمان صدر پہ ایمان لائیں یا آپ صحافی و قلم کار ہیں تو چمچہ گیری کی وہ خاصیت اپنائیں کہ عوام کو پہاڑ جیسے معاملات بھی دکھائی نہ دیں تو پھر آپ یقیناً ٹھیکے داری کے اہل ہوں گے۔

ایک مرتبہ ٹھیکے دار بننے کے بعد یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ بددیانتی کے پھاؤڑے سے غریبوں کے حقوق کے لیے کتنا بڑا گڑھا کھودتے ہیں کیونکہ شدید قسم کے غربت کے ٹریکٹر سے اتر کر امیری کے ہوائی جہاز پہ چڑھنے کے لئے آپ میں خصوصیت بھی ہونی چاہیے کہ آپ کے تعمیر کردہ سکول و اسپتال فقط ایک سال بعد فرعونی عہد کی تعمیرات کی طرح دکھائی دیں۔ سڑکوں پہ چاند نما گڈھے مہینوں کی دین ہوں، وگرنہ آپ کامیاب ٹھیکے دار نہیں۔ یہ میری کامیابی کا اکلوتا دیسی فارمولہ ہے۔ اب نصیحت مفت ہے عمل آپ پہ ہے۔ ٹھیکہ زندہ باد۔

شاملو جذباتیت کے گھوڑے پہ بگٹٹ بھاگنے کے بعد پسینہ پونچھتے ہوئے اپنی سیٹ پر آ گیا اور سامعین دنگ تھے کہ تالی بجائی جائے یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *