تحریک انقلاب کا فکری مرحلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انقلاب اسلامی کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ایران کے اندر مختلف ادوار میں اصلاحی تحریکیں وجود میں آتی رہی ہیں جن میں سے چند تحریکوں کا ذکر قارئین کی خدمت میں پیش ہوا ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض ہوا ہے کہ ان تمام اصلاحی تحریکوں کے اندر کہیں بھی نظام اسلامی کا تصور پیش نہیں کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب امام خمینی  نے انقلابی تحریک کا آغاز کیا لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امام خمینی  کی تحریک، تحریک تمباکو یا تحریک مشروطہ کی طرح نہیں تھی بلکہ عملی میدان میں قدم رکھنے سے قبل اس انقلابی تحریک کا ایک جامع فکری و نظریاتی مرحلہ بھی موجود ہے جس کو تجزیہ و تحلیل میں عموماً نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اور شایدیہی وجہ ہے کہ امام خمینی  کی تحریک کو بھی تمباکو یا مشروطیت کی تحریک جیسا ہی سمجھا جاتا ہے۔

اگر ہم امام خمینی  کے افکار کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انقلابی تحریک کے عملی مرحلے سے زیادہ اہم وہ فکری و نظریاتی مرحلہ ہے جو انقلاب اسلامی کے عملی ہونے کی بنیاد بنا۔ دوسرے لفظوں میں پہلے انقلاب امام خمینی  کے افکار و نظریات میں پیدا ہو ا جو آگے چل کر سماجی و سیاسی انقلاب میں ڈھل گیا۔

انقلاب اسلامی کی تحریک دیگر اصلاحی تحریکوں سے جن امور میں مختلف ہے اس میں سب سے پہلے دین شناسی کا مرحلہ آتا ہے۔ امام خمینی  کی شناخت دین پہلے سے رائج دین شناسی سے بالکل مختلف تھی۔ امام خمینی  نے قرآن مجید کی تعلیمات و ہدایت سے جو فلسفہ دین اخذ کیا وہ روایتی دین فہمی سے بہت منفرد تھا۔ دین کا مقصد کیا ہے؟ دین انسان کو کہاں پہنچانا چاہتا ہے؟

رائج نظریات کے مطابق دین اللہ کی طرف سے ہدایت کا مجموعہ ہے جس کا مقصد انسان کو معنوی لحاظ سے آخرت کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ اگر دین کو اس تفکر کے ساتھ پڑھا اور پڑھایا جائے تو اس کے نتیجے میں انسان کے اندر اخلاقی اصلاح وجود میں آتی ہے، اس کے اندر عملی اچھائی کا رجحان پیدا ہوتاہے، نیکی کا تصور قوی ہو جاتا ہے۔ معنوی اعتبار سے انسان کو آخرت کے لیے تیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان باطنی طور پر نیک ہو، گناہوں سے کود کو بچاتا ہو، حرام سے دوری اختیار کرتا ہو اور واجبات کو پابندی سے انجام دیتا ہو۔ یہ انسان مرنے کے بعد جنت میں چلا جائے گا اور اس کا انجام اچھا ہوگا۔

دین اور دینداری کا یہ تصور انسان کو آخر کار خانقاہیت کی طرف لے جاتا ہے جہاں انسان کا سماج و معاشرے سے بقدر ضرورت لینا دینا ہوتا ہے اور اس سے زیادہ کوئی سروکار نہیں ہوتاکیونکہ یہ انسان صرف اپنی ذات اور اپنی جنت کا ذمہ دار ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل شریعت اور اہل طریقت کے درمیان ایک نزاع پایا جاتا ہے۔ اہل طریقت سیر و سلوک کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور عمل و احکامات کو کم اہم سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر ایک انسان کا اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول بہتر ہو رہا ہے تو فرق نہیں پڑتا کہ وہ عمل بھی زیادہ انجام دے۔

اہل طریقت مواعظ اور اخلاقیات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے ہاں تہذیب نفس کی اہمیت اعمال سے زیادہ ہے۔ جبکہ اہل شریعت کے ہاں فقہی احکامات اور دیگر شرعی تقاضوں کی اہمیت سیر و سلوک سے زیادہ ہے۔ ان کے مطابق ایک انسان کے لیے لازمی ہے کہ وہ شرعی احکامات کی مکمل پاسداری کرے۔ لیکن اس تصور دین کے ساتھ کوئی بھی تحریک شروع ہو کر انقلاب تک نہیں پہنچ سکتی۔

اہل طریقت ہوں یا اہل شریعت، دونوں کے ہاں انسانی معاشرے کے لیے مکمل اور مستقل نظام کا تصور موجود نہیں ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں امام خمینی  کی دین شناسی دیگر تمام نظریات سے جدا نظر آتی ہے۔ دین کی شناخت کے مرحلے میں اگر فرق اور کمی موجود رہ جائے تو انسان کی عملی راہیں بدل جاتی ہیں، اس کے اہداف بدل جاتے ہیں۔ امام خمینی  کی دین شناسی کے مطابق دین انسان کو مقام خلافت الہی تک پہنچانے آیا ہے، دین انسان کی صرف آخرت بچانے نہیں بلکہ دنیا بھی سنوارنے کے لیے آیا ہے۔ دین چونکہ انسان کے لیے آیا ہے لہذا انسانی زندگی کے تمام پہلو مادی ہوں یا معنوی، سیاسی ہوں یا سماجی، معاشرتی ہوں ثقافتی، یہ تمام پہلو دین کے تحت ہونا ضروری ہیں۔ امام خمینی  کے افکار کے اندر یہ سب سے پہلا اور بنیادی فرق ہے جو رائج فہم دین سے مختلف ہے۔

رائج طریقت و شریعت کے افکار کے اندر مواعظ و احکامات کی بحث بہت زیادہ نظر آتی ہے لیکن کہیں بھی معاشرتی نظام کی بات نہیں ملتی۔ امام خمینی  کے فکری مرحلے کا دوسرا اہم نکتہ یہی ہے کہ طریقت کے مواعظ و اخلاقیات ہوں یا شریعت کے احکامات، دونوں کے نفاذ کے لیے ایک میدان کی ضرورت ہے، جہاں یہ مواعظ و احکامات عملی کیے جا سکیں اور اس میدان کا نام نظام سیاسی و اجتماعی ہے۔ نظام سیاسی کا یہ تصور دین فہمی کے مرحلے میں دیگر نظریات کے اندر یا تو نظر ہی نہیں آتا یا پھر بہت ہی کم اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جب کہ امام خمینی  کے مطابق دین نے حیات بشر کے لیے ایک مکمل نظام پیش کیا ہے۔ امام خمینی  نے دینی منابع (قرآن، سنت، احادیث، سیرت) سے اس نظام کو اخذ کیا اور یہی وہ عوامل تھے جو فکری مرحلے میں دیگر تمام اصلاحی تحریکوں سے یکسر مختلف تھے، انہی افکار نے تحریک انقلاب کے لیے میدان ہموار کیا۔

جب کے اس سے پہلے جو کچھ ہو تا رہا اس کو رائج اصطلاح کے مطابق اصلاح تو کہا جا سکتا ہے لیکن وہ تحریکیں کسی بھی طرح انقلابی تحریکیں نہیں کہلا سکتیں۔ کیونکہ ایک مصلح کے مد نظر کسی بھی بگاڑ یا خامی کی درستگی ہوتی ہے، اس کے سامنے نظام کی تبدیلی نہیں ہوتی۔ بالکل اس ڈاکٹر کی طرح جو مریض کے بدن کے اندر خرابی کی تشخیص کرتا ہے اور علاج کر کے اس خرابی کو دور کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر مریض کے جسمانی نظام کے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاتا۔

اصلاحات کی خاطر چلائی جانے والی تحریکیں بھی اسی قانون کے تحت کام کرتی ہیں، مثلاً نظام تبدیل نہ ہو لیکن پارلیمنٹ میں صالح افراد موجود ہوں، عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ بعض اوقات یہ اصلاحی تحریکیں فاسد نظام کی تقویت کا باعث بن رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر شہنشاہیت کو قانون کے تابع کرنے سے نظام فاسد ہی رہا، پہلے شاہ قانون سے بالا تر تھا اور اب قانون شاہ سے بالاتر ہو گیا۔ درحقیقت نہ شاہ بدلا ہے نہ ہی قانون، لیکن اس ظاہری اصلاح نے فاسد نظام شہنشاہیت کو مزید کئی صدیوں تک باقی رہنے کا موقع فراہم کر دیا۔ امام خمینی  کی تحریک آغاز سے ہی اصلاحی نہیں، انقلابی تحریک تھی کیونکہ امام خمینی  کی دین شناسی کے مطابق دین فاسد نظاموں کی اصلاح کرنے نہیں آیا بلکہ ان نظاموں کو ختم کرنے کے لیے آیا ہے جبکہ وہ دین جس کے اندر صرف مواعظ و احکامات موجود ہوں وہاں سے صرف اصلاحی تحریکیں ہی جنم لیتی ہیں۔

شاہ ایران نے بلدیاتی نظام کے اندر منتخب ہونے والے کونسلرز کے لیے اسلام کی شرط ختم کر دی اور اس کے ساتھ ساتھ نو منتخب کونسلرز کے لیے قرآن کے اوپر حلف لینا بھی ختم کر دیا گیا۔ یہ وہ موقع تھا جس پر امام خمینی  نے اعتراض کیا، دیگر علما کو اس فیصلے کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ مختلف احتجاجات کے بعد یہ فیصلہ تو واپس لے لیا گیا لیکن امام خمینی  نے پھر بھی حکومت پر اعتراضات جاری رکھے اور یوں اپنی انقلابی تحریک کا عملی آغاز کیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply