ضلع کیچ میں فورجی کی بندش آخر کب تک ؟

کچھ چیزیں کچھ چیزوں کی ضد ہوتی ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے چڑ ہوتی ہے۔ جیسے بلی کو چوہے، کتے کو بلی سے، ساس کو بہو سے اور بھارت کو پاکستان سے ایسی ہی ہمارے حکومت کو حقوق دینے سے چڑ ہے۔ اب یہ کیوں، کیسے اور کب سے ہے، جواب کے لئے اوپر پوچھنا…

Read more

تعلیمی نصاب میں تقریری مضمون، ترقی کا ضامن

ویسے میں کسی کی نہیں سنتا، کسی کی بھی نہیں، ماسوائے ایک عدد بیوی کے جس کو سننا فرض ہے وگرنہ میرے گھر میں بھوک صومالیہ سمجھ کر ڈیرہ ڈال لے، اور میں ہر چیز پر کمرومائز کر سکتا ہوں بھوک پر نہیں۔ اور آج بھی میں نے روٹی کی خاطر نعرہ زنانہ ( میری…

Read more

آپ دنیا کا مرکز نہیں ہیں

تحریر : یووال نوح ہراری مترجم : صادق صبا زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ وہ دنیا کی مرکزی قوم ہیں اور ان کا کلچر، ان کا تہذیب ہی انسانی تاریخ کا محور ہے۔ بہت سے یونانی یہ خیال کرتے ہیں کہ تاریخ کی شروعات ہومر، سوفوکلیس اور افلاطون سے ہوئی، اور تمام روشن…

Read more

امت کا رکھوالا انکل سام یا امت خود؟

قبلہ، جہاں سجدوں کی بارش عرش کو تھر تھراتی ہے، وہیں سجدوں سے باطل پر لرزہ طاری ہوتا ہے اس لیے چودہ سو سال بعد انکل سام نے اس کھپکھپاہٹ کی کمی کا بیڑہ اٹھا کر اپنی روح اہل کعبہ پر پھونک دی ہے۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے ”روح محمد ان کے بدن سے نکال…

Read more

بادشاہ آف خوشآمدپور

جوں ہی میں نے خوشآمدپور میں قدم رکھا تو میں پریشان ہو گیا۔ لوگ جوک در جوک اپنے گھروں سے نکل کر شہر کے مشرقی سمت چیونٹیوں کی مانند قطار در قطار جا رہے تھے۔ میں نے کسی سے پوچھا کیا یہ ہجوم پُر بھلا کسی کے جنازے پہ جارہا ہے تو اس کا جواب…

Read more

گلنار

بچپن سے میرآباد کی پہچان گلنار اور ریحان کی شرارتیں تھیں۔ سنگلاخ پہاڑیوں کے درمیان جب دنیا سے کٹا، یہ پیارا سا گاؤں خواب سے جاگتا تو دو فرشتے نما ننھے چور تباہی مچاچکے ہوتے۔ کسی کا پھاٹک کھول کر مویشیوں کو کھولتے، مرغیوں کے انڈے توڑتے لیکن ان سب کے باوجود وہ میرآباد کے…

Read more

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے

مجھے یاد ہے پہلی بار جب وہ آیا تھا میرے پاس تو اس نے سائے میں رکھے واٹر کولر کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ ”کیا میں پانی پی سکتا ہوں“ تو میں نے جواب کی منتظر ان آنکھوں والے پیارے سے بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا تھا ضرور اور پھر…

Read more

مکران میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات

حالیہ دنوں کیچ، گوادر اور خاص کر پسنی میں آئے روز نوجوان درختوں اور پنکوں سے لٹک کر دارِ فانی سے بیزاری کی غمزدہ داستانیں رقم کررہے ہیں جس سے معاشرے میں تشویش کی ایک لہر دوڑ رہی ہے، کہ نہ جانے کب کس کی خبر ملے کہ اس نے پنکھے سے لٹک کر خودکشی…

Read more

شاملو بیٹا میچ فکسڈ ہے

سندیپ مہیشوری اور قاسم علی شاہ کی موٹیوشنل وڑیوز دیکھنے کے بعد شاملو بلوچ ہمت، جرت و عزم کی تمثیل فقط ہمالیہ سے ہو سکتی تھی۔ شاملو اسی عزم عالی شان کو لے کر ہر روز دوڑ پہ دوڑ لگاتے، آخر کار دوڑ میں یوسین بولٹ و میلکا سنگھ بن گیا، جو نتیجہ تھا فقط ایک چاہ، ایک منزل کہ شاملو کو وردی پہن کر اپنے پیٹ کا فرض اور ماں کے دودھ کا قرض چکانا تھا۔ شاملو کا پہلا منزل یعنی دوڑ کا دن آگیا تو اقبال کا یہ شاہین میدان کار زار میں ہواؤں سے باتیں کرتے ہوئے محJ چند منٹوں میں منزل تک پہنچ گیا۔ اس بلند پروازی پر شاملو کے چہرے کا انبساط دیدنی تھا۔ مگر شاملو اس بات سے بھی آگاہ تھا کہ ہنوز دہلی دور است، تبھی شاملو نے دوسری منزل کی ٹرین پکڑ لی یعنی کتابوں پہ کتابیں رٹنے کا وراثتی پیشہ مگر یہ کارنامہ شاملو نے یوں انجام دیا کہ فرشتے گواہ ہیں کی عالم برزخ میں ارسطو و افلاطون ہش ہش کرتے رہے۔ تاریخ پاکستان، تاریخ ہند، تاریخِ اسلام سے لے کر تاریخِ عصرِ قدیم جیسی ضخیم کتابیں و علم، کیا تھا جو شاملو نے نہ رٹا ہو۔ آخر شاملو کو ٹیسٹ دے کر سب کو جو حیران کرنا تھا۔

Read more

رٹّا اور لارڈ کرزن کا آئینہ

لارڈ کرزن کی شہرت 1905 کی تقسیم بنگال سے ہے۔ یہ وہ وائسرائے ہے جسے ہندوستان و کانگریس دشمنی سے جانا جاتا ہے اور اس کی پالیسیز میں مسلمانوں کے لئے نرم گوشہ تصور کیا جاتا ہے۔ شاہانہ طور پہ سرزمین ہند میں حکومت کرنے والے اس وائسرائے کی ایک اور وجہ شہرت ہونی چاہیے تھی مگر تاریخ کی ستم ظریفی کہ نہیں بن سکی۔ وہ ہے لارڈ کرزن کے نام سے پاکستان میں ایک شہر کا آباد ہونا اور وہ شہر ہے میرا جنم بھومی پسنی جس کا سابقہ نام کرزن آباد تھا۔

Read more