زبان اور نسائیت پسندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری وولسٹون کروفٹ سے لے کر سیمن ڈی بووار تک تمام نسائیت پسندوں کا اتفاق ہے کہ جنسی امتیاز فطری طور پر نہیں بلکہ معاشرت اور معاشرے کی زبان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ستر کی دہائی کے دوران جب لسانیاتی مطالعات میں جنس اور زبان کے علوم پر خاطر خواہ تحقیق ہوئی تو لسانی نسائیت پسندوں نے زبان کے کردار کو جنسی امتیاز کا سرغنہ قرار دیا۔ سو نسائیت پسندی کی دوسری لہر کے دوران نسائیت پسندوں کا محور سماج کی زبان پر موقوف ہوا۔

عموماً ماہر لسانیات فہم و ترسیل اور ان کے اثرات کی بنیاد پر زبان کو دو درجات میں تقسیم کرتے ہیں۔ دوسرا درجہ مائیکرو درجہ کہلاتا ہے جس میں شامل عام گفتگو یا مواصلات کی زبان ہے جب کہ پہلا درجہ جو انتہائی اہم ہے میکرو درجہ کہلاتا ہے ، جس میں شامل تنظیمی، اداریاتی یا منظم مواصلاتی زبان شامل ہے۔ میکرو لیول ایک تنظیم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس درجے پر محیط زبان معاشرتی اقدار پیدا کرتی ہے۔ جیسا تأثر اس درجے پر زبان پیدا کرتی ہے مائیکرو درجے کی زبان اسے فی نفسہٖ اختیار کرتی ہے۔

مائیکرو لیول جو ایک سطحی درجہ ہے ، اس میں عام انسان کے لیے مرد و عورت میں پیدا کردہ امتیاز سمجھنا آسان ہے۔ اس درجہ بندی کو ہم روزانہ بنیادوں پر شعوری یا لاشعوری طور پر جھیل رہے ہوتے ہیں۔ یہاں مرد کو پہلی جنس اور عورت کو دوسری جنس سمجھا جاتا ہے۔ جیسے عورت کو صنف نازک اور مرد کو بہادر، دلیر سمجھا جاتا ہے۔ مرد کے اعصاب کو مجسم نمونہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور عورت کو محض ایک گڑیا بتایا جاتا ہے جس کا واضح مطلب ہے کہ اس میں کوئی جذبات و احساسات نہیں ہیں۔

دراصل اس سطحی امتیاز کے پیچھے میکرو لیول پہ موجود ادارے یا تنظیمیں سرگرداں ہوتی ہیں جو اس سوچ کو چھوٹے درجے پہ پروان چڑھاتی ہیں۔ اس سوچ کی زمام انہی تنظیموں کے پاس ہوتی ہے۔ مثلاً مختلف نوکریوں کے نام ایسے ہیں جو صرف مرد کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہاں عورت کے کردار کو بے دخل کر دیا جاتا ہے۔ جیسے ایک ہی جنس صرف ان نوکریوں کے لیے موزوں ہو اور وہ ہے مرد۔ چیئرمین، ورک مین، فورمین چند نوکریوں کے ایسے نام ہیں جو حضرات سے منسوب ہیں اور واضح طور پر نشان دہی کر رہے ہیں کہ یہ پیشے صرف مرد سے وابستہ کیے گئے۔

کچھ نوکریاں ایسی ہیں جن کا نام لینے سے پہلے پہل عورت ذہن میں نہیں آتی جیسے ڈرائیور، کھلاڑی، لکھاری وغیرہ۔ ہماری ہر کتاب میں جہاں جنس واضح نہ ہو وہاں زیادہ تر مرد ہی مراد لیا جاتا ہے۔ کچھ لفظ جو جنس کی نمائندگی نہیں کرتے مگر پھر بھی لسانی عملیت میں ان سے مراد مرد ہی لیا جاتا ہے۔ جیسے میں کہوں کہ ”وہ“ سفر پر جاتے ہوئے پیچھے بچوں کو چھوڑ گئے۔ یہاں ”وہ“ عورت بھی مراد لی جا سکتی ہے لیکن ہماری عملیت جو سماج نے ہمیں سیٹ کر کے دی ہمیں بتاتی ہے کہ یہاں صرف مرد ہی مراد لیا جائے۔

کیمرون نے اس قسم کی جنسی لغت سے جان چھڑانے کا خیال دیا جسے اس نے لغاتی صفائی کا نام دیا۔ الما گراہم نے 1975 میں امریکی موروثی سکول ڈکشنری کے نام سے اس منصوبے کا آغاز کیا جس کا مقصد غیر جنسی لفاظی کی ترویج تھا۔ اس میں کچھ روایتی نوکریوں کے نام جو مردوں سے منسوب تھے انہیں تبدیل کر کے ان کو غیر جنسی نام دیے گئے مثلاً ”چیئرمین“ کو نکال کر ”چیئرپرسن“ لایا گیا، ”ورک مین“ کو نکال کر ”ورکرز“ لایا گیا، فائرمین کو نکال کر فائر فائٹر لایا گیا۔ اب جب تک اداروں اور خصوصاً عام لغت میں جنس سے آزاد زبان کا استعمال عمل میں نہیں آتا تب تک جنسی امتیاز باقی رہتا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وقاص بلوچ کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *