شاملو بیٹا میچ فکسڈ ہے

سندیپ مہیشوری اور قاسم علی شاہ کی موٹیوشنل وڑیوز دیکھنے کے بعد شاملو بلوچ ہمت، جرت و عزم کی تمثیل فقط ہمالیہ سے ہو سکتی تھی۔ شاملو اسی عزم عالی شان کو لے کر ہر روز دوڑ پہ دوڑ لگاتے، آخر کار دوڑ میں یوسین بولٹ و میلکا سنگھ بن گیا، جو نتیجہ تھا فقط ایک چاہ، ایک منزل کہ شاملو کو وردی پہن کر اپنے پیٹ کا فرض اور ماں کے دودھ کا قرض چکانا تھا۔ شاملو کا پہلا منزل یعنی دوڑ کا دن آگیا تو اقبال کا یہ شاہین میدان کار زار میں ہواؤں سے باتیں کرتے ہوئے محJ چند منٹوں میں منزل تک پہنچ گیا۔ اس بلند پروازی پر شاملو کے چہرے کا انبساط دیدنی تھا۔ مگر شاملو اس بات سے بھی آگاہ تھا کہ ہنوز دہلی دور است، تبھی شاملو نے دوسری منزل کی ٹرین پکڑ لی یعنی کتابوں پہ کتابیں رٹنے کا وراثتی پیشہ مگر یہ کارنامہ شاملو نے یوں انجام دیا کہ فرشتے گواہ ہیں کی عالم برزخ میں ارسطو و افلاطون ہش ہش کرتے رہے۔ تاریخ پاکستان، تاریخ ہند، تاریخِ اسلام سے لے کر تاریخِ عصرِ قدیم جیسی ضخیم کتابیں و علم، کیا تھا جو شاملو نے نہ رٹا ہو۔ آخر شاملو کو ٹیسٹ دے کر سب کو جو حیران کرنا تھا۔

Read more

رٹّا اور لارڈ کرزن کا آئینہ

لارڈ کرزن کی شہرت 1905 کی تقسیم بنگال سے ہے۔ یہ وہ وائسرائے ہے جسے ہندوستان و کانگریس دشمنی سے جانا جاتا ہے اور اس کی پالیسیز میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ تصور کیا جاتا ہے۔ شاہانہ طور پہ سرزمین ہند میں حکومت کرنے والے اس وائسرائے کی ایک اور وجہ شہرت ہونی چاہیے تھی مگر تاریخ کی ستم ظریفی کہ نہیں بن سکی۔ وہ ہے لارڈ کرزن کے نام سے پاکستان میں ایک شہر کا آباد ہونا اور وہ شہر ہے میرا جنم بھومی پسنی جس کا سابقہ نام کرزن آباد تھا۔

Read more

کرائسٹ چرچ حملہ : تہذیبی تصادم کی تمہید

پی ہنگٹن نے اپنی کتاب ”تہذیبوں کا تصادم“ میں موجودہ دنیا کو آٹھ تہذیبوں میں تقسیم کیا ہے، اور لکھا ہے کہ ہمارے مغربی تہذیب کے ساتھ سوائے اسلام کے باقی چھ تہذیبیں موافقت رکھتی ہیں۔ اسلام اور مغربی تہذیب ہی مستقبل قریب میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔ مزید وہ لکھتے…

Read more

مودی کے نام مہاتما گاندھی کا خط

آدھرنی پردھان منتری شری مودی جی، نمسکار! سب سے پہلے تو میں دیر سے سہی لیکن پلوامہ حملے کی کڑی نندا کرتا ہوں، اور آپ سے بِنتی کرتا ہوں کے حملے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس کے بعد اب میں آپ جناب کی حیرانگی دور کرتا چلوں کہ کیوں میں نے آپ کو سورگ میں بیٹھ کر بھی تار بھیجنے کی زحمت کی تو ونیت پردھان منتری جی پلوامہ حملے کے بعد سے ہندوستان کی طرح یہاں سورگ میں بھی کم بے چینی نہیں پل پل کی قبریں یہاں پہنچتی ہیں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔

Read more

ووٹ کی قیمت اور طبقاتی سماج

جوں ہی الیکشن قریب آتے ہیں تو مختلف امیدواران اپنے شہری نمائندوں کے ساتھ قریہ قریہ وؤٹ مانگنے کے لئے جلسے اور جلوسوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے دوڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے ہمراہ اکثر مقامی نمائندوں کی ٹیم ہوتی ہے۔ جو طبقاتی اور منقسم معاشرے میں نچلے طبقے کے…

Read more

ڈونکی کنگ اور میرا خواب

رات کو ڈونکی کنگ دیکھنے کے بعد ذہن میں بے شمار منگو تیرنے لگے۔ مگر مجھے متاثر ایک جملے نے کیا تھا جو منگو کے مرحوم والد نے کہا تھا کہ ”بیٹا خواب تو سچ ہونے کے لئے ہی دیکھے جاتے ہیں“

تب ہی میرے ذہن میں میرا خواب چمکنے لگا اور اس کے چاروں طرف امید کے چراغ ہی چراغ تھے۔ اور بیچ میں سونے کے پلیٹ میں ”نشہ سے پاک معاشرہ کا خواب“۔

Read more

درباری چمچے

ابھی میں چھوٹا ہی تھا کہ شربت کی بوتل پہ لکھا پایا کہ دو چائے کے چمچے دن میں تین بار، مگر یہ اتنی سنجیدہ بات نہیں تھی۔ بس اتنی سمجھ نہیں آئی کہ چائے والاچمچ کون سا ہوتا ہے۔ خیر کچھ ہی عرصہ بعد ایک اور چمچے کے بارے میں پتہ لگا اور یہ تھا کھانے کا چمچہ، تو ڈکشنری کھولنا ناگزیر ہوگیا کہ لفظ و معانی کی اتھل پتھل کا بار گراں میرا ننھا دماغ کیسے سہہ سکتا؟ تب آہستہ آہستہ پتہ لگا کہ چائے کا چمچہ چھوٹا اور کھانے کا تھوڑا بڑا ہوتا ہے بلکہ یہ مختلف سائز میں آتے ہیں چھوٹا، بڑا درمیانہ بہت بڑا وغیرہ۔
چمچے کی خاصیت یہ ہے کہ یہ برتن کا پکوان پلیٹ میں منتقل کرتا ہے کبھی حسن خوبی سے تو کبھی یوں بچوں کی طرح کے دسترخوان پہ کھانا سالن اِدھر اُدھر بھی بکھرا دیتا ہے۔

Read more

عقل بڑی ہے کہ بھینس؟

میں کلاس میں پڑھا رہا تھا کہ  پیچھے دو شرارتی بچوں میں سے ایک نے دوسرے کو ایک معصومانہ سوال فارورڈ کیا کہ "عقل بڑی ہے کہ بھینس" تو جیسے میں بھی خلا میں اٹک گیا جو ہم جیسے رٹو طوطوں کی عادت ہے، اور فلسفیانہ طرز پر اس سوال پر غور کرنے لگا اور…

Read more

کیا عمران خان جاگیردارانہ نظام کو توڑ پائیں گے؟

برطانیہ اور انگریز حکومتوں سے آزادی کے بعد سنگاپور، ملائیشیا جیسے انگنت ملکوں نے ترقی کی تو دوسری طرف پاکستان اور ہندوستان میں بھی اہلِ صفا مسند پہ بٹھائے گئے اور فرنگیوں کے تاج اچھالے گئے۔ دیکھنے والوں نے اگر کچھ دیکھا تو وہ بھوک، افلاس اور غربت کی افریت ہی تھی۔ ہندوستان میں خیر…

Read more