تختی، چاک، اور لاٹھی کا نیا نصاب

”ابھی سورج نے شہر پر پوری طرح روشنی بھی نہیں ڈالی تھی کہ مظاہرین جمع ہونا شروع ہو گئے۔ خواتین ہاتھوں میں پلے کارڈز تھامے ہوئے، ریٹائرڈ ملازمین چھڑیوں کے سہارے کھڑے، اور سفید شلوار قمیض میں ملبوس اساتذہ خاموشی سے انصاف کے نعرے لگا رہے تھے۔ کچھ ہی گھنٹوں میں پُرامن دھرنا ہنگامے میں تبدیل ہو گیا۔ پولیس کے اہلکاروں نے، جو مکمل حفاظتی لباس میں تھے، علاقے پر دھاوا بول دیا۔ لاٹھیاں چلنے لگیں۔ آنسو گیس کی شیلنگ

Read more

بچے فکشن کیوں پڑھیں؟

کلاس سے نکلنے کے بعد میں عموماً آہستہ چلتا ہوں تاکہ کسی بچے کو اگر مجھ سے کوئی سوال وغیرہ پوچھنا ہو تو وہ آسانی سے رسائی حاصل کرسکے ایسے ہی ایک دن ایک لڑکا میرے پاس آیا اور کہنے لگا سر! یہ لیں آپ کا ناول مجھے فلاں استاد نے کہا ہے کہ آپ ناول وغیرہ نہ پڑھا کریں۔ یہ وقت کا زیاں ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایک اور دفعہ کالج کے کچھ طالب علم آئے تھے کلاس میں بچوں

Read more

2024 کی میری پانچ پسندیدہ کتابیں

یہ سال پڑھنے کے حوالے سے اچھا رہا لیکن جو ہدف تھا وہ پورا نہ ہوسکا۔ اور اس سال عہد کیا تھا کہ مذہب، اقبال اور فلسفہ سے متعلق کتابیں پڑھنی ہیں جو پورا نہ ہوسکا۔ سال کے اختتام تک پھر سے ناولوں میں خود کو پایا۔ سال کے ابتدا میں ہی میں نے خود کو برادر کرامازوف جیسے شاہکار کے سحر میں ڈوبا ہوا پایا جو پچھلے سال سے جاری تھی، جس پر انشاء اللہ الگ بات ہو گی۔

Read more

باورچی خانے میں تلا گیا ناول : نعمت خانہ

اور المیہ یہ تھا کہ وہ دونوں اس بات سے بے خبر اور یکسر انجان تھیں کہ میں نے کبھی اُن دونوں پر اتنے بڑے اور عظیم احسانات کیے تھے۔ اتنے بڑے بڑے احسان! اف! اتنے بڑے بڑے دھبے۔ ” دو دو قتل۔ ایک نہیں دو دو قتل جن میں میرے دونوں ہاتھوں کی مرضی شامل تھی۔ مگر اُن دونوں کو کچھ نہیں معلوم۔ میں اُن دونوں کے لیے خاندان کا ایک معمولی جھینپو سا لڑکا تھا اور بس، اور

Read more

ایڈیٹ اور دستووفسکی کا مثالی انسان

یوں تو روسی ادیب دستووفسکی کی شہرت برادر کرامازوف اور کرائم اور پنشمنٹ ہے لیکن درجہ اعلٰی کا یہ مصنف اگر فقط ان دو کتابوں پر یاد کیا جائے تو نا انصافی نہیں بلکہ بہت بڑی نا انصافی ہوگی۔ دستووفسکی دوسرے ناولوں میں بھی کم کمال نہیں دکھاتے لیکن اکثر ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ ان ہی ناولوں میں ایک ”دی ایڈیٹ“ ہے۔ دستووفسکی اپنے ناول ”ایڈیٹ“ میں ایک مثالی انسان کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔ دستووفسکی کا

Read more

تنہائی کیوں ضروری ہے

اتوار کی شامیں میں ریت کے اونچے ٹیلوں پر بیٹھ کے گزارتا ہوں، جہاں سے سردیوں میں آسمان اور سمندر کو دور تک جاتے ہوئے گلے مل کر دیکھتا ہوں، سارے شہر کو آہستہ آہستہ روشنی سے تاریخی کے دبیز پردے میں چھپتے ہوئے محسوس کرتا ہوں، یہ لمحہ جب مغرب قریب آتے ہی آسمان سے پرندے اور ریت کے ٹیلوں پر کھیلنے والے بچے ایک ساتھ گھروں کو لوٹتے ہیں دو قسم کی گھریں ایک وہ جہاں سے اٹھتا

Read more

بکربیتی, دہشت ناک صحرا کی کہانی

پہلے پہل آپ کو خبردار کر دوں کے ہندوستانی مصنف بنیامین کا لکھا ہوا ناول ”بکربیتی* پڑھنے کے بعد خلیج ممالک میں کام کی غرض سے جانے سے توبہ کریں گے جی ہاں بلکہ آپ اپنے عزیز اقارب کو بھی منع کریں گے۔ اس ناول کو پڑھنے سے آپ خدا کی نعمتوں کا بھی شکریہ ادا کریں گے کہ جن کو آپ ان کی فراوانی کی وجہ سے نعمت ہی نہیں سمجھتے۔ خاص طور پر تین نعمتوں کو لیکن پہلے

Read more

روسی ادب کیوں اور کیسے پڑھا جائے؟

روس کا زیاد حصہ ایشاء میں ہونے کے باوجود ایک وسیع حصہ یورپ میں ہے لیکن تاریخی طور پر روس یورپ سے یکسر جدا ہے۔ نہ روس یورپ میں وقوع پذیر ہونے والے نشاۃ ثانیہ، جمہوریت، انسان دوستی، برابری کی تحریکوں سے متاثر ہوا نہ یورپی ادب سے۔ بلکہ یورپ اور روس کے ادب میں فرق بعد المشرقین ہے۔

روسی ادیبوں کا معاشرتی مطالعہ گہرا ہونے کے سبب وہ انسانی نفسیات کو گہرائی سے بیان کرتے ہیں۔ تجربات کو اس کی اصلی شکل میں سپرد قرطاس کرنا روسی ادیبوں کا خاصا ہے اور روسی ادب زندگی کے زیادہ نزدیک ہے۔ خاص طور پر ہمارے علاقے کے لوگوں کے مسائل تو آج بھی ویسے ہی ہیں جو انیسویں صدی کے روس کے تھے۔ اسی لئے ایک یورپی سے زیادہ وہ ہمارے مزاج کے قریب ہیں۔

Read more

فکشن پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

فکشن یا دوسرے لفظوں میں ناول، افسانے اور ڈرامے پڑھنا کہیں افراد کے خیال میں وقت کا ضیاع ہے۔ اوائل عمری میں، میں بھی اسی قبیل کا فرد تھا۔ لیکن بہت زیادہ لکھاریوں کو فکشن پڑھنے کی اہمیت بتاتے سن کر جب میں نے فکشن کی طرف رخ کیا تو یہ ایک جہاں حیرت تھی۔ بصورت انسان مجھ میں کہیں تبدیلیاں آئیں۔ جن پر آج بات کریں گے۔ فکشن کی جو سب سے اہم خوبی ہے وہ ہے کہ فکشن

Read more

کتابیں مت پڑھئے: شوپنہاور

یہ مضمون شوپنہاور کے مضامین کے مجموعہ میں سے ایک کی تلخیص ہے۔ جرمن فلسفی کے کتب بینی سے متعلق نظریات کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ۔ یہ مضمون دراصل انگریزی میں چھ نکات پہ مشتمل ہے لیکن میں نے ایک نکات کو دو میں بانٹ کر سات نکات کیں ہیں۔ 1: جب ہم پڑھتے ہیں تو دوسرا شخص ہمارے لئے سوچ رہا ہوتا ہے۔ ہم صرف اس کے دماغی حالت کو دہرا رہے ہوتے ہیں۔ ایسے جیسے ایک شاگرد

Read more

یہ کزن کون لوگ ہوتے ہیں

ہم نے انگریزی کلچر سے ادھار کے جتنے زنگار (کانچ کے اوپر کا چمکیلا شے ) اپنے اوپر چڑھا لیے ہیں ان میں سے ایک یہ کزن ہے۔ جو معمہ ہے نہ حل ہونے کا، کم از کم میرے لیے تو یہ اچھا خاصا معمہ ہے۔ کہنے کو چاچا اور چاچی کے بیٹوں اور غالباً بیٹوں کو کہتے ہیں لیکن ادھر ہم نے اسے ببل گم کی طرح سائز سے سو گنا زیادہ پھیلا دیا ہے۔ ہمارے مولوی حضرات بھی کبھی

Read more

"دو نیم اپریل” البانیہ کی بلوچستانی تصویر

جس کسی نے فکشن کے متعلق یہ تصور بنا رکھا ہے کہ فکشن وقت گزاری اور وقت کا زیاں ہے تو دو نیم اپریل اس کی اس تنگ نظری کو پاش پاش کرنے کی قوت رکھتی ہے بلکہ سوچ کا وہ دھارا فراہم کرتی ہے کہ کوئی بھی نان فکشن آپ کو یہ سب کچھ نہ کروا سکے ماسوائے کسی بہترین سفرنامہ کے۔ دو نیم اپریل البانیہ کی بلوچستانی تصویر کیوں؟ وہ اس لیے کہ اسے پڑھتے ہوئے آپ کو

Read more

2021: پسندیدہ 5 کتابیں جو میں نے پڑھیں

2021 میری زندگی میں مشکل ترین سالوں میں سے ایک رہا ہے, غروب ہوتا ہوا سورج بھی کچھ سکھا کے گیا, مشکل یوں تھاکہ  اس سال کے پہلے دن میں  نے خود کو کراچی سول اسپتال میں پایا. لیکن میرا موضوع آج دو ہزار اکیس کے تجربات نہیں بلکہ کتابوں کا ایک معمولی عاشق ہونے کے ناطے اپنے اس سال پڑھی گئی 5 کتابوں پر مختصراً بات کرنا ہے . اول اول میں نے دس کتابیں چن لی تھی لیکن طوالت کی

Read more

گمشدگان کی تلاش

گمشدگان اور بلوچستان، دو ایسے الفاظ ہیں جو آج کل کم و بیش مترادف کے طور پر استعمال کئیے جا سکتے ہیں۔ اور ہر زاویے سے۔ اب دیکھیے کے پچھلے تین ہفتوں سے عوام سڑکوں پہ اپنی بنیادی ضروریات، اور روزگار کے ذرائع کے بندش کے خلاف نکلے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے نمائندگان دور دور سے دکھائی نہیں دیتے، پوسٹر چھپوائے گیے، صلواتیں کی گئی، فون لگائے گئیں لیکن پتہ چلا ہے کہ صاحبان، گم شدہ ہے۔ ایک صاحب

Read more

بلوچ عورت، مرد اور مصنوعی غیرت کے علمبردار

چند دن پہلے فیس بک پر ایک گروپ میں کسی نے سنج بلوچ نام کی لڑکی کی وڈیو شیئر کی تھی جس میں وہ ماسک پہنے ولاگ بنا رہی ہے۔ جس میں یقیناً ناپختگی صاف دکھائی دیتی ہے۔ لیکن بیچاری مردوں کو تنقید کا دعوت دیتی بھی دکھائی دیتی ہے۔ اس بات سے انجان کہ اس کی وڈیوز کے بعد بلوچ غیرت ناگاساکی اور ہیروشیمائی بربادی کی تصویر بن جائی گی۔ نیچے کمنٹس میں گالیوں کے پھول برسانے کے ساتھ

Read more

وسعت اللہ خان کی سیلاب ڈائری

”گان گرلز“ کے لکھاری گلئن فلئن نے اپنے ایک انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی کے ناول and then there were none کے متعلق کہا تھا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جب مجھے کچھ پڑھنے کا من نہ کرے، یا میں سراپا بوریت ہوں تو اسے ہی پڑھنا شروع کرتا ہوں۔ جانے کیوں وسعت اللہ خان کی سیلاب ڈائری پڑھتے ہوئے بھی بارہا میں نے خود کو اسی کیفیت میں پایا۔ میں بھی بوریت کے سمے آب گم، بجنگ آمد

Read more

میری کزِٹ آف پسنی ، بلوچستان

22 مئی 1844 کو پنسلونیا کے الگنی نام کے شہر میں میری کزٹ نام کی ایک لڑکی نے آنکھ کھولی، جسے جلد یہ معلوم ہونا تھا کہ وہ وقت سے پہلے جنمی گئی ہیں، اور وہ بھی ایک پدرسری سماج میں۔ کزٹ عورتوں میں تاثراتی مصوری کا سب سے پہلا اور بلند نام ہیں۔ کزٹ نے والد کی ان کے ڈاکٹر بننے کی خواہش کو پس پشت ڈال کر رنگوں کو گلے لگا کر مصوری کے رنگ میں خود کو

Read more

شاملو کی کامیابی کا دیسی فارمولہ

ہال کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ تل دھرنے کو بھی جگہ میسر نہیں تھی۔ طلبا و طالبات اور ان کے محترم اساتذہ سب اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ملک کے مایہ ناز موٹیوشنل اسپیکر کی متاثر کن باتیں سننے میں مگن تھے جو کبھی اسٹیفن کووے کے تو کبھی نپولین ہل کے نادر کتابی اقتباسات سے حوالہ دے دے کر ان کے اندر کے سوئے جن کو جگانے اور انہیں کامیابی کی منزل کی طرف گامزن کرنے کے لئے سر توڑ

Read more

گمنام گاؤں کا آخری مزار

کتنی ہی ایسی کتابیں ہیں جنہیں پڑھ کر آپ یہ کہہ سکیں کے یہ کردار تو اپنے ہی معاشرے کے لگتے ہیں۔ یقیناً بہت کم اور اس بہت کم میں ایک رؤف کلاسرا صاحب کا ”گمنام گاؤں کا آخری مزار ہے“ جسے پڑھ کے کہیں بار، کہیں گمنام چہرے آنکھوں کے گرد پہروں چھائے رہے۔ سوچتا رہا کہ ہمیں کیوں ان کرداروں کے یہ پہلو نہیں دِکھے۔

Read more

پاکستان کا پہلا آسٹرفوٹوگرافر

دسویں کلاس کے آخری دن تھے۔ جب استاد ہم سب سے فردا کے منصوبوں کے بارے میں سوال جواب کر رہے تھے، تو ہم سب کے منصوبوں سے الگ، ایک جدا آواز ابھری، ہمارے ہی ایک کلاس فیلو کا، ہمارے ہی قریبی دوستوں میں سے ایک کا، لیکن وہ خواب ہم میں سے نہیں بلکہ ہمارے اذہان ایسے خواب کو ناممکنات میں گردانتے تھے۔ انجینئر، ٹیچر اور ڈاکٹر بننے والوں کی اس فہرست میں، اس نے کہا تھا میں تصویر کشی کروں گا، میں فوٹوگرافر بنوں گا۔ ہم سینکڑوں کے بے کنارے خوابوں میں سے اسے بھی ایک عمومی خواب سمجھ رہے تھے مگر یہ خواب اس کے لئے خاص تھا، بہت ہی خاص بلکہ اتنا واضح کہ وہ اسے دماغ میں حقیقت کا روپ دے چکے تھے۔

Read more

تربت سے لاھور موٹروے تک

ایک نہ تھمنے والی چیخ ہے، ایک لامتناہی ماتم ہے، ایک المیہ کی مذمت میں زہر افشانی ہے۔ اخبارات میں خبروں میں لہو کی بو ہے، کالموں سے عورت پہ ہونے والے تمام ظلم و عدو کی ایک بار پھر نقشہ گیری جاری ہے۔ ٹی وی کی سرخیاں خوں چکاں ہیں۔ ماہرین، اداکار، تجزیہ نگار اپنی اپنی تجزیات کی روشنی میں معاشرے کی پیوند کاری میں مصروف ہیں۔ قانون دان قانون میں موجود سقم پہ نوحہ خواں ہے۔ آئین کے

Read more

لواطت اور ہماری سماجی ذمہ داریاں

2013 کے موسم گرما کے ایک حبس زدہ شام معمول کے مطابق میں ایئرفون کانوں میں ٹھونسے ریت کے ٹیلوں کو پھلانگتا، دور ایک ٹیلے کی طرف جا رہا تھا، تاکہ وہاں سے اردگرد کے گھروں سے دور بیٹھ کر ریڈیو سے لطف اندوز ہوں۔ کانپتے ہانپتے ٹیلے پر پہونچا، اور سستانے لگا کہ جس اونچے ٹیلے پر میں بیٹھا تھا، اس کے بائیں سائیڈ میں اس سے قدرے چھوٹا ریت کا ٹیلہ تھا، جس پر ایک کیکر کا درخت

Read more

ایک خاموش قاتل قوم کی جڑیں کاٹ رہا ہے .

جب بھی نشہ اور منشیات زدہ لوگوں، گھروں کا تذکرہ ہوتا ہے۔ تو اس میں صنف مرد کو ہی ہم عموماً شمار کرتے ہیں۔ اور تصویر کے اسی رخ کو ہی ہم بیان کرتے ہیں۔ نشے سے جڑی تباہیاں، خرابیاں، غفلتیں اور تہمتیں مرد کے ہی جھولی میں ڈالی جاتی ہیں۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں وجود، معیشت اور بہتری و ابتری کا کم و بیش سارا ذمہ داری مرد پہ ہی پڑتا ہے۔ لیکن اچھی

Read more

نسلی القابات اور طاقت کا حصول

جب انسان نے اصل میں ہوش سنبھال تو زرعی دور کا افتتاح ہوچکا تھا۔ زرعی دور قبائلی دور نظام کو لایا تو اس میں بقا  کی جنگ یہ تھی کہ جس قبیلے سے خوف آتا تھا تو آپ اسے پہلے حملہ کرکے مار دیتے۔ آٹھ، دس ہزار سال تک یہ نظام چلا اس کے ساتھ ہی سلطنتوں کا وجود آ گیا تو وہاں بھی طاقت کے نظام کو برقرار رکھنے کے لئے محکوموں اور ممکنہ مخالفوں کو کچل دیا گیا۔

Read more

مولانا طارق جمیل: میں جو سچ کہوں تو برا لگے

مولانا طارق جمیل صاحب ان اشخاص میں ایک ہیں جن سے مجھے اختلافات ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے علم و فہم پہ بات کرنا سورج کو چراغ دکھانا ہے۔ اور موجودہ دور میں اسلام کو پھلانے میں اور بہت سے دلوں کو پھیرنے میں اس کا بہت بڑا کردار ہے۔ ”میڈیا جھوٹا ہے اس میں بہت زیادہ جھوٹ بولا جاتا ہے“ حضرت مولانا طارق جمیل کے منہ سے چند الفاظ تھے کہ میڈیا کو اوپر نیچے آگ لگ گئی۔ پھر

Read more

ڈالروں میں بکتا خوف

انسان کو آپ خوفزدہ کریں تو وہ ہر حد تک جائے گا۔ عقل سے عاری لوگ خوف کو دیو بنا کر ہی خود کو برباد کریں گے اور عقل مند ہر چیز دینے کو تیار رہتے ہیں۔ بڑی اقوام بھی خوف بیچ کر پیسے کماتی ہیں، خوف ہی سے قومی ہمدردی سمیٹتے ہیں۔ خوف ہمیں ہمارے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا کرتا ہے اور ہم سب کچھ فیصلے سازوں کی جھولی میں پھینک دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا سے

Read more

ضلع کیچ میں فورجی کی بندش آخر کب تک ؟

کچھ چیزیں کچھ چیزوں کی ضد ہوتی ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے چڑ ہوتی ہے۔ جیسے بلی کو چوہے، کتے کو بلی سے، ساس کو بہو سے اور بھارت کو پاکستان سے ایسی ہی ہمارے حکومت کو حقوق دینے سے چڑ ہے۔ اب یہ کیوں، کیسے اور کب سے ہے، جواب کے لئے اوپر پوچھنا پڑے گا ( معزرت! اوپر سے مراد اعلی حکام سے وگرنہ دوسرے والے اوپر جانے کے ڈر سے گھر پہ بیٹھا ہوں ) ۔ اب

Read more

تعلیمی نصاب میں تقریری مضمون، ترقی کا ضامن

ویسے میں کسی کی نہیں سنتا، کسی کی بھی نہیں، ماسوائے ایک عدد بیوی کے جس کو سننا فرض ہے وگرنہ میرے گھر میں بھوک صومالیہ سمجھ کر ڈیرہ ڈال لے، اور میں ہر چیز پر کمرومائز کر سکتا ہوں بھوک پر نہیں۔ اور آج بھی میں نے روٹی کی خاطر نعرہ زنانہ ( میری بیٹی کی فریاد ) پر لبیک کہا ہے اس کی ماں کی ناراضی اور اپنی بھوک کو مدنظر رکھ کر۔ نعرہ زنانہ کو پچھلے دو

Read more

آپ دنیا کا مرکز نہیں ہیں

تحریر : یووال نوح ہراری مترجم : صادق صبا زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ دنیا کی مرکزی قوم ہیں اور ان کا کلچر، ان کا تہذیب ہی انسانی تاریخ کا محور ہے۔ بہت سے یونانی یہ خیال کرتے ہیں کہ تاریخ کی شروعات ہومر، سوفوکلیس اور افلاطون سے ہوئی، اور تمام روشن خیالات اور ایجادات کی پیدائش ایتھینز، اسپارٹا، سکندریہ اور قسطنطنیہ میں ہوئی۔ چین کے قوم پرست تو یہ دعوی کرتے ہیں کہ تاریخ کی ابتداء

Read more

امت کا رکھوالا انکل سام یا امت خود؟

قبلہ، جہاں سجدوں کی بارش عرش کو تھر تھراتی ہے، وہیں سجدوں سے باطل پر لرزہ طاری ہوتا ہے اس لیے چودہ سو سال بعد انکل سام نے اس کھپکھپاہٹ کی کمی کا بیڑہ اٹھا کر اپنی روح اہل کعبہ پر پھونک دی ہے۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے ”روح محمد ان کے بدن سے نکال دو“ تو یہ ہم سے بھی بڑے ظالم بن جاتے ہیں۔ بات کو مختصر کرتے ہوئے یہ کہہ دیں کہ آج کل وہ ناراض ہے۔

Read more

بادشاہ آف خوشآمدپور

جوں ہی میں نے خوشآمدپور میں قدم رکھا تو میں پریشان ہو گیا۔ لوگ جوک در جوک اپنے گھروں سے نکل کر شہر کے مشرقی سمت چیونٹیوں کی مانند قطار در قطار جا رہے تھے۔ میں نے کسی سے پوچھا کیا یہ ہجوم پُر بھلا کسی کے جنازے پہ جارہا ہے تو اس کا جواب تھا ”نہیں، یہ بادشاہ کے محل پہ جارہے ہیں کیونکہ آج بادشاہ کا دربار ہے آج بادشاہ درباریوں، مسکینوں اور غریبوں پہ اپنی فیاضی کے

Read more

گلنار

بچپن سے میرآباد کی پہچان گلنار اور ریحان کی شرارتیں تھیں۔ سنگلاخ پہاڑیوں کے درمیان جب دنیا سے کٹا، یہ پیارا سا گاؤں خواب سے جاگتا تو دو فرشتے نما ننھے چور تباہی مچاچکے ہوتے۔ کسی کا پھاٹک کھول کر مویشیوں کو کھولتے، مرغیوں کے انڈے توڑتے لیکن ان سب کے باوجود وہ میرآباد کے لوگوں کے آنکھوں کے تارے تھے۔ اس کے پیچے گاؤں کے لوگوں کا ایک واہمہ تھا۔ جب حسن کے گھر گلنار اور حسین کے گھر

Read more

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

مجھے یاد ہے پہلی بار جب وہ آیا تھا میرے پاس تو اس نے سائے میں رکھے واٹر کولر کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ ”کیا میں پانی پی سکتا ہوں“ تو میں نے جواب کی منتظر ان آنکھوں والے پیارے سے بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا ضرور اور پھر میں پڑھانے میں لگ گیا۔ بچہ پانی پی کر اس دن وہاں سے گیا لیکن وقتاً فوقتاً وہ پانی پینے آتا جاتا رہا۔ کل جب

Read more

مکران میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات

حالیہ دنوں کیچ، گوادر اور خاص کر پسنی میں آئے روز نوجوان درختوں اور پنکوں سے لٹک کر دارِ فانی سے بیزاری کی غمزدہ داستانیں رقم کررہے ہیں جس سے معاشرے میں تشویش کی ایک لہر دوڑ رہی ہے، کہ نہ جانے کب کس کی خبر ملے کہ اس نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی کی ہے۔ اس مہینے یہ پانچواں جبکہ اس سال یہ تعداد کم و بیش ایک درجن سے بھی سوا ہے۔ عمومی رائے تو اسے معاشی

Read more

شاملو بیٹا میچ فکسڈ ہے

سندیپ مہیشوری اور قاسم علی شاہ کی موٹیوشنل وڑیوز دیکھنے کے بعد شاملو بلوچ ہمت، جرت و عزم کی تمثیل فقط ہمالیہ سے ہو سکتی تھی۔ شاملو اسی عزم عالی شان کو لے کر ہر روز دوڑ پہ دوڑ لگاتے، آخر کار دوڑ میں یوسین بولٹ و میلکا سنگھ بن گیا، جو نتیجہ تھا فقط ایک چاہ، ایک منزل کہ شاملو کو وردی پہن کر اپنے پیٹ کا فرض اور ماں کے دودھ کا قرض چکانا تھا۔ شاملو کا پہلا منزل یعنی دوڑ کا دن آگیا تو اقبال کا یہ شاہین میدان کار زار میں ہواؤں سے باتیں کرتے ہوئے محJ چند منٹوں میں منزل تک پہنچ گیا۔ اس بلند پروازی پر شاملو کے چہرے کا انبساط دیدنی تھا۔ مگر شاملو اس بات سے بھی آگاہ تھا کہ ہنوز دہلی دور است، تبھی شاملو نے دوسری منزل کی ٹرین پکڑ لی یعنی کتابوں پہ کتابیں رٹنے کا وراثتی پیشہ مگر یہ کارنامہ شاملو نے یوں انجام دیا کہ فرشتے گواہ ہیں کی عالم برزخ میں ارسطو و افلاطون ہش ہش کرتے رہے۔ تاریخ پاکستان، تاریخ ہند، تاریخِ اسلام سے لے کر تاریخِ عصرِ قدیم جیسی ضخیم کتابیں و علم، کیا تھا جو شاملو نے نہ رٹا ہو۔ آخر شاملو کو ٹیسٹ دے کر سب کو جو حیران کرنا تھا۔

Read more

رٹّا اور لارڈ کرزن کا آئینہ

لارڈ کرزن کی شہرت 1905 کی تقسیم بنگال سے ہے۔ یہ وہ وائسرائے ہے جسے ہندوستان و کانگریس دشمنی سے جانا جاتا ہے اور اس کی پالیسیز میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ تصور کیا جاتا ہے۔ شاہانہ طور پہ سرزمین ہند میں حکومت کرنے والے اس وائسرائے کی ایک اور وجہ شہرت ہونی چاہیے تھی مگر تاریخ کی ستم ظریفی کہ نہیں بن سکی۔ وہ ہے لارڈ کرزن کے نام سے پاکستان میں ایک شہر کا آباد ہونا اور وہ شہر ہے میرا جنم بھومی پسنی جس کا سابقہ نام کرزن آباد تھا۔

Read more

کرائسٹ چرچ حملہ : تہذیبی تصادم کی تمہید

پی ہنگٹن نے اپنی کتاب ”تہذیبوں کا تصادم“ میں موجودہ دنیا کو آٹھ تہذیبوں میں تقسیم کیا ہے، اور لکھا ہے کہ ہمارے مغربی تہذیب کے ساتھ سوائے اسلام کے باقی چھ تہذیبیں موافقت رکھتی ہیں۔ اسلام اور مغربی تہذیب ہی مستقبل قریب میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔ مزید وہ لکھتے ہیں کہ اسلام کے ساتھ تعاون کرنے والی تہذیب کنفیوشش تہذیب ( چاینیز اقوام کی) ہوگی۔ مغرب میں اسلاموفوبیا ہر دور میں رہا ہے لیکن

Read more

مودی کے نام مہاتما گاندھی کا خط

آدھرنی پردھان منتری شری مودی جی، نمسکار! سب سے پہلے تو میں دیر سے سہی لیکن پلوامہ حملے کی کڑی نندا کرتا ہوں، اور آپ سے بِنتی کرتا ہوں کے حملے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس کے بعد اب میں آپ جناب کی حیرانگی دور کرتا چلوں کہ کیوں میں نے آپ کو سورگ میں بیٹھ کر بھی تار بھیجنے کی زحمت کی تو ونیت پردھان منتری جی پلوامہ حملے کے بعد سے ہندوستان کی طرح یہاں سورگ میں بھی کم بے چینی نہیں پل پل کی قبریں یہاں پہنچتی ہیں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔

Read more

ووٹ کی قیمت اور طبقاتی سماج

جوں ہی الیکشن قریب آتے ہیں تو مختلف امیدواران اپنے شہری نمائندوں کے ساتھ قریہ قریہ وؤٹ مانگنے کے لئے جلسے اور جلوسوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے دوڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے ہمراہ اکثر مقامی نمائندوں کی ٹیم ہوتی ہے۔ جو طبقاتی اور منقسم معاشرے میں نچلے طبقے کے لئے، جس میں مزدور اور دھاڑی پہ رہنے والے یا بے روزگاروں لوگ ہوتے ہیں، منہ میں شرینی لئے ہوتے ہیں۔ کیونکہ امیدواران کو ووٹ

Read more

ڈونکی کنگ اور میرا خواب

رات کو ڈونکی کنگ دیکھنے کے بعد ذہن میں بے شمار منگو تیرنے لگے۔ مگر مجھے متاثر ایک جملے نے کیا تھا جو منگو کے مرحوم والد نے کہا تھا کہ ”بیٹا خواب تو سچ ہونے کے لئے ہی دیکھے جاتے ہیں“

تب ہی میرے ذہن میں میرا خواب چمکنے لگا اور اس کے چاروں طرف امید کے چراغ ہی چراغ تھے۔ اور بیچ میں سونے کے پلیٹ میں ”نشہ سے پاک معاشرہ کا خواب“۔

Read more

درباری چمچے

ابھی میں چھوٹا ہی تھا کہ شربت کی بوتل پہ لکھا پایا کہ دو چائے کے چمچے دن میں تین بار، مگر یہ اتنی سنجیدہ بات نہیں تھی۔ بس اتنی سمجھ نہیں آئی کہ چائے والاچمچ کون سا ہوتا ہے۔ خیر کچھ ہی عرصہ بعد ایک اور چمچے کے بارے میں پتہ لگا اور یہ تھا کھانے کا چمچہ، تو ڈکشنری کھولنا ناگزیر ہوگیا کہ لفظ و معانی کی اتھل پتھل کا بار گراں میرا ننھا دماغ کیسے سہہ سکتا؟ تب آہستہ آہستہ پتہ لگا کہ چائے کا چمچہ چھوٹا اور کھانے کا تھوڑا بڑا ہوتا ہے بلکہ یہ مختلف سائز میں آتے ہیں چھوٹا، بڑا درمیانہ بہت بڑا وغیرہ۔
چمچے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ برتن کا پکوان پلیٹ میں منتقل کرتا ہے کبھی حسن خوبی سے تو کبھی یوں بچوں کی طرح کے دسترخوان پہ کھانا سالن اِدھر اُدھر بھی بکھرا دیتا ہے۔

Read more

عقل بڑی ہے کہ بھینس؟

میں کلاس میں پڑھا رہا تھا کہ  پیچھے دو شرارتی بچوں میں سے ایک نے دوسرے کو ایک معصومانہ سوال فارورڈ کیا کہ "عقل بڑی ہے کہ بھینس” تو جیسے میں بھی خلا میں اٹک گیا جو ہم جیسے رٹو طوطوں کی عادت ہے، اور فلسفیانہ طرز پر اس سوال پر غور کرنے لگا اور بے اختیار وہی سوال اسی بچے کو ری فاروڑ کیا تو بچہ جمہورہ نے ہنس کے یہ کہا "سر یہ تو بچوں والی سوال ہے”

Read more

کیا عمران خان جاگیردارانہ نظام کو توڑ پائیں گے؟

برطانیہ اور انگریز حکومتوں سے آزادی کے بعد سنگاپور، ملائیشیا جیسے انگنت ملکوں نے ترقی کی تو دوسری طرف پاکستان اور ہندوستان میں بھی اہلِ صفا مسند پہ بٹھائے گئے اور فرنگیوں کے تاج اچھالے گئے۔ دیکھنے والوں نے اگر کچھ دیکھا تو وہ بھوک، افلاس اور غربت کی افریت ہی تھی۔ ہندوستان میں خیر حالات قدر بہتر ہوئے پاکستان نہ وہی کا وہی رہا نہ آگے بڑھا بلکہ مزید پیچے چلا گیا۔ اس کا سب سے بڑا فیکٹر تھا

Read more