علامہ صاحب جھنگ والے اور اتنی تنخواہ


ہر بجٹ سے پہلے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ اب ایک روٹین کا معاملہ ہے، سرکاری ملازمت کے بارے میں مشہور ہے کہ نہ مرنے دیتی ہے اور نہ ڈھنگ سے جینے دیتی ہے۔ چاہیے تو یہ کہ حکومت وقت سرکاری ملازمین کی تنخواہیں معمول کے مطابق بڑھا دے مگر عموماً ایسا ہوتا نہیں، احتجاج، مراسلے، دھرنے اور پتا نہیں کیا کیا اور پھر کہیں جا کر سرکاری ملازمین کی سنی جاتی ہے، اور یہ ہر حکومت میں ہوتا ہے، سرکاری ملازمین کا ایک مظلوم طبقہ سرکاری افسران بھی ہیں۔

پاکستان میں عموماً سرکاری افسر گریڈ 17 سے اوپر کے سرکاری ملازم کو مظلوم تسلیم کیا جاتا ہے، مظلوم یوں کہ گریڈ 16 تک سرکاری ملازم کی تنخواہ میں اگر 20 فیصد اضافہ کیا جاتا ہے تو 17 سے اوپر والوں کے حصے میں 10 فیصد ہی آتے ہیں۔

افسروں کی بھی دو اقسام ہیں، ایک وہ جنہیں کسی اضافے یا کمی سے کوئی فرق نہیں پڑتا اس لئے انہوں نے اپنے نئے گھر کی پیشانی پہ ”ہٰذا من فضل ربی“ لکھوایا ہوتا۔ ایسے ہی ایک افسر انٹی کرپشن میں ہمارے کولیگ تھے، بہت ہی نیک آدمی، ماتھے پر محراب، پانچ وقت کے نمازی، ہر سال فیملی کے ساتھ عمرہ کرتے اور پھر مدینہ شریف میں اپنی آمدنی میں اضافہ کے لئے دعا فرماتے، ظاہر ہے ایسی مقدس جگہ پہ کوئی دعا کیسے رد ہوتی، واپس آتے تو آمدنی میں برکت پیدا ہوجاتی اور پھر اگلے سال پھر عمرہ، کماتے وہ کرپٹ لوگوں سے تھے اس لئے پبلک سے زیادتی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

ہمارے ایک اور جونیئر تو کمال تھے، عمرے پہ گئے تو مدینہ شریف سے کال کر کے اپنے ماتحت کو حکم دیا کہ ان کے کمیشن کے پیسوں کا پوری ایمانداری سے حساب رکھا جائے ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔

افسروں کی دوسری قسم تنخواہ کے ایک ایک پیسے کا حساب رکھتی ہے اور یہی قسم اصل میں مظلوم ہوتی ہے۔ پھر حکومت کو ایک دن خیال آیا تو شاید ایسے ہی سرکاری افسران کی آسانی کے لئے ایک معقول الاؤنس دان فرمایا۔ خوشی ایسی ہوئی کہ علامہ صاحب جھنگ والے ( ہمارے دوسری قسم کے افسر) کال کر کے خوشی سے سنبھالے نہیں جا رہے تھے، فرمانے لگے ”یار اتنے پیسوں کا ہم کیا کریں گے“ ، علامہ صاحب کی بات سن کر رانا صاحب مسکرائے، فرمایا ”جو افسر اتنا الاؤنس ایک گھنٹے میں کما لے، اسے اس الاؤنس سے کیا فرق پڑے گا“ ایسے افسروں کو پتا نہیں کوئی فرق پڑا یا نہیں پر ہماری تنخواہ سیدھی ہو گئی، پندرہ تاریخ کے بعد دوستوں سے چھپنے والا عذاب ختم ہوا۔

لیکن پھر حکومت وقت کے مشیروں کو شاید جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ دوسری قسم کے افسر خواہ مخواہ ہی آسودہ نظر آنے لگے۔ نہ پوسٹنگ کی ٹینشن نہ چڑچڑا پن، عوام کو ذلیل کر رہے نہ کسی کام سے جی چرا رہے۔ سو فیصلہ ہوا سرکاری ملازمین کی اول تو تنخواہ ہی نہ بڑھائی جائے کہ مدینہ کی ریاست اس فضول خرچی اور عیاشی کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اگر مجبوراً یہ ”گناہ“ کرنا پڑے تو گریڈ 17 سے اوپر والے افسروں کو اس ”گناہ کبیرہ“ سے بچایا جائے۔ لگتا ہے فیصلہ ہو چکا ہے، آثار بتاتے ہیں کہ

وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اٹھا کے جھولی میں اپنی رکھ لیں
ہمارے حصے میں عذر آئے، جواز آئے، اصول آئے

حکومت چاہے دوسری قسم کے افسروں کی کوئی تنخواہ نہ بڑھائے لیکن یاد رکھے کہ پنجاب کی ایک تحصیل کے ایک بڑے بازار میں قبضہ مافیا سے چھڑائی جانے والی ایک دکان کی قیمت سے ایسے تمام افسروں کی تنخواہ پوری ہو سکتی ہے۔

ہمیں اب بجٹ کا انتظار ہے اور ساتھ میں علامہ صاحب جھنگ والے کا بھی کہ بجٹ کے بعد جھنگ سے آئیں تو پوچھیں علامہ صاحب ”اب آپ اتنی تنخواہ کا کیا کرتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں ہمارا حال تو بے حال ہے“

Facebook Comments HS