اسرائیل: نئی حکومت بنانے میں اسلامی جماعت کے رہنما منصور عباس ’کِنگ میکر‘ ثابت ہوں گے؟
اسرائیل میں ہونے والے انتخابات میں 90 فیصد ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے اور فی الحال یہ امکان ہے کہ وزیراعظم بنیامین نتن یاہو اقتدار میں رہنے کے لیے درکار ووٹ حاصل نہیں کر سکیں گے۔
متوقع نتائج کے مطابق ان کے دائیں بازو کے اتحاد کو 59 نشستیں حاصل ہوں گی جو کہ کم از کم درکار سیٹوں سے بھی 2 نشستیں کم ہیں۔
اعداد و شمار نے ایک ایسی دلچسپ صورتحال پیدا کر دی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ شاید اسلامی جماعت یونائیٹڈ عرب پارٹی کے رہنما منصور عباس حکومت بنانے میں ’کِنگ میکر‘ بن جائیں۔
اسرائیل عربوں کے حقوق اور فلسطینی ریاست کے حق میں بات کرنے والے منصور عباس کی جماعت غیر حتمی نتائج کے مطابق پانچ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو اس بات کا انحصار منصور عباس پر ہوگا کہ ایک ایسی صورتحال میں جہاں کسی کو بھی واضح اکثریت حاصل ہونے کا امکان نہیں ہیں، اپنی پانچ سیٹوں کا وزن کس کے پلڑے میں ڈالتے ہیں۔
اسرائیل میں ووٹنگ 23 مارچ کو ہوئی تھی اور اس لیکشن کے نتائج ہی اس بات کا تعین کریں گے کہ مستقبل میں اسرائیل کے فلسطین کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے۔
غیر حتمی نتائج کے مطابق منصور عباس کی جماعت نے پارلیمانی انتخابات میں چار نشستیں جیتی ہیں اور یہ حکومتی اتحاد بنانے کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ منصور عباس نے اب تک وزیراعظم نتن یاہو یا ان کے حریفوں کی حمایت کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے۔ اگر منصور عباس نتن یاہو کے مخالفین کے ساتھ اتحاد کرتے ہیں تو انھیں 120 نشتوں والے اسرائیلی ایوان میں ایک چھوٹے فرق سے برتری حاصل ہو جائے گی اور نتن یاہو وزارت عظمیٰ کا ایک اور دور نہیں دیکھ سکیں گے۔
منصور عباس نے جنوری 2021 میں سیاسی اتحاد جوئنٹ عرب لِسٹ پارٹی سے علیحدہ ہو کر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ جوئنٹ عرب لسٹ نے اسرائیلی عرب اقلیت کے معاملے میں نتن یاہو کی حکومت سے تعاون کیا تھا جس پر منصور عباس اس اتحاد سے علیحدہ ہوگئے تھے۔ جوئنٹ عرب لسٹ پہلے ہی موجودہ اپوزیشن کے حق میں ہے لیکن عباس کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی پر کسی امیدوار یا اتحاد کی جانب ’کوئی ذمہ داری نہیں ہے‘۔
منصور عباس کون ہیں؟
منصور عباس 22 اپریل 1974 کو شمالی اسرائیل کے علاقے میگر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی سے ڈینٹِسٹری کی ڈگری حاصل کی اور آج کل حائفہ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔
منصور عباس شادی شدہ ہیں اور ان کے دو بچے ہیں۔
وہ اسلامک موومنٹ اِن اسرائیل کی جنوبی شاخ کے نائب چئیرمین بھی ہیں۔ وہ انتخابات سے قبل پارلیمان کے نائب سپیکر تھے۔
یہ بھی پڑھیے
کیا اسرائیل کبھی بھی فلسطین کو ایک ملک نہیں بننے دے گا؟
اسرائیل عرب ممالک کے قریب کیوں آنا چاہتا ہے؟
ترکی اور اسرائیل پھر ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں؟
کیا سعودی عرب، اسرائیل کے ساتھ تاریخی امن معاہدہ کرنے جا رہا ہے؟
انھیں 2019 میں یونائیٹڈ عرب لسٹ کا لیڈر مقرر کیا گیا تھا پھر یہ جماعت دی جوئنٹ عرب لسٹ نامی اتحاد میں شامل ہوئی اور وہ گذشتہ انتخابات میں پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
عباس اس سے پہلے پارلیمان میں نتن یاہو کی حکومت کے ساتھ بعض معاملات میں تعاون کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اسرائیلی عرب شہریوں کے حق میں کام کرے گی تو وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں گے۔ اسرائیلی عرب شہری ایک طویل عرصے سے سرکاری سطح پر امتیاز کی شکایت کرتے آئے ہیں۔
’جو ہمیں خارج کرے گا میں اسے خارج کر دوں گا‘
23 مارچ کو ہیراٹز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’ہماری کسی اتحاد یا امیداوار کی جانب کوئی ذمہ داری نہیں ہے، اور نہ ہی ہم کسی کی جیب میں ہیں، نہ دائیں اور نہ ہی بائیں بازو کی۔۔۔ میں کسی کے ساتھ اتحاد کو خارج نہیں کر رہا ہوں۔۔۔ لیکن جو ہمیں خارج کرے گا میں اسے خارج کر دوں گا۔‘
نتن یاہو کے حامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دائیں ہیں نہ ہی بائیں بازو، ہم عرب عوام کے نمائندے ہیں جو سنگین بحران سے گزر رہے ہیں، جرائم اور تشدد کا بحران جو عرب معاشرے میں بڑھ رہا ہے۔ کسی بھی عرب یا غیر عرب سرکاری ملازم کے لیے اپنے حلقے کے لوگوں کو فوقیت دینا بالکل صحیح ہے۔‘
اسرائیل کے بحرین اور متحدہ عرب امارت سے امن معاہدوں کے بعد اپنے ردعمل میں انھوں نے کہا تھا کہ ’حقیقی امن فلسطین پر قبضہ ختم کر کے اور فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی آسکتا ہے۔‘
نتن یاہو کا موقف
انتخابات سے پہلے ایک انٹرویو میں وزیراعظم نتن یاہو منصور عباس کی جماعت کی حمایت سے حکومت بنانے کے امکان کو خارج کر چکے ہیں۔
انھوں نے کہا تھا ’میں وعدہ کرتا ہوں ایسا نہیں ہوگا۔ میں ان پر انحصار کروں گا نہ ہی ان کو شامل کروں گا۔۔۔ وہ یہودیت مخالف جماعت ہے۔‘
بحرین اور متحدہ عرب امارت کے ساتھ امن معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’میرے لیے یی غیر یقینی ہے کہ میں نے عرب ممالک کے ساتھ جو امن معاہدہ کیا عباس نے اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔‘
منصور عباس کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اسرائیلی چینل 12 سے بات کرتے ہوئے انھوں نے فلسطینی قیدیوں سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’شدت پسندوں‘ سے نہیں ملے تھے۔


