بادشاہ آف خوشآمدپور

جوں ہی میں نے خوشآمدپور میں قدم رکھا تو میں پریشان ہو گیا۔ لوگ جوک در جوک اپنے گھروں سے نکل کر شہر کے مشرقی سمت چیونٹیوں کی مانند قطار در قطار جا رہے تھے۔ میں نے کسی سے پوچھا کیا یہ ہجوم پُر بھلا کسی کے جنازے پہ جارہا ہے تو اس کا جواب…

Read more

گلنار

بچپن سے میرآباد کی پہچان گلنار اور ریحان کی شرارتیں تھیں۔ سنگلاخ پہاڑیوں کے درمیان جب دنیا سے کٹا، یہ پیارا سا گاؤں خواب سے جاگتا تو دو فرشتے نما ننھے چور تباہی مچاچکے ہوتے۔ کسی کا پھاٹک کھول کر مویشیوں کو کھولتے، مرغیوں کے انڈے توڑتے لیکن ان سب کے باوجود وہ میرآباد کے…

Read more

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

مجھے یاد ہے پہلی بار جب وہ آیا تھا میرے پاس تو اس نے سائے میں رکھے واٹر کولر کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ ”کیا میں پانی پی سکتا ہوں“ تو میں نے جواب کی منتظر ان آنکھوں والے پیارے سے بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا ضرور اور پھر…

Read more

مکران میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات

حالیہ دنوں کیچ، گوادر اور خاص کر پسنی میں آئے روز نوجوان درختوں اور پنکوں سے لٹک کر دارِ فانی سے بیزاری کی غمزدہ داستانیں رقم کررہے ہیں جس سے معاشرے میں تشویش کی ایک لہر دوڑ رہی ہے، کہ نہ جانے کب کس کی خبر ملے کہ اس نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی…

Read more

شاملو بیٹا میچ فکسڈ ہے

سندیپ مہیشوری اور قاسم علی شاہ کی موٹیوشنل وڑیوز دیکھنے کے بعد شاملو بلوچ ہمت، جرت و عزم کی تمثیل فقط ہمالیہ سے ہو سکتی تھی۔ شاملو اسی عزم عالی شان کو لے کر ہر روز دوڑ پہ دوڑ لگاتے، آخر کار دوڑ میں یوسین بولٹ و میلکا سنگھ بن گیا، جو نتیجہ تھا فقط ایک چاہ، ایک منزل کہ شاملو کو وردی پہن کر اپنے پیٹ کا فرض اور ماں کے دودھ کا قرض چکانا تھا۔ شاملو کا پہلا منزل یعنی دوڑ کا دن آگیا تو اقبال کا یہ شاہین میدان کار زار میں ہواؤں سے باتیں کرتے ہوئے محJ چند منٹوں میں منزل تک پہنچ گیا۔ اس بلند پروازی پر شاملو کے چہرے کا انبساط دیدنی تھا۔ مگر شاملو اس بات سے بھی آگاہ تھا کہ ہنوز دہلی دور است، تبھی شاملو نے دوسری منزل کی ٹرین پکڑ لی یعنی کتابوں پہ کتابیں رٹنے کا وراثتی پیشہ مگر یہ کارنامہ شاملو نے یوں انجام دیا کہ فرشتے گواہ ہیں کی عالم برزخ میں ارسطو و افلاطون ہش ہش کرتے رہے۔ تاریخ پاکستان، تاریخ ہند، تاریخِ اسلام سے لے کر تاریخِ عصرِ قدیم جیسی ضخیم کتابیں و علم، کیا تھا جو شاملو نے نہ رٹا ہو۔ آخر شاملو کو ٹیسٹ دے کر سب کو جو حیران کرنا تھا۔

Read more

رٹّا اور لارڈ کرزن کا آئینہ

لارڈ کرزن کی شہرت 1905 کی تقسیم بنگال سے ہے۔ یہ وہ وائسرائے ہے جسے ہندوستان و کانگریس دشمنی سے جانا جاتا ہے اور اس کی پالیسیز میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ تصور کیا جاتا ہے۔ شاہانہ طور پہ سرزمین ہند میں حکومت کرنے والے اس وائسرائے کی ایک اور وجہ شہرت ہونی چاہیے تھی مگر تاریخ کی ستم ظریفی کہ نہیں بن سکی۔ وہ ہے لارڈ کرزن کے نام سے پاکستان میں ایک شہر کا آباد ہونا اور وہ شہر ہے میرا جنم بھومی پسنی جس کا سابقہ نام کرزن آباد تھا۔

Read more

کرائسٹ چرچ حملہ : تہذیبی تصادم کی تمہید

پی ہنگٹن نے اپنی کتاب ”تہذیبوں کا تصادم“ میں موجودہ دنیا کو آٹھ تہذیبوں میں تقسیم کیا ہے، اور لکھا ہے کہ ہمارے مغربی تہذیب کے ساتھ سوائے اسلام کے باقی چھ تہذیبیں موافقت رکھتی ہیں۔ اسلام اور مغربی تہذیب ہی مستقبل قریب میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ سکتے ہیں۔ مزید وہ لکھتے…

Read more

مودی کے نام مہاتما گاندھی کا خط

آدھرنی پردھان منتری شری مودی جی، نمسکار! سب سے پہلے تو میں دیر سے سہی لیکن پلوامہ حملے کی کڑی نندا کرتا ہوں، اور آپ سے بِنتی کرتا ہوں کے حملے کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ اس کے بعد اب میں آپ جناب کی حیرانگی دور کرتا چلوں کہ کیوں میں نے آپ کو سورگ میں بیٹھ کر بھی تار بھیجنے کی زحمت کی تو ونیت پردھان منتری جی پلوامہ حملے کے بعد سے ہندوستان کی طرح یہاں سورگ میں بھی کم بے چینی نہیں پل پل کی قبریں یہاں پہنچتی ہیں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔

Read more

ووٹ کی قیمت اور طبقاتی سماج

جوں ہی الیکشن قریب آتے ہیں تو مختلف امیدواران اپنے شہری نمائندوں کے ساتھ قریہ قریہ وؤٹ مانگنے کے لئے جلسے اور جلوسوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئے دوڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے ہمراہ اکثر مقامی نمائندوں کی ٹیم ہوتی ہے۔ جو طبقاتی اور منقسم معاشرے میں نچلے طبقے کے…

Read more

ڈونکی کنگ اور میرا خواب

رات کو ڈونکی کنگ دیکھنے کے بعد ذہن میں بے شمار منگو تیرنے لگے۔ مگر مجھے متاثر ایک جملے نے کیا تھا جو منگو کے مرحوم والد نے کہا تھا کہ ”بیٹا خواب تو سچ ہونے کے لئے ہی دیکھے جاتے ہیں“

تب ہی میرے ذہن میں میرا خواب چمکنے لگا اور اس کے چاروں طرف امید کے چراغ ہی چراغ تھے۔ اور بیچ میں سونے کے پلیٹ میں ”نشہ سے پاک معاشرہ کا خواب“۔

Read more