مطالعہ کیسے کیا جائے؟


Lawrence Hall (Now) Quaid-e-Azam-Library-1866

موضوعات کی بہت وسعت کے ساتھ کچھ ایسی ہی تحدید آپ کو کئی ایسی دلچسپ  کتابوں مثلاً سی ایس لوئس کی  ’’ہم کلاسیکی ادب کیسے پڑھیں‘‘ (How to Read Classics) اور  ٹیری ایگلٹن کی  ’’ہم ادب کیسے پڑھیں ‘‘ (How to Read Literature)  میں بھی ملے گی جو مخصوص نیم  تنقیدی اورنیم   درسی نکتۂ نگاہ  سے لکھی گئی ہیں۔ عنوان ہی سے موضوع کی تحدید یہ واضح کرتی ہے کہ یہ سوال (یعنی مطالعہ کیسے کریں؟)اپنی عمومیت میں کتنا پیچیدہ ہے۔ میرے علم  کی حد تک مطالعہ برائے مطالعہ کے موضوع پر مکمل احاطہ کرتی واحد کتاب  مورٹیمر ایڈلر کی   ’’کتاب کیسے پڑھیں‘‘ (How to Read a Book) ہے۔ کتاب کا مختصر تعارف تو ناممکن ہے لیکن  کم از کم اتنا کہا جا سکتا ہے افادیت پسندی  کے اصول  کی حد تک فنِ مطالعہ کی میکانی حرکیات کا اس سے مکمل تجزیہ ناممکن ہے۔ جو قارئین دلچپسی رکھتے ہوں وہ اس کتاب  کانظر ثانی شدہ ایڈیشن (۱۹۷۲) ہی  حاصل کریں۔

ہمارا نتیجہ یہ ہے کہ واطسیانا کے کاما استھانوں کی طرح فنِ مطالعہ  کے کتنے ہی گُر  ضبطِ تحریر میں کیوں نہ لے آئے جائیں، اگر  آپ واقعی ’’قاری‘‘ ہیں تو اپنے وسعتِ مطالعہ کی تمام تر عاجزی کے ساتھ بھی اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر خود کو اساتذہ  سے کسی نہ کسی حد تک   اختلاف پر مجبور پائیں گے۔ یہ اختلاف ہی یہ ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے کہ مطالعہ برائے مطالعہ کا اصول اپنے اطلاق میں کس حد تک مشکل ہے اور یہی بعید از امکان  کیفیت اس میں ایک ایسی  طلسمی سی لاحاصل لامتناہیت پیدا کرتی ہے۔ آخر ان گنت راہوں پر  نا ختم ہونے والے سفر کی نیت باندھنا کیوں کر ممکن ہے؟ یہاں تو ہر مسافر ایک نیا مسافر ہے اور  راہوں کی ترجیح و انتخاب سے اپنا جہان خود تخلیق کرنے کے لئے آزاد ہے۔

میں  اساتذہ کی اجازت سے اس سلسلے میں قارئین کےچار طبقات  وضع کرنے کی جسارت کروں گا: 1) قاری استمراری (Perpetual Reader)؛ 2) قاری   استقراری (Happy Reader)؛ 3) قاری لاچاری (Forced Reader)؛ اور 4) قاری انکاری (Non-Reader)۔

کچھ وضاحتیں اب ناگزیر ہیں جن میں سے اول اور اہم ترین یہ کہ قارئین کی یہ زمرہ بندی صرف اور صرف مذکورہ بالا اصولِ مسرت یا لذت و تسکین کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے۔

دوم، آخری دو طبقات  کلی طور پر جبلی  ہیں اور  پہلے دونوں سراسر آدرشوں کی ترجیحات  سے تعلق رکھتے ہیں۔ یعنی قاری لاچاری اور قاری انکاری پیدائشی طور پر معذورہیں اور کوئی بھی کوشش یا حادثہ انہیں استقراری  یا استمراری زمرے میں نہیں لا سکتا۔ دوسرے لفظوں میں بالفرض اگر  آپ  جبلی طور پر لاچاری یا انکاری ہیں تو  چاہے آپ صحافی ہوں، ٹی وی اینکر ہوں یا پھر  کسی دارالکتب میں لائبریرین ہی کیوں نہ  ہوں،  جلد یا بدیر کوئی نہ کوئی   تشخیصی علامت خود  آپ  پر آپ کی طبقاتی اصلیت کھول دے گی۔ اس کے برعکس استقراری  اور استمراری  قارئین وقتی  ترجیحات کی بنیاد پر اپنے زمرے تبدیل  بھی کرتے رہتے ہیں گو یہ عمل زندگی میں بہت زیادہ بار نہیں ہوتا۔

سوم، پہلے  دونوں طبقات میں ایک  واضح فرق  متن کے ذہنی و جسمانی لمس کے لئے  حرص  کی کیفیت  کا ہے۔ دونوں حرصِ متن کے ہاتھوں مجبور ہیں لیکن  اول الذکر حرص کی شدت کے ہاتھوں کوئی بھی قیمت چکانے کے لئے خود کو کم از کم نظری طورپر تیار پاتا ہے۔ یہ لطیف سا فرق گیان و دھیان سے ہی ہاتھ آ سکتا ہے۔

چہارم، اس زمرہ بندی کا تعلق متن  کی زمرہ بندی سے ہرگز نہیں ہے۔ انکاری اور لاچاری تو خیر  مجبور و معذورِ محض ہیں لیکن استمراری و استقراری نت نئے میدانوں کی وسعت ماپنے کے لئے ہر لمحہ کمر بستہ رہتے ہیں۔

موضوع میں حوالہ بنائے گئے سوال کی طرف واپس لوٹا جائے تو اپنا اپنا طبقہ منتخب کرتے ہوئے باآسانی اس سوال کی مزید تراش خراش بلکہ اس کا حتمی جواب تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ کر لینے کے بعد کہ آپ قارئین کی آخری دو قسموں میں سے ہیں، یہ سوال کہ مطالعہ کیسے کریں آپ کی دلچپسی سے خود  بخود خارج ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی ٹھوس  اور تجرباتی تشخیصی علامت  درکار ہو تو  خود سے پوچھئے کہ زندگی میں کتنی دفعہ  کسی کتاب میں دلچپسی کی وجہ سے آپ کی نیند اڑ گئی یا آپ کوئی اہم کام بالکل بھول گئے یا  پھر جب نیند نے آپ کو مغلوب کر دیا اور  گھڑی دو گھڑی بعد ہی آپ کی آنکھ کھلی  تو  آپ نے کروٹ بدل کر سونے کو ترجیح دی  یا لذت و حرص کے ہاتھوں مجبور ہو کر، جیسے کسی حیوانی جبلت کے جبر کے زیرِ اثر متن نے آپ کو اپنی  آغوش میں سمیٹ لیا؟ اگر اب تک ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ کو اس قسم کے  سوالوں کی غیرمعقولیت پر دبی دبی ہنسی آ رہی ہے  تو آپ لاچاری یا انکاری  زمرے میں ہیں۔ اصولِ لذت کو ہرگز فراموش نہ کیجئے۔ عین ممکن ہے کہ آپ بہت شوق سے کسی خاص موضوع پر کتابیں پڑھتے اور ان سے حظ اٹھاتے ہوں لیکن یہاں  درپیش  معاملہ مطالعہ برائے مطالعہ کا ہے۔ ہماری رائے  میں مطالعہ برائے مشغلہ یا مطالعہ برائے تفریح بھی  لاچاری ہی کی ایک  ذرا سی بھلی  صورت ہے۔ اس صورت میں’’ مطالعہ کیسے کریں‘‘ کی جگہ مناسب سوال یہ ہے کہ  اس موسمِ سرما میں فارغ وقت ملنے کی صورت میں  کون سی ایک دو کتابوں کا مطالعہ کیا جائے۔

اگر آپ قاری استقراری ہیں تو ہماری مراد یہ ہے کہ آپ ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح  حالت استقرار میں مطالعے سے جڑے  اصولِ لذت کے اطلاق پر مائل ہیں۔ ہماری رائے میں  فنِ مطالعہ کے موضوع پر  مذکورہ بالا ایک دو اہم کتابوں اورموضوعات کے اعتبار سے  ان جیسی کچھ  دوسری کتابوں کے مطالعے سے آپ بحالتِ استقرار ہی اپنی لذت و تسکین میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ قاری استمراری کو نظری طور پر سمجھنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے برعکس قاری استمراری متن سے جڑی لذتیت پسندی کو ایک آدرش کے طورپر اس طرح اپنائے ہوئے ہے کہ اس کی  زندگی اسی آدرش کے گرد گھومتی ہے۔ کرکٹ یا فٹ بال جیسے کھیلوں سے اس کا دور دور کا بھی جسمانی واسطہ نہیں۔ شطرنج کھیلنا جانتا ہو گا،  کالج اسکول کے زمانے میں کیرم بھی کھیلی ہو گی ، یقیناً زندگی کے ایک دو سال ہر ہفتے ایک دو دن برِج پر  بھی قربان کئے ہوں گے، لیکن اب  وہ ان سرگرمیوں پر اصولِ لذت کا اطلاق کرنے سے قاصر ہے۔

یوں سمجھ لیجئے کہ مطالعہ  برائے مطالعہ دیوانگی کی سرحدوں پر ایک باشعور سرگرمی ہے۔ میں کم و بیش  پچھلی ڈیڑھ دہائی سے  قاری استمراری  ہوتے ہوئے اقرار کرتا ہوں  کہ  اس کا مطلب  حتمی طورپر اُس مخصوص لذتیت پسندی کے آدرش کو قبول کرنا ہے۔ نہ صرف مجازی بلکہ کافی حد تک حقیقی معنوں میں بھی یہ  ایک  ’’فاسٹین سودا ‘‘ ہے۔ مجازی اس لئے کہ اس میں بدی کا عنصر مبہم  ہے اور حقیقی اس لئے کہ کسی بھی شیطانی سودے کی طرح   ایک بار انتخاب کے بعد واپسی بہت مشکل ہے۔ لیکن اس کی جسمانی، روحانی اور نفسیاتی قیمت چکانا لازم ہے۔ نشے کے عادی  کسی بھی شخص کی طرح  یہاں لذت و ندامت کا ملاجلا پیچیدہ سا غیر ملفوظ  احساس ہمیشہ کارفرما رہتا ہے۔ کتاب کا لمس میرے لئے اہم  ترین ہے  لیکن میری  یہ  قدامت پسندی برقی اسکرین کی مصنوعیت سے دور نہیں کرتی۔ اہم چیز بہرحال متن تک رسائی ہے۔ میرے لئے متن کی  مقدار بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کی معیاری یا اقداری حیثیت۔ زندگی  متناہی ہے اور  متن لا محدود۔ ایک کتاب میرے لئے ایک  اجنبی منطقے کا سفر، ایک خوبصورت پڑاؤ،  ایک نیا رنگ، ایک نئی خوشبو،   ایک نیا منظر ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

عاصم بخشی

عاصم بخشی انجینئرنگ کی تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ادبی تراجم اور کتب بینی ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔

aasembakhshi has 80 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

2 thoughts on “مطالعہ کیسے کیا جائے؟”

  • 30/12/2016 at 9:44 صبح
    Permalink

    محترم بخشی صاحب! آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ صاحبان مطالعہ سے مرعوب مگر ذوق مطالعہ سے محروم سائل کو مطالعہ کی چاٹ لگانے کے بجائے اپنی بھاری بھر کم علمیت سے مغلوب کرتے ہوئے مفرور ہونے پر آمادہ کر رہے ہیں۔ کچھ ایسے جیسے ابتدائی درجے کے طالب علم کو پڑھنے کے لیے میلان کنڈیرا کا ناول تھما دیا جائے۔
    "قاری لاچاری” پر رحم فرماتے ہوئے تحریر کو سہل کیجیے۔
    ویسے آپس کی بات ہے یہ عاجز خود سہل تحریر لکھنے میں ہمیشہ ناکام رہا ہے۔

    • 30/12/2016 at 2:34 شام
      Permalink

      مبشر صاحب! بس یہ سہل کرنا اِس سے بھی بڑے کمال کی بات ہے۔ کیا کیا جائے۔ بے بسی ہے۔

Comments are closed.