گوادر میں ترقی اور خوشحالی کے حکومتی دعووں اور وعدوں میں کتنی حقیقت ہے؟

حمیرا کنول - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گوادر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گوادر

BBC

نوے کی دہائی تک ماہی گیروں کی چھوٹی سے بستی گوادر میں جب بحریہ کے جہاز لنگر انداز ہوتے تھے تو مچھلی کے بدلے مقامی لوگ آنے والوں سے پیسوں کے بجائے خوشی خوشی چاول اور تیل لیتے تھے۔ آج اسی چھوٹی سی بستی کے سامنے دنیا کی گہری ترین بندرگاہوں میں سے ایک پاکستان چین بندرگاہ موجود ہے۔

گوادر کرکٹ سیٹڈیم کی ایک تصویر اور خوبصورت ساحل ثابت کر چکے ہیں کہ یہ علاقہ بندرگاہ کے علاوہ مستقبل میں سیاحت کے لیے بھی انتہائی پرکشش ہے۔

سنہ 2002 میں فوجی آمر اور سابق صدر پرویز مشرف نے یہاں کے لوگوں کو معاشی ترقی کی نوید سنائی تھی۔ ان دو دہائیوں نے گوادر کے نقشے میں بندرگاہ کے ساتھ ساتھ اور بھی تبدیلیاں رونما کی ہیں۔

شہر میں داخل ہوں تو تعمیری منصوبے دکھائی دیتے ہیں، یہاں کا پوش علاقہ نیو ٹاؤن ہے اور اس کے ساتھ ہی بندرگاہ سے چند سو میٹر دور اولڈ ٹاؤن ماہی گیروں کی قدیم بستی ہے، دوسرے لفظوں میں یہاں کے باسیوں کا مرکز یہی ہے۔

لیکن نیو ٹاؤن کے ہوٹل سے شاہی بازار اور پھر جیٹی تک پہچنا میرے لیے کچھ حیران کن تھا۔

یہ بھی پڑھیے

گوادر: وہ باڑ جو شہر کو شہریوں سے جدا کر دے گی

بلوچستان: گوادر میں پانی کی شدید قلت

گوادر کرکٹ سٹیڈیم: جس کی تیاری کے لیے گوجرانوالا کی 90 ٹن مٹی منگوائی گئی

گوادر کی مچھلیوں کے گرد گھومتی معیشت اور ماسی مہاتون کی کہانی

گوادر

BBC

خوبصورت میرین ڈرائیو سے پورٹ روڈ کی جانب جاتے ہوئے اطراف میں بنی خستہ حال دکانیں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور گندگی سے اٹی چھوٹی بڑی گلیاں یہ میرے لیے گوادر کا دوسرا چہرہ ہے۔

کسی بڑے شہر کے انتہائی پسماندہ علاقے کی تصویر لیکن آپ اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ یہی وہ بستی ہے جس کا ایک حصہ درجنوں خاندانوں نے بندرگاہ کے لیے چھوڑا تھا۔

شاہی بازار ہو یا جنت مارکیٹ وہاں بجلی کی سہولت سے محروم چھوٹی چھوٹی اندھیرے میں ڈوبی دکانیں آپ کو خستہ حال معاشی صورتحال کے بارے میں بنا پوچھے آگاہ کرتی ہیں اور لوگوں سے جب پوچھیں کہ بجلی کتنی دیر آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ایران سے آنے والی بجلی چند گھنٹے ملتی ہے۔

اس روز گوادر کے کرکٹ سٹیڈیم ’محمد اسحاق بلوچ‘ میں ایک میچ ہو رہا تھا اور بہت سے سیاح بھی آئے ہوئے تھے مگر یہاں سے چند فرلانگ دور شہر کی گلیوں میں ایک احتجاج بھی ہو رہا تھا۔

مظاہرین کے مطالبات تھے کہ چین کی معاونت سے بننے والے ایکسپریس وے کی تعمیر سے ان کے گھر متاثر ہوئے جس کا انھیں معاوضہ دیا جائے، نکاسی آب کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بیماریاں پھیل رہی ہیں، شہر میں روزگار کے محدود مواقع ہیں اس لیے انھیں بندرگاہ پر نوکریاں دی جائیں، ماہی گیروں کو لیبر کا درجہ دیا جائے ورنہ وہ دھرنا دیں گے۔

بندرگاہ ایک ریڈ زون

نئی تعمیر ہونے والی بندرگاہ تو ایک ریڈ زون کا منظر پیش کرتی ہے جہاں آپ اجازت نامے کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے البتہ پرانی بندرگاہ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے دیکھ ضرور سکتے ہیں۔

جیٹی کے درمیان میں ایک بڑا سا ہال ہے جو دونوں اطراف سے کھلا رہتا ہے۔ اندر مچھلی بک رہی ہے۔ اسی ہال کے ایک جانب سے چند گز کے فاصلے پر پاکستان چین بندرگاہ صاف دکھائی دیتی ہے۔ سفید، نیلے اور نارنجی رنگ کے کنٹینرز، آلات، مشینری اور دفاتر دکھائی دیتے ہیں۔

ایک خوبصورت منظر جسے آپ کیمرے میں قید تو کرنا چاہیں گے، لوگوں سے بات بھی کرنا چاہیں گے لیکن اگر کسی سکیورٹی گارڈ نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو سکتا ہے۔

مقامی ماہی گیروں کی مشکلات

یہ بندرگاہ گوادر کے مشرقی ساحل دیمی زر پر ہے لیکن اسے ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی ایکسپریس وے کی وجہ سے اب کشتیاں بمشکل کنارے پر آتی ہیں۔ یہ کنارہ ریت اور کنکریٹ سے اٹا دکھائی دیا۔

ایکسپریس وے روڈ 85 فیصد بن چکی ہے لیکن مقامی ماہی گیر بتاتے ہیں کہ ’گھروں کو نقصان تو پہنچا لیکن سمندر کو بھی 300 فٹ تک پیچھے کیا گیا اور کشتیوں کا ٹھکانہ بھی ختم ہو گیا۔ اب لانچوں کی صفائی کے لیے ہمیں دور پشکان اور سربند جانا پڑتا ہے۔‘

گوادر

BBC

مقامی ماہی گیروں کے مطابق بریک واٹر (گودی) نہ ہونے کے باعث کھلے سمندر میں رہنے سے 2018 سے اب تک 50 سے زائد کشتیاں مکمل تباہ ہو چکی ہیں اور 200 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دو سال کے انتظار کے بعد بریک واٹر (گودی) بن رہا ہے جس کی تیاری کے لیے ہمیں مزید دو سال انتظار کرنا ہو گا۔‘

ماہی گیر اور فیکٹریوں کے مالکان اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ جلد یا بدیر انھیں یہ جگہ بھی چھوڑنی ہی پڑے گی۔

شہر سے دور سرحدی علاقے کے ان ماہی گیروں کا مسئلہ کشتیوں کے لیے ایندھن اور بھٹک کر ایرانی حدود میں جانے کا تو ہے ہی لیکن یہ بڑے ٹرالرز سے بھی تنگ ہیں۔

ایک مقامی ماہی گیر یار محمد دن ڈھلنے سے پہلے اپنے جال کو سمیٹ رہے تھے۔ وہ بتانے لگے کہ ’کراچی کے ٹرالرز آ کر ہمارے علاقے میں بڑا جال پھینکتے ہیں جس سے چھوٹی مچھلی اور مچھلی کے انڈے بھی ختم ہو رہے ہیں۔‘

گوادر

BBC
گوادر کا اولڈ ٹاؤن جہاں گوادر کی اکثریتی مقامی آبادی رہائش پذیر ہیں لیکن پورٹ سٹی کے ماسٹر پلان میں اس علاقے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں بنائی گئی۔

گوادر میں پانی بجلی اور گیس کا مسئلہ

جیوانی سے واپسی پر ایک ٹینکر کے کنارے مجھے برتن اٹھائے بہت سے لوگ دکھائی دیے، پوچھنے پر پتہ چلا کہ نیوی کے ٹینکر سے پانی مل رہا ہے۔

گوادر شہر میں اب بھی پانی، بجلی اور گیس کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

نیو ٹاؤن کی رہائشی عارفہ نے مجھے بتایا کہ ’نیو ٹاؤن میں ہفتے میں ایک بار جبکہ اولڈ سٹی میں 15 دن بعد آدھے گھنٹے کے لیے سوڈ ڈیم سے پانی گھروں میں لگے پائپس میں آتا ہے۔ گھروں میں بورنگ کر بھی لیں تو پانی تو نیچے سے سمندر کا ہی آتا ہے کھارا جسے نہ پی سکتے ہیں نہ نہا دھو سکتے ہیں۔‘

گوادر شہر سے لے کر پشکان اور پھر جیوانی پر پاک ایران سرحد تک جانے کے لیے آپ کو پکی سڑک سے اندر موجود آبادی سے گزرنا ہو گا۔ کچے پکے چھوٹے بڑے گھروں کے ساتھ اومانی دور میں بنائے گھر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں لا تعداد ہاؤسنگ سکیمیں ہیں لیکن نصف سے زیادہ کو اب تک گوادر ڈویلمپنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کا این او سی نہیں مل سکا۔

گوادر شہر میں تعمیر کردہ پوش علاقہ نیو ٹاؤن

BBC

یہاں سرکاری ہسپتال کی عمارت کو اب ازسر نو تعمیر کیا جا رہا ہے اور پاک چین فرینڈ شپ ہسپتال میں بھی حکام کے بقول 300 بستروں کی سہولت ہے لیکن اب بھی لوگوں کو آٹھ گھنٹے دور کراچی جانا پڑتا ہے چاہے وہ بچے کی ولادت ہو یا کوئی دوسری بیماری۔

جی ڈی اے کے ہسپتال کی وجہ سے کچھ بہتری تو آئی ہے لیکن کچھ ڈاکٹرز نے مجھے بتایا کہ آبادی کے لحاظ سے یہاں ماہر ڈاکٹرز یعنی سپیشلسٹ کی بہت کمی ہے۔ شہر کی 80 ہزار کی آبادی کے لیے فقط ایک دو ماہر ڈاکٹر موجود ہیں۔

مجھے غفور چوک میں کچی سڑک اور اردگرد کھڑے لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایک شخص نے کہا کہ ’گوادر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا ہے یہ ہماری ترقی نہیں۔‘

وہ کہنے لگے ’ہم باہر جاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں گوادر سے آئے ہو وہاں ترقی ہو رہی ہے۔ یہ ترقی ہے نہ بجلی ہے نہ پانی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بچوں کے پاس کام نہیں۔ یہ ترقی پنجاب، سندھ خیر پختونخوا کے لیے ہو گی، ہمارے لیے کچھ نہیں ہے بس جھوٹا ہے وعدہ۔۔۔‘

میرے پاس ان لوگوں کے کسی سوال کا جواب تو نہیں تھا لیکن میں نے کوشش کی کہ تمام متعلقہ داروں کے حکام سے رابطہ کروں اور ان سوالوں کے جواب خود بھی جان سکوں اور سوال کرنے والوں تک بھی اس تحریر کے ذریعے جواب پہنچا دوں۔

گوادر

BBC
یہاں کے مقامی افراد کہتے ہیں بندرگاہ کی تعمیر سے اب تک ان کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی

گوادر میں ماہی گیروں کی بستی (اولڈ ٹاؤن) نظر انداز کیوں ہوئی؟

گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل شاہ زیب کاکڑ کہتے ہیں کہ مقامی آبادی کی شکایات بجا ہیں۔

انھوں نے کہا ’17 سال بعد جب گوادر کے لیے دوسرا ماسٹر پلان منظور ہوا تو اس میں اولڈ سٹی کے لیے کچھ منصوبہ بندی نہیں دی گئی تھی تاہم جی ڈی اے نے اب اس علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے ایک پلان بنا کر حکومت کو دیا ہے جس پر عملدرآمد ہو گا۔‘

میں نے ان سے پوچھا کہ کہیں مستقبل میں بندرگاہ سے بہت قریب ہونے کی وجہ سے اس آبادی کو یہاں سے منتقل تو نہیں کیا جائے گا تو شاہ زیب کاکڑ نے کہا ’نہیں ایسا بالکل نہیں ہو گا اور ایکسپریس وے اور گوادر پورٹ چینی حکومت سی پیک منصوبے کے تحت بنا رہی ہے اس کی بھاری مشینری سے ماہی گیروں کے گھروں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کے ازالے کے لیے ہم نے حکام سے بات کی ہے۔‘

انتظامی امور کے سربراہ ڈی سی گوادر کبیر زرکون نے مجھے بتایا کہ پہلے تو گوادر میں تربت سے ٹینکرز کے ذریعے پانی آتا تھا لیکن اب آبادی کو ڈیم کے بننے کے بعد گھروں تک پائب لائن کے ذریعے پانی مل رہا ہے۔

’بجلی نیشنل گریڈ سے منسلک نہیں، ایران سے آتی ہے اور آئندہ دو برسوں میں پاور پلانٹ کا منصوبہ ہے جبکہ گیس ایل پی جی سلینڈر کی صورت میں ملتی ہے۔‘

جی ڈی اے حکام پرامید ہیں کہ جلد ہی شہر کے تمام علاقے میں پانی کی فراہمی ممکن ہو جائے گی اور اس کے لیے انکاڑہ ڈیم اور شادی کون ڈیم سے شہر کو سپلائی ملے گی۔ اس منصوبے کے تین فیز ہیں جن میں سے دوسرا بھی 80 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ سمندر کے کھارے پانی کو کارآمد بنانے کے لیے فائیو ایم جی ڈی منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔

پورٹ میں لوگوں کو نوکریاں کیوں کم ملی ہیں؟

گوادر پورٹ سے منسلک ایک اہلکار نے مجھے بتایا کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ جب ان کے پاس 40 کے قریب نوکری کے لیے درخواستیں نہ آتی ہوں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’چینی کمپنیاں مقامی لوگوں کو کم اور دوسرے شہروں سے آنے والوں کو چار گنا زیادہ تنخواہ دیتی ہیں جن کی وجہ سے لوگ نالاں ہیں۔‘

ڈی سی گوادر نے بھی جنوری میں کھلی کچہری سے خطاب میں تسلیم کیا کہ گوادر کے لوگوں کو اس قسم کا روزگار نہیں ملنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’ابھی ہم فہرست تیار کریں گے کہ ہمارے بے روزگار نوجوان کتنے ہیں۔‘

گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نصیر کاشانی کا کہنا ہے گوادر پورٹ پر روزگار کے مواقع کم ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا مکمل فعال نہ ہونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’گوادر بندرگاہ اس وقت فنکشنل تو ہو چکی ہے لیکن میرا ہدف ہے کہ ایک ملین ٹن کارگو ہو اور ابھی ہم اس سے پیچھے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’ابھی سال کے 50 ویسلز ہیں، میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم 200 سے 300 ویسلز ہوں جس سے ہم کہہ سکیں کہ یہ پورٹ مکمل فعال ہے۔ تین کنسائنمنٹ گذشتہ برس ملی اور اب اس برس بھی افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بڑی کنسائنمنٹ ملی۔ ایل پی جی کے بھی تین ویسلز مل چکے ہیں۔‘

چینی کمپنی کے ایک اہلکار سے بات ہوئی تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ سمجھیے ابھی پورٹ سات سے آٹھ فیصد فعال ہے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نصیر خان کاشانی نے بتایا کہ 95 فیصد پورٹ ملازمین کا تعلق بلوچستان سے ہے اور اس میں گوادر کے لوگ بھی شامل ہیں لیکن ایک بڑا مسئلہ اہلیت کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مقامی افراد ہنر مند نہیں ہیں، پاکستان چین ووکیشنل سینٹر کا 50 فیصد کام ہو گیا ہے، وہاں لوگوں کو مختلف ہنر کے متعلق تربیت دی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ’فری زون کے دو حصے ہیں ایک کور ایریا ہے جسے ہم جنوبی فری زون کہتے ہیں۔ وہاں 800 فیکٹریاں لگ رہی ہیں لیکن اصل ٹارگٹ دو ہزار 281 ایکڑ کا شمالی فری زون ہے اس کے اوپر جلد کام شروع ہو گا پھر سینکڑوں کے حساب سے انڈسٹری لگے گی۔ اس سے 20 ہزار افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔‘

گوادر

BBC
ٹرالرز جن کو بلوچستان کی سمندری حدود میں داخلے سے روکنے میں انتظامیہ ناکام دکھائی دیتی ہے

حکومت سمندر کو بانجھ ہونے سے بچانے میں ناکام کیوں؟

ذرائع کے مطابق چین نے بھی پاکستان کی حکومت سے آٹھ ماہ پہلے درخواست کی تھی کہ ہمیں ٹرالنگ کی اجازت دی جائے اور مرکزی حکومت نے اجازت دینے کی کوشش کی لیکن چیف سیکرٹری بلوچستان اور سندھ کے محکمہ فشریز کے سیکرٹری نے مخالفت کی اور کہا کہ ہم اس کی اجازت نہیں دیتے۔

یہ افواہ بھی تھی کہ چین کے ٹرالرز کورنگی ہاربر میں کھڑے تھے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ انھیں اجازت نہیں ملی۔

اس انتہائی اہم علاقے کی سمندری حدود میں ٹرالر مافیا کیسے بے دھڑک گھومتا اور شکار کرتا ہے؟ جب میں نے یہ سوال محکمہ فشریز کے ڈائریکٹر احمد ندیم کے سامنے رکھا تو انھوں نے تصدیق کہا کہ ٹرالر مافیا سندھ سے آتے ہیں اور یہ سمندر کی زمین کو کریدتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سمندر میں شکار کرنے کے لیے آنے والے ٹرالروں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے اور ہمارے پاس انھیں پکڑنے کے لیے پانچ چھوٹی چھوٹی کشتیاں ہیں، ہمارا عملہ بھی مقامی ماہی گیروں پر مشتمل ہے جن کے پاس کوئی اختیار اور ہتھیار بھی نہیں ہوتے۔

’بس کبھی کبھی انھیں ڈرانے کے لیے ربڑ گن سے ہوائی فائرنگ کرتے ہیں اور کبھی یونہی ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’محکمہ فشریز نے متعدد بار میرئین سکیورٹی والوں سے درخواست کی ہے کہ آپ یونیفارم والے ہیں غیر قانونی شکار کرنے والے ٹرالر پکرنے میں ہماری مدد کریں لیکن وہ مدد نہیں کرتے اور کہتے ہیں یہ ہماری حدود اور مینڈیٹ نہیں۔‘

یہاں حال ہی میں سمندر میں جانے والے ماہی گیروں کے لیے پاکستان میری ٹائمز کی جانب سے جدید سسٹم کی ٹیسٹنگ مکمل ہوئی ہے۔

گوادر

BBC

ڈھلتے سورج کے ساتھ اکا دکا کشتیاں اب سمندر کے کنارے پر آ رہی ہیں اور مچھلی کی فروخت ہو رہی ہے۔

مریم جن کا تعلق گوادر سے ہے لیکن اب وہ برطانیہ میں زیر تعلیم ہیں، نے میرے سیل نمبر پر اپنے پیغام میں مجھے کہا ’میں تعلیمی سال مکمل ہونے کے بعد ایک بار پھر گوادر آؤں گی۔‘

وہ کہنے لگیں ’تبدیلی اتنی نہیں آئی ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن میں امید کرتی ہوں کہ اب جب یہاں میری نسبت نئی نسل کو کچھ بہتر سکول کالج ملا ہے تو جلد ہی ہمیں اچھے اساتذہ بھی دستیاب ہوں گے، گوادر کے ہر مقامی شہری کو بنیادی سہولیات ملیں گی کیونکہ میئرین روڈ پر لائٹس لگا دینا کافی نہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp